علم الکلام کے جدید مباحث: ایک سیمینار کی رُوداد اور چند تأثرات

403

ایک بار ایک نوجوان دوست نے بہت دلچسپ سوال پوچھا۔ کیا حق کو تلاش کیا جاتا ہے یا اس کی حفاظت کی جاتی ہے؟ میں نے سیدھا سا جواب دینے کی بجائے بات گھمانے کی کوشش کی، ’تلاش اسے کیا جاتا ہے جو کھو گیا ہو یا ابھی ملا نہ ہو اور حفاظت اس کی کی جاتی ہے جو کمزور ہو یا جس کے کھو جانے، لٹ جانے یا ختم ہوجانے کا خطرہ ہو۔ تم حق کس کو کہتے ہو؟‘ کہنے لگا میری مراد مطلق سچائی سے ہے؟ چونکہ میرے پاس اس سوال کا کوئی سیدھا سادہ جواب موجود نہیں تھا اس لیے اسے میں نے پھر یہی کہہ کے ٹالنے کی کوشش کی کہ اگر سچائی ہمارے پاس ہے تو تلاش کیسی اور اگر مطلق ہے تو حفاظت کیسی؟ لیکن پھر یہ بظاہر لاجواب کردینے والا جملہ کہہ کر میں خود سوچ میں پڑ گیا۔

کل اسلام آباد میں علم الکلام پر جدید مباحث کے موضوع پر ایک علمی سیمینار  کے مکالمے سنتے ہوئے یہی سوال بار بار یاد آتا رہا۔ مسلم مذہبی علمی روایت سے عالمانہ واقفیت رکھنے والے بہت سے صاحبان علم و فضل موجود تھے، سب نے علمی جدلیات، کلامی بحثوں اور مسلم علما کو درپیش جدیدیت اور مغرب کے چیلنج کا ذکر کیا، اپنے اپنے طور پر مسئلے کی شناخت کی، علم الکلام کی تعریف کرنے اور اس کا دائرہ کار متعین کرنے کی کوشش کی، پرانے اور نئے سوال اٹھائے، اور عقائد اور روایت کو درپیش چلنجز کا جائزہ لیتے ہوئے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔ سید ثاقب اکبر نے دین اور فہم ہائے دین کا فرق واضح کیا، متفقات پر جمع ہونے کی دعوت دی اور سوال اٹھایا کہ کیا عقلی معاملات میں بھی تقلید ضروری ہے؟

امریکہ کی نورٹرے ڈیم یونیورسٹی سے آئے ہوئے مدرسہ ڈسکورسز کے ایک استاد ڈاکٹر مہان مرزا نے مختلف مذہبی روایتوں میں تخلیق کائنات کی کہانی کے مشترکات سے بات شروع کی، فہم کائنات کے حوالے سے مہا انسانی بیانیے کا ذکر کیا، سائنس کے عدم استقلال اور ارتقا پزیری کے تناظر میں پوچھا کہ مذہبی بیانیہ کے ہوتے ہوئے آخر سائنسی بیانیے کو اہمیت ہی کیوں دیں؟ دوسرا کیا مغرب سے ہم کچھ لے سکتے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا ہمیں ان کا پورا پیکج لینا ہوگا یا انتخاب کی آزادی ہوگی؟ مثالیت اور عملیت کے بیچ الجھے مسلمانوں کی دو عملی کا ذکر کرتے ہوئے ارتقائی فہم کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور محفل کو اس سوال پر لا چھوڑا کہ کیا خوئے تحقیق سے گریزاں امت خیر الامم کہلا سکتی ہے؟

