دہشت گردی کی لہر اور متوقع نئی گروہ بندیاں

148

گزشتہ روز بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں ایک بم دھماکے کے نتیجہ میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے اور 32 کے قریب لوگ زخمی ہوئے۔ اس سے قبل ہفتے کے دن وزیرستان اور بلوچستان میں شدت پسند کاروائیوں کے دوران 10 سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ 23 جولائی کو کوئٹہ میں دہشت گردی کی ایک کاروائی میں 4 شہری قتل اور 10 زخمی ہوئے۔ اس کےعلاوہ 21 جولائی کو ڈیرہ اسماعیل خان میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد موت کے گھاٹ اتاردیے گئے۔

دس دنوں کے اندر دہشت گردی کی چار کاروائیوں میں 27 شہری شہید اور 42 سے زائد زخمی ہوگئے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گردی ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے۔ پچھلے عرصے میں مختلف آپریشنز کے بعد ملک میں امن امان کی صورتحال بہتر ہوئی تھی اور ریاستی اداروں کی جانب سے متعد د بار یہ دہرایا گیا کہ دہشت گردی اپنے انجام کو پہنچ گئی ہے۔ یہ یقیناََ بہت بڑی کامیابی اور حوصلہ افزا نتائج تھے لیکن ایسے وقت میں دہشت گردی کے واقعات ایک بار پھر تسلسل سے رُونما ہو رہے ہیں جب اس کی بنا پر پاکستان کو پہلے ہی  کئی طرح سے مشکلات کا سامنا ہے۔

ریاستی ادارے شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے اصلاحات اور کاروائیوں کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن اس پیش رفت کو درست طور مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اٹھائے جانے والے اقدامات کی شفافیت کو پارلیمنٹ کے ذریعے یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ نئے ترتیب پانے والے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔ افغانستان میں امریکی انخلا کے پاکستانی طالبان پر بھی اثرات پڑیں گے جو افغانستان میں مراکز رکھتے ہیں۔ طالبان کی سیاسی دھارے میں شمولیت کے بعد دونوں ممالک کے شدت پسندعناصر میں نئی گرہ بندیاں متوقع ہیں جو پہلے سے زیادہ خطرناک اور وسیع اثرات کی حامل ہوسکتی ہیں۔ افغان طالبان کی سیاسی دھارے میں شمولیت ان کی نظریاتی بنیادوں کو تحلیل نہیں کرے گی۔ وہ بہرطور اس کی فعالیت کے خواہش مند رہیں گے، چاہے افغانستان کے اندر یا اس سے باہر۔ اگرچہ یہ بعد میں واضح ہوگا کہ وہ پاکستانی طالبان کے بارے میں کیا رویہ اپناتے ہیں لیکن  بظاہر ان کی مخالفت آسان نہیں ہوگی۔ اس سے پاکستانی انتہاپسند عناصر زیادہ پراعتماد اور مضبوط ہوں گے جو ملک کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوگا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...