پشتون تحفظ تحریک کا ’جنگ مخالف بیانیہ‘ محدود کیوں ہے؟

210

وکی پیڈیا پر پشتون تحفظ تحریک کے سربراہ منظوراحمد پشتین کا تعارف ‘ساؤتھ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے ایک کارکن’ کی حیثیت سے کرایاگیاہے۔ بی بی سی پر انہیں ان الفاظ میں پیش کیاگیاہے: ‘وہ ملک میں اقتصادی ترقی کی بات نہیں کرتا، وہ نہیں کہتا کہ ایک سال میں سب کے گھروں میں بجلی آجائے گی، نہ ہی وہ بے روزگاروں کو نوکریاں دلوانے کا وعدہ کرتا ہے۔ ‘

الیکشن کے نتائج کے پس منظرمیں انگریزی اخباردی نیوز میں 29 جولائی 2018  کولکھا گیا، پی ٹی ایم جوکہ حقوق کی بنیاد پر قائم ایک تحریک ہے، جس کے دو رہنما قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ڈان اپنی ایک خبرمورخہ 2 مئی 2019 میں اسے pashtun ethnic rights movementاور حقوق کی بنیاد پر قائم الائنس کہتاہے۔ عاصمہ شیرازی بی بی سی پرایک مضمون میں پی ٹی ایم کاتعارف اور فاٹامیں اس کے ابھار کو یوں  بیان کرتی ہے: ‘یہاں پھوٹنے والی نئی پشتون تحفظ تحریک بظاہر آئی ڈی پیز کے حقوق کے لیے شروع ہوئی مگر آہستہ آہستہ اس کا حلقہ وسیع ہو گیا۔’

رحیم اللہ یوسفزئی دی نیوزمیں پی ٹی ایم کو آپریشنوں اورشدت پسندی سے متاثرہ پشتونوں کے حقوق کی بنیاد پرسامنے آنے والی تحریک قرار دیتے ہیں۔ گندھارا پر اپنے ایک مضمون میں مصنف ابوبکر صدیقی پی ٹی ایم کو شہری حقوق کی تحریک (سول رائٹس مومنٹ)گردانتے ہیں، جوملک کے اقلیتی پشتون گروہ کے لیے تحفظ مانگتی ہے، جو بری طرح پامال کئے گئے۔ امبر خیری کہتی ہیں کہ یہ ایک پرامن تحریک ہے جوعلیحدگی پسندی پر نہیں بلکہ شہری حقوق کی بنیاد پر قائم ہے۔ داود خٹک فارن پالیسی میں اسے وزیرستان سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی ایک ایسی تحریک کہتے ہیں جس نے ملکی فوج کو چیلنج کر دیاہے۔ دی ڈیلومیٹ میں پی ٹی ایم کو پشتون نیشنلسٹ مومنٹ کہا گیا ہے جس کی بنیاد وزیرستان سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے 26 سالہ کارکن منظورپشتین نے رکھی۔ جبکہ ندیم حسین اسی میگزین ایک دوسری جگہ اس کا جائزہ سول مومنٹ کے طور پر لیتے ہیں۔

یہ دیکھنا بھی اہم یہ ہے کہ بڑے امریکی اخبارات اور میگزین پشتون تحفظ تحریک کو کیا نام دیتے ہیں۔ بین فارمر 11جون 2019 کو نیویارک ٹائمز میں منظورپشتین کو پشتون سول رائٹس مومنٹ  کے رہنماکے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اسی اخبار میں سلمان مسحود، مجیب مشال اور ضیاء الرحمن کو ایمنسٹی انٹرنیشنل، جنوبی ایشیاء کے لئے ڈپٹی ڈائریکٹر عمر وڑائچ بتاتے ہیں کہ پی ٹی ایم نے ریاست کوانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پراحتساب کے لیے ذمہ دارٹھہرانے کی دلیرانہ کوشش کی ہے۔ اکنامسٹ کے نزدیک پی ٹی ایم ایک ‘سول رائٹس آرگنائزیشن’ ہے

پی ٹی ایم کا چھ نکاتی ایجنڈا جس کے سبب ابتدائی مجمع اکھٹا ہوا اور جس نے عوام میں مقبولیت حاصل کی وہ ‘جنگ مخالف بیانیہ’ ہے

