14 اگست: اتنا مشکل سفر تو نہیں تھا جتنے پاؤں میں چھالے پڑے ہیں

373

آج پاکستان میں 73 واں یومِ آزادی منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے تمام پاکستانیوں کو دلی مبارکباد پیش کی ہے اور کہا ہے کہ آج ہم سب عزم کریں کہ پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوشحال بنانے کے لیے بھر پور کردار ادا کریں گے۔ آج کے یوم آزادی کی یہ خصوصیت بھی ہے کہ اسے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر منایا جا رہا ہے۔

آزادی بلاشبہ بہت بڑی نعمت ہے اور اس پر خوشی کا اظہار بھی عین فطری ہے لیکن پاکستان میں آزادی کا مطلب ایک تاریخ سے دوسری تاریخ کی جانب انتقال ہے۔ یہ 14 اگست 1947 سے قبل اور اس کے بعد کی تاریخ کے مابین تفریق کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں سال بدل جاتے ہیں مگر حالات اور سوالات نہیں بدلتے۔ ہر یوم آزادی پر وہی امور زیربحث آتے ہیں جو پچھلے اگست میں تھے۔ بطور قوم ہماری عمر تو بڑھ رہی ہے اور ہمارے جسمانی قد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے لیکن ہم ریاست کی جانب سے متعین کی گئی آزادی کے جس پنجرے میں قید کیے گئے ہیں وہ جوں کا توں ہے۔ ہم تاریخ کی خوشی مناتے ہیں لیکن محدود آزادی کے پنجرے کا کرب بھی ساتھ محسوس کرتے ہیں۔

ہم خوشحالی اور ترقی چاہتے ہیں اور ہر سال بھرپور عزم بھی دہراتے ہیں۔ لیکن کیسے اور کس نوعیت کی؟ اس پر نہ بات کی جاتی ہے اور نہ گنجائش موجود ہے۔ کیونکہ یہ تشخص کا سوال ہے جو اپنے ضمن میں ڈھیر سارے ایسے سوالات رکھتا ہے جو آزادی کی حدود کو توڑ سکتے ہیں۔

آزادی لامحدود ہوتی ہے۔ اس میں جبر کا شائبہ نہیں ہوتا۔ یہ وہ فضا ہوتی ہے جس میں انسانی حقوق، سماجی مساوات، جمہوریت، شہریت، شعور، علم، فن، خوشبو، ہر شے کی بات کی جاسکتی ہے۔ اگر کسی شے پر قدغن ہو تو اسے حقیقی آزادی سے کیسے تعبیر کیا جاسکتا ہے؟

اس تناظر میں آزادی کی بنیاد تشخص کے تعین اور ریاست و شہریت کے مابین متوازن تعلق کے قیام پر استوار ہوتی ہے، ورنہ تاریخ آگے بڑھتی رہے گی لیکن حالات اور سوالات نہیں بدلیں گے۔ یوں آزادی کی رسمی خوشی، کرب کا اذیت ناک احساس بھی ساتھ لائے گی۔ اگر سمت کا تعین ہو جاتا تو ترقی و خوشحال کی منزل اتنی مشکل نہ ہوتی جتنی کہ بن گئی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...