لوکل گورننس اور مقامی کونسلوں کا نیا قانون کتنا مؤثر و سُودمند ہے؟

زاہد اسلام

170

پاکستان تحریک انصاف نے نیا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 اپریل کے آخر ی ہفتے میں پیش کیا تھا، جس پر حزب اختلاف اور حاضر کونسلرز نے احتجاج کیا کیونکہ بِل کی تیاری میں کسی قسم کی مشاورت نہیں کی گئی تھی۔ اس کی منظوری کی شکل میں حاضر سروس 60 ہزار منتخب کونسلرز  اور سربرہان غیرفعال ہوگئے اور حکومت کو ایک سال تک ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہوگیا۔ یہ حزب اختلاف اور موجودہ کونسلرز کو  منظور نہیں ہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ وہ پانچ سال کے لیے منتخب ہوئے ہیں لیکن انہیں کام کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا جارہا۔

یہ بِل سٹینڈنگ کمیٹی کے حوالے کردیاگیا تھا۔ کمیٹی کو حزب اختلاف نے چند ترامیم  بھی پیش کیں جنہیں نظر انداز کردیاگیا۔ بالآخر 30 اپریل کو احتجاج کے باوجو بِل منظور کرلیا گیا۔ 2 مئی کو  گورنر نے اس پر دستخط کردیے اور 4 مئی کو گزٹ میں نوٹیفائی ہوگیا۔ اس طرح نیا قانون تشکیل ہوا۔

حکومت نے یہ نیا بِل اپنے گزشتہ وعدوں اور دعووں کے برعکس طریقے سے متعارف  کرایا اور لوکل گورنمنٹ کے کسی بھی سٹیک ہولڈر گروپ سے مشاورت تک نہیں کی۔ اس میں ایک مسئلہ یہ بھی درپیش ہے کہ کونسلرز اور لوکل گورننس سربراہان کی اکثریت کا تعلق حزب اختلاف کی جماعتوں سے ہے، جبکہ موجودہ وفاقی وصوبائی حکومتیں اور سیاسی جماعت کی ہیں۔ اس لیے اس سطح پر عملاََ عدمِ اعتماد کی فضا بھی قائم ہے جس کی وجہ سے  لوکل گورننس بدحالی کا شکار ہورہی ہے۔

چونکہ لوکل گورنمنٹ کا عوام سے براہ راست تعلق ہوتا ہے اور  اور سول سوسائٹی ادارے بھی اس سطح پر اہم سٹیک ہولڈر گروپ ہوتے ہیں اس لیے اس بِل پر ہم یہاں ایک مختصر تبصرہ و مجموعی  جائزہ پیش کریں گے۔

امیدواروں کی کم ازکم عمر 25 سال کرکے نوجوان قیاد ت کوباہر کردیا گیا ہے، حالانکہ لوکل گورنمنٹ سیاسی تربیت کی نرسری ہوتی ہے

مقامی حکومتوں کا ایکٹ 2019 ماضی کے قوانین سے  مختلف ہے نہ ان سے بہتر، بلکہ اس میں نمائندگی کی شرح  پہلے سے کم کردی گئی ہے۔ طریقہ انتخاب کو بہتر کیا گیا ہے لیکن امیدواروں کی کم ازکم عمر 25 سال کرکے نوجوان قیاد ت کوباہر کردیا گیا ہے، حالانکہ لوکل گورنمنٹ سیاسی تربیت کی نرسری ہوتی ہے۔ اسی طرح خواتین کی نمائندگی کی شرح بھی کم کردی  گئی ہے۔ غیرمسلموں  کی نمائندگی کو ان کی آبادی اور بطور ووٹر  کسی حلقے سے رجسٹرڈ ہونے سے مشروط کیا گیا ہے جو جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔

غیر ضروی سرکاری کنٹرول، بالخصوص ریاستی افسرشاہی  کی نگرانی وتسلط درست نہیں ہے۔ اس کے پس منظر میں یہ ذہن کام کرتا ہے کہ منتخب نمائندے غیر ذمہ دار  اور بدعنوان ہوتے ہیں۔ ان کی نگرانی پر افسرشاہی کو لگانا چاہیے کیونکہ وہ غیرجانبدار اور ریاست سے زیادہ مخلص ہوتے ہیں۔ یہ سوچ غلط اور حقائق کے برخلاف ہے۔

