عمران خان کا دورہ امریکا، ابھی سب کچھ واضح نہیں ہے

460

وزیراعظم عمران خان کے دورے کا انتظام کس طرح ممکن بنایا گیا، اس پہ کئی آرا سامنے آئیں۔ ایکسپریس ٹریبون کے مطابق اس کے لیے سعودی شہزادے محمدبن سلمان نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ سفارتی ذرائع سے نہیں بلکہ ٹرمپ کے داماد اورمشیر جیرڈ کشنر جوکہ شہزادے محمد بن سلیمان کے کاروباری پارٹنر بھی ہیں، کے توسط سے ممکن ہوا۔ بعض عناصر کے نزدیک یہ ایک گروہ کی امریکہ میں لابنگ کا نتیجہ تھا۔ ان کے مطابق یہ لابی عمران خان کوحکومت میں لائی تاکہ سی پیک پر کام کو روکا جاسکے۔ یہ واضح ہے کہ دورے کے انتظاماتی امور میں پاکستان کی وزارت خارجہ مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی۔ دورے کے پیچھے جو بھی محرکات ہوں اس نے البتہ عمران خان کی مشکلات میں گھری حکومت کی ساکھ کو سہارا ضرور دیا۔

حسین حقانی کہتے ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور اسٹبلشمنٹ کو خوشی منانے کے لیے کافی چیزیں فراہم کی ہیں۔ عمران خان یہ دعویٰ بھی کرسکتے ہیں کہ ان کی حکومت نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی تنہائی ختم کی۔ افغان امن بات چیت میں مرکزی حیثیت حاصل کرلی، اوریہاں تک کہ کشمیرکے معاملہ پرصدرٹرمپ کی دلچسپی پیدا کرنے کاباعث بنے۔ امریکی صدر کوفائدہ یہ ہواکہ وہ اپنے ابھرتے حریف چین کے پاکستان میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کوکم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

دورے سےاسٹبلشمنٹ اور عمران خان کی حکومت کے اعتماد میں کچھ اضافہ ہوا۔ امریکہ نے ایک بار پھر بلوچ اور پشتون پوسٹ ماڈرن دانشوروں کو مایوس کیا ہے جوسمجھتے تھے کہ افغان جنگ کا اختتام ان کی آزادی پر منتج ہوگا۔ امریکہ نہ صرف طالبان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے بلکہ افغانستان میں پاکستان کے کردار کا بھی معترف نظر آتاہے۔ اس نے عمران خان کے دورے سے قبل ہی بلوچ علیحدگی پسندوں کی مسلح تنظیم پر پابندی عائد کردی تھی۔ اس کا اثر پشتون تحفظ مومنٹ پر بھی پڑاہے۔ پوسٹ ماڈرن دانشورملکی سطح پر جد و جہد سے زیادہ غیرملکی طاقتوں کی مدد کے منتظر رہتے ہیں۔ انہیں مایوسی ہوئی۔

عمران خان یہ دعویٰ بھی کرسکتے ہیں کہ ان کی حکومت نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی تنہائی ختم کی

اسی طرح دورے نے اپوزیشن کی تحریک کے ساتھ لبرلز اور صحافیوں کی آزادی رائے اورجمہوریت کی جدوجہد کو بھی دھچکا پہنچایا۔ جب صدر ٹرمپ نے عمران خان کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ آپ سے پہلے کی حکومتوں نے ہمارے ساتھ تعاون نہیں کیا تو ان کا اشارہ  واضح طور پہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی حکومتوں کی طرف تھا۔ امریکہ نے یہاں اپنے تاریخی کردار کو ایک بار پھر دہراتے ہوئے جمہوری قوتوں، لبرل عناصر اور تحریکوں کومایوس کیا۔ جس دن عمران خان اور ان کی پارٹی امریکہ سے واپسی کا جشن منارہے تھے، اپوزیشن یوم سیاہ منانے کااعلان کرچکی تھی۔

