بلوچستان میں مادری زبانوں میں تعلیم، جائزہ اور چند سفارشات

107

بلوچستان پاکستان کے ان صوبوں میں سے ایک صوبہ ہے کہ مادری زبانوں میں تعلیم جہاں یہاں کی سیاسی اور غیر سیاسی تنظیموں کی ایک اہم ترجیح رہی ہے وہاں اس پر ہر سطح پر آواز بھی اٹھائی جاتی جاری رہی ہے۔ اب کچھ عرصہ سے نئے حالات و واقعات کے پیش نظر جب پرائمری کی سطح تک یہ بات لازمی قرار پائی ہے تو ذرا اب تک کی اس حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیتے ہیں۔

بلوچستان کا مادری زبانوں کے حوالے سے ہر بچے کو اس کی زبان میں پرائمری تک تعلیم دینے کا مطالبہ کافی دیرینہ رہا ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ سے اب عملدرآمد شروع ہوا ہے تو زبانوں کے نصاب کو ترتیب دینے کے علاوہ اس نصاب کے مطابق سرکاری سطح پر کتابوں کی تدوین و اشاعت کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔ بلوچستان بیورو آف کری کولم اور بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ نے بلوچستان میں بلوچی، پشتو، براہوی، سندھی اور فارسی پر کام کرنا شروع کردیا ہے۔ سال دو ہزار سترہ سے اب تک ابتدائی اور تا کلاس دوم کل ملا کر ہر زبان کی تین کتابیں آچکی ہیں جن میں ابتدائی کلاس (کچی)، پہلی کلاس اور دوسری کلاس کی کتابیں شامل ہیں۔ ہر کتاب کے ضابطہ میں اردو، بلوچی، پشتو، براہوی، سندھی اور یا فارسی میں ایک مکمل پیراگراف لکھا گیا ہے جو اس کتاب کی قانونی پوزیشن کو واضح کرتا ہے۔ ہر کتاب کے لیے وضع کردہ پالیسی، مراسلہ کا حوالہ، مقصد اور ہدف کا تعین کرنے کا ایک اجمالی خاکہ اس پیراگراف میں پیش کیا گیا ہے۔ بطور نمونہ ایک کتاب میں درج ہے مثلا:

”جملہ حقوق بحق بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کوئٹہ محفوظ ہیں۔ منظور کردہ صوبائی محکمہ تعلیم حکومت بلوچستان کوئٹہ، پاکستان بمطابق قومی نصاب 2006ء اور نیشنل ٹیکسٹ بک اینڈ لرنگ میٹریل پالیسی 2007ء دفتر ڈائریکٹر بیوروآف کیری کولم اینڈ ایکسٹینشن سینٹر بلوچستان کوئٹہ بحوالہ مراسلہ نمبر 3061-62/C.B مورخہ 4فروری 2015ء اس کتاب بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ نے ناشر سے پرنٹ لائسنس حاصل کرکے سرکاری سکولوں میں مفت تقسیم کے لیے بھی طبع کیا۔بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کوئٹہ اور ناشر کی تحریری اجازت کے بغیر اس کتاب کا کوئی بھی کسی امدادی کتاب یا گائیڈ میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔ ”

بلوچستان میں شائع شدہ کتابیں مؤلفین، انٹرنل ریویو کمیٹی اورپراونشل ریویو کمیٹی کے اراکین کے علاوہ ٹیکسٹ بک بورڈ  نمائندہ کی زیر نگرانی چھپی ہیں۔ یعنی ہر کتاب کے لیے کم از کم دو یا دو سے زیادہ لکھاری ہونے کے علاوہ ہر کمیٹی میں تین تا چار ارکان لازمی ہوتے ہیں ۔اس طرح سے اوسطاََ ایک کتاب پر آٹھ سے لے کر بارہ افراد نے کام کیا ہوتا ہے۔ ہر کتاب رنگین اور با تصویر ہے۔ کتاب میں ہر حرف یا لفظ یا پھر کسی کہانی یا پیراگراف کے لیے تصاویر اور خاکوں کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے۔ اساتذہ کے لیے خصوصی رہنمائی کی گئی ہے کہ سبق کے اہداف کیا ہیں اور اسے کس طرح سے پڑھایا جائے گا۔ کم ازکم کتاب کے صفحات پچاس اور زیادہ سے زیادہ ایک سو بیس ہیں۔

ہر کتاب کو بار بار مختلف کسوٹیوں سے گزارا جائے تاکہ اس کی خوبیاں اور خامیاں واضح ہوتی رہیں اور عصر و زمان کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہوسکے

مادری زبانوں پر چھپنے والی کتابوں اور ان کی تدریس کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ کتاب اور کلاس کے مسائل آہستہ آہستہ آنے شروع ہوجائیں گے۔ لازم ہے کہ حکومت اس بابت چند ضروری اقدامات فوری طورپر کریں:

اساتذہ سے باقاعدہ سروے کے ذریعے کتاب کی خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کراوئی جائے۔

کتاب کو پڑھانے میں اساتذہ کو پیش آنے والی پیچیدگیوں اور مسائل کے بارے میں رائے لی جائے۔

مادری زبان میں درس دینے والے بہترین اساتذہ کو مختلف اسکولوں میں عملی طور پر لے جایا جائے اور ان کے طریقہء تدریس کو دکھایا جائے۔

مادری زبانوں میں تدریس کو صرف سرکاری اسکولوں تک محدود نہ کیا جائے بلکہ باقاعدہ نوٹیفیکشن کے ساتھ پرائیویٹ اسکولوں میں بھی نافذ کیا جائے۔

بچوں کو کتاب پڑھنے میں آسانی اور مشکلات کی نشاندہی کروائی جائے۔

بچوں سے غیر رسمی امتحان لیا جائے کہ اس کے سیکھنے کی صلاحیت میں پہلے اور بعد کے دنوں میں کیا واضح فرق آیا ہے؟

بچوں کے والدین یا گھر سے پوچھا جائے کہ مادری زبان میں سیکھے گئے مواد کو وہ اپنے روزمرہ معاملات میں کس حد تک استعمال کرتا ہے؟

اس بارے میں ہر کتاب کو بار بار مختلف کسوٹیوں سے گزارا جائے تاکہ اس کی خوبیاں اور خامیاں واضح ہوتی رہیں اور عصر و زمان کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہوسکے۔

چونکہ راقم نے فارسی نصاب کو مرتب کر نے کے علاوہ فارسی کی دو بنیادی کتابوں میں شریک مصنف کا کردار بھی ادا کیا ہے تو ایک بات از حد ضروری ہے کہ ایسے تمام لکھاریوں کو اگر ایسے ممالک جہاں مادری زبانوں میں کامیابی کے ساتھ تعلیم دی جاتی ہے یا پھر ملک کے مختلف حصوں میں ان کا مطالعاتی دورہ کرایا جائے تاکہ اساتذہ اور ماہرین عملی طور پر اپنے مشاہدہ اورباہمی مکالمہ سے سیکھتے رہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...