اسرائیل عرب بہار کے اثرات سے کیسے محفوظ رہا؟

404

2011 میں جب عرب بہار کی لہر آئی تو شروع میں پوری عرب دنیا نے اسے خوش آمدید کہا۔ اس کی بنیاد سیاسی جبر، نا انصافی اور بے روزگاری کے خلاف غصے اور مزاحمت پر اُٹھی لیکن آہستہ آہستہ اس میں مختلف سلوگن اور نعرے شامل ہوتے گئے جس نے ارتکاز کو ختم کر دیا اور انتشار و کشمکش کو جنم دیا۔ ریاستی بدعنوانی کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج مختلف ممالک میں مختلف دیگر شکلیں اختیار کرتا گیا۔ کہیں یہ سیکولر اور اسلام پسندوں کے درمیان تنازع بن گیا۔ کہیں جمہوری وغیرجمہوری نظاموں میں کشمکش کی صورت  میں بدل گیا، جبکہ کسی جگہ مذہبی فرقہ واریت کی خطرناک جنگ کی شکل اختیار کرگیا۔ انجام کار عرب بہار، خزاں میں تبدیل ہوگئی۔

مشرق وسطیٰ میں ہونے کی وجہ سے عرب بہار نے اسرائیل پر کیا اثرات مرتب کیے؟

ابتدا میں جب احتجاج عروج پر تھے تو ان میں جہاں کئی اور سلوگن سامنے آئے وہاں اسرائیل مخالف سلوگن اور نعرے بھی نمایاں تھے۔ یہ اسرائیل کے لیے پریشانی کی بات تھی۔ اس نے خطے میں طاقت کا جو توازن قائم کیا تھا وہ اس لہر کی کامیابی سے متأثر ہوسکتا تھا اور مشرق وسطیٰ میں اس کے اتحادیوں کا سقوط بھی اس کے لیے نقصان دہ تھا۔ اسرائیل کو باقی ممالک میں اس کے خلاف جذبات کی انگیخت سے اتنا زیادہ مسئلہ نہیں تھا، البتہ مصر اور شام میں جب احتجاج نے زور پکڑا تو اس کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا۔ خصوصاََ حسنی مبارک کے سقوط اور عام انتخابات میں محمد مرسی کی فتح سے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی پاسداری مشکوک ہوگئی۔ اس وقت اسرائیلی وزیرخارجہ نے اسے ایران کے ایٹمی منصوبے سے زیادہ خطرناک قرار ددیا تھا۔ اس وقت اسرائیل میں یہ خدشہ مضبوط ہوگیا تھا کہ مصر جنگ پر آمادہ ہوسکتا ہے۔ شام کی طرف سے بھی اسے غیریقینی کی صورتحال کا سامنا تھا۔ اگرچہ جنگ میں اسرائیل پر غلبہ کے امکان نہیں تھے لیکن اس سے اسرائیل کا داخلی امن واستحکام اور اقتصاد تہہ و بالا ہوسکتا تھا۔

جب عرب بہار، خزاں میں تبدیل ہوئی تو عربوں کی رائے یکسر مختلف ہوگئی۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد یہ خیال کرنے لگی کہ اس کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ تھا۔ وہ اس کا محرک تھا یا نہیں لیکن اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اس لہر کی ناکامی کا فائدہ اسرائیل کو ہوا ہے۔

اگرچہ عرب بہار کی لہر عملاََ چند ممالک میں آئی لیکن اس کے اثرات مشرق وسطیٰ اور تمام عرب ممالک میں کسی نہ کسی طرح ظاہر ہوئے۔ لہذا یہ قوی امکان موجود تھا کہ ان کے درمیان میں واقع ملک اسرائیل بھی اس سے متأثر ہوگا۔ چند دن قبل لیبیا کے مرحوم صدر معمر قذافی کی 2011 کی بنی ہوئی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ اسرائیل کو خبردار کرتے نظر آتے ہیں کہ عرب بہار اسے بھی اپنی لپیٹ میں لے  لیگی۔

’سوشل میڈیا جس نے عرب بہار کو جِلا دی تھی اب وہاں اس لہر کی تکلیف دہ تصاویر گردش کرتی ہیں‘

