شدت پسندی ایک پیچیدہ عنصر ہے

حلا السویدات

134

شدت پسندی کی مختلف تعریفات کی جاتی ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ فرد جب کوئی اقدام اس احساس کے ساتھ کرے کہ اس کو اپنی ذات کے علاوہ کسی اور کے وجود یا مفاد سے غرض نہ ہو تو یہ شدت پسندی ہے۔ اس تعریف کے مطابق شدت پسندی کا مرکزی محور احساسِ برتری یا بالادستی کی خواہش ہوتا ہے۔ اس احساس و اقدام کو مختلف آئیڈیالوجیز و تصورات تحریک دے سکتے ہیں۔

یہ تعریف اس طور جامع ہے کہ اس کے اندر مذہبی کے ساتھ  سیاسی، نسلی یا کوئی اور سماجی نوع کا تشدد اور شناخت کی بنیاد پر حقوق کی پامالی کے مسائل بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ البتہ شدت پسندی کو عداوت، لڑائی اور جنگ کے روایتی مفاہیم سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ اگرچہ ان میں بھی تشدد کا عنصر ہوتا ہے لیکن شدت پسندی کی جدید اصطلاح خاص پیرایہ اور دائرہ رکھتی ہے۔ ہاں یہ دہشت گردی کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ نتیجے میں جنگ یا عدداوت کو بھی مہمیز مل سکتی ہے۔

شدت پسندی کی پہلی تعریف ہی کے تناظر میں نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی پہچان کا دوسرا رُخ یہ بھی ہے کہ شدت پسندی سیاسی عمل کا متضاد ہے۔ یہ جب اپنا اظہار کرتی ہے تو بنیادی طور پہ اسی  کو متأثر کرتی ہے۔ سیاسی عمل، اجتماعی ڈھانچے کو ہموار اور ارتقا پذیر رکھتا ہے اور شدت پسندی اس کی بیخ کنی کی کوشش کرتی ہے۔ اس طرح اگر ریاست بھی سول سوسائٹی پر خود کو بالادست تصور کرتے ہوئے اور برتری کے احساس کے ساتھ مسلط کرتی ہے تو وہ بھی سیاسی عمل کی نمو اور ارتقا کا راستہ روکتی ہے۔ گویا ریاست بھی ایک معنی میں شدت پسند ہوسکتی ہے۔

اس کا خاتمہ سخت جوابی کاروائی سے زیادہ سیاسی اور رویہ جاتی اصلاح کے ذریعے ممکن بنایا جاسکتا ہے

شدت پسندی کے بیج ہر جگہ ہر وقت موجود ہوتے ہیں، اس سے نمٹنے کا واحد راستہ اور فطری راستہ یہ ہے کہ سیاسی عمل کو زیادہ سے زیادہ مضبوط رکھا جائے۔ اگر یہ عمل کمزور ہو تو اس سے جو مایوسی، ناہمواریت اور ہیجان پیدا ہوتے ہیں وہ لوگوں میں تشدد کو قابل قبول بناتے ہیں۔ شدت پسندی بعض اوقاست  ثقافت و کلچر کا جزو بھی بن جاتی ہے اور اس کا خاتمہ سخت جوابی کاروائی  سے زیادہ سیاسی اور رویہ جاتی اصلاح کے ذریعے ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

ہنا آرنٹ کے نزدیک  شدت پسندی ہر وہ فکرواقدام ہے جو آزادی کو متأثر کرے اور ان کے مطابق یہ عمومی طور پہ انفرادیت کے اجتماعیت کے خلاف کھڑا ہونے کے ساتھ متشکل ہوتی ہے۔ اور اس عنصر کو اپنے اظہار کے وسائل جتنے زیادہ میسر آئیں گے وہ اتنا پھیلے گا۔ اس لیے ٹیکنالوجی میں مسلسل ترقی  کی بدولت اس کی روک تھام زیادہ سعی طلب بن گئی ہے۔عصر حاضر میں اس کے اثرات اتنے وسیع ہوئے ہیں کہ لوگوں میں مایوسی پیدا ہوگئی ہے۔ کتنے ممالک ہیں جہاں لوگوں سے اگر سوال کیا جائے کہ وہ پانچ سال بعد خود کو کہاں دیکھ رہے ہیں تو وہ بس زندہ رہنے کی خواہش کا اظہار کریں گے۔

جو لوگ شدت پسندی کو ریاستی وسیاسی عنصر کے ساتھ جوڑ کر دیکھتےہیں ان کے مطابق لوگوں کی مایوسی یا کمزوری سیاسی و ریاستی استبداد کو بڑھاوا دیتی ہے۔ یہ خوف سیاسی و ریاستی  شدت پسندی(استبداد) کا سب سے بڑا جواز ہے۔ ایک صحت مند سیاسی عمل کو تو کسی جواز اور وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ فطری ہے۔

شدت پسندی کی متعدد تعریفات کی گئی ہیں اور دنیا میں اس پر مسلسل بحث وتحقیق جاری ہے۔ جیسے جیسے سیاسی ومعاشرتی ڈھانچہ پیچیدہ ہو رہا  ہے اور  مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے اسی طرح شدت پسندی کے مظاہر اور اثرات بھی متنوع وپیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس میں البتہ کوئی شبہ نہیں کہ اس سے نمٹنے اور اور سماج کی اجتماعی ساخت کو تازہ، فعال اور ارتقاپذیر رکھنے کے لیے سیاسی عمل  کو صحت مند رکھا جائے۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: مجلہ الاحیاء

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...