دھندلی تحریریں

یہ مضمون ضمیر نیازی کی کتاب ’’دا پریس ان چینز اینڈ ویب آف سنسر شپ ‘‘ اور دیگر اخباری خبروں کی مدد سے تحریر کیا گیا

266

2 جولائی 2019 کو جیو ٹی وی پر حامد میر کا پروگرام کیپیٹل ٹاک اس وقت بند ہوگیا جب سابق صدر آصف علی زرداری کا انٹرویو نشر ہی ہوا تھا۔ پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے اس انٹرویو کو نشر  نہ کرنے کے حوالے سے کوئی پیشگی ہدایات جاری نہیں کی تھیں تاہم سرکاری عہدیداران کا کہنا تھا کہ اس انٹرویو کو اس لئے روکا گیا کیونکہ سابق صدر زرداری پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات چل رہی تھیں۔ ناقدین کے مطابق اس انٹرویو پر سرکاری بندش پاکستان میں آزادی اظہار رائے کی سکڑتی ہوئی صورت کی ایک اور مثال ہے۔ یہ ملک آزاد صحافت کے لئے ورلڈ پریس انڈیکس میں موجود 180 ممالک کی فہرست میں 142 ویں نمبر پہ آتا ہے۔ ہیرالڈ کے زیر نظر مضمون میں تاریخی طور پر اس خطے میں نیوز میڈیا کی مشکلات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

1500

گوا میں مسیحی سوسائٹی نے مسیحیت کے پرچار کے لئے اس خطے میں چھاپہ خانے متعارف کروائے مگر ہندوستانی اشرافیہ اس  ٹیکنالوجی کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کررہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1780

ایسٹ انڈیا کمپنی نے ان خبروں کی نگرانی شروع کردی ہے جو اس کے زیر انتظام علاقوں میں نشر ہوتی ہیں۔ ولیم ڈوآنے ایک آئرش نژاد امریکی صحافی ’’دی ورلڈ‘‘ کے نام سے ایک اخبار شائع کرتا ہے جسے ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے مقاصد سے متصادم تصور کرتی ہے۔ چونکہ اس کو روکنے کے لئے کوئی آئینی رستہ موجود نہیں ہے لہذا کمپنی اس صحافی کو اغوا کرواتی ہے اور بعد ازاں اسے جبراََ ہندوستان بدر کردیتی ہے۔ اس کے فوری بعد کمپنی ہندوستان میں صحافتی ضابطے کے پہلے قانون کا نفاذ کرتی ہے۔ جس کے تحت سرکار کسی بھی اخباری کاپی کو اشاعت سے پہلے سنسر کرسکتی ہے۔

1823

ایک نیا حکمنامہ جاری ہوتا ہے جس کے تحت ایسے اخبارات کے خلاف سزا تجویز کی جاتی ہے جو کمپنی کی سرکار کے خلاف کچھ شائع کریں گے اور جو کوئی بھی لائسنس کے بغیر کچھ شائع کرے گا اسے بھی جیل بھیج دیا جائے گا۔

1857
جنگ آزادی کے بعد نئے ظالمانہ قوانین متعارف کروائے جارہے ہیں جس کے تحت اشاعتی مواد کی تعداد کم ہوچکی ہے۔ مسلم ہفت روزہ سلطان الاخبار کو بند کردیا گیا ہے جبکہ دلی سے شائع ہونے والے دہلی اردو اخبار کے مدیر مولوی محمد باقر کو برطانوی راج کے خلاف لکھنے اور ہندوستانیوں کو آزادی کی تحریک کے لئے اکسانے کے جرم میں سزائے موت دی جا چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔

1936

محمد علی جناح نے اس حکومتی اقدام پر تنقید کی ہے کہ اس نے الہ آباد سےشائع ہونے والے ہندی روزنامے ابھیودایا کو اس لئے بند کردیا ہے کہ اس نےایک ہندو انتہا پسند پنڈت کرشنا مالاوایا کی تقریر شائع کی ہے۔