میڈیا سے ہٹ کر خود اس کے لیڈر تحریک کوکس طرح پیش کرتے ہیں؟ فروری 2019 کومنظورپشتین نیویارک ٹائمز میں اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ ‘ہماری پرامن تحریک پشتونوں کے لیے تحفظ اور سیاسی حقوق مانگتی ہے’۔ مضمون کے تعارف میں پی ٹی ایم کوعدم تشدد پر مبنی سول رائٹس کی ایک ایسی تحریک کہا گیا ہے جسے پاکستان کی طاقتور فوج کرش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وائس اف آمریکہ 13مئی 2018 کوپی ٹی ایم کوحقوق کی ایک مقامی تحریک قرار دیتا ہے۔

مدثرشاہ اور شاہزیب جیلانی، ڈی ڈبلیو پر 5 جولائی 2019 کو پی ٹی ایم کو ایک مقبول عام جنگ مخالف پشتون تحریک قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پی ٹی ایم نے گزشتہ دو سالوں میں کافی مضبوطی پکڑتے ہوئے دسیوں ہزاروں افراد کو اپنے جلسوں میں متوجہ کیا ہے۔ اس کے حمایتی دہشت گردی  کے خلاف جنگ پرکڑی تنقید کرتے ہیں جس نے ان کے بقول افغانستان اور پاکستان میں سرحد کے دونوں اطراف پشتون علاقوں کومتأثر کیا ہے۔ پی ٹی ایم کے مطالبات میں دہشت  گردی کے خلاف جنگ کے نام میں پکڑے گئے پشتونوں کی بازیابی اور ماورائے عدالت قتل ختم کرنے کے مطالبات ہیں۔ افراسیاب خٹک بھی تحریک کے جنگ مخالف ہونے کو واضح کرتے ہیں۔ دی نیشن میں 10 فروری 2018 کواپنے مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ اسلام آباد میں 2018 کے اوائل میں پشتونوں کے جنگ مخالف مظاہرے، جن سے پی ٹی ایم کی بنیاد پڑی، نے افغانوں کی بھی توجہ حاصل کرلی ہے جو جنگ کی بربادی اور وحشت سے تنگ ہیں۔ پی ٹی ایم کا چھ نکاتی ایجنڈا جس کے سبب ابتدائی مجمع اکھٹا ہوا اور جس نے عوام میں مقبولیت حاصل کی وہ ‘جنگ مخالف بیانیہ’ ہے۔ یہاں تک کہ افراسیاب خٹک بھی اس حقیقت کومسترد نہیں کرتے۔ وہ دیگر پوسٹ ماڈرن پشتون جوکہ امریکی اور دیگر مغربی میڈیا، ایف ایم چینلز سے وابستہ صحافیوں، این جی اوز والوں کی طرح غیرمحتاط ہوکر لکھنے سے احتراز کرتے ہیں۔

امریکی اور مغربی ایجنڈے پر کام کرنے والے پوسٹ ماڈرن صحافی اور لکھاری اس کوبہر طور پاکستانی فوج اور طالبان کے خلاف بنا کر پیش کرتے ہیں اوراس میں کافی حد تک کامیاب بھی ہیں۔ دہشت کے خلاف جنگ کے حامی اس کو دہشت گردی مخالف یہاں تک کہ طالبان مخالف بناکر پیش کر کھڑا کرنے سے نہیں چوکتے۔ اس پس منظر کو تقویت پی ٹی ایم کے لیڈران کا رویہ دیتاہے جو سرحد پار امریکی بمباریوں، قتل عام اور قبضوں پر چپ ہیں۔ یہ امریکی سامراج کے خلاف بولنے سے کتراتے ہیں، اورسمجھتے ہیں کہ سامراج کے خلاف بولنے سے ان کا بین الاقوامی کیس خراب ہوجائے گا۔ اس کی وجہ اس میں پاکستانی اور افغان سامراج پرستوں کی موجودگی ہے۔ ان کی رائے ہے کہ عالمی برادری( امریکہ ویورپی یونین) اور اقوام متحدہ کے علاوہ بھارت اور افغانستان کی مدد سے پاکستانی ریاست اور خاص کر فوج پر دباؤ بڑھا کر مقاصد کاحصول ممکن ہے، اوریہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم سامراجی جنگ اور مظالم پر خاموشی اختیار کرلیں۔ پاکستان میں پوسٹ ماڈرن دانشور ہرسمے عالمی برادری سے پاکستانی ریاستی مظالم پر نوٹس لینے کا ذکر کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مقامی سطح پراحتجاج اور دھرنوں کی بجائے بین الاقوامی سپورٹ سے مقاصد کا حصول کیا جائے۔ ان کوتحریک کے محدود ہونے سے زیادہ اسکی عالمی سطح پر پذیرائی سے زیادہ غرض ہے۔

