قانونِ فطرت اور سماجی پراسس کو راستہ دیں

198

لمحہ موجود کو امن کے لئے مستعار لینا اور اسی دوران اپنی تعمیر کرنا یہ کامیاب و کامران قوم کی پختہ نشانی ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو داخلی انتشار اور خارجی اندیشوں کا علاج ممکن ہے۔ سیاست سے معیشت تک استحکام ممکن ہو سکتا ہے لیکن اس کے لئے جامع منصوبہ تشکیل دینے کے لئے اعلیٰ دماغ چاہیے جو تشخیص کے ساتھ علاج کی صلاحیت سے بہرہ مند ہو۔ ہیجان، جنون اور انگیخت مسائل کی جڑ ہیں ان کا حل نہیں ہیں۔ بد قسمتی سے، انہیں مسائل کا حل خیال کر لیا گیا ہے۔

سوچا جاتا ہے اگر ایک بار ایسا ہو جائے تو ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہو جائے گا، یا ایک بار جنگ ہو جائے تو امن ہو جائے گا۔ بس ”ایک بار” کچھ نہیں ہوتا جو ہوتا ہے بار بار ہوتا ہے اور مسلسل ہوتا ہے لیکن دانش و بصیرت، سوچ و چار اور غور و فکر سے ہوتا ہے۔ سخت سزاوں کو نافذ کرنے والے معاشروں سے بھی جرائم ختم نہیں ہوتے اور ملک کو پولیس اسٹیٹ بنانے سے ملک امن کا گہوارہ نہیں بنتا اور نہ جنگ مسئلے کا حل ہے  بلکہ جنگ خود ایک مسئلہ ہے بلکہ بھیانک خواب ہے جس کی تعبیر انسانی اعضاء کی بو، بے سر کے دھڑ، اور بے دھڑ کے سر ہے۔ اگر یہ بات سمجھ نہیں آتی تو ماضی قریب و زمانہ حال کے شام، عراق، افغانستان اور لیبیا کو دیکھ لیں۔ جنگ محلے کی دو عورتوں کی لڑائی نہیں اور نہ انارکلی چوک میں لڑتے دو اوباش لڑکوں کی مخاصمت ہے۔ یہ دو ایٹمی ملکوں کی جنگ اور اس جنگ کو طول دینے میں وابستہ معاشی قوتوں کے مفادات کی جنگ ہے۔

پانچ ہزار کیا پچاس ہزار لوگ بھی پھانسی کے پھندے پہ لٹکا دئیے جائیں کرپشن ختم نہیں ہوتی، یہ تجربے اور مشاہدے انسانی ہاتھ اور آنکھ پہلے کر چکے۔ قدرت نے جو بھلائی اور خیر دی ہے جو زمانہ اور وقت دیا ہے، اس کے استعمال سے قوم کی تعمیر کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔

میسر اسباب سے مثبت اقدام کا فیصلہ قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ تعلیم، صحت،جمہوریت اور ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کے ذریعے کچھ سال ہی میں حالات کو صحیح رخ پہ ڈالا جا سکتا ہے۔ قیادت اصل ذمہ داری کو قبول کرے اور اس ارتقائی عمل کو قبول کرتے ہوئے حالات کی نبض پہ ہاتھ رکھے اور قوم کے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھے۔ آزمائے نسخوں کو آزمانے سے نتیجہ مختلف نہیں نکل سکتا۔ استشناء اور اصول میں فرق ہے، معجزہ قانون فطرت سے بہت ہی مختلف ہوتا ہے۔ خلاف معمول سے حسب معمول نتائج مرتب نہیں ہوتے۔ ہم استشنا سے اصول، معجزہ سے قانونِ فطرت اور خلافِ معمول سے حسبِ معمول کی امید لگا بیٹھتے ہیں جس سے نتیجہ نا امیدی و یاس کی صورت میں نکلتا ہے۔

لمحہ موجود کو مستعار لے کر آگے بڑھو اور اپنے ملک کی تعمیر کرو

شکست نوشتہ دیوار ہوتی ہے اور فتح بھی۔ شکست و فتح کو بحث و مناظرہ سے ثابت نہیں کیا جاتا اور نہ ہی رد کیا جا سکتا ہے۔ لمحہ موجود کو مستعار لینے کا مقصد غفلت و مایوسی کے گڑھے میں گرنا نہیں بلکہ احتساب کے عمل سے گزرنے، غلطیوں سے بچنے کے ارادے کے لیے ہے۔ اس غور و فکر کا مقصد بزدلی اور خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ اپنا جائزہ لینے اور اخلاقی قوت میں اضافے کے لئے ہے۔ حقیقت کا سامنا کل نہیں تو آج، آج نہیں تو کسی بھی وقت کرنا پڑے گا۔ عقل مند قوم اور شخص خود کو ہر وقت احتساب و حساب کے عمل سے گزارتا رہتا ہے اور یہ اس کی کامیابی کا راز اور فتح کی کنجی ہے۔

عشق غور و فکر سے پہلے نہیں بعد میں ہوتا ہے۔ غور و فکر کے بعد فیصلے پہ عملدرآمد عشق کراتا ہے۔ ہمارا خیال ہے عشق گویا اندھی محبت کا نام ہے جو غور فکر اور تعقل و تفکر سے باز رکھتا ہے حالانکہ عشق گہرے خوض اور غور کا نتیجہ ہوتا ہے اگر انسان اس فیصلے پہ پہنچتا ہے کہ اب یہ چوٹی سر کر لینی چاہیے یا اب چٹان سے ٹکرا جانا چاہیے تو عشق آگے بڑھنے والے انسان کا حوصلہ اور جذبہ بن جاتا ہے۔ ہم الٹی گنگا بہانے کے خیال میں وہ کچھ کر بیٹھتے ہیں جس کی اجازت نہ دین میں ہے اور نہ عقل و فکر کے دائرے میں ہے۔ دین بلا بلا کر کہتا ہے خدا سے ”عافیت و حفاظت” کاسوال کرو، خود کو آگ میں نہ ڈالو، جنگ ٹلتی ہے تو ٹالے رکھو۔ دین آواز دیتا ہے، سنو! بے گناہ کو سزا دینے سے کہیں بہتر ہے گناہ گار قید سے آزاد ہو جائے۔ دین آواز دیتا ہے اور ہم کانوں میں انگلیاں ٹھونسے شاہراہ حیات پہ اپنی خواہشات کے گھوڑے دوڑائے جاتے ہیں۔ انسانی تاریخ کو پڑھ لو کوئی زبر دستی کسی سے کچھ نہیں چھین پایا، ظلم عارضی اور ختم ہونے والا ہوتا ہے، عدل و حق مستقل اور قائم رہنےوالا ہوتا ہے۔ بہتر یہی ہے وقت کو اپنا راستہ خود بنانے دو اس دریا کو اپنے راستے پہ چلنے دو۔

نہ وقت کا راستہ تمہارے بدلنے سے بدلے گا اور نہ دریا اپنی سرشت سے باز آئے گا۔ جب یہ سب نا ممکن ہے تو  قوم کا وقت کیوں ضائع کرتے ہو، لمحہ موجود کو مستعار لے کر آگے بڑھو اور اپنے ملک کی تعمیر کرو۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...