خورشید احمد ندیم یہ دعوی کرتے ہوئے بحث کو نئی سمت میں لے گئے کہ علم الکلام داخل کا نہیں خارج کا مسئلہ ہے، دین کی بنیاد علم الغیب پر ہے اور علم الغیب کسی علم الکلام پر نہیں کھڑا نہ ہی مذہب کا داخلی نظام فکر کسی عقلی دلیل پر کھڑا ہے۔ یہاں تک ان کی گفتگو سن کر ہمیں لگا کہ چلیں کم از کم مذہبی انسان کے لیے علم الکلام کی اٹھائی گئی بحثوں کا جواز ہی ختم ہوگیا اور اب جس کو دین عزیز ہے وہ دین کو رکھے اور جس کو کلام عزیز ہے وہ کلام کو رکھے۔ لیکن سکون اس وقت غارت ہوا جب انہوں نے ملحدوں کے استاد رچرڈ ڈاکنز اور اس کے اٹھائے اعتراضات کا ذکر چھیڑ دیا۔ پھر سر سید کے حوالے سے کہا کہ مسلمان علما کے سامنے دو ہی راستے ہیں یا تو دنیا کے علمی مسلمات کو ہی چیلنج کردیں یا اپنے داخلی مسلمات کی مطابقت ان خارجی مسلمات سے ثابت کریں۔ پھر یہ بھی بتا دیا کہ دور جدید کا چیلنج سائنس کا چلنج ہے۔

’ہمارا اصل مسئلہ یہی رہا ہے کہ ہم ڈسکورسز (بحث و مکالمہ) کے بجائے کورسز کرتے رہے ہیں‘

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل اگر گفتگو نہ فرماتے تو ہم درپیش چلینجز کی حساسیت اور گھبیرتا کا پوری طرح ادراک کرنے میں یقینا ناکام رہ جاتے اور ہمیں احساس نہ ہوپاتا کہ ہم معدومیت کے کس کنارے پر کھڑے ہیں اور نہ ہی یہ اعتماد پیدا ہوتا کہ اس کے باوجود ہم ہی سب سے بہتر ہیں۔ آپ نے داخل یا خارج کی بحث کو بے مقصد ٹھہراتے ہوئے فرمایا کہ ہر نظام فکر کا اپنا علم الکلام ہے جو ان کے تصور کائنات کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

اگر میں درست سمجھا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ جدید علم کلام تحریک تنویر کی پیداوار ہے اور سماجی علوم (سوشل سائنسیز) اسی لیے گھڑے گئے ہیں کہ اس تحریک کو [جس کا لامحالہ انجام الحاد اور لامذہبیت ہے] مضبوط کریں۔ آپ کا کہنا تھا کہ کانٹ سے لے کر ہیگل تک جتنے بھی جدید نظریات پیش کیے گئے، ان کا تصور ذات یہ ہے کہ انسان خود خدا ہے، جو خودمختار ہے۔ اور یہی نیا ایمان ہے۔ انسانیت پسندی پر یقین کا مطلب یہ ہے کہ مذہب ثانوی شناخت بن جائے۔ یہ بھی فرمایا کہ چیزوں کو ان کی فطرت ڈیفائن نہیں کرتی بلکہ خود فطرت کو وحی ڈیفائن کرتی ہے۔ انہوں نے علم الکلام سے درپیش تین طرح کے چیلنجز کا ذکر کیا: شناخت کو تبدیل کردینے کا چیلنج، علم کا تصور بدل دینے کا چیلنج اور عقیدہ و اخلاق کو بدل ڈالنے کا چیلنج۔ مجھے کم از کم ان کی گفتگو سے یہی تاثر ملا کہ تمام سماجی علوم، فلسفہ، سائنس اور کلام سب کا ایک ہی مشترکہ مقصد ہے کہ کسی طرح مذہب کا خاتمہ کردیا جائے، جو وہ (یعنی مسلم علما) کسی صورت ہونے نہیں دیں گے۔