اسرائیل پر اس کے ممکنہ اثرات خارجی خطرات کی صورت ہی میں نہیں تھے بلکہ داخلی سطح پر سماج کے بھی اس سے متأثر ہونے کے امکانات موجود تھے۔ اس کی وجہ اسرائیل میں طبقاتی تقسیم اور حقوق کے حوالے سے شدید شکایات  کا وجود تھا۔ اسے سمجھنے کے لیے تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے۔ اسرائیل میں یہود ایک شناخت کے حامل نہیں ہیں، بلکہ ان میں کئی طرح کے دینی، نسلی اور فکری گروہ پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض کے درمیان  تاریخی پس منظر میں اگرچہ شدید تصادمی عناصر فعال رہے ہیں لیکن ملک میں تمام یہودی پگھلتی ہوئی ہنڈیا (Melting Pot) کے نظریہ پر متفق ہوئے اور  ایک اسرائیلی شناخت میں ضم ہوگئے۔ لیکن اس کے باوجود تاریخی اختلافات اب بھی حقوق کی غیرمساوی تقسیم کی صورت میں ظہور کرتے ہیں۔

مثال کے طور پہ اشکنازی، سفاردی اور فلاشا اسرائیل میں بسنے والے ایسے تین بڑے اور مشہور گروہ ہیں جن میں ایک طرح سے  ہم آہنگی کی کمی ہے۔ اشکنازی بالادست اور طاقتور سمجھے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو یورپ میں رہے پھر وہاں سے ہجرت کرکے اسرائیل آئے۔ اشکنازیوں نے اسرائیل کی تاسیس اور ریاستی اداروں کی تشکیل کی ہے۔ تاریخی اعتبار سے ان کا نسلی پس منظر سفاردی بھی ہوسکتا ہے۔ سفاردی وہ یہود ہیں جن کا نسلی تعلق عرب ممالک اور مشرق سے ہے۔ انہیں مشرقی یہود بھی کہا جاتا ہے۔ یہ حیثیت میں اشکنازیوں سے کم درجہ تصور کیے جاتے ہیں اور انہیں شکوہ ہے کہ ان کو ملازمتوں میں بڑے مناصب نہیں دیے جاتے۔ تیسرا طبقہ فلاشا ہے۔ یہ وہ یہودی شہری ہیں جنہیں اسرائیل اتھوپیا سے اپنے ملک میں بسانے کے لیے لایا ہے یا وہ خود ہجرت کرکے آئے ہیں۔ یہ سیاہ فام ہیں اور ان کی الگ بستیاں ہیں۔ ان کی تعدا ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہے جن میں اسرائیل کے اندر پیدا ہونے والے پندرہ فیصد ہیں۔ یہ اسرائیل کی نظریاتی اساس کے سخت حمایتی ہیں لیکن ان کے ساتھ نسلی امتیاز کا رویہ برتا جاتا ہے اور ان میں بے روزگاری کا تناسب بھی زیادہ ہے۔

اسرائیل کی سماجی تنظیم Mertz کے مطابق حکومت فلاشا کو اتھوپیا سے لائی تو ہے لیکن معاشرے میں  ان کے مساوی اور صحت مند انضمام کے لیے خاص اقدامات نہیں کیے۔ 2015 میں حقوق کے مطالبے کے ساتھ اور نسلی امتیازی سلوک کے خلاف فلاشا ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ تب کچھ لوگوں نے اسے عرب بہار کا اثر کہا تھا۔ احتجاج میں کچھ نوجوانوں نے عرب بہار کے مشہور سلوگن ’’ارحل‘‘ (اقتدار چھوڑو)  کے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جوعربی اور عبرانی دونوں زبانوں میں لکھا گیا تھا۔ رواں ماہ جولائی کے شروع میں اسرائیلی پولیس کی گولی سے ایک 18 سالہ فلاشا نوجوان مارا گیا جس کے بعد سینکڑوں فلاشا ایک بار پھر سڑکوں پر آگئے۔ انہوں نے تل ابیب کی مرکزی شاہراہیں بند کردیں اور کئی گاڑیوں کو نذرتش کردیا۔ پتھر اور شیشے کی بوتلوں سے 111 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ مظاہرے اتنے شدید تھے کہ نتنیاھو نے مقتول نوجوان کے گھر جاکر تعزیت کی اور احتجاج بند کرنے کی درخواست کی۔ لیکن احتجاج ابھی تک بھی مکمل طور پہ ختم نہیں ہوا۔ عرب دنیا میں سوشل میڈیا پر کئی دنوں تک ’’اسرائیل‘‘ ہیش ٹیگ سرفہرست ٹرینڈز میں رہا۔ وہ اسے ’اسرائیلی بہار‘ کا نام بھی دے رہے تھے (یہ بھی کیا المیہ ہوا کہ عرب بہار کا مطلب انتشار اور فساد ٹھہر گیا)۔ پچھلے سال بھی دو فلاشا شہری پولیس کی گولی سے مارے گئے تھے جس پر احتجاج کیے گئے۔

