عراق اور شام کی دربدر اقلیتیں

یہ مضمون ’فینک‘ جریدے کی ایک رپورٹ کی تلخیص ہے

96

عراق اور شام میں ویسے تو کئی نسلی و مذہبی اقلیتیں بستی ہیں جنہیں پچھلے کچھ عرصے سے سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن سردست ایسے دو طبقات کا ذکر کیا جائے گا جو نہ شدت پسندی کے خلاف منظم فریق تھے اور نہ ان کا اس علاقے میں اب کوئی مستقبل نظر آتا ہے۔ وہ صرف دربدر ہیں۔

ان میں سے ایک گروہ آشوری، سریانی اور کلدانی مسیحیوں کا ہے۔ ان قوموں کا تعلق دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کے ساتھ ہے۔ یہ مسیحیت کو اس کے ابتدائی ادوار میں قبول کرنے والا گروہ خیال کیا جاتا ہے۔ اسے تاریخ میں کئی بار نسل کشی کا سامنا کرنا پڑا۔ چودھویں صدی میں تیمور لنگ نے عراق میں ان کے سینکڑوں افراد قتل کردیے تھے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران عثمانی فوجیوں نے ان کی لگ بھگ آدھی آبادی کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ خلیج جنگ کے دوران خطرے کے باعث ان کی بہت بڑی تعداد مغربی ممالک ہجرت کر گئی۔ صدام حکومت کے سقوط کے بعد 2003 سے 2006 کے مابین ان کی عبادت گاہوں پر 30 حملے کیے گئے جو سنیوں نے کیے تھے۔ اہل تشیع کے رہنما مقتدیٰ الصدر نے 2003 میں جب شریعت کے نفاذ کا اعلان کیا تھا تو اس تحریک نے بھی ان مسیحیوں کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2007 میں عراقی پناہ گزینوں میں 1.8 ملین افراد آشوری، سریانی و کلدانی تھے۔

جب داعش منظم ہوئی تو اس کا سب سے پہلا اور آسان ہدف اقلیتیں تھیں۔ اس نے جولائی 2014 میں فتویٰ صادر کیا تھا کہ موصل کے تمام غیرمسلم اسلام قبول کریں، یا جزیہ دیں اور یا پھر قتل ہونے کے لیے تیار ہوجائیں۔ اُس وقت موصل میں 35 سے 50 ہزار آشوری بستے تھے جو خوف کے مارے شہر چھوڑ کر بھاگ گئے۔ داعش کے لڑاکوں نے ان کے گھروں کے دروازوں پر (ن) لکھ دیا تھا، یعنی کہ نصرانی۔ کچھ مسیحیوں نے نینویٰ کے صحرا میں خیمے جا لگائے، جب داعش کا قبضہ وہاں تک پہنچا تو ادھر سے بھی بھاگنا پڑا۔

2015 میں شام کے شمال مشرقی علاقے کی 14 بستیاں خالی ہوگئیں۔ وادی خابور سے سینکڑوں آشوریوں، سریانیوں وکلدانیوں کو اغوا کرلیا گیا تھا۔ اِس گروہ کے بعض لوگ کُردوں کے اس جتھے کا حصہ بن گئے جو داعش سے برسر پیکار تھے۔ لیکن ایک رپورٹ کے مطابق کُردوں نے بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ عراق و شام سے 60 فیصد آشوری، سریانی وکلدانی ہجرت کر گئے ہیں۔ اب صرف صرف 40 فیصد بچ گئے ہیں۔

عراق و شام سے 60 فیصد آشوری، سریانی و کلدانی ہجرت کر گئے ہیں

دوسرا گروہ یزیدی (یا ایزدی) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یزیدیوں کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں۔ خصوصاََ ان کے مذہب کی ایک خاص تشریح کر کے ان پر تشدد کو روا رکھا گیا۔ انہیں شیطان کا پجاری مشہور کیا گیا۔ یزیدی اسلام آنے سے قبل بھی عراق و شام میں  میں وجود رکھتے تھے۔ یہ کُردوں کی اقلیت سمجھے جاتے تھے۔ ان کی اکثریت کا مسکن عراق کا شمالی حصہ (سنجار) تھا۔ بعض لوگ ایران، شام، ترکی، رُوس اور آرمینیا میں بھی آباد ہیں۔ خلیج جنگ کے دوران 6 ہزار کے قریب یزیدی یورپ ہجرت کر گئے تھے۔

یہ طبقہ الگ تھلگ رہنا پسند کرتا ہے اس لیے ان کے ہاں غیر یزیدی کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ یزیدیوں کا اعتقاد ہے کہ وہ صرف حضرت آدم کی اولاد ہیں جبکہ باقی تمام انسان آدم وحوا دونوں سے ہیں۔ ان کے نام کے متعلق مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں، لیکن ان کے اپنے مطابق یہ نام فارسی لفظ ایزد سے مشتق ہے جس کا معنی ہے معبود، اس طرح یزیدی یا ایزدی کا مطلب بنتا ہے اللہ کے بندے۔

