پاکستان میں معدوم ہوتی مادری زبانیں اور ان کے تحفظ کے لیے اقدامات

244

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ”The limits of my language mean the limits of my world ” زبان کی اہمیت پر شاید دنیا کے کسی اور جملے میں اس سے زیادہ جامع اور اس سے زیادہ سادہ بیان ملتا ہو۔ اگرچہ میری بات اس جملے کے ساتھ ختم ہوجانی چاہیے تھی لیکن چند ایک گزارشات پیش کرنا ضروری ہے کہ جن سے مادری زبان کی اہمیت اور بالخصوص پاکستان میں اس کی صورت حال پر بالاختصار بات کی جاسکے اور کچھ نئی پرانی تجاویز بھی دی جاسکیں۔

پاکستان میں جن مسائل سے ہم بخوبی شناسائی رکھتے ہیں ان میں ایک مسئلہ ” زبان ” کا ہے۔ مسئلہ زبان کا ہو نہ ہو ملک میں اردو زبان سے لے کر ہر زبان کا کم و بیش مقام کے تعین کا قضیہ اور اس کے نفاذ، ترویج، ترقی اور تحفظ کا بحران شروع ہی سے چلا آرہا ہے۔ آئین کے بنیادی ڈرافٹ میں جو درج ہے وہ آپ کے لیے من و عن درج کیا جاتا ہے:

” پاکستان کی قومی زبان اردو ہے، اسے سرکاری اور دیگر مقاصد کے استعمال کرنے لیے آئین کے نفاذ سے پندرہ سال کے اندر انتظامات کئے جائیں گے۔

پہلی شق کے مطابق اردو انگریزی کی جگہ لینے کا انتظام کرنے تک انگریزی کو سرکاری زبان کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

قومی زبان کے مقام کے خلاف کسی قسم کے تعصب کے بغیر ایک صوبائی اسمبلی کوحق حاصل ہوگا کہ وہ قومی زبان کے ساتھ صوبائی زبان کی ترقی، استعمال اور تعلیم کے لیے مناسب قوانین بنا سکے۔ ”

درج بالا شقوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات میں ابہام نہیں رہنا چاہیے کہ آئین اور آئین کی یہ شقیں ہمارے قانون ساز اداروں سے منظور ہوئی ہیں جن پر عملدرآمد کرنا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔ باایں ہمہ تازہ ترین میں یہ ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد پنجابی، سندھی، پشتو اور بلوچی کے ساتھ سرائیکی اور براہوی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے پر ایوان ہائے بالا میں بل پیش اور مسترد ہونے کی خبریں بھی سنتے ہیں۔ بہرکیف 2010ء کے بعد آئین کی عملدراری اور صوبوں کے اختیار کی وسعت سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ یعنی اتمام حجت کے بعد صوبوں کے قانون ساز اور مقتدراداروں کو اس دیرینہ مسئلہ کو حل کرنے کے لیے اب پالیسی سازی سے نکل کر مسائل کے حل اور حل کے اطلاق پر توجہ دینی چاہیے۔

معدومیت کے اساب میں لوگوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم نہ دینا، شہروں میں آبادی کا ارتکاز اور خود ان کے بولنے والوں کی آبادی میں کمی شامل ہیں

جہاں تک پاکستان میں زبان و لسان میں تعلیم کے مسائل کا تعلق ہے یقینا وہ تاریخی ہے اور یہ مسائل جنوبی ایشیا میں درس و تدریس کے مسائل سے جڑے ہوئے چلے آرہے ہیں۔ مسائل کو ایک طرف رکھیں تو یہاں جو ثقافتی رنگارنگی اورتنوع پایا جا تا ہے اسے دنیا کے ان خوش نصیب خطوں میں شمار ہوتاہے جہاں ہر بولی، نسل اور عقیدے کے انسان ہزارہا سال سے زندگی گزار رہے ہیں۔ اس دنیا میں جہاں ہم رہتے اور سانس لیتے ہیں، ایک محتاط سروے کے مطابق 6900 سے زائد یعنی لگ بھگ سات ہزار کے قریب زبانیں بولی جاتی ہیں صرف پاکستان میں چھوٹی بڑی زبانوں اورلہجوں کی تعداد 74  ہے۔ چند کے نام پیش کئے جاتے ہیں۔ پنجابی، سندھی، سرائیکی، پشتو، بلوچی، براہوی، بلتی، ہندکو، پوٹھواری،چلیسو۔ دامیلی، کلاشہ، گوار، باٹی، گاورو، جاد۔ کاٹی، خووار، کنڈل شاہی، امری، پھلوار، سوی، سپٹی، طوروالی، اوشوجو، بورک، پھلور، واخی، یدیغا، فارسی وغیرہ۔ ان میں بیشتر زبانیں ایسی ہیں جو موجودہ دور میں معدومیت کی طرف جارہی ہیں۔ جن کی وجوہات میں سب سے بنیادی مسئلہ ان کے بولنے والوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم نہ دینا، شہری آبادیوں میں آبادی کا ارتکاز اور خود ان کے بولنے والوں کی آبادی میں کمی جیسے اسباب شامل ہیں۔

