حاصل بزنجو کا المیہ

259

ایک قوم پرست سیاسی کارکن کے بقول وہ حاصل بزنجوکی طبعیت پوچھنے اسپتال جانے کے اس لیے خواہشمند ہیں کہ انہوں نے جمہوریت کی لاج رکھی اور دلیری کا مظاہرہ کیا۔ حاصل بزنجو سینٹ میں چئیرمین شپ کے لیے اپوزیشن کے متفقہ امیدواربنے، اکثریت حاصل ہونے کے باوجود الیکشن ہارے تو آئی ایس آئی کے چیف کو مورد الزام ٹھہرایا، جس کے بعد ان پر مقدمہ قائم ہونے اور ممکنہ گرفتاری کی باتیں عام ہیں۔

حاصل بزنجو کے والد غوث بزنجو کے ساتھ اس کا الٹ ہوا، مگر انجام ایک جیسا نظر آتا ہے۔ ترقی پسند سیاسی کارکن باچا منان سوشل میڈیا پر کہتے ہیں کہ ‘جنرل ایوب خان کا دور تھا اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اس طرح جھگڑا شروع ہوا۔ ایک طرف ایوب خان اور دوسری طرف ملک کالا باغ! کراچی سے لے کر لسبیلہ تک اسمبلی کا حلقہ محمود ہارون کے وزیر بننے کے بعد خالی ہوا۔ انتخاب میں بابائے استمان میر غوث بخش بزنجو نے حصہ لیا۔ اسٹبلشمنٹ کے بعض لوگوں نے ایوب خان کی ضد و مخالفت میں میر صاحب کا ساتھ دیا اور میر صاحب نے اس حلقے سے ایوب خان کے امیدوار کو تاریخی شکست دی۔ لیکن پھر کیا ہوا؟ میر صاحب کو کوئٹہ میں غلام محمد ڈوسل کے اسلحہ کی دوکان سے اسلحہ خریدنے اور دوکاندار کو ایسا نوٹ دینے کہ جس پر ون یونٹ مردہ باد لکھا تھا، کے جرم میں سزا دلوائی گئی اور ان کو اسمبلی سے دور رکھا گیا۔ تاریخ اپنے اپ کو دہراتی ہے۔ اگر میر حاصل بزنجو کامیاب بھی ہوجاتے تو ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوتا جو ان کے والد کے ساتھ ہوا تھا۔ شکر یہ ہے میر حاصل خان اس سے محفوظ رہے۔

پرائی لڑایوں سے دور رہنا چاہیے۔ یہ لوگ نیک نیت نہی ہوتے. ‘منان باچا کا شاید خیال یہ ہے کہ حاصل صاحب استعمال ہوئے۔ اصل لڑائی نوازشریف اور زرداری کی ہے۔ لیکن بلوچستان کے سیاسی حالات پر نظررکھنے والے ملک سراج اکبر کہتے ہیں کہ ‘حاصل بزنجو کا بدلتا ہوا سیاسی رویہ دراصل بلوچستان کے اس سیاسی کلچر کا عکاس ہے جس میں بعض سیاست دان اپنی سیاسی زندگی کے ایک حصے میں اسٹیبلشمنٹ نواز ہوتے ہیں اور پھر وہ اقتدار کے اسی سرچشمے کے خلاف ہو جاتے ہیں’۔  رزاق غورزنگ سوشل میڈیا پرملک سراج اکبر کی دلیل کی روشنی میں حاصل اور اکبربگٹی کے کیس میں مماثلت ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں’۔  نواب اکبر بگٹی کی مثال واضح ہے، وہ کئی سالوں تک اسٹبلشمنٹ کے ساتھ رہے لیکن زندگی کے آخری ایام میں مخالف بن گئے یا بنائے گئے۔ یہاں تک کہ یہ فیصلہ ان کی 26 اگست 2006 کو ایک فوجی کارروائی میں موت کا سبب بنا’۔  لیکن یہ بیانیہ تو دیگر پاکستانی سیاست دانوں یہاں تک زیڈاے بھٹو اور خاص کر نوازشریف کے بارے میں بھی درست ہے۔ باچامنان کا خیال ہے کہ ‘ذوالفقار علی بھٹو پہلے ایوبی آمریت میں وزیر بنے، اس کے بعد سیاست میں آکر پارٹی بنائی۔ نوازشریف بھی پہلے ضیا مارشل لاء میں صوبائی وزیر بنے اور اس کے بعد اسی کے بنائی ہوئی پارٹی میں اوپر آگئے’۔ دونوں کی حکومتوں کا تختہ فوجی جرنیلوں نے الٹا۔ بھٹو کوپھانسی اور نوازشریف کوملک بدر کیا۔ بے نظیربھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری مسلسل اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مخاصمت اور مصالحت میں ملوث رہے ہیں۔

وہ اسلام آباد میں سی پیک کی حمایت میں سیمینار در سیمینار تقریریں کرنے کے باوجود جب بلوچستان لوٹتے ہیں تو اپنے ہی عوام کو یہ نہیں سمجھا سکتے کہ اربوں ڈالرز لاگت کے اس منصوبے سے بلوچوں کو کیا فائدہ ہوگا؟