اختیارات کی نیچے تک منتقلی سے طاقت کا ارتکاز روکا جاسکتا ہے جو آمریت کو بنیاد وموقع فراہم کرتا ہے۔ نئے قانون میں اختیارات کا ارتکاز  افسر شاہی کے بعد سربراہان کے پا س ہے، حالانکہ ان کی کونسلوں کو بااختیار ہونا چاہیے تھا۔ مقامی حکومتوں کے فرائض کو میونسپل ذمہ داریوں تک محدود کرنے سے لوکل گونمنٹ کا مفہوم دھندلا جاتا ہے اور ریاستی  حکومتی اداروں پر بوجھ بھی بڑھ جاتا ہے۔ نیاقانون کسی بھی شکل میں آئین میں بیان کردہ شرائط ’مالیاتی، سیاسی اور انتظامی خودمختاری‘ کی تعریف پر پورا نہیں اُترتا، بلکہ ماضی کی بنسبت اختیارات کو کم کرتا ہے اور  اس کے ذریعے حکومتی کنٹرول کو غیرجمہوری و بدترین سطح پر لے جایا گیا ہے۔

چونکہ کڑا احتساب، بچت اور سادگی کے نعرے موجود حکومت کی پہچان میں شامل ہیں اس لیے قانون ڈرافٹ کرنے والوں نے جابجا احتساب اور جوابدہی کو فوکس کیا ہے۔ مگر احتساب کرے گا کون، کس کو جوابدہی ہوگی؟ ان سوالوں کے جواب میں منتخب نمائندوں کو افسرشاہی  اور ان کے مقرر کردہ افراد کے سامنے  کھڑا کرنے کی پالیسی بنائی گئی ہے۔ ایک اچھا نظام جو عوام کو ریلیف دیتا ہے اسے عوام کےسامنے جوابدہ بنانا چاہیے، لیکن عملاََ اسے کسی آمرانہ حکومتی فریم کا جزو بنادیا گیا۔

حکومتی نگرانی کے اختیارات بہت زیادہ ہیں۔ وہ مقامی حکومت کے کسی بھی فیصلے کو معطل کرنے کی مجاز ہے۔ حالانکہ حکومت کسی کونسل و مقامی حکومت کی منظور کردہ قرار داد اور فیصلے کو صرف اس صورت معطل کرسکتی ہے جب  وہ عوام کے مفاد کے خلاف ہو ، قانون میں مطابقت نہ ہو ، امن کو متأثر کرے یا متعصبانہ ہو،وغیرہ، اگر متعلقہ مقامی کونسل ومقامی حکومت اس  فیصلے میں اصلاح کرکے  واپس بھیجے  تو حکومت بحالی کا حکم دے سکتی ہے۔

ایکٹ کی ایک شق کے تحت  پنجاب بھر کے دیہی علاقوں میں ولیج پنچایتیں، جبکہ شہری علاقوں میں نیبرہڈ کونسلیں متعارف کرائی گئی ہیں۔ انہیں مقامی حکومتیں نہیں کہا گیا، نہ ان کااکوئی قانونی  وتنظیمی تعلق  مقامی حکومتوں کے ساتھ ہوگا۔ یہ دونوں ادارے خیبر پختونخوا میں 2013 کے قانون میں متعارف کرائے گئے تھے جو اب بھی کام کررہے ہیں مگر وہاں ولیج کونسلز اور نیبر ہڈ کونسلز  پرانی یونین کونسلوں سے مشابہ ہیں جن کا صرف دائرہ کار نسبتاََ چھوٹا تھا اور ان کا تعلق مقامی حکومتوں کے ساتھ تھا۔ ان جدید اداروں کا مقامی حکومتوں کے ساتھ تعلق نہ ہونے کے باوجود، کام اور ذمہ داریاں  یاہمی اشتراک سے سرانجام دی سکیں گی۔ یہ بالکل نیا تجربہ ہے جو بھارت کے لوکل گونمنٹ سسٹم سے ملتا جلتا ہے  جہاں پنچایتی راج آئین کے ماتحت ہے اور مقامی حکومتیں اسٹیٹ قوانین کے۔

ہمارا خیال ہے کہ لوکل گونمنٹ میں نِت نئے قوانین لانا مقامی حکومتوں کی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور پھر یہ روایت کہ ہر نئی حکومت اپنی مرضی کا لوکل گورنمنٹ سسٹم لے آئے غلط روایت ہے۔ جمہوری اداروں کے استحکام  کی راہ میں یہ رجحان بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ نِت نئے تجربات کرنا درست عمل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے تمام صوبوں میں مقامی حکومتی ماڈل اور نظام ملتے جلتے ہونے چاہئیں ۔ مثال کے طور پہ پنجاب کا ماڈل یکسر نیا ہے۔ ملک میں مقامی سطح پر  الگ الگ ماڈل کیسے کہاں تک چل پائیں گے؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...