ہم اپنی اولاد کا بچپنا تباہ کر رہے ہیں

کِم بروکس

227

ماہر نفسیات پیٹر گرے کہتے ہیں کہ بچے ماضی کے سخت وپریشان کن حالات کے مقابلے میں آجکل زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ بچے سرد جنگ کے عروج کے زمانے میں بھی اتنے تناؤ کا شکار نہیں ہوتے تھے جتنے اب نظر آتے ہیں۔ جرنل آف ابنارمل سائیکالوجی کی تحقیق کے مطابق 2009 سے 2017 کے درمیان 14 تا 17 برس کی عمر کے بچوں میں ذہنی دباؤ کا تناسب 60 فیصد تک بڑھا ہے، جبکہ 12 تا 13 سال کے بچوں میں 47 فیصد تک اضافہ سامنے آیا ہے۔ وہ بچے اور نوعمر جو خودکشی کے اقدام یا اس میں رجحان کی وجہ سے  ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں رہے ان کی تعداد 2007 سے 2015 کے درمیان دُگنی ہوئی ہے۔

اس کا واضح اور صاف مطلب یہ ہے کہ ہمارے بچوں کی حالت اطمینان بخش نہیں ہے۔

بطور ماں اور ایک مصنف کے  طویل عرصے تک میں اس مسئلے کا کوئی ایک مرکزی سبب تلاش کرتی  رہی۔ کیا اس کی وجہ موبائل اور ٹی وی کی سکرین ہوسکتی ہے؟ غذا، آلودہ ہوا، فارغ وقت نہ ملنے  یا اوقات کار کی سخت تنظیم  جیسے اسباب ہوسکتے ہیں، یہ بھی ممکن ہے کہ بچے والدین کے حد سے زائد احساسِ تحفظ تلے دبے ہوں، عمومی طور پہ تناؤ اور خوف کی فضا بھی اثر انداز ہوسکتی ہے؟

یہ سب وجوہات ہوسکتی ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ بچوں کے ذہنی وجسمانی حفظان صحت کے مسائل کے پس پردہ ان کے ماحول میں واقع ہونے والی اس طرح کی مخصوص تبدیلیاں نہیں ہیں۔ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ مجموعی طور پہ ہمارا بچوں کو دیکھنے اور ان کی تربیت کے حوالے سے زاویہ نظر ہی یکسر تبدیل ہوگیا ہے۔ اس تصور نے اسکولوں کے منہج کو بدلا ہے۔ اس کے نتیجے میں پڑوسیوں و سماج کے ساتھ اور آپس کے اندرونی باہمی تعلقات کی نوعیت میں بھی تغیر واقع ہوا ہے۔

بچوں کی تربیت ہر ایک کے لیے انفرادی معاملہ بن چکا ہے حالانکہ ایک وقت میں یہ معاشرتی بہبود وبہتری کا عمل سمجھا جاتا تھا۔ بچوں کی بہبود کے حوالے سے والدین اپنی مدد آپ کے تحت کام کرتے ہیں۔ کئی والدین کو ظاہری جسمانی صحت و تحفظ  جیسے امور کو بچوں کی نفسیاتی، جذباتی اور سماجی میل جول کی تربیت پر ترجیح دینی پڑتی ہے۔

اب بچوں کی نگہداشت اور دیکھ بھال کے لیے کسی ایسے نظم پر اعتماد نہیں کیا جاتا جو مشترکہ ہو اور اس میں زیادہ میل جول ہو، نہ ہی انہیں آزادانہ کچھ فارغ وقت فراہم کیا جاتا ہے۔ جو والدین کام کرتے ہیں وہ اپنی والاد کو زیادہ تر گھروں میں ہی بند رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اسکول کا دورانیہ طویل اور سخت نظم وضبط پر مشتمل ہوتا ہے۔ کنڈر گارٹن جو بچوں کے کھیلنے کے لیے مختص تھے اب تعلیمی گراؤنڈ اور تربیت گاہیں بن چکے ہیں۔ چھوٹے بچوں کو ہوم ورک دیا جاتا ہے حالانکہ تحقیق کے مطابق یہ نقصان دہ ہے۔