حاصل بزنجو کوئی علیحدگی پسند بلوچ رہنما نہیں ہیں۔ وہ کراچی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور طالب علمی دور سے سیاست سے وابستہ ہیں۔ حاصل بزنجوکی سیاست سمجھنے کے لیےغوث بخش بزنجو کے سیاسی ویژن کو سمجھنا ضروری ہے۔ غوث بخش بزنجو صاحب آزاد قلات ریاست کے قیام کی سیاست سے مولانا آزاد سے ملاقات کے بعد دستبردار ہوئے اور مسلم لیگ میں شمولیت حاصل کرلی۔ لیکن بالآخر نیشنل عوامی پارٹی کی بنیاد رکھنے والے بن گئے۔ 1973 کی آئین سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ کہاجاتا ہے کہ نیپ کے بلوچستان میں گورنر ہونے کے باوجود وہ زیڈاے بھٹوکے ذاتی دوست بھی تھے۔ وہ زیڈاے بھٹوکے ساتھ ایران کے دورے پر بھی گئے۔ ان کی درخواست پر شہنشاہ ایران نے تیس کروڑ ڈالرز دیے تھے۔

وہ سخت سامراج دشمن اور انقلابی تھے۔ ان کے ولی خان کے ساتھ اختلافات کی بنیاد افغان انقلاب تھا۔ مقتدیٰ منصور لکھتے ہیں، ‘جب افغانستان میں سردار داؤد قتل ہوئے اور نور محمد ترکئی اقتدار میں آئے تو ولی خان مرحوم اور میر صاحب مرحوم میں اختلافات بڑھ گئے۔ میر صاحب افغان ثور انقلاب کے حامی تھے، جب کہ ولی خان مرحوم اس وقت تک اس انقلاب کے بارے میں تحفظات رکھتے تھے۔’ غوث بزنجوعسکری جدوجہد کے بیانیہ سے زیادہ سہمت دکھائی نہیں دیتے۔ مقتدیٰ منصور ان کی سیاست کا خلاصہ یوں پیش کرتے ہیں ‘بزنجو مرحوم آخری سانس تک پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اور حقیقی وفاقیت کے اصول پر عملدرآمد کے لیے سرگرم رہے۔ وہ شروع ہی سے ترقی پسندی، جمہوریت نوازی اور فکری تکثیریت کے بہت بڑے داعی تھے۔ اس لیے آمریت سے چھٹکارے کی جدوجہد ہو یا سیاسی جماعتوں کی باہمی چپقلش، انہوں نے ہمیشہ دلیل کی بنیاد پر مکالمہ کی حمایت کی۔’ یہ وہ ورثہ ہے جو حاصل بزنجو کو منتقل ہوا۔

اپنے والد کی طرح وہ اہم ملکی اداروں اورعہدوں پررہے ہیں۔ نیشنل پارٹی سے وابستہ ہیں، جو محمود اچکزئی کی پارٹی پختونخوا میپ کے ساتھ مل کرنوازشریف کی مسلم لیگ ن کی اتحادی ہے۔ یہیں پر ان کا تحریک انصاف سے سیاسی ٹکراوہے۔ لیکن نواز حکومت میں سینٹ نمائندہ ہونے کے علاوہ وفاقی وزیر بھی رہے اور بلوچستان میں ان کی پارٹی مسلم لیگ ن کی اتحادی ہونے کے باوجود ان کاسیاسی المیہ یہ ہے کہ وہ وفاق اور بلوچوں کے درمیان پل کا کردار ادا نہ کرسکے۔ بلوچستان پر سیاسی تجزیہ نگار ملک سراج اکبر کے خیال میں حاصل بزنجو کا المیہ یہ ہے کہ وہ اسلام آباد کو بلوچوں سے قریب لانے میں ناکام رہے۔ وہ بلوچستان میں وفاق کے اور اسلام آباد میں بلوچوں کی نمائندگی کرنے میں کچھ زیادہ کامیاب نہیں رہے۔

وہ چین اور پاکستان کے درمیان سی پیک پروجیکٹ کے حامی ترین بلوچ سیاستدانوں میں سے ایک ہیں۔ ان کاخیال ہے کہ سی پیک سے ترقی آئے گی اور بلوچستان کی پسماندگی دور ہوجائے گی۔ اکبر کہتے ہیں کہ حاصل بزنجو کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ‘وہ اسلام آباد میں سی پیک پر سیمینار در سیمینار تقریریں کرنے کے باوجود جب بلوچستان لوٹتے ہیں تو اپنے ہی عوام کو یہ نہیں سمجھا سکتے کہ اربوں ڈالرز لاگت کے اس منصوبے سے بلوچوں کو کیا فائدہ ہوگا؟ وہ کہتے ہیں سی پیک ہماری ترقی کا منصوبہ ہے، اس سے بلوچستان میں خوشحالی آئے گی اور بلوچوں کو گوادر میں ہونے والی ترقی سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اس عمل میں بھرپور حصہ لینا چاہیے’۔

حاصل بزنجوکا المیہ ہے کہ نہ وہ اسلام آباد کو بلوچستان میں فوجی آپریشن ختم کرنے اور مکمل جمہوری عمل پر کاربند کرسکے، نہ ہی بلوچوں کوعسکریت پسندی چھوڑ کر اسلام آباد کے ترقی کے بیانیہ پر راضی کرسکے۔ اب جبکہ عمران سرکارنے سی پیک کو ایک حدتک پس پشت ڈال دیاہے تو حاصل بزنجو  جیسے افرادکی بھی کوئی خاص سیاسی ضرورت باقی نہیں رہی۔ حاصل بزنجوکی جگہ صادق سنجرانی ریاست کے نزدیک بہتر انتخاب ہیں، جنہیں پی ٹی آئی کے درپردہ پیپلزپارٹی اور کئی دیگرحلقوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...