دورِ حاضر میں غلامی کی جدید شکلیں، ایک انسانی المیہ

کیٹ ہوڈل

138

جب غلامی کا ذکر آتا ہے تو ہمارے ذہنوں میں سب سے پہلے طوق، بیڑیاں اور بحر اوقیانوس میں غلاموں سے لدی کشتیوں کا منظر آتا ہے۔ یہ ماضی تھا۔ آج کے جدید دور میں جتنے لوگ غلامی کے شکنجے میں قید ہیں اس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔

ماہرین کے محتاط اندازوں کے مطابق 15ویں سے 19 ویں صدی کے دوران تقریباََ 13 ملین لوگ اسیر اور غلام بنائے گئے تھے۔ اس کے مقابلے میں آج کا تناسب تین گنا زیادہ ہے اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) اور واک فری فاؤنڈیشن کے مطابق لگ بھگ 40.3 ملین انسان غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔غلامی کی جدید شکل میں مجموعی تعداد کا 71فیصد خواتین پر مشتمل ہے، جبکہ 10 ملین کی تعداد کے ساتھ 28فیصد بچے اس کا شکار ہیں۔

غلاموں کو کیا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے؟

اینٹی سلیوری انٹرنیشنل گروپ کے مطابق عصر حاضر میں ہر وہ شخص غلام  تصور کیا جاتا ہے جسے اس کی مرضی وآزادی کے بر خلاف کسی کام کے کرنے پر مجبور کیا جائے، کسی استحصالی ذہنیت کے حامل فرد یا ملازمت کی جگہ پر مالک  کی طرف سے اسے سخت شکنجے میں رکھا جائے، چلنے پھرنے کی محدود آزادی دی گئی ہو، یا اس کے ساتھ غیر انسانی رویہ روا رکھا جائے، اس کو ملکیت تصور کیا جائے یا پراپرٹی کی طرح اسے خریدا بیچا جائے۔ یہ سب غلامی کی مختلف شکلیں ہیں۔

عالمی سطح پر غلامی کے شکار 40.3 ملین انسانوں میں سے تقریباََ نصف جبری مزدوری کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ محفوظ نہیں ہیں۔ اور تقریباََ15.4 ملین افراد ایسے ہیں جو جبری شادیوں کے بعد مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ جبری مزدوری کرنے والوں کی اکثریت(16ملین) پرائیویٹ سیکٹر سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ غلام گھروں اور فلیٹس کی صفائی کرتے ہیں۔ بازاروں تک کپڑے کی فراہمی ممکن بناتے ہیں۔ فروٹ اور سبزیاں اگاتے ہیں۔ ریستورانوں میں جھینگا مچھلی کی دستیابی کے لیے کشتیوں پر بیٹھ کر سمندروں میں جال ڈالتے ہیں۔ ہمارے سمارٹ فونز، میک اپ اور الیکٹرک کاروں میں استعمال کے لیے زمین اور معدنیات کی کھدائی کرتے ہیں۔ وہ 2022 میں قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے بہترین اور سہولیات سے آراستہ ایک ڈھانچے کی تعمیر میں مصروف ہیں۔

جبری مزدوری کرنے والوں میں سے 4.8 ملین افراد جنسی استحصال کا شکار ہیں، جبکہ 4.1 ملین ریاستی ماتحتی میں جبری ملازمت کرتے ہیں۔ جیسے کہ آرمی کے اداروں میں  یا تعمیرات وزراعت کے شعبوں میں۔ موریتانیا جیسے ممالک میں وہ بچے وراثتی غلامی میں شمار ہوتے ہیں جن کی مائیں غلام تھیں۔

یہ سب کہاں ہو رہا ہے؟

جدید غلامی کے مظاہر زیادہ تر افریقا میں وجود رکھتے ہیں،اس کے بعد ایشیا اور بحرالکاہل سے ملحقہ خطوں کا نمبر آتا ہے۔ گلوبل سلیوری انڈیکس نے یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ غلامی کے حوالے سے یہ اعداد و شمار کم ہوسکتے ہیں۔ ILO اور واک فری کا کہنا ہے کہ 40.3 ملین کا اندازہ قابل بھروسہ ہے۔ لیکن یہ انتہائی محدود بھی ہے کیونکہ دنیا کے کئی ملین انسانوں تک ہماری رسائی نہیں ہے۔ بعض علاقے متنازعہ وممنوعہ ہیں۔ خلیجی ریاستوں کی طرح کئی ممالک میں اس طرح کی تخقیق ممکن نہیں۔ یاتو وہاں تحقیق کے لیے رسائی نہیں دی جاتی یا زبان کے اختلاف کی وجہ سے  ہمارے لیےافہام و تفہیم کے مسائل ہیں۔ ان ریاستوں میں مزدوروں اور مہاجروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