ڈاکٹر اکرم ورک صاحب تشریف لائے تو انہوں نے مغرب کے اٹھائے گئے سوالات کے جواب دینے کی حکمت عملی پر کچھ بات کی۔ آپ نے فرمایا کہ نظر مقصد یا ہدف پر ہونی چاہیے، دلیل تو تبدیل بھی ہوسکتی ہے۔ پہلے ہم کیوں نہ یہ سوچ لیں کہ اسلام ایک مثالی دین ہے یا عملی دین ہے۔ مثالی دین کی بات دنیا کو شائد آسانی سے سمجھ نہ آئے لیکن عملی دین جو ان کے مسائل کے عملی حل پیش کرتا ہے، زیادہ قابل قبول ہوگا۔ اس ضمن میں آپ نے ایک اہم سوال یہ کیا کہ فقہ اسلامی کی روشنی میں قران و سنت کا مطالعہ کیا جائے یا قران و سنت کی روشنی میں فقہ اسلامی کا مطالعہ کیا جائے۔ زیادہ خلط مبحث تب پیدا ہوتا ہے جب لوگ قران و سنت کا مطالعہ بھی فقہ اسلامی کی روشنی میں کرنے لگتے ہیں۔

طاہر اسلام عسکری صاحب جو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ایم اے کے طلبہ کے لیے علم الکلام پر ایک کورس بھی ترتیب دے رہے ہیں، نے اپنی گفتگو میں توجہ دلائی کہ مغرب میں تو اس پر بحث ہورہی ہے کہ مذہب ہے بھی کہ نہیں اور اگر ہے تو کون سا درست ہے۔ یہ ساری بحث یا الحاد کی ہے یا الحاد کے خوف کی ہے۔ معتزلہ، اشاعرہ، سلفیہ سب کے اپنے اپنے علم الکلام ہیں۔ اصل چیلنج مابعد جدیدیت کی بحثوں کو سمجھنا ہے جو کسی بھی مہا بیانیے کی انکاری ہیں اور علم کو ڈی سینٹرلائز کرتی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ ہمارے متن کی تشریح کا مسئلہ ہے ہمیں اس کی جزیات پر دھیان دینا ہوگا اور سائنس کے فلسفے کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ التوائے معانی میں بھی آخر کیا حرج ہے۔

ڈاکٹر ابراہیم موسی  مدرسہ ڈسکورسز کے سرپرست اور نورٹرے ڈیم یونیورسٹی میں الہیات کے پروفیسر، جو دارلعلوم دیوبند کے بھی فاضل ہیں اور ’مدرسہ کیا ہے‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھ چکے ہیں، نے مدرسہ ڈسکورسز کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ ہمارا مقصد نوجوان علما میں تاریخی اور فلسفیانہ شعور پیدا کر کے جدید سوالوں کے جواب دینے کے قابل بنانا ہے۔ انہوں نے امام ابوحنیفہ کی فقہ اکبر میں عقلی بنیادوں کی بات کی اور مسیحی الہیات (دینیات) میں کنفیشنل تھیالوجی کے مضمرات کا ذکر کیا اور یہ کہ کیوں ان رجحانات اور ان کے اثرات و نتائج کو سمجھنا ضروری ہے۔

سیمینار کے مہمان اعزاز مولانا زاہد الراشدی صاحب نے صاحب صدر ڈاکٹر خالد مسعود سے قبل جو گفتگو فرمائی وہ کئی حوالوں سے چشم کشا تھی۔ آپ کی گفتگو میں تین نکات اہم ترین تھے، پہلی بات کہ یہ کورس (مدرسہ ڈسکورسز) اسی ایجنڈے کا تسلسل ہے جس کا آغاز علامہ اقبال نے تشکیل جدید الہیات اسلامیہ لکھ کر کیا تھا۔ یہ ہمیشہ ایک نامکمل ایجنڈا رہا جس پر اب تک کام نہیں ہوسکا۔ یہ کورس اسی ایجنڈے کو لے کر چل رہا ہے جس کی ہم حمایت کرتے ہیں۔ دوسری بات،[ غلطی یہ ہوئی کہ] ہم یونانی فلسفے کے پیدا کردہ مسائل کا جواب انہی کے ہتھیار استعمال کرکے دینے کی کوشش کرتے رہے، جبکہ سوال صرف یونانی فلسفے نے نہیں بلکہ ہندو فلسفے نے اور باقی سب فلسفوں نے بھی کھڑے کیے تھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم وہاں کھڑے ہیں جبکہ آج سوال یہاں ہورہے ہیں۔ آج کے سوالوں کا سامنا کرنے کے لیے فلسفے کو سمجھنا ضروری ہے۔ آج کی سماجیات اور فلسفے کو بھی کھولنا چاہیے۔