یہ لوگ اسلام اور مسیحیت کا بہت احترام کرتے ہیں۔ ان کے ہاں کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جسے آسمانی یا الہامی صحیفہ کہا جاتا ہو۔ ان کی دینی تعلیمات زبانی ہیں۔ یہ شر اور جہنم پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کی بعض تعلیمات اسلام اور مسیحیت کے شعائر سے بھی ملتی ہیں۔ مثال کے طور پہ یہ جانوروں کی قربانی دیتے ہیں اور بچوں کے ختنے کرتے ہیں۔ جب بچہ پیدا پیدا ہوتا ہے تو ان کا مذہبی  نمائندہ بیر(جیسے ہمارے ہاں پیر) اس کو مقدس پانی سے بپتسمہ دیتا ہے۔ شادی کے موقع پر دلہن چرچ میں حاضری دیتی ہیں۔ یزیدی ہر سال دسمبر میں تین روزے رکھتے  ہیں، تیسرے دن کے بعد پیر کے ساتھ مل کر نبیذ پیتے اور خوشی مناتے ہیں۔

یزیدی دیانت کے مطابق خدا نے سات رُوحوں کو پیدا کیا جن میں سب سے عظیم  طاؤس ہے۔ یہ زمین پر خدا کی مشیت کی تنفیذ کرتا ہے۔ آدم کو پیدا کرنے کے بعد خدا نے سب فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اسے سجدہ کریں تو طاؤس نے اس لیے نہیں کیا تھا کہ اس کے خیال میں یہ شرک تھا۔ بطور سزا خدا نے اسے جہنم میں پھینکا جو اس کے ندامت کے آنسووں سے ٹھنڈی ہوگئی۔ خدا نے اسے معاف کردیا اور اپنا نائب و مقرب بنا لیا۔ اس طبقے کا عقیدہ ہے کہ خدا کی براہ راست عبادت ممکن نہیں۔ وہ طاؤس کو خدا اور انسانوں کے درمیان واسطہ خیال کرتے ہیں۔ اس لیے کچھ لوگ انہیں ابلیس کے پجاری کہہ دیتے ہیں ۔ لیکن ان کے مطابق اس کا قصہ الگ ہے اور یہ خدائی امر ہے۔

2014 سے پہلے تک عراق وشام سے باہر بہت کم لوگ یزیدیوں کے بارے میں جانتے تھے۔ اس علاقے میں ان کی تعداد 4 لاکھ کے قریب تھی۔ داعش نے جب اقلیتوں کو نشانہ بنانا شروع کیا توخبریں آئیں کہ چند دنوں کے اندر 10 ہزار یزیدی افراد موت کے گھاٹ اتار دیے گئے یا غائب کردیے گئے۔ ایک بڑی تعداد کو مذہب تبدیل کرنے پہ مجبور کیا گیا، یا غلام بنالیا گیا۔ ان کی خواتین کو زنجیروں میں جکڑ کر بازاروں میں بیچنے کی تصاویر نے ساری دنیا پر سکتہ طاری کر دیا تھا۔ کچھ عورتوں کو مقابلے کے دوران انسانی ڈھال کے طور پہ بھی استعمال کیا گیا۔

داعش کو شکست ہوگئی لیکن یزیدی ابھی تک دربدر ہیں۔ جو بھاگ سکتے تھے وہ یورپ امریکا کا رُخ کرگئے، جو رہ گئے ان میں سے کچھ خاندان عراقی کردستان منتقل ہوگئے جہاں کُردوں نے اپنی قائم کردہ حکومت میں انہیں چار عہدے دیے ہیں جو اگرچہ ان کے لیے فی الحال خاص سُودمند نہیں، اور بعض شام کے شمال مشرقی علاقے میں پناہ گزینوں کے لیے قائم خیمہ گاہوں میں بیٹھے ہیں۔ یزیدی عراق میں اپنے علاقے سنجار لوٹنا چاہتے ہیں لیکن وہاں شیعہ ملیشا کا قبضہ ہے جسے ایرانی شام میں آنے جانے کے لیے بطور گزرگاہ  استعمال کرتے ہیں۔

عراق وشام کی یہ اقلیتیں جو ہزاروں سالوں سے یہاں رہ رہی تھیں اب بے دخل کردی گئی ہیں۔ وہ مکمل بکھر گئی ہیں۔ کیا یہ کبھی اپنے وطن واپس آپائیں گی، کون جانتا ہے؟ البتہ 3 ہزار کے قریب امریکا ہجرت کرجانے والے یزیدیوں نے عراق میں ایک قبرستان کی بنیاد رکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں، زندہ تو شاید وہاں نہ رہ پائیں، آرزو ہے کہ دفن تو اپنی مٹی میں ہوں۔

مترجم: شفیق منصور

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...