1947

آزادی کا سورج طلوع ہوتے ہی قائد اعظم محمد علی جناح کی اس تاریخی تقریر میں رد و بدل کرنے کی کوشش کی گئی جس میں انہوں نے ریاست اور مذہب کے درمیان تفریق واضح کی۔ کچھ اعلیٰ سطح کے حکومتی اہلکاروں نے قائد کی تقریر کے انتظامی پہلوؤں کو اخبار میں شائع ہونے سے پہلے سنسر کرنے کوشش کی۔

1949

پاکستان میں شائع ہونے والے موقر انگریزی جریدے سول ملٹری گزٹ کو چھ مہینے کے لئے اس لئے بند کردیا گیا کہ اس میں مسئلہ کشمیر کے لئے تقسیم کا منصوبہ درج تھا۔ اس اخبار میں مشہور اہم قلم ردیارڈ کپلانگ نے بھی پانچ سال تک کام کیا تھا۔

1951

پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر اور معروف شاعر فیض احمد فیض کو حکومت وقت کے خلاف بغاوت کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

اسی سال کراچی سے شائع ہونےوالے معروف انگریزی ماہنامے ’’دی مرد‘‘  کی اشاعت کو چھے مہینے کے لئے معطل کردیا گیا کیونکہ اس میں  صدر اسکندر مرز کی جانب سے وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کی معزولی کے فیصلے   پر تنقید کی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1959

صدر ایوب کی حکومت نے اشاعتی ادارے پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے زیر اہتمام شائع ہونے والے تمام اخبارات کو حکومتی تحویل میں لے لیا۔ اس ادارے پر الزام تھا کہ یہ غیر ملکی طاقتوں کا ایجنٹ ہے اور پاکستانی ریاست کے مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

1960

صدر ایوب خان کی حکومت میں پاکستان میں پریس اینڈ پبلی کیشنز نامی قانون متعارف کروایا جس کے تحت اشاعتی اداروں کو حکومت کے پاس سیکورٹی کی مد میں رقم جمع کروانا لازمی قرار پایا۔ اس قانون کے تحت حکومت کو اگر کسی اشاعتی ادارے کا شائع شدہ مواد پسند نہ آیا تو وہ سیکورٹی کی مد میں جمع کی گئی رقم ضبط کرنے کا حق رکھے گی۔

1974

ذوالفقار عی بھٹو کے دور حکومت میں بہت سے صحافیو ں کو دھمکایا گیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ڈان اور جسارت کے مدیران کو گرفتار کیا گیا اور جسارت سمیت کئی دیگر اخبارات متعدد بار بند کئے گئے۔

1978

مارشل لا حکومت کے زیر اہتمام بہت سے صحافیوں کو پابند سلاسل کیا گیا۔ فوجی عدالتوں کے ذریعے 11 صحافیوں پر فرد جرم عائد کی گئی۔ برصغیر کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ چار صحافیوں نصراللہ خان، اقبال جعفری، خاور نعیم ہاشمی، اور نثار زیدی کو کوڑے مارے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1979

جنرل ضیاء الحق کی آمریت نے اشاعت سے عین قبل سنسر شپ کی روایت متعارف کروائی۔ اخباری صفحات کو اشاعت سے پہلے کے معائنے کے لئے وزارت اطلاعات میں بھیجا جانے لگا۔ وہ خبر جس پہ اعتراض کیا جاتا تھا اسے اخبار کے صفحے سے حذف کردیا جاتا تھا اور اخبار کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ صفحے کے جس حصے پہ اعتراض والی خبرتھی اسے حذف کردینے کے بعد خالی جگہ کے ساتھ ہی شائع کرسکتے تھے۔ سندھ حکومت نے دو اخبارات روزنامہ مساوات اور روزنامہ صداقت کی اشاعت بند کردی۔۔۔۔۔۔۔۔

1980

مارشل لا  کے حکم نامے نمبر 49 کے مطابق کسی بھی ایسی خبر کو شائع کرنے پر جس پر شبہ ہو کہ وہ  ملکی تحفظ کے خلاف ہوگی یا اس میں مارشل لاکے خلاف لکھا گیا ہوگا قید کی سزا سنائی جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی بھی شخص کی ہتک عزت کرنے پر چاہے وہ مفاد عامہ کے مقصد کے تحت ہی کیوں نہ ہو قابل سزا جرم قرار دیا گیا۔

1988

ضیا الحق حکومت نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہرالڈ کی کور اسٹوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1999

