سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ اپنا احتساب بھی کریں

258

کوئی معاشرہ اگر مکمل طور پہ خرابی کا شکار ہے، اس کے تمام شعبوں میں کرپشن اور بدعنوانی کا غلبہ ہے تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ حکومتی مشینری اس کی ذمہ دار ہے اور اسی کی نااہلی کے سبب حالات اتنے بگاڑ کا شکار ہیں، اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ سماج بھی اپنا کردار ادا نہیں کر رہا۔ کسی بھی ملک کے شہری جس طرح اپنے حقوق طلب کرنے کے مجاز ہوتے ہیں بالکل اسی طرح ان پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ جب لوگ یہ بھول جاتے ہیں تو معاشرہ اسی طرح بگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے جس طرح ہم اپنے ملک میں دیکھ رہے ہیں۔

پاکستان کے تعلیمی نظام  کا المیہ یہ ہے کہ اس سے نہ ریاست کو کوئی سروکارہے اور نہ خود معاشرہ اس کو وہ مقام دینے کے تیار ہے جو مہذب قومیں دیتی ہیں۔ تعلیم کو ریاست اور سماج، دونوں کی طرف سے عدم توجہی اور غفلت کا سامنا ہے۔ بلکہ اسے کاروبار کا ذریعہ بناکر اس کی رُوح ہی سلب کرلی گئی ہے۔ اب ہمارے ملک کی ہر گلی میں چار اسکول تو ملتے ہیں لیکن تعلیم کہیں نظر نہیں آتی۔ اگر ہم پسماندہ ہیں، دنیا کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں تو اس پر کسی کو الزام نہیں دے سکتے۔ ہم نے وہ فرض ادا نہیں کیے جو اس دھرتی کا مطالبہ تھے، جن کی اساس پر قومیں آگے بڑھتی ہیں اور اندرونی ڈھانچہ صحت مند ہوسکتاہے۔ ریاست اور معاشرہ دونوں  ہی اپنی ذمہ داریوں سے بے گانے ہیں۔

ہم میں سےہر کوئی یہ مطالبہ تو کرتا ہے کہ اگر حکومت کی توجہ تعلیم کی جانب مبذول کرانی ہے تو سرکاری افسران اور سیاستدانوں کے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلے کا پابند بنایا جا جائے، یہ اچھی تجویز ہے، لیکن اس کے ساتھ سرکاری اسکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کے بچوں کو بھی شامل کیا جائے جو نجی تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ  سرکاری اساتذہ کو اس مسئلے سے کس طرح مبرا رکھا جا سکتا ہے، جو اگر دل سے جدوجہد کرتے یا اہل ہوتے تو تعلیمی ڈھانچہ اتنی بدحالی کا شکار نہ ہوتا۔ اگر پڑھانے والے خود مطمئن نہیں ہیں تو عام لوگوں سے کیسے توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں بھیجیں اور ان پر اعتماد کریں۔ سرکاری اساتذہ دیگر تمام حکومتی شعبوں میں کام کرنے والوں کے مقابلے میں سب سے آرام دہ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ وقت کی پابندی اور محنت سے پڑھانے کی مشقت سے آزاد ہوتے ہیں۔ عموماََ سست اور اپنے شعبے کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ رویہ کے حامل ہوتے ہیں۔ البتہ یہی اساتذہ جب ٹیوشن پڑھانے جاتے ہیں یا پارٹ ٹائم کسی اور مشغلے سے وابستہ ہوں تو انتہائی چاک وچوبند اور ذمہ دار شہری نظر آئیں گے۔ ریاست سے بھی سوال کیا جائے، اس کے ساتھ سماج پر لازم ہے کہ وہ خود بھی اپنا احتساب کرے۔

اب ہمارے ملک کی ہر گلی میں چار اسکول تو ملتے ہیں لیکن تعلیم کہیں نظر نہیں آتی

بلوچستان میں تو صورتحال یہ ہے کہ سرکاری اساتذہ کی ایک بڑی تعداد سرے سے تعلیمی اداروں میں حاضر ہی نہیں ہوتی۔ بلکہ ایک رجحان وہاں یہ بھی ہے کہ بعض اساتذہ نے اپنی جگہ کسی اور شخص کو پڑھانے کے لیے مقرر کر رکھا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ خود یا تو پڑھنا لکھنا جانتے ہی نہیں، یا پھر وہ کسی اور کام کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور وہیں اپنا وقت صرف کرتے ہیں، البتہ مہینے کی تنخواہ انہیں کے اکاؤنٹ میں جائے گی جس سے وہ کچھ پیسے اپنی جگہ حاضری دینے والے کو دیدیں گے۔

بلوچستان میں ابھی یو این ایس ایف کا ایک پروجیکٹ آر ٹی ایس ایم  متعارف کرایا گیا جس کے تحت ایک ٹیم تشکیل دی گئی جو سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری کی نگرانی کرے گی اور اس پر آمادہ کرے گی کہ وہ اداروں میں آکر طلبہ کو پڑھائیں۔ لیکن یہ ٹیم غیر جانبدار نہیں تھی، یہ اسی افسرشاہی کی تشکیل کردہ تھی جو خود ملک کے تعلیمی اداروں کی تباہی کا سبب ہے۔ کاغذی اور فائلوں کی سطح پر یہ اقدام بہت کارگر ثابت ہوگا لیکن عملاََ اس کے نتائج صفر ہیں۔

اگر حکومت تعلیم کے لیے حقیقت میں اتنی ہی سنجیدہ ہوتی تو اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے ٹیمیں تشکیل دینے کی نوبت ہی نہ آتی۔ دوسری طرف جب اساتذہ تعلیم کو اہمیت ہی نہ دیں تو انہیں زبردستی پڑھانے پر آمادہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔ یہ اگر تعلیمی اداروں میں حاضر ہو بھی جائیں تو کیا پڑھائیں گے اور کتنے اچھے نتائج دے پائیں گے؟ یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے عام لوگوں کے علاوہ یہی اساتذہ بھی تعلیمی نظم کی خرابی کی ساری ذمہ داری حکومت پر ڈال رہے ہوتے ہیں۔ کیا وہ کبھی خود اپنا احتساب بھی کریں گے کہ وہ تعلیم کے لیے کتنے مخلص ہیں؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...