بلوچ نوجوان کو سڑک سے کلاس رُوم میں لائیں

124

بلوچستان میں یوں تو پسماندگی کی کوئی ایک کہانی ہے، نہ ایک پہلو، لیکن صحت اور تعلیم کے شعبوں کی جو حالت ہے وہ انتہائی تکلیف دہ اور سنگین نوعیت کا مسئلہ ہے۔ ان دونوں شعبوں میں سہولیات کا فقدان تو ہے ہی اس پر مستزاد متعلقہ افسران و عملے کی غفلت وبدعنوانی ہے جو عام آدمی سے صحت مند اور باوقار زندگی کا حق چھین لیتی ہے اور وہ کچھ نہیں کرسکتا۔

بلوچستان میں ہر آنے والی حکومت تعلیمی میدان میں انقلاب لانے کے دعوے کرتی ہے، پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں اور نئے تجربات کرنے کی کوشش بھی ہوتی ہے، بعض اوقات تو تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے ضرورت بھی محسوس کرائی جاتی ہے لیکن حقیقت میں کچھ نہیں ہو پاتا۔ صوبائی حکومتیں ناقص منصوبہ بندی اور لاپروائی کی وجہ سے  کروڑوں روپے تعلیم کے نام پر ضائع کر دیتی ہیں۔ کتنے سرکاری اسکول بند پڑے ہیں، اور جو کھلتے ہیں وہاں یا تو اساتذہ پورے نہیں ہوتے یا کتابوں اور استعداد کے حامل اساتذہ کے فقدان کی وجہ سے طلبہ آنے سے گریز کرتے ہیں۔ پرائیویٹ ادارے اچھے شہروں میں موجود ہیں لیکن بلوچستان کی اکثریت آبادی دیہی ہے جہاں نہ  حکومت توجہ دیتی ہے نہ اچھے پرائیویٹ ادارے دستیاب ہیں۔

بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں اقربا پروری اور کرپشن ایک الگ مسئلہ ہے جس کا شکار پورا تعلیمی ڈھانچہ ہے۔ اگر امتحانات اور نتائج کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے یہاں کے افسران اور عہدیداران ہی کے بچے پہلی پوزیشن لیتے رہے ہیں۔ امتحانات میں نقل ایک عام بات ہے جس میں ادارے اور اساتذہ خود بھی تعاون کرتے ہیں۔ نقل کلچر نے تعلیم کا مسئلہ مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ کئی بار اسے ختم کرنے کے لیے امتحانات سکیورٹی فورسز کی نگرانی میں بھی کرائے گئے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ یہ مسئلے کا درست حل ہے ہی نہیں۔

وہ اب ایسی قیادت چاہتے ہیں جو ان کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرے۔ انہیں سڑک پر بٹھانے کی بجائے کلاس رُوم میں جگہ دے

صحت سے متعلقہ تعلیمی اداروں کی بات کریں تو1970 میں صوبے کا درجہ پانے کے بعد سے گزشتہ دورِ حکومت تک بلوچستان کے پورے صوبے میں صرف ایک میڈیکل کالج کی سہولت دستیاب رہی۔ پچھلی حکومت میں مزید تین کالجز کی منظوری دی گئی جن میں سے ایک، مکران میڈیکل کالج کی عمارت مکمل ہوسکی ہے۔ اس نئے کالج میں داخلہ ٹیسٹ لیے گئے تھے لیکن 6 ماہ ہوگئے ابھی تک ان کے نتائج کی لسٹ آویزاں نہ ہوسکی اور طلبہ کلاس رومز میں ہونے کی بجائے سڑک پر کیمپ لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ بولان میڈیکل کالج جسے اب یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا ہے، میں انتظامی معاملات شدید ابتری کا شکار ہیں۔ آئے روز طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان چپقلش دیکھنے کو ملتی ہے۔

بلوچستان کے نوجوان تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، کتاب کلچر کو زندہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن ان کے ساتھ تعاون نہیں کیا جاتا۔ حال ہی میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایک حکومت کی جانب سے ایک پبلک لائبریری کا قیام عمل میں لایاگیا۔ اس میں محض 100 نشستوں کی  سہولت رکھی گئی۔ اب ہر صبح نوجوانوں کی بڑی تعداد لائبریری کا رُخ کرتی ہے لیکن سب کو بیٹھے کی جگہ نہیں ملتی۔ طلبہ نشست کے خالی ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں یا واپس چلے جاتے ہیں۔

یہاں کے نوجوان یقین کرلینے کے عادی ہیں، اس لیے سیاستدان بھی زبانی جمع خرچ سے کام چلاتے رہے ہیں۔ وہ اب ایسی قیادت چاہتے ہیں جو ان کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرے۔ انہیں سڑک پر بیٹھنے کی بجائے کلاس رُوم میں جگہ دے۔ ایک شفاف اور کارآمد تعلیم نظم کو تشکیل دے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...