تیسری بات یہ کہ گلوبلائزیشن کی بات کرنے میں کیا حرج ہے؟ اگر ہم کلچر کو اوپن کر کے نئے کلچر بنا رہے ہیں تو کیا مختلف فلسفوں کو بھی اوپن کر کے نئے فلسفے  نہیں بنا سکتے؟ کیا فلسفے میں گلوبل کلچر نہیں ہوسکتا؟ جب نئے امکانات موجود ہیں تو ہم ہر چیز ابھی کیوں طے کرنا چاہتے ہیں؟ بعض سولوں کے جواب وقت کے ساتھ ساتھ ملتے ہیں، ہر فیصلہ فوری طور پر نہیں کیا جاتا۔ جو چیز سمجھ میں آگئی ٹھیک ہے جو نہیں آئی اسے سمجھنے کی کوشش جاری رکھیں، لیکن ہر شے کو ابھی حتمی طور پر طے کرنے اور ہر فیصلے کو ابھی کرلینے کی کوشش نہ کریں۔ مولانا زاہد الراشدی صاحب کی رائے التوائے معانی کے حق میں نظر آئی اور مجھے لگا کہ شائد اسی میں سارے نہیں تو اکثر سوالوں کے جواب موجود ہیں۔

آخر میں ڈاکٹر خالد مسعود صاحب نے تین گھنٹے سے زیادہ کے اس مکالمے کو یہ کہہ کر انجام تک پہنچایا کہ شائد ہمارا اصل مسئلہ یہی رہا ہے کہ ہم ڈسکورسز (بحث و مکالمہ) کے بجائے کورسز کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس تمام مکالمے کے دوران علم الکلام کی کوئی تیرہ تعریفیں سامنے آئیں۔ اصل لڑائی کلام یا فلسفے کی نہیں بلکہ غلبے کی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ تاریخ میں دیکھیں تو کلامی فرقوں نے ہمیشہ لڑائی کی لیکن فقہی فرقے دراصل ایک دوسرے کو مانتے آئے کیونکہ یہ سب قران و سنت کی مختلف تعبیرات سے نکلے۔ ڈاکٹر خالد مسعود نے ایک نکتہ یہ بھی اٹھایا کہ مدرسہ کبھی بھی ماس ایجوکیشن کا ذریعہ نہیں رہا، اور نہ ہی ایسا ہونا چاہیے۔ ایک اور نکتہ یہ بھی کہ انسانی خودمختیاری اسلام کا ایک بنیادی اصول ہے اور ہر فرد اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔

مولانا ڈاکٹر عمار خان ناصر نے، جو مدرسہ ڈسکورسز کے ایک منتظم اور استاد ہیں، اس سیمینار کو بہت خوبی سے ماڈریٹ کیا، نہ صرف ضرورت کے وقت گفتگو کا مختصر خلاصہ پیش کرتے رہے، اہم نکات کا اعادہ کرتے رہے بلکہ اپنی مخصوص دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ شگفتہ جملوں سے محفل کو کسی بھی اکتاہٹ سے بچاتے رہے۔

یہ سارا مباحثہ یا مکالمہ بہت دلچسپ، پہلو داراور فکر انگیز تھا۔ ایک ایک نکتے پر جن میں سے کچھ کا خلاصہ یہاں پیش کیا گیا، داد دی جاسکتی ہے، مزید بحث کی جاسکتی ہے، مزید نکتہ آفرینیاں بھی ہوسکتی ہیں۔ تین گھنٹے گزرنے کا پتہ نہ چلا لیکن سوال یہ ہے کہ حاضرین مجلس، خاص طور پر میرے جیسے طالب علم اس مجلس سے آخر میں کیا لے کر اٹھے؟

