گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں میں اِی لرننگ منصوبوں کا آغاز

128

ایک وقت تھا جب گلگت بلتستان میں تعلیمی اداروں کا فقدان سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ تب منتخب عوامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں  کے حکام کی اولین ترجیح اس خطے میں تعلیمی ادارے کھولنا تھا، لیکن آج گلگت بلتستان میں کوئی چھوٹا سا علاقہ بھی ایسان ہیں جہاں اسکول موجود نہ ہو۔ اب محکمہ تعلیم سمیت ذمہ دار حلقوں کی ساری توجہ معیار تعلیم کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔

حکومت جہاں اساتذہ کی تربیت کے لیے ریفریشر کورسز کے انعقاد پر توجہ دے رہی ہے وہاں طلبہ وطالبات کے لیے تعلیم کو زیادہ آسان بنانے کی خاطر  تدریسی معاونت اور جدید ٹیکنالوجی کو بھی استعمال میں لایا جارہا ہے۔ کمپیوٹر وانٹرنیٹ نے جدیدترین علوم تک طلبہ کی رسائی کو آسان بنا دیا ہے۔ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے اب بیشتر اسکولوں میں کمپیوٹر لیبارٹریز موجود ہیں جن سے روزانہ کی بنیاد پر طلبہ استفادہ کر رہے ہیں۔ محکمہ تعلیم بلتستان اور ڈائریکٹر ایجوکیشن خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے خطے کے تعلیمی اداروں میں اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا ہے۔

فی الحال اِی لرننگ کا یہ پروگرام جماعت نہم و دہم کے مضامین، بیالوجی، کیمسٹری اور ریاضی کے لیے شروع کیا گیا ہے

اِی لرننگ کے  نام سے شروع کیے گئے اس پروگرام کے تحت گلگت بلتستان کے سرکاری اسکولوں میں رائج پنجاب ٹکسٹ بک یورڈ کی کتابوں کے اسباق سے متعلقہ پی ایچ ڈی اور بہت ہی  کولیفائڈ اساتذہ کے لیکچرز  ویڈیوز  کے ساتھ حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ یہ ویڈیوز ملک کے مستند اداروں کی ویب سائٹس پر دستیاب تھیں جنہیں طلبہ کے فائدے کے لیے محفوظ کرلیا گیا ہے۔ بچوں کے اسباق پر مشتمل ان ویڈیوز کو اسکولوں کے کلاس رومز تک پنچانے کے لیے خاص اہتمام کیا گیا ہے۔ اسکولوں کو 34 انچ کا ایل اِی ڈی سکرین اور ان اسباق کی ویڈیوز پر مشتمل 64 جی بی کی یو ایس بی فراہم کی جا رہی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں محکمہ تعلیم بلتستان  ڈویژن کے 578 اسکولوں میں سے 75  کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اِی لرننگ منصوبے کا آغاز محکمے کے اپنے وسائل سے کیا گیا ہے۔ جن تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی ہے وہاں اس منصوبے سے بہت فائدہ ہو رہا ہے۔ نہ صرف طلبہ وطالبات، بلکہ خود اساتذہ بھی اسباق کو ویڈیوز کے ذریعے پیشہ ورانہ ماہرین سے سنتے ہیں تو ان کی معلومات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

فی الحال اِی لرننگ کا یہ پروگرام جماعت نہم اور دہم کے مضامین، بیالوجی، کیمسٹری اور ریاضی کے لیے  شروع کیا گیا ہے، اگلے مرحلے میں  میٹرک کے تمام مضامین اور جماعت پنجم سے اوپر کے سب درجات کے لیے شروع کیا جائے گا۔ ڈائریکٹر ایجوکیشن کے مطابق بلتستان کے تمام ہائی اسکولوں میں یہ ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے لیے محکمے کو ڈیڑھ کروڑ روپے  کے وسائل درکار ہیں۔ اس نظام سے وابستہ توقعات اورکامیابیوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو  یہ بڑی لاگت نہیں ہے۔

تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے موبائل ایس ایم ایس کا ایک نظام بھی وضع کیا گیا ہے جس کے ذریعے تمام اساتذہ اور طلبہ کی حاضری کا ڈیٹا روزانہ کی بنیاد پرڈائریکٹر آفس تک پہنچ جاتا ہے۔ اس سے اسکولوں میں غیر حاضری کی شکایتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تعلیمی نظام کو طاقتور بنانے کی ان کوششوں کی وجہ سے سالانہ امتحانات کے نتائج میں حوصلہ افزا بہتری آئی  ہے۔ متعلقہ اداروں کی تعلیمی اصلاحات میں دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ مستقبل میں خطے کے اندر نوجونوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے مزید بہتر اقدامات کیے جائیں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...