کشمیر کی صورتحال پر اُمت مسلمہ کا ردعمل کیسا رہا؟

298

کشمیر پر بھارتی تسلط کے مضبوط ہونے پر امت مسلمہ کے ردعمل کو جانچنے کے بہت سارے پیمانے ہیں۔ سب سے اہم پیمانہ اس کو بطور فریق پاکستان کے حوالے سے دیکھنا ہے۔ چونکہ بھارت ایک سیکولر یا غیرمسلم ملک ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان مسلمان ملک ہے اس لئے امت مسلمہ کواصولی طور پہ اپنے ہم مذہب اسلامی ملک ساتھ ہونا چاہیے۔ اگر اس طرح دیکھا جائے توموجودہ حالات میں عالمی برادری یعنی سامراجی ممالک کی طرح اسلامی ممالک کے حکام کی پاکستان کے ساتھ یکجہتی سردمہری کی شکار نظر آتی ہے۔ یوں کشمیری عوام اور ان کی جدوجہد کے ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کی یکجہتی پس منظرمیں چلی جاتی ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس کو مسلم ریاستوں اور ان کے حکام سے ہٹ کر عوامی سطح پر دیکھا جائے۔ اس تناظر میں کشمیر پر بڑی حمایت برقرار ہے۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے کئی اسلامی ممالک کے سربراہان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ جن میں ترکی کے طیب اردگان اور ملیشیا کے مہاتیر محمد کے طرف سے کچھ حمایت ملی لیکن زیادہ اسلامی ممالک نے اس کوعمومی ڈپلومیٹک طریقے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے اور کھل کر پاکستان کی حمایت کرنے سے احتراز کیا ہے۔

سعودی عرب نے متعلقہ فریقین سے کہاہے کہ وہ خطے کے عوام کے مفادمیں جموں و کشمیرمیں امن و استحکام کو برقرار رکھیں۔ سعودی عرب کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ حالات کاجائزہ لے رہی ہے جوانڈیا کے ارٹیکل 370کے خاتمے سے پیداہوئی، جس کے مطابق جموں و کشمیرکے عوام کوریاست میں خودمختاری دی گئی تھی۔ سعودی حکام نے حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بین الاقوامی قراردوں کی روشنی میں تنازع کے پرامن حل تلاش کرنے پر زور دیا۔

ایشیا ٹائمز میں حسن الحسن لکھتے ہیں کہ تاریخی طور پر پاکستان کو تقریبا تمام عرب اور مسلم اکثریتی ممالک میں کشمیر پر حمایت حاصل ہوا کرتی تھی۔ 1969سےاسلامی ممالک کی تنظیم آوآئی سی، کے پلیٹ فارم پر مغربی حمایت یافتہ پاکستان کو روسی حمایت یافتہ انڈیا کے خلاف کشمیرکے مسئلہ پرمکمل تعاون حاصل تھا۔ پاکستان کو یہ حمایت 90 کی دہائی تک ملتی رہی۔ دریں اثنا 2000 کی سے انڈیا نے خلیجی ممالک سے تعلقات بہتر بنائے جس کی وجہ سے ان کے موقف میں تبدیلی پیدا ہوئی۔ سعودی عرب نے دہرا معیار اپنایا ہوا ہے۔ او آئی سی کی سطح پر یہ پاکستانی موقف کی تائید کرتاہے، جو تنظیم کے اکثریتی اراکین کا بھی موقف ہے۔ لیکن اس سے باہر وہ کشمیر کے قضیے کو اور زاویے سے جانچتا ہے۔ یہاں اسے وہ ایک ایسا تنازع سمجھتا ہے جس پر طرفین کو مل کربات چیت کے ذریعے سے مسئلے کا حل تلاش کرنے چاہیے۔ اس پالیسی کا اظہار حال ہی میں پرنس محمدبن سلمان کےدورے میں بھی  ہوا۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے جس شہزادے کی گاڑی ذاتی طور پر چلائی اس نے انڈیا پہنچ کراعلان کیاکہ مودی میرا بڑا بھائی ہے۔اعلامیے میں کشمیریوں کو بھی بات چیت کا مشورہ دیا گیا۔ یہ بیان ایک ایسے موقع پردیا گیا تھا جب شہزادے کے دورے کے دوران دونوں ممالک کی سرحد پر حالات خراب تھے۔

اب بھی سعودی عرب نے او آئی سی کے ساتھ مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں جموں و کشمیرمیں انڈیا کی طرف سے تشدد پرتنقید کی گئی اور پاکستان کو صبر و تحمل کی پالیسی پرعمل پیرا ہونے پر سراہا گیا۔ عام حالات میں سعودی عرب اسی طرح کا رویہ اپنائے رکھتا ہے مگر جونہی کشمیر میں ہلاکتیں ہوتی ہیں، تشدد بڑھتا ہے اور حالات خراب ہوتے ہیں تو سعودی عرب کے تعلقات انڈیاکے ساتھ مشکلات سے دوچار بھی ہونے لگتے ہیں۔

کشمیر پر پاکستانی ریاست کی پالیسی ابھی بھی پرانے خطوط پر قائم نظرآتی ہے اگرچہ عمران خان پراس سے انحراف کا الزام لگایا جا رہا ہے جس کا پس منظر ان کا حالیہ امریکہ کا دورہ اور اس میں امریکی صدرٹرمپ سے ثالثی کے حوالے خبریں ہیں

