مذہبی جماعتوں میں ایم ایم اے طرز کا اتحاد بنتا نظرنہیں آرہا

436

پی ایس 114 ضمنی انتخابات میں مذہبی جماعتوں کی جماعت اسلامی کے بجائے لبرل جماعتوں کوترجیح

ملکی سطح پر2018 ء کے عام انتخابات سے قبل مذہبی جماعتوں کے مابین متحدہ مجلس عمل طرز کے انتخابی اتحاد بنانے کے حوالے سے خبریں آرہی ہے اور اس حوالے سے جماعت اسلامی کی قیادت کافی فعال ہے مگرکراچی کی صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایس 114 پر9 جولائی کوہونے والے ضمنی انتخابات میں دلچسپ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب مذہبی جماعتیں خصوصا جمیعت علمائے اسلام(ف)، علامہ اویس نورانی کی جمعیت علمائے پاکستان، پاکستان سنی تحریک اورمجلس وحدت مسلمین نے اس حلقے سے انتخابات میں حصہ لینے والی جماعت اسلامی کے امیدوارکی حمایت کے بجائے لبرل جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوارکی حمایت کی۔ مذہبی جماعتوں کی سیاست کا مطالعہ کرنے والے مبصرین یہ سمجھتے ہیں کہ پی ایس 114کے انتخابی منظرنامے سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ آئندہ عام انتخابات کیلئے مذہبی جماعتوں کا کوئی انتخابی اتحاد بنتا نہیں نظرآرہا۔
جماعت اسلامی واحد مذہبی جماعت تھی جو پی ایس 114 کے ضمنی انتخابات میں بھرپورطریقے سے حصہ لے رہی تھی اوراپنے امیدوار کی انتخابی مہم کے سلسلے میں مرکزی امیرسراج الحق کو بھی خصوصی طورپرحلقے میں بلوایا۔ جماعت اسلامی کی جانب سے اخترکالونی یونین کونسل کے سابق ناظم ظہوراحمدجدون کوٹکٹ دیاگیاتھا جنہوں نے 2002 ء کے عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پرحصہ لے لیا اور(اس وقت کی) سندھ ڈیموکریٹک الائنس کے عرفان اللہ مروت کے 12ہزار ووٹ اورمتحدہ قومی موومنٹ کے سیدافسرصغیر کے 11ہزار ووٹ کے مقابلے میں 7ہزار746 ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ اس مرتبہ ان کامقابلہ پی پی پی کے سینیٹرسعید غنی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کامران خان ٹیسوری، پاکستان تحریک انصاف کے انجینئرنجیب ہارون اورمسلم لیگ(ن) کے علی اکبرگجرکے ساتھ تھا۔
جماعت اسلامی کے امیدوار کے انتخابی میدان میں موثر موجودگی کے باوجودمذہبی جماعتیں ان کی حمایت کی بجائے دیگرسیاسی جماعتوں بالخصوصا پی پی پی کی حمایت کی۔ ان جماعتوں میں متحدہ مجلس عمل میں شامل جمیعت علماء اسلام(ف) کی مقامی ضلعی قیادت نے اپنے امیدواردانیال گجرکوپی پی پی کے امیدوارسعید غنی کے حق میں دست بردار کرایاجبکہ جمعیت علمائے پاکستان نے پی پی پی کی حمایت کااعلان کیا۔ پاکستان سنی تحریک اورمجلس وحدت مسلمین نے بھی پی پی پی ہی کی حمایت کااعلان کیا۔
اسی طرح متحدہ مجلس عمل کی جماعت جمعیت علمائے اسلام(سمیع) نے پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کااعلان کیا جبکہ دیگر چھوٹی مذہبی جماعتیں پاکستان علما  مشائخ کونسل، انٹرنیشنل ختم نبوت،جے یو آئی نظریاتی گروپ نے بھی ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کیا۔حالانکہ ان غیرمعروف مذہبی تنظیموں کا شاید ہی کوئی کارکن یا ووٹرپی ایس 114میں ہو۔ مبصرین کاکہناہے کہ پی پی پی کے مقابلے میں پی ٹی آئی کی قیادت نے صرف مذہبی جماعتوں کی حمایت کا تاثردینے کیلئے یہ حمایتی پریس کانفرنس کی گئی۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان بھی حلقے میں موجود دیوبند عالم دین حافظ عبدالقیوم نعمانی، جو جے یوآئی(ف) سندھ کے سرپرست بھی ہیں، نے متحدہ قومی موومنٹ کی حمایت کااعلان کیا جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے ایک انتخابی جلسے میں جے یوآئی(ف) سندھ کے جنرل سیکریٹری مولانا راشدمحمودسومرونے خطاب بھی کیا۔
حلقے میں اپنا اثرونفوس رکھنے والی کالعدم اہلسنت والجماعت کی جانب سے ایک ٹویٹرپیغام میں پی ٹی آئی کے امیدوارکی حمایت کااعلان کیاجس پرسوشل میڈیا پرشورمچنے کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے ایک اعلامیے میں واضح کیا گیاکہ ان کی جماعت کی جانب سے اہلسنت والجماعت سے حمایت کے لئے کوئی رابطہ نہیں کیاگیا۔
پی ایس 114 کے ضمنی انتخابات کے غیرحمتی نتائج کے مطابق جماعت اسلامی نے 2320 ووٹ لے کرپانچویں نمبرپرآئی جبکہ پی پی پی نے یہ نشست 23 ہزارسے زائد ووٹ لے کرکامیاب قرارپائی۔ ایم کیوایم پاکستان نے اٹھارہ ہزار، مسلم لیگ(ن) نے 7,175 اورپی ٹی آئی نے 5,942 ووٹ حاصل کئے۔
مبصرین کاکہناہے کہ جماعت اسلامی 2008 ء میں انتخابات کے بائیکاٹ کرنے پرپچھتارہی ہے اورکوشش کررہی ہے کہ جمعیت علمائے اسلام(ف) کے ساتھ مل کرمذہبی جماعتوں کا ایک انتخابی اتحاد تشکیل پائے۔ کئی عشروں تک کراچی پرحکمرانی کرنے والی جماعت اسلامی نے اسی شہرمیں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کے باوجود انتہائی بری کارکردگی دکھائی جبکہ ملکی قومی منظرنامے میں جماعت اسلامی صرف دیر اوربونیر تک ہی محدودرہی۔
البتہ جے یوآئی(ف) جماعت اسلامی کے بجائے پی پی پی اورمسلم لیگ(ن) کے ساتھ اتحاد کوترجیح دے رہی ہے۔ جے یوآئی(ف) کے ایک رہنما کے بقول ’’ایم ایم اے کے خیبرپختونخواہ میں دورحکومت کے دوران جے یوآئی(ف) جماعت اسلامی سے کافی تنگ تھی حالانکہ جماعت اسلامی کو جے یوآئی(ف) کی حمایت کی ہی بدولت دیر سے نکل کرپورے صوبے میں نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی‘‘۔
جماعت اسلامی کی قیادت کہتی ہے کہ پی ایس 114 میں سولوفلائٹ دراصل اپنا ووٹ بنک معلوم کرنے کی غرض سے کیاتھا اوربدترین نتائج کی ہی روشنی میں ہی مستقبل کے لائحہ عمل کی تیاری کی جائے گی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...