ڈاکٹر گرے کے مطابق نوعمر بچوں کے ذہنی تناؤ کے پیچھے اسکول کے کردار کو اس تحقیق سے بھی تقویت ملتی ہے جس میں ان کی خودکشی کے اقدام یا میلان کے ایام اور اوقات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ بچوں میں خودکشی کرنے کے اقدام یا رجحان کا تناسب چھٹیوں کے دنوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ دیکھا گیا ہے۔ جبکہ بڑی عمر کے افراد زیادہ تر گرمیوں میں اس کا اقدام کرتے ہیں۔ البتہ بچوں کے دماغی ونفسیاتی مسائل کا سبب صرف یہ نہیں ہے کہ کلاس روم میں میں کیا ہوتا ہے۔ یہ مسائل معاشرے میں پنپنے والی کئی دیگر مشکلات کو بھی عیاں کرتے ہیں۔ وسائل کی قلت، بشمول جسمانی وذہنی صحت کی سہولیات تک محدود رسائی، رہائش کے اخراجات اور اچھی تعلیم کی ضروریات والدین کو زیادہ وقت اور سخت محنت کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ والدین پر جتنی زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوں گی، بچپنے کا ضروری آزادانہ وقت اور پسندیدہ سرگرمیوں کا ملنا اتنا مشکل ہوتا چلا جائے گا۔

بہت سارے بچوں کے لیے اسکول سے چھٹی کے بعد کا وقت بھی کوئی سُود مند نہیں ہوتا، یہ تقریباََ پڑھائی کے اوقات جیسا ہی ہوتا ہے۔ بچے دوپہر کے بعد کا وقت، ہفتے اور گرمیوں کی چھٹیاں دیکھ بھال و نگہداشت کے مخصوص کیمپس میں گزارتے ہیں، جبکہ والدین کام کے لیے نکلے ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع بچوں کی پہنچ سے باہر ہیں جہاں وہ دوسروں کے ساتھ مل کر روٹین سے ہٹ کر اور بغیر کسی نگرانی کے کھیل کود سکیں۔ اور جو والدین بچوں کو ساتھ لے کر مشترکہ سرگرمیوں کی سہولت فراہم کرسکتے ہیں وہ انہیں مکمل آزاد نہیں چھوڑتے، وہ انہیں  اپنی نگرانی کے اندر ایک سرگرمی سے دوسری سرگرمی میں منتقل کرتے جاتے ہیں۔ مرضی کے کھیل کود اور بچپن کی آزادی ناپسندیدہ اورغیر مجاز عمل بن گئے ہیں، بلکہ یہ ایک طرح سے جرم کے ارتکاب سے کم نہیں ہے۔

انہیں کم ہوم ورک، تھوڑے امتحانی ٹیسٹ، جبکہ سوشل لرننگ کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع کی ضرورت ہے

Center for childhood resilience کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر تالی رویو کہتی ہیں کہ آجکل کے بچوں میں باہمی روابط اور ضروری سماجی صلاحیتوں کے حوالے سے شدید کمزوری وعدم اعتماد پائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو معاشرتی جذباتی صلاحیتوں کے اظہار اور ان کی مشق کے مواقع میسر نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے یا تو کسی شدت پسند ماحول میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں وہ باہر نہیں نکل سکتے، یا اگر ایسا نہیں ہے تو والدین کی طرف سے ضرورت سے زائد احساسِ تحفظ کے سبب  اتنی آزادی بھی نہیں رکھتے کہ  خود نیچے اُتر کر دوکان تک چلے جائیں۔ بچے دوستی کرنا اور تعلق بنانا نہیں سیکھ پاتے۔ انہیں یہ علم نہیں ہوتا کہ اگر کوئی تنگ کر رہا ہے تو کیسا ردعمل دینا ہے۔ کسی مسئلے کو حل کیسے کرنا ہے۔

