تین جائزہ مراحل جن کی بنیاد پر پاکستان کے ایف اے ٹی ایف لسٹ سے انخلا کا فیصلہ ہوگا

خلیق کیانی

181

اس وقت الگ الگ سطح پر تین ایسے جائزہ مراحل درپیش ہیں جن میں مرتب کردہ نتائج کی اساس پر اکتوبر کے وسط تک پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے ممکنہ انخلا کا فیصلہ ہوگا۔

ایک سینئر حکومتی اہلکار نے روزنامہ ڈان کو بتایا ہے کہ پچھلے دنوں ایشیا پیسیفک گروپ(اے جی پی) جو ایف اے ٹی ایف تنظیم کی علاقائی شاخ ہے، نے آسٹریلیا میں معیشت اور انشورنس سروسز سے متعلقہ تمام اداروں میں پانچ سالہ مشترکہ جائزہ پروگرام کے تحت پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اصلاحاتی اقدامات میں پیش رفت کی جانچ کی ہے۔

جائزہ کمیٹی کا یہ دور براہ راست منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت  کے حوالے سے ایف اے ٹی ایف  کے ساتھ کیے گئے اعلیٰ سطح کے معاہدوں میں پاکستان کی کارکردگی جانچنے سے متعلق تو نہیں ہے لیکن اس کی مرتب کردہ رپورٹ بالواسطہ گرے لسٹ سے انخلا کے لیے پاکستان کی پوزیشن پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ پاکستان کی طرف سے نمائندگی کے لیے گورنر اسٹیٹ بینک باقر رضا کی سفارشات 23 اگست تک مکمل کرلی جائیں گی۔

پاکستان27 نکات پر مشتمل ایف اے ٹی ایف کے ساتھ  ایکشن پلان معاہدہ بارے کارکردگی رپورٹ ایشیا پیسیفک گروپ کو جمع کراچکا ہے۔ یہ تنظیم رواں ’پانچ سالہ جائزہ دور‘ پروگرام کے تحت  تقریباََ 7 ایسے شعبوں میں پاکستان کی کارکردگی کی جانچ کر رہی ہے جو زیادہ تر معیشت اور آن لائن معاشی خدمات و سہولیات سے متعلق ہیں۔ ان شعبوں میں نگرانی سے منی لانڈرنگ اور  کالعدم تنظیموں وغیر ریاستی عناصر کی طرف سے بینکنگ ونان بینکنگ ذرائع، سرمایہ کاری مارکیٹس، کارپوریٹ ونان کارپویٹ  سیکٹرز، جیسے چارٹرڈ اکاؤنٹینسی، مالی مشاورتی خدمات، کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹیسنی ادارے، سُنار اور ان سے متعلقہ خدمات کے دیگر ذرائع سے ممکن ہونے والی دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکا جاسکتا ہے۔

حکومتی اہلکار نے وضاحت کی کہ ایشیا پیسیفک گروپ کا پانچ سالہ جائزہ پروگرام جس کے لگ بھگ دو سال گزر چکے ہیں، 23 اگست کو اپنی اب تک کی رپورٹ کا خلاصہ پیش کرے گا۔ اس پراسس کے تحت ایف اے ٹی ایف کے زیرعتاب ممالک کے لیے بدلتی ٹیکنالوجی، حالات اور جدید وسائل و اسالیب کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کے کچھ اہداف مقرر کیے گئے تھے۔

پیرس جائزہ کی حتمی کمیٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت  کے حوالے سے  پاکستان کے عالمی معاہدوں کی پاسداری کے مسئلہ پر امریکا کے محکمہ خزانہ کی رائے بھی لے گی

اس کے بعد ایشیا پیسیفک گروپ کی طرف سے بنکاک میں 5 ستمبر کو مشترکہ ٹیم کی جائزہ کمیٹی کا ایک اور دور شروع ہوگا۔ یہ مرحلہ پاکستان کے حوالے سے ایف اے ٹی ایف کے اس حتمی جائزے کی بنیاد ہوگا جو پیرس میں 13سے 18 اکتوبر  کے دوران تنظیم کے ارکان کی فائنل  میٹنگ کے میں  لیا جائے گا۔

پیرس کی حتمی کمیٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت  کے حوالے سے  پاکستان کے عالمی معاہدوں کی پاسداری کے مسئلہ پر امریکا کے محکمہ خزانہ کی رائے بھی لے گی۔

حکومتی اہلکار کے مطابق افغان امن مذاکرات میں اعلیٰ سطح کے باہمی سیاسی تعان اور شراکت کی وجہ سے امریکا نے حالیہ چند ماہ میں پاکستان کے بارے میں مثبت و حمایتی موقف اپنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک، اعلیٰ امریکی ذمہ داران اور عالمی تنظیموں کی جانب سے کم از کم پانچ مشیروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو ملک کے اہم اسٹیک ہولڈرز  بشمول سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج  کمیشن آف پاکستان(SECP) نیکٹا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایف بی آر کے اداروں کی عالمی تقاضوں اور ایف اے ٹی ایف کی ترجیحات کے مطابق متعلقہ شعبوں میں ضروری عملدرآمد ممکن بنانے اور رپورٹس مرتب کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔

اسٹیٹ فار دی بیورو آف ساؤتھ اینڈ سینٹرل ایشین افیئرز کی اسسٹنٹ سیکرٹری ایلس جی ویلز جو پاکستان میں ایک امریکی وفد کی سربراہی کر رہی تھیں، نے اپنے دورے میں حکام کو رائے دی کہ وہ کالعدم تنظیموں اور ان کی قیادت کے خلاف سخت ایکشن لیں تاکہ ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے  انخلا کے مسئلہ میں زیادہ سے زیادہ ممالک کی حمایت حاصل کی جاسکے۔

حکومتی اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اس معاملہ میں پاکستان نے خاصی کامیابی حاصل کی ہے۔ قومی اسمبلی کی مالیاتی امور کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے فارن ایکسچینج ریگولیشنز اور اینٹی منی لانڈرنگ ضوابط سے متعلق دو بِل مرتب کیے ہیں۔ امریکا، اے پی جی اور ایف اے ٹی ایف  کا مطالبہ ہے کہ ان ڈرافٹس کو باقاعدہ قانونی شکل دی جائے اور اسے اکتوبر  کے وسط میں ہونے والی پیرس جائزہ میٹنگ  کی تاریخ سے قبل پارلیمنٹ سے پاس کرایا جائے۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ روزنامہ ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...