مادری زبانوں پر اب سے کچھ سال پہلے تک لسانی ماہرین، سیاسی اور سماجی ہنما، سرکاری اور غیر سرکاری ادارے جو کچھ کرتے رہے اس کا نتیجہ اٹھارویں ترمیم کی شکل ہمارے سامنے ہیں۔ اب چونکہ اس پر کام شروع ہوچکا ہے تو ضروری ہے کہ اس کے نصاب کے نفاذ میں نصابی کتب، درس و تدریس کے طریقہ ہائے کار اور وہ تمام مسائل جن کا تعلق ہماری ان نسلوں سے ہے جنہوں نے یہ کتابیں پڑھنی ہیں، جن کو جو پڑھایا جائے گا پڑھیں گی، کچھ غلط پڑھ گئیں تو صدیوں تک اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ سردست یہاں کچھ ایسی تجاویز دی جاتی ہیں جو یقینا سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر ہماری تعلیمی پالیسی میں معاون ثابت ہوں:

کوشش کی جائے کہ مادری زبانوں، ان میں تعلیم و تدریس اور مقام کے بارے میں قانون کے دامن کو وسیع تربنایا جائے تاکہ اس بارے میں کوئی بھی ابہام نہ رہے۔

پاکستان میں کوئی بھی زبان یا لہجہ میں بات کرنے والا اپنی زبان سے حساسیت نہ رکھتا ہو ضروری ہے کہ ہر زبان کو قومی اثاثہ قرار دیا جائے۔

سماج اور سیاست کے اداروں کی جانب سے کسی بھی سنجیدہ اور مخلصانہ رائے اور مشورہ کا نہ صرف احترام کیا جائے بلکہ متعلقہ ادارے اس پر عملدرآمد کرنے میں عار محسوس نہ کریں۔

گلوبلائزیشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نت نئی تھیوریز اور ایجادات کے اس دور میں مثبت مقابلہ کی فضا کو عام کیا جائے اور تمام پیش آمدہ مسائل پر حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کیا جاناچاہیئے۔

زبانوں، لہجوں اور ان کے مسائل کو علمی سطح پر زیادہ سے زیادہ رکھتے ہوئے ان کے مسائل کو حل کیا جائے۔

زبانوں اور زبانوں کے بولنے والوں میں تفاہم اور تقابل کی بہترین فضا کو قائم کرنے کے لیے باقاعدہ دارالتراجم بنانا اور ان میں مستقل اور اعزازی بنیادوں پر ماہرین کو تعینات کیا جائے۔

شعبہ علوم انسانی میں بالخصوص جو لسانیات و ادب میں اعلی درجہ کی تعلیم جیسے بیچلر، ماسٹرز، ایم فل یا پی ایچ ڈی کررہے ہوں ان کے لیے لازم ہو کہ وہ پاکستان کی کسی زبان جو وہ خود گھرمیں نہ بولتا ہو، اس میں ایک مختصر کورس کرے۔ اس سے ہمہ جا نبہ فوائد مل سکتے ہیں جن میں زبان سیکھنے، دوسری ثقافتوں کو سمجھنے اور ان کے احترام کے علاوہ کسی بھی دوسری زبان کو ترقی دینے کے ساتھ دیگر ہمشہریوں کے لیے ربط ضبط بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...