عالمگیریت کی طرف پیش رفت اور مذاہب کا مستقبل

301

اس سرزمین پر سب انسانوں کے ایک ہونے کا نظریہ نیا نہیں۔ دنیا میں بہت سے مصلح، مفکر، نبی، فلسفی اور سیاست دان ایسے آئے جنہوں نے انسان کو بحیثیت انسان دیکھا۔ جغرافیہ، زبان، رنگ اور نسب کی تقسیم کو انھوں نے عوارض میں سے شمار کیا اور انسان کے جوہر کو ایک مانا۔ علم منطق نے انسان کو جب بحیثیت انسان دیکھا تو اسے حیوانِ ناطق قرار دیا اور اسے بحیثیت نوع جنس حیوان سے عقل کے مابہ الامتیاز کی بنیاد پر جدا جانا۔ فلسفی تو دیکھتے ہی کلیات کو ہیں جوخارج میں ظہور نہیں رکھتیں لیکن انھیں ان کے تصورات کے مجرد ہونے کے باوجود انہی سے سروکار ہے۔ رہی بات نبی کی تو اُس کا تعلق کائنات کے پروردگار سے ہوتا ہے، وہ پروردگار جو سب انسانوں کا ایک ہی طرح سے رب ہے چونکہ وہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کی اولاد، اس لیے وہ سب کے لیے ایک جیسا ہے اور سب اُس کے لیے ایک جیسے ہیں۔ نبی چونکہ اُس خدا کا نمائندہ ہوتا ہے اس لیے وہ اس کی نظر سے بندوں کو دیکھتا ہے۔ اس کے نزدیک فضل و فضیلت انسان ہونے کے لحاظ سے نہیں، اچھا انسان ہونے کے لحاظ ہے۔ بعض سیاستدان اور حکمران ساری زمین پر اپنی حکومت کے قیام کا خواب دیکھتے رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے بعض نے کوششیں بھی کی ہیں اور ان میں سے بعض جزوی طور پر کامیاب بھی ہوئے ہیں۔

عالمگیریت کا تصور رفتہ رفتہ پروان چڑھ رہا ہے، دور حاضر میں یہ عمل نسبتاً تیز رفتار معلوم ہوتا ہے

بہت سے نظریات، افکار، نظام، مذاہب، ادیان اور تہذیبیں بھی سرحدوں اور نسلوں سے ماورا قلب و نظر کو تسخیر کرتی رہی ہیں اور معاشرے کو اپنے زیر اثر لاتی رہی ہیں۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے۔ بظاہر دنیا مختلف حوالوں سے تقسیم ہے لیکن اس کے باوجود عالمیت اورعالمگیریت کا تصور رفتہ رفتہ پروان چڑھ رہا ہے۔ دور حاضر میں یہ عمل نسبتاً تیز رفتار معلوم ہوتا ہے۔عالمگیریت کے عمل کی ماضی میں چند مثالیں ذکر کرکے ہم آگے بڑھتے ہیں:

سکندر اعظم

سکندر اعظم 365 قبل مسیح میں پیدا ہوا، بیس سال کی عمر میں حکمران بنا اور 10 جون 323 قبل مسیح تک مقدونیہ کا حکمران رہا۔ ارسطو جیسا نامور فلسفی اُس کا استاد تھا۔ کم عمری میں تخت پر بیٹھا۔ پہلے اس نے یونان کی شہری ریاستوں کو فتح کیا، پھر مصر اور فارس کو زیرنگیں کیا اور کئی ایک دیگر ملکوں کو فتح کرتا ہوا ہندوستان تک آ پہنچا۔ اس طرح یورپ کے ایک قابل ذکر علاقے کے ساتھ ساتھ ایشیا کا بھی ایک بڑا رقبہ اس کے زیر نگیں آگیا۔ پہلے مرحلے میں اُس کی فوج نے مسلسل جنگوں سے اُکتاہٹ کی وجہ سے آگے بڑھنے سے انکار کردیا اور واپسی پر وہ راستے ہی میں بیمار ہوکر 33 سال کی عمر میں چل بسا۔ تیرہ سالہ دور حکمرانی میں دو براعظموں کے اتنے بڑے رقبے پر حکمرانی قائم کر لینا تاریخ انسانی کا ایک بڑا واقعہ ہے۔

رومی سلطنت

ماضی کی عظیم سلطنتوں میں سے ایک رومی سلطنت بھی ہے۔ دو حصوں میں تقسیم ہونے سے قبل روم اس کا دارالحکومت تھا۔ انگلستان، اسپین، فرانس، اٹلی، یونان، ترکی اور مصر اس سلطنت کا حصہ تھے۔ یہ حکومت کئی سو سال تک قائم رہی۔ اسی سلطنت کے ایک بادشاہ کنسٹنٹائن نے چوتھی صدی عیسوی کے آغاز میں مسیحی مذہب اختیار کر لیا جس کی وجہ سے مسیحیت ایشیا سے نکل کر یورپ میں جا پہنچی اور جب امریکہ دریافت ہوا تو برطانوی باشندوں کے ذریعے وہاں بھی اس نے اپنا اثرورسوخ قائم کر لیا اور آج مسیحیت دنیا کے تمام براعظموں میں موجود ہے۔

