خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات میں اضافہ، بلوچ تہذیب کا چہرہ مسخ ہو رہا ہے

219

بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا، جبکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔ بلوچستان کی ثقافتی تاریخ ہزاروں سال پرانی تہذیب ’مہر گڑھ‘ سے جڑی ہوئی ہوئی ہے۔ یہاں کے لوگ فطرتاََ امن پسند ہیں۔ روشن فکری اور وسعت ظرفی ان کی ثقافت کا حصہ ہے۔ بلوچ تشخص رکھنے والے افراد نے ہمیشہ شدت پسندی کی حوصلہ شکنی کی۔ لیکن اب کچھ عرصہ سے صوبے میں سماجی سطح پر تسلسل کے ساتھ ایسے واقعات رُونما ہو رہے ہیں جو اس کی امن پسند شناخت کو گہنانے کا باعث بن رہے ہیں۔

گزشتہ روز بلوچستان کے علاقے نصیرآباد میں ایک عورت کے چہرے پر تیزاب پھینکنے کا دلخراش واقعہ پیش آیا ہے۔ اس سے قبل مستونگ میں اور صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں عید کے روز بھرے بازار میں عورتوں پر تیزاب پھینکنے کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔ بلوچ معاشرہ وسیع الظرف قدیم روایات کا حامل ہے جس میں خواتین کا حترام بہت زیادہ کیا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک جب دو قبائل کے درمیان جنگ ہونے لگتی تو اس دوران اگر کوئی عورت درمیان میں آکر کھڑی ہوجاتی تو اس کے احترام میں ہتھیار پھینک کر جنگ بندی کا اعلان کردیا جاتا تھا اور دنوں فریق صلح کرلیتے۔ ایسے سماج میں عورتوں پر تیزاب پھینکے جانے کے واقعات سامنے آنے لگیں تو شدید اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ یہ سوچنے کا مقام ہے کہ آخر اتنا روشن فکر سماج اتنی تیزی کے ساتھ تشدد کی جانب کیسے مائل ہو رہا ہے؟

ملک میں جہاں حقوق کے حوالے سے عورتیں پہلے ہی خود کو اقلیت محسوس کرتی ہیں وہاں ان کے چہرے جلانے اور ان کی ذات کو مسخ کردینے کے اذیت ناک واقعات میں اضافہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین  کے استحصال کی کوئی حد نہیں ہے۔ ہم انہیں ہر طرح سے بے مقام اور بے نام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس طرح کے ظلم کا شکار خواتین کی پوری زندگی دکھ اور عذاب سے عبارت ہوجاتی ہے۔ ایسے گھاؤ انہیں ذہنی وجسمانی ، دونوں طرح سے متأثر کرتے ہیں۔ بلوچستان میں عورت اب باہر نکلی ہے۔ تمام شعبوں میں فعال اور کلیدی کردار ادا کرنے لگی ہے۔ اگر ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی نہ بنایا گیا تو وہ خوف کا شکار ہوجائیں گی اور معاشرے میں ان کا کردار سکڑنا شروع ہوجائے گا۔ اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ خواتین کو تحفظ دے اور ایسے گھناؤنے جرائم   کے سدباب کے لیے فوری اقدامات کرے۔

اپنے اندر کی تیزابیت کو کمزور چہرے پر پھینکنا جارحیت اور شدت پسندی کی بدترین شکل ہے

ہم نے پاکستان میں تیزاب گردی کے حوالے سے انسانی حقوق کی کارکن فوزیہ  سعید سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اگرچہ اس کا شکار زیادہ تر عورتیں ہوتی ہیں لیکن عمومی طور پہ تمام پسے  ہوئے طبقات کو اس تشدد کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پر 2012 میں ایک قانون بن چکا ہے لیکن بلوچستان میں اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ بلکہ میرا خیال ہے کہ دیگر صوبوں میں بھی انتظامی سطح پہ اس کے عملدرآمد کو درست طور یقینی نہیں بنایا گیا ہے۔

پہلے تو طویل عرصہ تک اس مسئلہ میں کوئی قوانین ہی موجود نہیں تھے لیکن 2010 کے بعد  کچھ توجہ دی گئی تو واقعات میں ایک حد تک کمی آئی ہے لیکن مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ 2017 میں قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا گیا تھا لیکن وہ ابھی تک سینٹ سے پاس نہیں ہوسکا۔ابھی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ تیزاب پھینکے والے مجرموں کو معاف کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ اچھا اقدام ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ صوبے اپنے طور بھی اس مسئلے میں قانون سازی اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے قدم اٹھائیں۔

مذہبی طبقے کو بھی اس موضوع پر بات کرنی اور لوگوں میں شعور پیدا کرنا چاہیے۔ ایک دینی تنظیم کے رہنما ڈاکٹر سعید احمد نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، خصوصا بلوچستان میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ زیادہ تر واقعات شادی سے انکار کے نتیجے میں پیش آتے ہیں یا رشتہ داروں میں حسد کے جذبات پیدا ہونے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ہمارے روایتی معاشرے میں ایسی گھناؤنی وارداتیں انتہائی قابل افسوس ہیں اور ان کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔

سماجی کارکن اشفاق لغاری کا کہنا تھا کہ اپنے اندر کی تیزابیت کو کمزورچہرے پر پھینکنا جارحیت اور شدت پسندی کی بدترین شکل ہے۔ یہ جرم ناقابل معافی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...