بلوچستان کے طلبہ بھوک ہڑتال پہ بیٹھے ہیں

563

آج سے نہیں بلکہ قیام پاکستان سے لے کر بلوچستان کو صوبہ کا درجہ ملنے تک، شروع سے ہی بلوچ نوجوانوں کو تعلیم کے میدان سے دور رکھا گیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی طلبہ اپنے حقوق کے لیے جب تک سڑکوں پہ نہیں نکلتے اس وقت تک سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ان کی سُنی جائے۔ بلوچستان میں تعلیمی مسائل ویسے تو دوچار نہیں ہیں لیکن یہاں امتحانات کے بعد نتائج کی عدم شفافیت کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگتا ہے۔ چاہے پبلک سروس کمیشن کے ہوں یا دیگر مقابلہ جاتی امتحانات، سب جگہ شکوک و شبہات موجود ہوتے ہیں۔ نتائج پر کسی کو اطمینان نہیں ہوتا۔ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے حالیہ نتائج میں بھی بے شمار طلبہ و طالبات متاثر ہوئے ہیں اور سراپا احتجاج ہیں۔

ستر سال بعد بلوچستان جیسے ہر لحاظ سے پسماندہ صوبہ میں میں گزشتہ دور حکومت میں تین میڈیکل کالجز جھالاوان، مکران اور لورلائی  منظورہوئے اور بولان میڈیکل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔ تمام کالجز کے پرنسپلز بھی تعینات ہوئے۔ داخلہ ٹیسٹ کا مرحلہ  مکمل ہو۔ ایک بیچ تعلیمی سلسلہ مکمل بھی کرنے والا ہے۔ مگر ابھی ہونے والے ٹیسٹ کے بعد اچانک PMDC (پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل  کونسل)نے بلوچستان کے لیے ایک مسئلہ کھڑا کردیا ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ تینوں کالجز  پی ایم ڈی سی کے شرائط وضوابط کوپورا نہیں کر رہے ہیں لہذا رجسٹریشن نہیں ہے تو ملازمین کو بھرتی کرنا بھی کالعدم ہوگا اور اس کو بنیاد بنا کر حتمی میرٹ لسٹ آویزاں کرنے میں بھی رکاوٹ پیدا کی جا رہی ہے۔

 کیا یہ بلوچستان کی ہر نسل کے مقدر میں لکھا ہے کہ اسے اپنے ہرحق کے لیے سڑکوں پہ دھرنا دینا ہوگا؟

جس ادارے کا ایک پرنسپل لاکھوں روپے تنخواہ لے رہا ہے اور باقی ملازمین بھی مراعات وصول کررہے تھے، اب اس میں یہ نیا فیصلہ کر کے کیا حاصل کیا جارہا ہے؟ اور کیا یہ صوبے اور ملک کے کمزور بجٹ پہ بوجھ نہیں ہے؟ جن طلبہ و طالبات کو اپنی کلاسوں میں ہونا تھا وہ نوجوان اب پریس کلب کوئٹہ کے سامنے بھوک ہڑتال پہ بیٹھے ہیں۔ ان کے والدین پہ کیا بیت رہی ہو گی۔ کتنوں کے والدین نے اپنے بچوں کو جفاکش محنت مزدوری کرکے  پڑھایا ہے، مگر اس معاشرے کے حکمرانوں کوکوئی پروا نہیں ہے۔ چند متعلقہ افسران اپنے ذاتی مفادات اور انا کی خاطر طلبہ کی تعلیم اور مستقبل کو داؤ پر لگائے بیٹھے ہیں۔ کیا یہ بلوچستان کی ہر نسل کے مقدر میں لکھا ہے کہ اسے  اپنے ہرحق کے لیے سڑکوں پہ دھرنا دینا ہوگا؟

کوئٹہ پریس کلب کے باہر آل میڈیکل کالجز کےمتاثرہ طلبہ و طالبات کے کیمپ کے برابر میں شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے فارماسسٹس بھی بھوک ہڑتال پہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ قبل  بولان میڈیکل کالج بی ایم سی کے ایک طالب یوسف پرکانی نےاس نظام سے تنگ آکر خود کشی کر لی۔ بلوچستان کے طالب علم اس سے زیادہ قربانی نہیں دے سکتے۔ اشرافیہ سے التجا ہے کہ اپنی انا کو ایک طرف رکھ  کر ان طلبہ کا کچھ خیال کریں۔

بلوچ نوجوان پڑھنا چاہتا ہے۔ اسے کم ازکم یہ حق تو دیا جائے۔ اگر طلبہ کے ساتھ اس طرح کی زیادتی کسی اور صوبے میں ہوتی تو مین اسٹریم اور سوشل میڈیا پر ایک زبردست احتجاج شروع ہوتا۔ پورا ملک ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا۔ اس خبر کو اہم سمجھا جاتا، لیکن یہ بلوچستان کی خبر ہے۔ کیا فرق پڑتا ہے اگر تین کالجز کے طلبہ پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال پہ بیٹھے ہیں۔ ہم صرف درخواست اور امید کرتے ہیں کہ نوجوانوں کی بے چینی پر دھیان دیا جائے۔ ان کے پڑھنے کے حق کو تسلیم کیا جائے اور اس سے متعلقہ مسائل حل کیے جائیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...