عالمگیریت کی طرف پیش رفت اور مذاہب کا مستقبل (آخری قسط)

74

گذشتہ دو قسطوں کے خلاصے کے طور پر یہ سطور پیش نظر رکھیے:

اس سرزمین پر سب انسانوں کے ایک ہونے کا نظریہ نیا نہیں۔ دنیا میں بہت سے مصلح، مفکر، نبی، فلسفی اور سیاست دان ایسے آئے جنھوں نے انسان کو بحیثیت انسان دیکھا۔ بعض سیاستدان اور حکمران ساری زمین پر اپنی حکومت کے قیام کا خواب دیکھتے رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے بعض نے کوششیں بھی کی ہیں اور ان میں سے بعض جزوی طور پر کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ بہت سے نظریات، افکار، نظام، مذاہب، ادیان اور تہذیبیں بھی سرحدوں اور نسلوں سے ماورا،قلب و نظر کو تسخیر کرتی رہی ہیں اور معاشرے کو اپنے زیر اثر لاتی رہی ہیں۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے۔بظاہر دنیا مختلف حوالوں سے تقسیم ہے لیکن اس کے باوجود عالمیت اورعالمگیریت کا تصور رفتہ رفتہ پروان چڑھ رہا ہے۔ دور حاضر میں یہ عمل نسبتاً تیز رفتار معلوم ہوتا ہے۔ عالمگیریت کے عمل کی ماضی میں چند مثالیں بھی ہم ذکر کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں لیگ آف نیشنز اور پھر دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ کے قیام کو بھی عالمی نیٹ ورک کی مثالوں کے طور پر سامنے رکھا جاسکتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اشتراکی انقلاب نے بھی تقریباً نصف دنیا کو اپنے زیر اثر کر لیا تھا۔ بظاہر اس کا خاتمہ ہو گیا ہے تاہم اس کے فکری اثرات آج بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی محدودیت یا پھر اس سے گریز کی ضرورت سمجھیے کہ رفتہ رفتہ گروپس آف نیشنز کا قیام عمل میں آنا شروع ہوا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

اس ساری بحث میں ابھی تک مذہب کے کسی محسوس کردار کا تذکرہ نہیں ہوا۔ زیر نظر سطورمیں ہم جدید عالمگیریت کے ظہور پر بات کریں گے اور اس امر کا جائزہ لیں گے کہ اس پس منظر اور پیش منظر میں مذہب کہاں کھڑا ہے اور کیا مذہب آئندہ کی تشکیلاتِ عالم میں کوئی کردار ادا کرے گا یا نہیں۔

نئی عالمگیریت کا ظہور

دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مواصلات کی ترقی نے عالمگیریت کے نئے عناصر سے روشناس کروانا شروع کردیا ہے۔ دنیا کے انسانوں کی اکثریت ہم فکر اور ہم آواز ہوتی چلی جارہی ہے۔ ایک خطے کے لوگوں کی آواز دوسرے خطے میں جلد پہنچ جاتی ہے اور اپنے اثرات مرتب کرنا شروع کردیتی ہے۔ عالمگیریت کی ایک شکل دنیا کی بڑی عسکری اور اقتصادی طاقتوں کے مفادات کی ترجمان ہے۔ وہ طرح طرح کے عالمی قوانین، عالمی اداروں اور فوجی اتحاد کے سہارے اپنے مفادات کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے اور دوسری طرف دنیا میں عوام عالمی اداروں سے مایوس ہوتے جارہے ہیں۔ لوٹ کھسوٹ کے عالمی نظام کے خلاف ردعمل پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے۔ بڑی طاقتوں کی چھوٹے ممالک پر فوجی یلغار کے خلاف نفرت بھی منظم ہورہی ہے۔ اس کا ایک بہت بڑا مظاہرہ 2003 میں اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکہ و برطانیہ نے عراق پر چڑھائی کا منصوبہ بنایا۔ امریکہ، یورپ اور بھارت میں دسیوں لاکھ انسان جارحیت پر مبنی اس منصوبے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ ایک مسلمان ملک پر چڑھائی کے خلاف یہ عظیم ردعمل غیر مسلمان ملکوں میں دیکھنے میں آیا۔ یہ عالمی رائے عامہ کے منظم ہونے کی ایک علامت تھی۔