بعض والدین اور ماہرینِ امور بچگان کی رائے ہے کہ بچوں میں باہمی روابط اور دیگر معاشرتی صلاحیتوں کے حوالے سے کمزوری وعدم اعتماد میں سوشل میڈیا اور سکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنے کا کردار ہے۔ لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سکرین اور سوشل میڈیا ہی اس کے ذمہ دار نہیں ہیں، بچے اس طرف تب متوجہ ہوتے ہیں جب ان کے لیے حقیقی زندگی میں لوگوں کے ساتھ میل جول کے مواقع ناممکن بنا دیے جاتے ہیں۔ ایسے عوامی مقامات جہاں بچے عام و نارمل انسانوں کی طرح رہنا سیکھ سکتے ہیں وہ یاتو ختم ہو رہے ہیں یا انہیں 18 سال کی عمر سے کم کے بچوں کے لیے ممنوعہ و خطرناک قرار دے دیا گیا ہے۔

ڈنائز پوپ کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں اب تبدیلی آنی چاہیے۔ وہ جو Challenge Success نامی ایسی تنظیم کے بانی ہیں جو اسکولوں میں تحقیق سے ثابت اصلاحات و تبدیلیاں لانے کے لیے تعاون فراہم کرتی ہے، تاکہ بچوں کی دماغی صحت میں بہتری لائی جاسکے۔ بچوں کو آرام اور سکون درکار ہوتا ہے۔ انہیں لنچ کے لیے لمبا وقت دیا جائے۔ آزادانہ کھیل کود، فیملی ٹائم اور کھانے پینے کا وقفہ چاہیے ہوتا ہے۔ ان کو کم ہوم ورک، تھوڑے امتحانی ٹیسٹ، جبکہ سوشل لرننگ کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع کی ضرورت ہے۔

Challenge Success تنظیم والدین کے ساتھ بھی کام کرتی ہے۔ وہ انہیں اس پر آمادہ کرتی ہے کہ پڑوسیوں کے ساتھ میل جول بنائیں۔ یہ ایسی غیر نصابی سرگرمیوں کے پرگرامز منعقد کراتی ہے جہاں بچے مرضی سے کھیل سکیں۔ تنظیم والدین کو مشورہ دیتی ہے کہ اگر بچے ہلکی پھلکی لڑائی کریں تو دخل اندازی نہ کریں تاکہ ان میں خود مسائل حل کرنے کی صلاحیت پروان چڑھ سکے۔

ڈاکٹر گرے نے بتایا کہ ان کے پروگرام کا بہت خیر مقدم کیاگیا۔ بچے مرضی سے اور آزادانہ کھیلنے کی خاطر ایک گھنٹہ پہلے اُٹھ جاتے ہیں، حالانکہ یہ ہفتے میں ایک گھنٹے کے لیے ہوتا ہے جو صحرا میں پانی کے ایک قطرے سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔

اس طرح کی تنظیمیں عمدہ کام کر رہی ہیں۔ سوچنے کی بات ہی ہے کہ اگر بچوں میں تناؤ اور مایوسی کا یہ عالَم ہے تو ان کا خوش نظر نہ آنا اچنبھے  کی بات نہیں۔ انسانوں میں دلچسپی لینے اور ان میں انویسٹ کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ انہیں محفوظ اور آزاد زندگی فراہم کی جاسکتی ہے۔ بچوں  کامعاملہ تو زیادہ نازک ہے لیکن اس میں ہم سب کوتاہی کرتے ہیں۔ پھر حیرانی کی بات تو نہیں کہ ہمارے بچوں کی اکثریت مایوسی وتناؤ کا شکار ہو رہی ہے۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: نیویارک ٹائمز

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...