ایک تاثر، جس میں غلطی کا امکان ہے، تو یہ ہے کہ یہ علم، یہ فلسفہ، یہ تاریخ، یہ کلام ان ساری بحثوں کا ایک شائد نہ جانا گیا مقصد یہ نظر آیا کہ ہم میں سے ہر ایک کچھ نہ کچھ ثابت کرنا چاہتا ہے، کچھ نہ کچھ منوانا چاہتا ہے۔ یہ ساری بحث اس پر ہے کہ ہم اپنے مذہب، عقیدہ اور شناخت کی حقانیت اور برتری کو سائنس اور جدیدیت کی اٹھائی گئی گرد میں کیسے ثابت کریں۔

دوسرا تاثر جو پہلے تاثر کی ہی ایکسٹینشن ہے، اور اس میں بھی غلطی کا امکان ہے، یہ ہے کہ کیا علم الکلام میں ہماری ساری دلچسپی اس بنا پر ہے کہ جدید علمی اور سائنسی خلط مبحث میں اس مطلق سچ کی حفاظت کرسکیں، جس کی کلی ملکیت کا دعوی ہم رکھتے ہیں؟

تیسرا تاثر، اور یہ بھی غلطی کے پورے امکان کے ساتھ ہے، کہ زبان، الفاظ اور لب و لہجےکے ہمارے ذہنی رجحان اور افتاد طبع کے ساتھ تعلق کے حوالے سے  دیکھیں تو ان موضوعات پر ہماری گفتگو، چیلنچ، مقابلے، بقا، جواب، دوڑ، جیت، ہار، فتح، شکست، لڑائی، مسابقت، وغیرہ جیسے الفاظ کے استعمال کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ ہم ایک پیہم مقابلے میں ہیں، ہم کبھی میدان جنگ سے باہر نکلے ہی نہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم کسی چیز کو سمجھنے سے زیادہ اس کا جواب دینے میں، اس کے مقابلے میں اپنی چیز پیش کرنے، چیلنج کرنے یا چیلنج کا جواب دینے میں، اجتماعی معانی کی دریافت کے بجائے صرف اپنے معانی کو درست ثابت کرنے میں، کسی نئے معانی کی دریافت کے ہر امکان کو رد کردینے میں، جاننے سے زیادہ ثابت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اسی مقابلے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہیں۔

چوتھا تاثر، پھر غلطی کے امکان کے ساتھ، ایسے لگتا ہے، اور یہ بھی غلبے کی نفسیات ہی متعلق ہے جس کی طرف ڈاکٹر خالد مسعود نے بھی اشارہ کیا،  کہ ہم اپنی شناخت کے کھوجانے یا بگڑ جانے کے شدید خوف کا شکار ہیں۔ چونکہ بنیادی طور پر مذہب نے ہی ہماری شناخت تشکیل دی ہے (ہم اپنی شناخت کے کسی اور عنصر مثلا زبان، نسل، علاقہ، کلچر وغیرہ کو ماننے کے لیے تیار نہیں) اس لیے اس کے بارے میں ہم اتنے ہی حساس ہیں جتنا کوئی اپنی عزت، آبرو اور جان و مال کے بارے میں ہوسکتا ہے۔ اس گہرے خوف نے جسے ہم میں جدید علم، فلسفے اور سائنس نے پیدا کیا ہے، ہمیں قلعہ بندی پر مجبور کردیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جنگ میں نارمل زندگی کے اصول نہیں چلتے، بقا اور فنا کا سوال ہو تو اصول بدل جاتے ہیں، پھر یا تو تخت ہے یا تختہ ہے، جس سوال کو ہم اپنی بقا اور فنا سے وابستہ سمجھ لیں، اس کا انجام اس کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے۔ خوف ہمیں اپنے خول میں بند کردیتا ہے، جہاں دشمن کے ہاتھ لگنے سے شائد ہم بچ بھی جائیں، لیکن ممکن ہے اپنے ہی اندر کی گھٹن سے جینا محال ہوجائے۔ اللہ نہ کرے کہ کبھی ایسا ہو۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...