نواز شریف حکومت نے جنگ گروپ کے اخبارات کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا اور اس ادارے پہ زور دیا گیا کہ وہ چند صحافیوں کو اپنے ادارے سے نکال دیں ۔ جب ایسا نہ ہوا تو حکومت نے اس ادارے کے اثاثے منجمند کردیئے۔

2007

پیمرا نے تمام ٹی وی چینلز کو حکم دیا کہ وہ ایسے مواد کو نشر نہ کریں جس میں عدلیہ کی بے حرمتی ہو یا فوج کے خلاف کوئی معاملہ ہو یا کوئی بھی ایسا معاملہ ہو کہ جس سے تشدد بھڑک اٹھے اور ریاست مخالف عناصر کو حوصلہ ملے۔

جنرل مشرف نے یو اے ای کے حکومتی سنسر بورڈ پہ زور دیا کہ وہ سیٹلائٹ پر چلنے والے دو چینلوں اے آر وائی اور جیو کی نشریات بند کردیں۔

2009

عدلیہ بحالی اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حق میں شروع کی گئی تحریک کی کوریج کرنے پہ آج ٹی وی اور جیو ٹی وی کی نشریات کو ملک بھر میں روک دیا گیا۔ اسی سال چار چینلوں کی نشریات کو جی ایچ کیو پر حملے کے دوران ملک بھر میں بند کردیا گیا۔۔۔۔۔۔

2015

پیمرا کے ذریعے ٹی وی چینلز کو ہدایت کی گئی کہ وہ ایسی کسی بھی خبر کو یا تجزیئے کو نشر نہیں کریں گے جو سعودی عرب یا ایران پر تنقید کرتی ہو تاکہ پاکستان کے  ان ممالک سے سفارتی تعلقات متاثر نہ ہو ں۔

2016

روزنامہ ڈان کے اسٹنٹ ایڈیٹر سرل المیدا کا نام اس لئے ایگزٹ کنٹرول لسٹ پہ ڈال دیا گیا کیونکہ انہوں نے سول ملٹری قیادت کے درمیان ہونے والی قومی سلامتی کی میٹنگ کے متعلق تجزیہ شائع کیا تھا۔ اس کے بعد حکومت کی جانب سے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کی گئی جس کا مقصد یہ خبر فراہم کرنے والے شخص کی نشاندہی تھا۔

2018

ملک کے بیشتر علاقوں میں روزنامہ ڈان کی فراہمی اس لئے روک دی گئی کہ اس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کا ایک ایسا انٹرویو شامل تھا جسے پاکستان پریس کونسل نے ملک کے اقتدار اعلیٰ کے منافی سمجھا تھا۔ اس انٹرویو کو کرنے والے صحافی سرل المائیدہ کو حراست میں لیا گیا اور ان پر کئی الزامات عائد کئے گئے۔

ملک بھر میں بہت سے کیبل آپریٹرز کو پابند کیا گیا کہ ملک کے معروف نیوز چینل جیو ٹی وی کی نشریات بند کردیں۔ جیو کے چیف ایگزیکٹو میر ابراہیم نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہمارے چینل کو ملک کے 80 فیصد علاقے میں نہیں دکھایا جا رہا۔۔۔۔۔۔۔

ملک کے معروف صحافی طلعت حسین پر زور دیا گیا کہ وہ جیو ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ کی ادارتی پالیسی میں ردو بدل کریں۔ کچھ مہینے پہلے جب وہ لندن سے واپسی پر نواز شریف کی لاہور آمد کی کوریج کررہے تھے تو اسے بھی نشر کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

2019

روزنامہ دی نیوز میں معروف وکیل بابر ستار کے ہفتہ وار کالم کو شائع ہونے سے روک دیا گیا۔ یہ پہلی بار نہیں تھا کہ انہیں کالم کی اشاعت سے روکا گیا تھا۔ ایف آئی اے کو ان پانچ صحافیوں کے خلاف تحقیقات کرنے کا حکم دیا گیا جنہوں نے مقتول سعودی صحافی جمال خشوگجی کی تصویر کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بطور ڈی پی لگایا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مترجم: شوذب عسکری، بشکریہ ہیرالڈ (ٓآخری شمارہ جولائی 2019)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...