منافرت پر مبنی تقریریں ،حالات کس رُخ پر جا رہے ہیں ؟

795

خادم حسین رضوی کی شعلہ بیانی ’’نیشنل ایکشن پلان ‘‘ کے تحت اشتعال انگیز تقریر کے زمرے میں آتی ہے وہ سرِعام حکومت ، دفاعی اداروں اور قانون کو للکارتے نظر آتے ہیں مگر حکومت ان کے سامنے بے بس نظر آتی ہے ۔

راولپنڈی کوہاٹ روڈ پنجاب کو خیبر پختواہ سے ملانے والی بین الصوبائی شاہراہ ہے ۔ اتوار کے روز یہ اہم شاہراہ اسلام آباد کے نئے بین الاقوامی ائیرپورٹ سے چند کلومیٹر دور ایک قصبے قطبال کے مقام پر آٹھ گھنٹے بلاک رہی ۔اسی مقام سے سی پیک کا مغربی روٹ بھی نکل رہا ہے ۔روڈ بلاک کی وجہ مولوی خادم حسین رضوی کی ایک مقامی درگاہ میں تقریر تھی ۔چو ہدری خادم حسین کی ضلع میں آمد اور تقریر پر پابندی تھی مگر اس کے باوجود مقام گدی نشین نے انہیں بلایا تقریر کروائی اور روانہ کردیا ۔پولیس نے جب اس قانون شکنی پر گدی نشین کو گرفتار کیا تو ان کے مریدین نے تھانے پر حملہ کرکے  تھانے کو نقصان پہنچایا  ،گدی نشین کو رہا کروایا ،اہلکاروں کی پٹائی کی اور ریکارڈ جلا دیا ۔بعد ازاں انہوں نے یہ اہم شاہراہ بھی بلاک کر دی ۔

خادم حسین رضوی  کی  شعلہ بیانی ’’نیشنل ایکشن پلان ‘‘ کے تحت اشتعال انگیز تقریر کے زمرے میں آتی ہے  جس سے معاشرے میں نفرتوں کو ہوا ملتی ہے ۔ان پر کئی اضلاع میں پابندی ہے مگر اس کے باوجود ان کی تقریریں جاری ہیں ان تقریروں میں وہ سرِعام حکومت ، دفاعی اداروں اور قانون کو للکارتے نظر آتے ہیں مگر حکومت ان کے سامنے بے بس نظر آتی ہے ۔قطبال میں پیش آنے والا واقعہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ امن و امان کے لئے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں ۔پولیس اور حکومت روایتی انداز میں ان سے نمٹ رہی ہے جس سے حالات مزید خراب ہو رہے ہیں اور  نیشنل ایکشن پلان پر بھی سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں ۔

مذہب پاکستان میں انتہائی حساس مسئلہ بنتا جا رہا ہے ۔قوم کو مزید ٹکڑوں میں بانٹا جا رہا ہے ۔انتشار کے بعد ایک اور انتشار سامنے ہے ۔ایک جنگ کا ایندھن ابھی ختم نہیں ہوا دوسری جنگ کی منصوبہ بندی  ہورہی ہے ۔

اپنی آراء سے نوازیں ،کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے کیا اقدامات ضروری ہیں :

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...