پشتون تحفظ تحریک کو بیرونی این جی اوز کی زبان استعمال کرنے والوں کی اکثریت ‘گراس روٹ’، انسانی حقوق کے ادارے  ‘حقوق کی تحریک’، اورصحافی ‘سول رائٹس کی تحریک’ بیان کرنے کو اسی لئے فوقیت دیتے ہیں تاکہ ان کی کوئی واضح ریڈیکل سمت متعین نہ ہوسکے ،یعنی اسے ‘ڈائریکشن لیس’ بناکر پیش کیا جائے۔ باالفاظ دیگر ان کو بنیادی سماجی تبدیلی کی طرف پیش رفت سے دور رکھنے کی کوشش کی جائے۔ جنگ کو سرمایہ داری سے نہ جوڑا جائے اور اس کو سرحد پار افغانستان پر سامراجی جنگ اور قبضہ کے شاخسانہ سے بھی کاٹ کر پیش کیا جائے۔ یہ تشخص بیرونی این جی اوز کے پروجیکٹ، امریکی فنڈنڈ ایف ایم چینلز اور انسانی حقوق کے اداروں سے وابستہ افراد سے لے کر پاکستان میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والے  بعض نام نہاد صحافیوں اور دانشوروں کے لیے بھی مفید اور کارآمد ہے۔ یہ بین الاقوامی دوروں کے لیے اور مغرب میں سیاسی پناہ کے حصول میں بھی کام دیتا ہے۔

پشتون عوام جنگ اور اس کی تباہ کاریوں سے تنگ ہیں۔ یہ ایک سادہ سی حقیقت ہے۔ منظورپشتین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تحریک کوئی نیا رحجان نہیں۔ جنگ کے خلاف پشتون، ایم ایم اے کے ساتھ کھڑے ہوئے، اس نے عمران خان کے جنگ مخالف مظاہروں میں شرکت کی، ڈرون مخالف ریلیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور نیٹو سپلائی کے خلاف دھرنوں میں ساتھ دیا۔ ایم ایم اے کو2002 اور پی ٹی آئی کو2013میں پشتون ووٹ ملنے کی ایک بڑی وجہ اس خطے میں جنگ مخالف بیانیہ تھا۔ پی ٹی ایم اس میں ایک نیا مگر بہت ریڈیکل اضافہ ہے۔ اس کا بیانیہ بروقت اور طاقتور ہے۔ تحریک عدم تشدد کی راہ اپناتے ہوئے جنگ کے خلاف اور امن کی بات کرتی ہے۔

پی ٹی ایم کو’جنگ مخالف’ تحریک بنا کر پیش کیا جائے تو اس کا تعلق 1960 سے لے کر حالیہ افغان وعراق جنگ مخالف تحریکوں سے جڑ جاتا ہے۔ یہ  تمام ریڈیکل تحریکیں فطرتاََ سامراج مخالف ورثہ اور تاریخ کی حامل ہیں۔ پشتون تحفظ تحریک اور جنگ مخالف بیانیے کے درمیان اگر فطری اور غیرجانبدار ربط پیدا کیا جائے تو یہ بھی محض ملک کا ایک ایسا مظلوم طبقہ نہیں رہتا ہے جو مخصوص مقامی جنگ یا استحصال کی مزاحمت کرتا ہو، بلکہ یہ ہر طرح کے سامراج مخالف بیانیے کا حمایتی بنتا نظر آئے گا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عملاََ تحریک کا تذبذب نظر آتا ہے، جو اگر ختم ہوجائے تو اسے نئی زندگی مل سکتی ہے اور اس کی طاقت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات کہ قبائل کی ساخت کے اندر بڑی سماجی تبدیلیوں کی راہ بھی کھل سکتی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...