اسرائیل میں  یہود کے ان مذہبی ونسلی طبقاتی اختلافات کے علاوہ ایک اور تقسیم سیکولر اور مذہب پسندوں کی بھی پائی جاتی ہے۔ یہودی مصنف ریبزر ربٹکسی نے اپنی کتاب ’اسرئیلی سیکولر ومذہب پندوں کے مابین ثقافتی اختلافات‘ میں لکھا ہے کہ یہ تقسیم شروع سے موجود ہے لیکن اب اس میں شدت آئی ہے۔ اسی طرح اسرائیل میں عرب ومسیحی اقلیتیں بھی بستی ہیں جن کی اکثریت حکومت سے خوش نہیں ہے۔

اسرائیلی سماج میں مختلف نوع کی طبقاتی تقسیم اور ان میں کسی حد تک اختلاف کی شدت اور استحصال کے شکووں کی وجہ سے یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اسرائیل بھی عرب بہار کے اثرات کی لپیٹ میں آجائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بظاہر پس منظر کے موافق ہونے کے باوجود وہاں روایتی معنوں میں انقلاب کی کی کوئی ایسی تحریک نہیں اٹھی جو مکمل طور پہ عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی نظم کو تلپٹ کردے۔ اسرائیل میں کوئی احتجاج اور کوئی تحریک نظام کے کے دائرے سے باہر نہیں نکلتی۔

گویا اسرائیل خارجی اور داخلی دونوں سطح پر خود کوعرب بہار کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا۔ پس پردہ محرکات اور کرداروں سے قطع نظر خارجی سطح پر اسرائیل کے تناظر میں مشرق وسطیٰ میں ظاہر ہونے والے عرب بہار کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل کی موجودہ پوزیشن اس سے بہتر ہے جو عرب بہار سے قبل تھی۔ انجام کار کے اعتبار سے اس لہر نے عربوں میں فلسطین کے قضیے کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ یہ بنیادی تبدیلی ہے جو سراسر اسرائیل کے حق میں ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اِس وقت دہشت گردی، اخوان اور ایران کے مسائل سرفہرست و اہم ہیں۔ یہی مسائل اسرائیل کے بھی ہیں۔عرب ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات میں بہتری آئی ہے، بلکہ سعودیہ جیسے وہ ممالک جن سے اسرائیل کے ساتھ قربت کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی تھی وہ کھل کر اس کے بلاک میں جا کھڑے ہوئے ہیں۔ محمدبن سلمان نے تو ٹرمپ کی پیش کردہ ’صدی کی ڈیل‘ پر فلسطینیوں کو مخاطب کرکے یہ بھی کہہ دیا کہ اسے قبول کرو یا اپنا منہ بند رکھو۔

مصر سے اخوان کا خطرہ نہیں رہا۔ شام خانہ جنگی کا شکار ہے۔ نتنیاھو نے شام وعراق میں کُردوں کی ریاست کے قیام کی حمایت بھی کی ہے جو اس کے لیے داعش جیسی تنظیموں سے لڑ سکتے ہیں۔عرب بہار ہی کے نتیجہ میں اسرائیل کے رُوس کے ساتھ بھی تعلقات بہتر ہوئے ہیں جو ایران کا پیچھے سے محاصرہ کرسکتا ہے۔ اسرائیل نے عرب بہار کے خارجی معرکے میں کامیابی حاصل کرکے مغرب پر بھی یہ واضح کردیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں عربوں کی نفسیات اور سیاست کو زیادہ بہتر سمجھتا ہے۔