پاکستان نے افغان طالبان کوامریکہ کے ساتھ براہ راست باچیت پرراضی کرنے پرآمادہ کیا ہے اور پاکستان، امریکہ کو افغانستان سے نکلنے میں مدد دینے میں کردار ادا کرنے کے بدلے میں مراعات کا طلب گارہے۔ پاکستان امریکہ کے قریب تو ہوا ہے لیکن اسے کوئی نئی امداد نہیں ملی اورنہ ہی پرانی امداد کا اجرا ہوا ہے۔ پاکستان کو، کولیشن سپورٹ کی مد میں ملنے والی رقوم پر پچھلے سال جنوری میں صدر ٹرمپ نے ہی پابندی عائد کی تھی۔ افغان جنگ کو دس دن میں جیتنے کے دعوے اور صفحہ ہستی کے مٹانے پر بہت لے دے اور تنقید ہو رہی ہے۔ بعض کے نزدیک دھمکی اصل میں پاکستان کو دی گئی ہے جس پر امریکہ ماضی میں طالبان کی مدد کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ پاکستان کی کوشش تھی کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے کے عوض امریکہ اپنے حواری بھارت پر دباو ڈال کر اس کو مسئلہ کشمیر پر ڈائلاگ شروع کرانے میں مدد دے۔ پاکستان ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں اورعالمی برادری کے کردار کا تقاضا کرتا رہا ہے۔ جبکہ بھارت بضد رہاہے کہ کشمیر، انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے اوراس میں کسی بیرونی طاقت کوبات چیت کا حق نہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق مسئلہ کشمیر  کا معاملہ اندرون خانہ طے ہوچکاہے۔ اس سلسلہ میں لائن آف کنٹرول کو ایک مستقل سرحد ماننے سے لے کر کشمیر کو ایک آزاد و مختار علاقہ بنانے تک کئی امور زیرغور ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ دورے  کی پس پردہ بات چیت میں افغانستان میں طالبان کا کردار، واہگہ کے راستے بھارت افغان تجارت کے لیے خشکی کے راستے راہداری کی فراہمی، پاکستان میں چین کے اثرکو کم کرنے، ایران پرنئی امریکی پابندیوں کے علاوہ پاکستانی افواج کی امداد کی بحالی، پاکستان کومالیاتی اداروں کی امداد، ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے پاکستان کو نکلوانا اور شکیل آفریدی کی رہائی جیسے موضوعات شامل رہے ہوں گے۔ اگرچہ بیانات میں افغان امن کا ایجنڈا چھایا نظرآیا۔

پاکستان نے دورے سے قبل کچھ ایسے اقدامات کیے جس سے امریکہ خوش ہوا۔ حافظ سعید کو پہلے بھی پکڑا جا چکا ہے اورعدلیہ کے حکم پر چھوڑ دیا جاتا رہا لیکن اب معاملہ کچھ مختلف نظر آرہا ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ نے دورے سے کچھ دن پہلے اسلامی مدارس کو کنٹرول کرنے والے اقدامات کے حوالے علما کو اعتماد میں لیا۔ حکومت نے آسیہ بی بی کے ملک سے باہر جانے کی راہ ہموار کی۔ طالبان کو امریکی منشا کے مطابق مذاکرات پر لانے میں اہم کردار ادا کیا اور افغانستان کی دلدل سے امریکہ کے باعزت انخلا کے لیے راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

کہا جارہا ہے کہ امریکی لہجہ میں اب کچھ نرمی پیدا ہوگئی ہے اور اب امریکہ ڈومور کی پالیسی پر زور نہیں دیتا۔ امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ایف 16 کے لیے تکنیکی مد میں پاکستان کو 125 ملین ڈالرز کی امداد دے گا۔ امریکہ کے نئے نامز دفوجی سربراہ نے پہلے ہی پاکستان سے اچھے تعلقات کو اہم قرار دیا تھا۔ اس سے پاکستان کی فوجی امداد کی بحالی کے امکانات پیدا ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ سمجھتا ہے کہ عمران خان بولڈ فیصلے کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ اس کی خواہش ہے کہ اقلیتی برادری کے حقوق، کشمیر اور اسرائیل کے معاملات پر غیر روایتی اور نئے فیصلے کیے جائیں۔ حکومت کے لیے سب کچھ کرنا ممکن ہوگا یا نہیں یہ مستقبل میں واضح ہوگا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...