اس کے بعد 2010 کے آخر میں تیونس میں انقلاب کا شعلہ بھڑکا جس نے شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے بہت سے ممالک کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ یہ لہر اس علاقے میں جاری تھی کہ امریکہ میں عوام وہاں کے سرمایہ داری نظام کے خلاف باہر نکل آئے۔ وال سٹریٹ قبضہ اس نئے مظہر کی ابتدا تھی جو امریکہ کی مختلف ریاستوں میں پھیلنے کے بعد یورپ کے بڑے بڑے ممالک میں جا پہنچا اور اب اس کے اثرات دیگر براعظموں میں بھی محسوس کیے جارہے ہیں۔ دنیا کے چالیس سے زیادہ ممالک کے تقریباً ایک ہزار شہروں میں بے انصافی اور ظلم کے خلاف بیک وقت مظاہروں کا ہونا پوری تاریخ انسانی میں ایک منفرد واقعہ ہے۔ یہ صورت حال عالمگیریت کی ایک نئی شکل ہے۔ اسے وقتی طور پر اگرچہ دبا لیا گیا ہے یا بعض جگہوں پر اس کا رخ پھیر لیا گیا ہے تاہم یہ کسی اور صورت میں زیادہ طاقت کے ساتھ نمودار ہوسکتی ہے۔

دنیا میں وہ دین ہی باقی رہے گا جو آفاقی ہوگا، انسان دوست ہوگا اور عدل و انصاف کا نگہبان ہوگا

بہرحال یہ بات بالکل ثابت ہو گئی ہے کہ دنیا کے موجودہ حکمران نظام سے دنیا کے عوام کی اکثریت نالاں ہے۔ ظلم اور ظالم کی پہچان بھی علاقے، قوم اور رنگ و نسل سے ماورا ہے اور مظلوم و محروم انسانوں کی مشترکہ آواز بھی ایسی تقسیم سے بے نیاز ہے۔ اتنا ہی نہیں اس عالمی ابھار میں ادیان و مذاہب کا اختلاف بھی بظاہرپیچھے رہ گیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ آئندہ انسانوں کی تقسیم شاید ادیان اور اقوام کی بنیاد پر نہ رہے بلکہ ظالم و مظلوم کے مابین تقسیم کا تصور ابھرے۔ بعض لوگوں کے خیال میں حقیقی دین وہی ہے جو مظلوم کا حامی اورظالم کا مخالف ہے۔

اس ساری عالمی کیفیت سے کیا ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ دنیا ایک ایسے عالمی نظام یا عالمی مرکز یا عالمی حکومت کی طرف بڑھ رہی ہے جو تمام انسانوں کے ساتھ بلا تفریق عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے؟

کیا یہ انسانوں کے دل کی آواز ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر دنیا قوموں کے اتحاد کے طرف نہیں بنی آدم کے اتحاد اور بنی آدم کے عالمی مرکز کی طرف بڑھ رہی ہے۔شاید اسی عالمی اتحاد کی ضرورت کی طرف علامہ اقبال نے ”جمعیت اقوام“ League of Nations کے مقابلے میں اشارہ کیا تھا:

اس دور میں اقوام کی صحبت بھی ہوئی عام

پوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدتِ آدم!

تفریقِ ملل حکمتِ افرنگ کا مقصود

اسلام کا مقصود فقط ملت آدم!

مکے نے دیا خاکِ جنیوا کو یہ پیغام

جمعیتِ اقوام کہ جمعیتِ آدم؟

یاد رہے کہ لیگ آف نیشنز کا ہیڈ کوارٹر نیو یارک نہیں بلکہ جنیوا ہوا کرتا تھا۔ مکے کا ذکر یہاں خانہ کعبہ کی وجہ سے کیا جارہا ہے۔ خانہ کعبہ علامتی طور پر اللہ کا گھر ہے۔ اللہ کو تو کسی گھر کی ضرورت نہیں لیکن اللہ کا گھر بندوں کے مرکز کے عنوان سے اہمیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے: جَعَلَ اللّٰہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ(مائدہ:۷۹)کعبہ جو حرمت والا گھر ہے اُسے اللہ نے انسانوں کے قیام اور اُٹھ کھڑا ہونے کے لیے بنایا ہے۔

کعبہ میں قوموں کی نمائندگی نہیں ہوتی بلکہ وہاں سب انسان بغیر کسی تفریق کے اکٹھے ہوتے ہیں۔ مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف رنگ و نسل کے لوگ، ایک اللہ کے گھر کے گرد طواف کررہے ہوتے ہیں۔ کسی کو وہاں پر ویٹو پاور حاصل نہیں۔ سب اللہ کے بندے یکساں ہوتے ہیں۔ علامہ اقبال اسی لیے کہتے ہیں کہ وہاں جانے سے پہلے رنگ و نسب کا غبار جھاڑ دینا چاہیے:

غبار آلودہئ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے

تو اے مُرغِ حرم اُڑنے سے پہلے پرفشاں ہوجا

یہ امر قابل توجہ ہے کہ کعبۃ اللہ کی اس حقیقت تک فکری رسائی کے لیے ضروری ہے کہ اس وقت جزیرہ نمائے عرب میں حکمران خاندان اور اس کے طرز حکومت و سیاست کو معیار نہ بنایا جائے کیونکہ جس تیز رفتاری سے اس خطے میں تبدیلیاں آ رہی ہیں ان کے نتیجے میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہم یہاں فقط خانہ کعبہ کی معنوی اور روحانی حیثیت کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔

جب انسانوں کو ایسا مرکز میسر آجائے تو اُنھیں پھر قیادت بھی ایسی درکار ہے جو:

راہِ راست کی شناسا ہو۔

انسانوں میں رنگ و نسب، زبان و جغرافیہ، دولت و طاقت کی بنیاد پر تفریق کی قائل نہ ہو۔

مظلوم کی مددگار ہو اور ظالم کے لیے شدید ہو۔

مساوی قانون اور قانونی مساوات کی علمبردار ہو۔

اگر ہمارا یہ فہم درست ہے تو پھر یہ بھی درست ہے کہ مسالک و مذاہب کی تقسیم عالمگیریت کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔ دین و مذہب کے نام پر رائج خرافات کا خاتمہ اس ساری کشمکش میں یقینی معلوم ہوتا ہے تاہم یہ بات اتنی آسان بھی نہیں کیونکہ ایک طرف بڑی سرمایہ دارانہ طاقتیں جن کی دولت و عظمت کا انحصار انسانوں کو باہم تقسیم کرنے اور لڑانے پر ہے، ان کے پاس مذہب ایک بہت بڑا ہتھیار ہے اور دوسری طرف ان کا مقابلہ کرنے والی قوتیں اگرچہ وہ بظاہر ابھی کمزور ہوں مذہب پر ہی انحصار کرتی ہیں۔ ابھی تک مذہب سخت جانی اور سخت کوشی کا مظاہرہ کررہا ہے۔ فرقہ پرست عناصر بھی بڑی طاقت رکھتے ہیں۔ بہت سے ملکوں میں اقتدار کا راستہ عوام کو مذہب کی بنیادپر جذباتی کرنے سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہ صورت حال کتنی دیر تک قائم رہے گی اور کن مرحلوں سے گزر کر ختم ہو گی،ابھی پیش گوئی کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا لیکن مندرجہ بالا نظائر یہ اطمینان دلاتے ہیں کہ اگر عام انسانوں پر حقائق آشکار ہو جائیں، جو مواصلات و روابط کی ترقی سے ممکن ہے، تو پھر بہرحال دنیا کو بدلنا ہے۔

استعماری طاقتوں کی ماہیت، مذہب کو اپنے خاص مقاصد کے لیے استعمال کرنے والوں کی ماہیت، بے رحم سرمایہ داروں کی ماہیت اور انسانوں کو تقسیم کرنے والی اور لوٹ مار کرنے والی طاقتوں کی ماہیت آشکار ہوجائے تو صورتحال بہرحال تبدیل ہو جائے گی۔ ہماری اس گفتگو کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بدل جائے، عدل و انصاف کی بالادستی ہو، قانونی مساوات پوری دنیا پر رائج ہو جائے، شرف انسانی کا احترام ہونا شروع ہو جائے تو پھر ہمیں دنیا کے سامنے حقائق ہی کو آشکار کرنے کا فریضہ سرانجام دینا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا میں وہ دین ہی باقی رہے گا جو آفاقی ہوگا، انسان دوست ہوگا اور عدل وانصاف کا نگہبان ہوگا۔ ایسی خدا پرستی قبول کرنے میں کسی سادہ دل انسان کو مشکل پیش نہیں آئے گی۔

یہ بحث یہاں ختم نہیں ہوتی، تصور کائنات کا موضوع اس بحث کا حصہ ہے، خالص مادی تصورِ کائنات کسی اور نتیجے تک پہنچاتا ہے اور روحانی تصورِ کائنات کسی اور منزلِ فکر تک۔ ادیان میں منقول ہو کر آنے والی پیش گوئیوں میں بھی آنے والے دور کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ان میں سے مہدی یعنی ہدایت یافتہ انسان کی قیادت کا تصور ہمارے نتیجہئ فکر سے زیادہ ہم آہنگ معلوم ہوتا ہے جس کے بارے میں متواتر اور پھیلی ہوئی پیشگوئیاں موجود ہیں جو اس نکتے پر آکر متفق ہو جاتی ہیں:

وہ دنیا کو عدل و انصاف سے یوں بھر دے گاجیسے وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔

یعنی صحیح دینی رہبر وہی ہوگا جو عدل انسانی کا پرچم بردار ہوگا اور ظلم کے خلاف قیام کرے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...