داخلی حوالے سے طبقاتی اختلاف اور مسائل کے ہونے کے باوجود اسرائیلی عوام سیاسی نظم کو لپیٹنے کے حق میں نہیں ہیں۔ اس کی ایک مضبوط  وجہ تو عربوں کے درمیان ہونے کی وجہ سے عدم تحفظ کا احساس ہے لیکن یہ  ایک سبب نہیں ہے۔ عمار محمد کے مطابق اسرائیلی سماج کی ساخت کے کچھ پہلو ایسے ہیں جن کی بنا پر وہ نظام کو چیلنج کرنے والے انقلاب کے لیے کھڑے نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پہ اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک مہاجر سماج ہے۔ اس طرح جو افراد یا طبقات بڑے مناصب پر براجمان ہیں ان کے حوالے سے یہ تصور موجود نہیں ہے کہ وہ وراثت میں یا ناجائز حربوں سے ان عہدوں پر قابض ہوئے ہیں، بلکہ انہوں نے خود جدوجہد کی۔ اس طرح مشکلات کے باوجود تمام مہاجرین میں یہ امید رہتی ہے کہ انہیں بھی یہ مقام حاصل ہوسکتا ہے۔ مہاجر ویسے بھی کسی  نظام سے بغاوت کی بجائے اس میں انضمام کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اب اسرائیل  کی جانب ہجرت کا زور بھی کم ہوگیا ہے، یوں آبادی کے تناسب اور وسائل کی پیداوار میں بڑھوتری کے حساب سے ان کے لیے مستقبل میں بہتر مواقع یقینی ہیں۔

ان کے بغاوت نہ کرنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اسرائیل کا سارا ڈھانچہ بیرونی امداد اور تعاون پر قائم ہوا ہے، جو ایک مخصوص عالمی  سیاسی ومعاشی نظم کا مرہون منت ہے۔ لہذا یہ نظم  دیگر ممالک کے پِسے ہوئے طبقات کے لیے تو استحصالی ہوسکتا ہے لیکن اسرائیل کے لیے نہیں۔ عرب ممالک کی طرح وہاں آمریت تو ہے نہیں جس سے بغاوت کی جائے۔ اس لیے اصلاحات اور حقوق کا مطالبہ کیا جاتا ہے لیکن اسی سیاسی ومعاشی نظم کے اندر رہتے ہوئے۔ جو انہیں فائدہ بھی دے رہا ہے اور تحفظ  کی ضمانت بھی۔

اس طرح کی ساخت اور بعض خصوصیات اسرائیلی سماج کو عربوں کی طرح کے معاشروں سے جدا کرتی ہیں۔ اس لیے مسائل کی صورت  بظاہر ایک جیسی ہونے کے باوجود ردعمل ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اسی لیے عرب بہار کے دوران بھی اسرائیلی سماج اس سے متأثر نہیں ہوا اور وہاں روایتی انقلاب کی کوئی تحریک نہیں چلی جیسا کہ عرب توقع کر رہے تھے یا اب بھی خواہش رکھتے ہیں۔

عرب بہار نے عربوں کو مایوس کیا اور انہیں گہرے زخم دے گئی۔ اسرائیل کارزار کے وسط میں ہونے کے باوجود محفوظ رہا، بلکہ فائدہ اٹھایا۔ جنوری 2019 میں دی ٹائمز آف اسرائیل نے لکھا تھا، عرب بہار دوبارہ نہیں آئے گی۔ سوشل میڈیا جس نے عرب بہار کو جِلا دی تھی اب وہاں اس لہر کی تکلیف دہ تصاویر گردش کرتی ہیں۔ اس وقت عربوں کے پاس دو آپشن ہیں، شدت پسند اسلامسٹ یا آمریت۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...