ہندو مسلم دشنمی، سرسید احمد خان کی فکر کے تناظر میں

255

1867 میں بنارس میں اردو ہندی تنازع کے تناظر میں سر سید احمد خان نے برطانوی ڈویثنل کمیشن کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ”At present there is no open hostility between the two communities (Hindus and Muslims), but on account of the so-called “educated” people, it will increase immensely in future. He who lives will see.” (Hector Bolitho, Jinnah Creator of Pakistan, Oxford University Press, p 35)

’ ہندو اور مسلم دونوں قوموں کے درمیان فی الحال کوئی جارحیت نہیں پائی جاتی مگر نام نہاد “تعلیم یافتہ” افراد کی وجہ سے مستقبل میں جارحیت میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ جو زندہ رہا وہ یہ دیکھ لے گا۔‘

سر سید احمد کان کا یہ بیان تقسیم ہند کے مطالعہ کو مختلف زاویہ نگاہ دیتا ہے۔ ہند و مسلم عوام اور ہند و مسلم قائدین ( جن میں سیاسی، مذہبی، صحافتی رہنما شامل ہیں)  و جماعتوں کے رجحانات اور رویوں میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے تقسیمِ ہند کی تاریخ کا درست مطالعہ ممکن نہیں۔

عوام اور ان کے قائدین (بمع جماعتوں کے جن کے وہ رہنما ہوتے) سماج میں بہتے دو متوازی دھارے  ہوتےہیں، جوایک دوسرے سے الگ  چلتے ہیں مگر ایک دوسرے کو متاثر بھی کرتے رہتے ہیں۔ تاہم، بنیادی طور پر ان کے مفادات اور ترجیحات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ عام آدمی کو جب تک بھڑکایا نہ جائے، اسے اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ اس کا ہمسایہ ہم مذہب اور یکساں ثقافت کا حامل ہے یا نہیں۔ انہیں ایک دوسرے کی مختلف شناختوں کی وجہ سے ایک دوسرے کا سیاسی رقیب نہ بنا دیا جائے تو یہ فطری طور پر بقائے باہمی پر یقین رکھتے ہیں۔

لیکن تاریخ نگاری اور اس کے مطالعہ کا ہمیشہ سے یہ رجحان رہا ہے کہ سماج کے سیاسی چہرے کو عوام کا حقیقی چہرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ تاریخ ہمیشہ بادشاہوں اور فاتحین کے طرز عمل کا نام ٹھہرتی ہے۔ یہ سوال اٹھا کر دیکھیے کہ کیا سکندر اعظم یونان کے سماج کا مکمل نمائندہ تھا؟ کیا دنیا فتح کرنا ایک عام یونانی کا خواب تھا؟ کہیں ایسا تو نہیں تھا کہ ایک شخص، سکندر کے خواب کو پورا کرنے کے لیے عوام  کو قومی عظمت  و تفاخر کی مے پلا کر یا جبراً اس راہ پر لگایا گیا تھا؟ کیا یونان کا عام آدمی ہندوستان کے عام آدمی سے لڑنا چاہتا تھا؟ اگر سکندر دنیا پر تاخت کا ارادہ نہ کرتا تو کیا ایک کسان، ایک بڑھئی، ایک موچی، اس سے جا کر مطالبہ کرتا کہ جاؤ دنیا فتح کرو اور اس کے لیے خون کی ندیاں بہا دو۔ یونان کا حقیقی نمائندہ کون تھا؟ وہ عام آدمی جس کی کبھی کوئی شنوائی نہ ہو سکی۔ یہی ہر دور کی کہانی ہے۔ درحقیقت تاریخ میں عام آدمی کا مقدمہ کبھی لڑا ہی نہیں گیا۔ بات قائدین سے شروع ہوتی ہے اور قائدین پر ختم ہو جاتی ہے اور عام آدمی کو کسی ایک خانے میں ڈال دیا جاتا ہے۔

تاریخ نگاری اور اس کے مطالعہ کا ہمیشہ سے یہ رجحان رہا ہے کہ سماج کے سیاسی چہرے کو عوام کا حقیقی چہرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے

سرسید احمد خان کی فکر کے تناظر میں تقسیم ہند کا درست تناظر یہ ہے کہ وہ نفرت جو سیاسی مفادات اور سیاسی رقابت نے سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں پیدا کی، وہ نفرت جو قومیت کے جدید فلسفے سے جدید تعلیم یافتہ طبقے میں بیرونی اقوام کے خلاف بلکہ اپنی ہم وطن مگر مختلف مذھب اور ثقافت رکھنے والی قوموں کے خلاف بھی پیدا ہوئی، اسے عوام میں پھیلا دیا گیا تاکہ عوام کی طاقت کو استعمال کر کے اپنے مفادات حاصل کیے جا سکیں۔

ہندو مسلم دشمنی کی بھی یہی حقیقت ہے۔ یہ دونوں قومیں عام آدمی کی سطح پر ایک دوسرے کی دشمن نہیں تھیں۔ مگر اقتدار کی ہوس نے ان کی نمائندگی کا دعویٰ رکھنے والی جماعتوں کو حصول اقتدار کے لیے انھیں لڑوا دیا۔ پہلے جداگانہ انتخابات کے ذریعے ان میں سیاسی رقابت کی راہ کھولی گئی اور پھر جب ان میں نفرت نقطہ عروج پر پہنچ گئی تو خونی فسادات شروع ہوگئے، بلکہ یوم راست اقدام (1946) باقاعدہ منصوبہ بندی سے شروع کرایا گیا اور پھر دونوں قوموں نے ایک دوسرے کو درندوں کی طرح بھنبھوڑ کر رکھ دیا اور علیحدہ ہو گئیں اور اب بھی ایک دوسرے پردانت کچکچاتی رہتی ہیں۔

ان قائدین نےبڑی محنت سے دو قوموں، جن کے درمیان بقول سرسید احمد خان کوئی جارحیت نہیں پائی جاتی تھی، کو ایک دوسرے کا جانی دشمن بنایا۔ ان جماعتوں کے وارثین اپنے گروہی مفادات کے تحفظ اور حصول کو یقینی بنانے کے لیے آج بھی یہ نفرت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ عوام کو اب تک یہ احساس نہیں کہ انھوں نے وہ لڑائیاں لڑی ہیں جو ان کی تھیں ہی نہیں اور نہ ان کی خاطر تھیں۔

تقسیم ہند کا خلاصہ اگر چند لفظوں میں کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسا نہیں ہوا تھا دو قومیں آپس میں لڑ پڑی تھیں، تو ان کی نمائندگی کا دعویٰ رکھنے والی دو سیاسی جماعتوں نے ان کے لیے علیحدہ ملک بنا ڈالے، ہوا یہ تھا کہ دو سیاسی جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تھیں، تو انھوں نے دو قوموں کو لڑوا کر ان کے الگ الگ ملک بنا ڈالے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...