وزیر اعظم کا کامیاب امریکی دورہ

168

وزیر اعظم عمران خان خان کا تین روزہ امریکی دورہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ چونکہ دونوں ممالک کے درمیان سردمہری کے کئی اسباب اور پہلو ہیں اس لیے صدر ٹرمپ سے ملاقات سے قبل تک میڈیا میں کئی طرح کے مفروضے تواتر سے پیش کیے جاتے رہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان صدر ٹرمپ سے ملاقات سے قبل واشنگٹن میں ایک بڑے جلسے کے انعقاد کے ذریعے کانگریس ممبران، میڈیا اور تھنک ٹینکس کو یہ تأثر دینے میں کامیاب رہے کہ وہ پاکستانیوں میں زبردست مقبولیت رکھتے ہیں۔ اس سے وزیراعظم کی ساکھ  کوکسی حد تک تقویت ملے گی۔

دورے کا مرکزی پہلو صدر ٹرمپ سے ملاقات تھی۔ اس میں خوش آئند بات یہ تھی کہ  امریکی صدر نے دہشت گردی پر بات کی لیکن اس کا پس منظر افغانستان اور اس سے انخلا تھا۔ روایت سے ہٹ کر گفتگو کے دوران پاکستان پر دہشت گردی کی معاونت کا الزام نہیں لگایا گیا، بلکہ امن مذاکرات کے لیے اس کی کوششوں کو سراہا گیا اور نہ ہی پڑوسی ممالک کے حوالے سے پاکستان کے کردار پر کوئی منفی بات کی گئی۔ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش اور اس پر پاکستان کی بلاتردد حمایت پاکستان کے حوالے سے اس تأثر کو زائل کرے گی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں فساد اور بدامنی چاہتا ہے۔

امریکی صدر نے پاکستان کے ساتھ معاشی روابط وسیع اور مضبوط کرنے کی بات بھی کی۔ اس پر باقاعدہ کسی پیش رفت کے امکان اس لیے کم ہیں کہ صدر ٹرمپ نے فی الحال دہشت گردی کی روک تھام کی مد میں دی جانے والی امدادد بھی بحال نہ کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کے حوالے سے پاکستان کو درپیش مشکلات میں پاکستان کے ساتھ تعاون کا بھی کوئی اشارہ نہیں ملا۔

اگرچہ اس دورے سے پاکستان کوئی بڑا مفاد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا جیساکہ توقع کی جارہی تھی۔ خصوصا کمزور معاشی حالت کی بہتری کے لیے کوئی زبردست اقدام یا پیش رفت سامنے نہ آسکے جس کی اشد ضرورت تھی۔ لیکن پاکستان کے لیے یہ سفارتی کامیابی بھی  اپنی جگہ موجودہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے وزیراعظم کو ملاقات کا دعوت نامہ ارسال کیا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان سردمہری کو ختم کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...