سعودی عرب کے برعکس عرب امارات کا رویہ مکمل طور پہ مختلف اور یک طرفہ ہوگیاہے۔ عرب امارات اب کشمیر کو انڈیا کا اندرونی معاملہ سمجھتاہے۔ نئی دہلی میں متعین اماراتی سفیرنے کہا کہ یہ انڈیا کا داخلی معاملہ ہے اوراس نئے فیصلے سے سے کشمیر میں سیکورٹی، اور سماجی انصاف کے حصول میں بہتری آئے گی اور استحکام اور امن پیدا ہوگا۔ فی الحال ترکی کے علاوہ کسی دوسرے اسلامی ملک کی طرف سے پاکستان کی حمایت کااعلان نہیں ہوا۔

سب سے حیرت زدہ کردینے والا ردعمل افغان طالبان کے طرف سے آیا جن پر پاکستان کی پراکسی ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ طالبان کا بیان کسی جہادی گروہ سے زیادہ ایک سیاسی تنظیم یا افغانستان پر حکمراں گروہ کی حیثیت سے سامنے آیاہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے انڈیا اور پاکستان دونوں سے درخواست کی کہ وہ ایسے اقدامات کرنے سے گریز کریں جس سے تشدد کی راہ ہموار ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی پو لیٹیکل پارٹیوں کو اس مسئلے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ ان کا اشارہ مسلم لیگ ن کی طرف تھا۔ ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق سیاسی جماعتیں افغانستان کو کشمیر کے قضیے سے الگ رکھیں۔ مسلم لیگی رہنماؤں کا خیال ہے کہ پاکستان کو امریکہ پر واضح کرن اچاہیے کہ افغانستان میں مدد کے بدلے میں کشمیر پر حمایت کی جائے۔ طالبان نے اس کو رد کیا۔ پاکستانی حکا م کا کشمیر قضیے کو افغان امن مذاکرات سے الگ رکھنا اپنی جگہ درست فیصلہ ہے۔

کشمیر پر پاکستانی ریاست کی پالیسی ابھی بھی پرانے خطوط پر قائم نظرآتی ہے اگرچہ عمران خان پراس سے انحراف کا الزام لگایا جا رہا ہے جس کا پس منظر ان کا حالیہ امریکہ کا دورہ اور اس میں امریکی صدرٹرمپ سے ثالثی کے حوالے خبریں ہیں۔ لیکن عمومی پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کے آثار فی الحال نمایاں نہیں۔

کشمیر پر مسلم ممالک کے حکام کا ردعمل تو یہ رہا۔ لیکن مسلم امہ کے تصور کو محض ریاستوں اور ان کے حکام سے نتھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اسلامی نقطہ نظرسےاُمہ کامطلب آسان زبان میں مسلم کیمونٹی ہے، یعنی تمام مسلمانوں کا مشترکہ گروہ۔ اس طرح دیکھا جائے تومسلم ممالک  کے حکام کے برعکس مسلم کمیونٹی یا سول سوسائٹی نے کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کیاہے۔ مسلمان چاہے وہ مشرقی وسطی میں ہوں یا مشرق بعیدمیں، یا مغرب میں، ان کی پوری ہمدردی کشمیریوں کے ساتھ ہے۔

البتہ کشمیر پر مسلم کمیونٹی کی حمایت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ پاکستانی موقف کی بھی حمایت کرتے ہوں، کیونکہ کشمیریوں کی اپنی جدوجہد بھی مختلف سطح پرہے۔ اس میں سیاسی اور مسلح کوششیں شامل ہیں۔ مسلح جدوجہد کی حمایت کہیں نہیں کی جاتی۔ سیاسی لحاظ سے بھی اس معاملے کا ایک رُخ نہیں ہے۔ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق سے لے کر ایک آزاد ملک کی حیثیت سے قیام کے لیے سعی جاتی ہے۔ پھر اس میں بھی کچھ لوگ مذہبی حیثیت میں بات کرتے ہیں جبکہ ایک طبقہ سیکولر نظم کا داعی ہے۔ اسی وجہ سے مسلم کمیونٹی کی طرف سے حمایت بھی اگرچہ منقسم ہے لیکن یہ ہندوستانی جبر کے خلاف اور کشمیر پر کشمیریوں کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے پر متفق نظرآتی ہے۔

بھارت کے اندر سکھوں اورپنڈتوں سے لے انڈین کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی نے مودی حکومت کے اقدام کی شدیدمذمت کی ہے۔ لیکن سب سے اہم جدوجہد کشمیری عوام کی اپنی ہے۔ کرفیو، اور مواصلات کے نظام کے معطل ہونے کی وجہ سے حالات خراب ہیں، لیکن عوامی جدوجہد جاری ہے۔ اس جدوجہد کے ساتھ ایک انڈین طبقے اور پاکستانی عوام کی یکجہتی کے علاوہ عالمی سطح پر مسلم امہ کااحتجاج اگر مسلسل جاری رہا اور اسے زیادہ منظم کر لیا گیا تو بھارت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...