4.8 ملین جنسی زیادتیوں کے شکار انسانوں میں 70 فیصد ایشیا اور بحرالکاہل سے ملحقہ خطوں میں ہیں۔ جبری شادیوں کے حوالے سے افرایقا سرفہرست ہے۔ لیکن دنیا میں کوئی بھی ایسا ملک نہیں جہاں غلامی نہ ہو۔1.8 ملین غلام ترقی یافتہ ملکوں میں رہتے ہیں جن میں سے 13 ہزار برطانیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

دنیا میں غلامی اتنی زیادہ کیوں ہے؟

غلامی ایک وسیع ومنافع بخش کاروبارہے۔ دنیا میں اس سے سالانہ 150 ارب ڈالر کا منافع کمایا جاتا ہے۔ اس مبلغ کے کُل کا ایک تہائی (46.9ارب ڈالر)  بشمول یورپ کے ترقی یافتہ ممالک سے پیدا ہوتا ہے۔ دو صدیاں قبل تک غلامی کی تجارت مہنگے اسفار اور خطرات سے گھری ہوئی تھی، لیکن جدید غلامی ٹیکنالوجی و ذرائع مواصلات کی ترقی کی بدولت بہت سستی ہوگئی ہے۔ مہاجرت میں تیز رفتاری نے بھی ایسے انسانوں کو دہلیز تک پہنچا دیا ہے جن کا زراعت، بیوٹی، فیشن اور سیکس انڈسٹری کی عالمی مارکیٹس میں آسانی سے استحصال کیا جاسکتا ہے۔

غلامی ہر جگہ ہے لیکن اس کا تناسب ان ممالک میں زیادہ ہے جہاں قانونی و انتظامی خلا موجود ہیں۔

سلیوری ایکسپرٹ سدھارت کارا کہتے ہیں کہ 18ویں اور 19ویں صدی کے مقابلے میں آج غلامی کی تجارت 30 گنا زیادہ منافع بخش ہے۔ کارا کے اندازے کے مطابق ایک غلام 450 ڈالر تک میں پڑتا ہے اور اس کی جبری مزدوری مالک کی جھولی میں سالانہ 8 ہزار ڈالر ڈالتی ہے، جبکہ جنسی غلامی میں ایک شکار سالانہ 36 ہزار ڈالر کا منافع دیتا ہے۔

یہ جاننا بھی اہم ہے کہ دنیا کے دس ممالک جہاں غلاموں کی اکثریت ہے وہ آبادی کے لحاظ سے  بھی بڑے ملک ہیں۔ وہ دس ممالک یہ ہیں:چین، کانگو، بھارت، انڈونیشیا، ایران، نائیجیریا، شمالی کوریا، پاکستان، فلپین اور رُوس۔ غلامی کی مجموعی تعداد کا 60 فیصد انہی ممالک میں بستا ہے۔ اور یہ ملک دنیا کی ساری آبادی کا نصف ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پچھلے 30 برسوں میں عالمی سطح پر شدت پسندی میں بڑھوتری نے بھی غلامی میں اضافہ کیا ہے۔ مسلح دہشت گروپ انسانی اسمگلنگ بھی کرتےہیں۔ یہ لوگوں پر دبدبے اور اپنی گرفت کی مضبوطی کے اظہار کے لیے، یا اپنی لڑاکا فورس میں شامل کرنے کے لیے دوسرے ملکوں کے  نوعمر بچوں کو بھرتی کرتے ہیں۔ اور جو لوگ ان کی حمایت میں ہجرت کرکے ان سے آملتے ہیں ان کو بطور ہدیہ وانعام  جنسی غلام پیش کیے جاتے ہیں۔

غلامی اور انسانی اسمگلنگ میں کیا فرق ہے؟

چند صدیاں قبل یہ عام بات تھی غلامی کی تجارت میں کسی کو خرید بیچ کر ملکیت حاصل کرلی جاتی تھی۔ لیکن آج کی انسانی اسمگلنگ زیادہ پرپیچ ہے۔ اسمگلنگ میں کسی فرد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ زبردستی یا دھوکے سے منتقل کیا جاتا ہے۔ اس کے شکار شخص کو عموماََ اچھی ملازمت کی آفر کے ساتھ دوسرے شہر یا ملک  لے جایا جاتا ہے۔ جہاں پہنچ کر اسے علم ہوتا ہے کہ وہ اپنے مالک کے ماتحت و رحم وکرم پر ہے۔ اب اسے سفری اخراجات بھی لوٹانے ہیں، رہائش اور دیگر چیزوں کے معاوضے ادا کرنے ہیں۔ یوں وہ بہت زیادہ مقرض بنادیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر

دی گارڈین کی تخقیقاتی ٹیم  نے قطر سے تھائی لینڈ، انڈیا سے امریکا تک ہونے والے اس نوع کے استحصال پر رپورٹ مرتب کی۔ اس کی وجہ سے 2022 کے ورلڈ کپ کے تعمیراتی ڈھانچے پر کام کرنے والے مہاجر مزدوروں کی بہتری کے لیے قطر کو اصلاحات کرنی پڑیں۔

مچھلیوں کے شکار والی کشتیوں کے ذریعے انسانی اسگلنگ ابھی بھی وجود رکھتی ہے۔ خصوصاََ جنوبی و مشرقی ایشیا میں، جہاں لوگوں کو زراعت یا تعمیراتی شعبے میں ملازمت کا دھوکہ دیا جاتا۔ بعد میں انہیں کوئی نشہ آور شے دے دی جاتی ہے۔ جب وہ ہوش میں آتے ہیں تو خود کو سمندر کی موجوں کے وسط میں پاتے ہیں۔ معلومات کے مطابق مہاجر مزدوروں کا استحصال ملائیشیا، کمبوڈیا، چین، اٹلی، ویتنام اور برطانیہ میں بھی ہوتا ہے۔

غلامی سے کیسے بچا جائے؟

اس سوال کا حتمی جواب موجود نہیں ہے۔ جدید غلامی کا ہر نسل، رنگ ، عمر اور جنس کے افراد شکار ہیں۔ لیکن اس کی بھینٹ زیادہ تر کمزور لوگ چڑھتے ہیں۔ وہ کمبوڈیا کا کوئی دیہاتی ہوسکتا ہے جو پڑوسی ملک میں اچھی نوکری تلاش کر رہا تھا، پھر اچانک وہ خود کو کسی کشتی میں پائے گا۔ یا کوئی لڑکی جس کی فیملی کے ناگفتہ بہ حالات  کی وجہ سے 13 سال کی عمر میں اس کی شادی کردی جائے گی۔ یا کوئی بے گھر جسے لندن کے کسی ہوٹل کے کچن سے اٹھا کر بند گاڑیوں میں کام پر مجبور کر دیاجائے گا۔ اور یا پھر کوئی ایسی خاتون جس کا ویزا ایکسپائر ہوگیا  ہوگا، اسے ڈیپورٹ کردیے جانے کی دھمکی کے ڈراوے کے ساتھ انسانی اسمگلر کی اطاعت کرنی ہوگی۔

اینٹی سلیوری انٹرنیشنل کے مطابق غلامی ہر جگہ ہے۔ لیکن اس کا تناسب ان ممالک میں زیادہ ہے جہاں قانونی و انتظامی خلا موجود ہیں۔

اگرکسی کی غلامی کا پتہ چلے تو کیا کیا جائے؟

اینٹی سلیوری انٹرنیشنل کے مطابق غلامی اتنی عام ہوچکی ہے کہ ممکن ہے آپ اسے روزمرہ میں اپنے آس پاس بھی پائیں۔ اس میں بنیادی چیز یہ ہے کہ آپ جائزہ لیں کہ جس کے بارے آپ کو شک ہے وہ فرد  کہیں آنے جانے کی آزادی رکھتا ہے یا نہیں، خوفزدہ محسوس ہوتا ہے، یا اس پر کسی قسم کے استحصال و زیادتی کی علامات ظاہر ہوتی ہوں، شناختی یا بعض ذاتی اشیا ساتھ رکھتا ہو، یا کسی کے کنٹرول میں نظر آتا ہو اور بات کرنے سے گھبراتا ہو۔

اگر ایسی صورتحال ہو تو بہتر یہ ہے کہ آپ خود انفرادی طور پہ کوئی اقدام کرنے کی بجائے متعلقہ انتظامی اتھارٹی  سے یا اس معاملہ میں کام کرنے والے کسی گروپ سے رابطہ کریں۔ اگرچہ اس حالت میں بھی یہ خدشہ موجود ہے کہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: دی گارڈین

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...