باپ کے لیے بیٹے اور بیٹی کے پیار میں فرق، فطری یا خودساختہ سماجی روایت؟

210

یہ ایک مِتھ ہے اور درست نہیں ہے کہ بیٹیاں والدین سے بیٹوں سے زیادہ پیار کرتی ہیں اور ان کی خدمت کرتی ہیں۔ اس متھ کے پیچھے صدیوں پرانا ثقافتی رویہ اور تعامل ہے۔ بیٹوں اور بیٹیوں میں محبت اور خدمت کے اظہار میں فرق پایا جاتا ہے اور یہ فرق ہمارا روایتی معاشرتی رویہ پیدا کرتا ہے۔ صدیوں پرانے جاگیردارانہ سماج کی روایت کے مطابق باپ کا سخت گیر ہونا اور بیٹیوں کا محافظ و نگہبان ہونے کا تصور باپ کے لیے ایک آئیڈیل تصور سمجھا گیا ہے۔ متوسط اور غریب طبقے کے لیے بھی باپ کا یہی کردار نمونہ سمجھا گیا۔ اسی بنا پر باپ عموماََبیٹوں سے پیار کے اظہار کرنے میں فرق برتا جاتا رہا۔

جبکہ مائیں اپنے بیٹوں سے خوب پیار جتاتی رہیں جس کی فطری وجوہات کے علاوہ کچھ نفسیاتی اور سماجی وجوہات بھی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس سماج میں عورت کی کم مائیگی کو سہارا بیٹوں سے ملتا ہے۔ بیٹے پیدا ہوتے ہیں تو عورت کے پاؤں سسرال میں مضبوط سمجھے جاتے ہیں۔ بیٹا ہی اس کا آسرا ہوتا ہے جس کے بل بوتے پر وہ شوہر سے بھی اپنی بات منوا سکتی ہے۔ جدید دور نے بہت کچھ بدل دیا ہے مگر ہمارے سماج کےبنیادی خدو خال اب بھی نہیں بدلے۔ صدیاں گزرنے کے بعد بھی ہمارے معاشرتی رویوں میں زیادہ تبدیلی نہیں آسکی۔ دوسری طرف ایسے بھی سماج ہیں جہاں بیٹیوں اور بیٹوں دونوں سے پیار کا اظہار والد کے لیے معیوب سمجھا جاتا ہے۔

جب بیٹوں سے پیار کا اظہار نہیں کیا جاتا تو وہ اسے محسوس کرتے ہیں اور بے ساختہ یہی رویہ اگلی نسلوں کے لیے اپنا لیتے ہیں

باپ کی طرف سے بیٹوں اور بیٹیوں سے پیار کے اظہار کے معاملے میں واضح فرق دیکھنے کو ملتا ہے۔ بیٹوں اور بیٹیوں میں بھی والدین سے پیار کے اظہار میں فرق اسی کا ردعمل ہے۔  باپ سے محبت کے اظہار کی اس غیر فطری روک کو ہمارے ہاں رومانٹیسائز بھی کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بیماری پر والد کو چھپ کر روتے دیکھا گیا۔ یا جب بچہ سو جاتا ہے تو والد صاحب چوم لیتے ہیں۔ جاگتے میں نہیں چومتے۔ یہ درحقیقت بچوں کے حق میں جرم ہے کہ والد اپنی محبت کا اظہار تو بیٹے کی لاعلمی میں کر کے اپنی تسکین کسی طرح کر لیتا ہے لیکن بیٹا، باپ کو چومنے کی ہمت کر پاتا ہے اور نہ خود سے گلے لگانے کی۔ اس کے برعکس بیٹیاں چونکہ زیادہ پیار پاتی ہیں تو ردعمل میں وہ والدین سے پیار کے اظہار بھی اسی طرح کرتی ہیں۔ اب اس سے یہ ثابت  کر لیا جاتا ہے کہ بیٹیاں زیادہ پیار کرتی ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پیار تو بیٹا اور بیٹی دونوں کرتے ہیں لیکن ایک کی محبت کو آپ نے اظہار کا ایک طریقہ سکھایا اور دوسرے کی محبت کو دوسرا۔

رہا خدمت کا معاملہ تو یہ بھی کلیہ درست نہیں کہ بیٹیاں زیادہ خدمت گزار ہوتی ہیں۔ ہوتا ہے کہ عموماََ گھریلو قسم کی خدمات اور گھریلو تیمار داری ہمارے ہاں خواتین کرتی ہیں۔ ایک فریق جب یہ کردار ادا کر رہا ہو تو دوسرا خود کم ایکٹیو ہو جاتا ہے۔ لیکن انہی امورمیں مردوں کے کرنے کے کاموں میں مرد ہی آگے ہوتے ہیں۔ اور اس میں وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے پھر بیٹیاں جہاں اپنے سسرال کی ذمہ داریوں کی وجہ سے والدین کی خدمت نہیں کر پاتیں وہاں بیٹے ہی یہ فرض ادا کرتے ہیں۔

آپ نے اپنے بیٹوں سے بھی اگر پیار پانا ہے تو انہیں صرف دل سے ہی پیار نہ کیجیے، بلکہ ان کے ساتھ پیار کا اظہار کیجیے تاکہ وہ آپ سے پیار کے اظہار کا طریقہ سیکھ کر آپ سے پیار کر سکیں۔ بیٹوں کو ظاہری طور پہ بھی اتنی کم اہمیت نہ دیں۔ دل سے پیار کافی نہیں۔ جب آپ ان سے پیار کا اظہار نہیں کرتے تو وہ اسے بہت محسوس کرتے ہیں اور پھر بے ساختہ یہی رویہ اگلی نسلوں کے لیے اپنا لیتے ہیں۔ اس رویے کو شعوری کوشش سے روکنا چاہیے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...