اسلامی سلطنت

ساتویں صدی عیسوی کے آغاز میں اسلام آیا۔ مسلمانوں کی حکومت وسیع ہوتے ہوتے ایشیا کے بہت بڑے خطے پر پھیل گئی۔ افریقہ کے وسیع خطوں کو بھی مسلمانوں نے تسخیر کرلیا۔ سپین پرکئی سو سال مسلمانوں کی حکومت رہی۔ ایک ہزار سال تک مسلمانوں کا اقتدار تین براعظموں کے بہت بڑے خطے پر قائم رہا۔مسلمانوں کا سیاسی اقتدار گذشتہ تمام بین الابراعظمی حکومتوں سے وسیع تر ثابت ہوا۔ آج وہ سیاسی اقتدار تو مسلمانوں کو حاصل نہیں تاہم اب بھی دنیا کا ہر چوتھا شخص مسلمان ہے اور دنیا کے تمام براعظموں میں اسلام کے پیروکار موجود ہیں۔

تمام رنگوں اورنسلوں میں خاص مذاہب و عقائد اور افکارونظریات کا پھیلاؤ اورمقبولیت ان کے اندر موجود عالمگیر نظریاتی عناصر کی نشاندہی کرتے ہیں۔

جدید دنیا اورماضی قریب سے بھی چند مثالیں بہت اہم ہیں۔

استعماری دور کا آغاز

پہلے زمانے میں جنگیں عالمی نہیں ہوتی تھیں لیکن اقتصادی وسائل اور جنگی مشینری کی ترقی نے نام کے بغیر بعض قوموں کے اندر عالمی سلطنت کا ارمان پیدا کردیا۔ اس کے نتیجے میں استعماری اور کالونیل قوتیں معرض وجود میں آئیں۔ سب سے کامیاب برطانیہ رہا جس نے اپنا اقتدار اتنا پھیلا لیا کہ اُس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ فرانس نے بھی دنیا کے بہت سے ملکوں پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔ بعض دیگر قوموں نے بھی معرکہ آرائی میں حصہ لیا۔ جرمنی اور جاپان نے بھی انگڑائیاں لینا شروع کیں۔ عالمی تسلط کی اس دور کے نتیجے میں بیسویں صدی میں دو عالمی جنگیں ہوئیں۔ ایک اس صدی کے آغاز میں اور دوسری نصف اول کے آخری حصے میں۔

عالمی اداروں کا قیام

انہی عالمی جنگوں کے نتیجے میں عالمی اداروں کا تصور اُبھرا۔ پہلی جنگ عظیم ختم ہوئی تو اس کے فوراً بعد انگلستان، فرانس، جرمنی، ڈنمارک اور ناروے میں ایسی انجمنیں معرض وجود میں آئیں جو دنیا میں ہمیشہ کے لیے جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کی پرچم بردار تھیں۔ ان کی آواز آہستہ آہستہ ایک ایسی عالمی تنظیم کی خواہش میں تبدیل ہو گئی جو دنیا میں بقائے امن کے لیے مربوط کوششیں کر سکے۔

لیگ آف نیشنز کا قیام

مذکورہ کوششوں کے نتیجے میں یکم جنوری 1920 کو جمعیت اقوام (League of Nations) قائم ہوئی۔ مختلف ملکوں نے اس کی رکنیت اختیار کر لی جن کی تعداد 60تک جا پہنچی۔ یہ انجمن کچھ عرصہ قائم رہی۔ اس نے چند ایک قضیوں کے حل میں بھی اپنا کردار ادا کیا تاہم بڑی طاقتوں کی مفاد پرستی اور عالمی وسائل پر قبضے میں مقابلے کی روش نے اس پلیٹ فارم کو قضائے مبرم سے دوچار کردیا۔ 18اپریل 1946 کو اس کا آخری اجلاس ہوا۔

علامہ اقبال نے لیگ آف نیشنز کے قیام پر بہت بلیغ تبصرہ کیا تھا،وہ کہتے ہیں:

برفتد تا روشِ رزم درین بزم کہن

دردمندانِ جہان طرحِ نو انداختہ اند

من ازیں بیش ندانم کہ کفن دزدی چند

بہر تقسیم قبور انجمنی ساختہ اند

اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس انجمن کہن اور پرانی دنیا میں دنیا کے درد مندوں نے جنگ کی ایک نئی طرح کا آغاز کیا ہے اور میں اس سے زیادہ نہیں جانتا کہ چند کفن چوروں نے قبور کی آپس میں تقسیم کے لیے ایک انجمن بنائی ہے۔

اس جمعیت اقوام میں تقسیم قبور ہی کے مسئلے پر جھگڑے پیداہونا شروع ہوئے۔جرمنی اور اٹلی نے اسے خیر باد کہہ دیا اور بعدازاں روس کو خود انجمن کے خود سروں نے اس میں سے نکال دیا۔ علامہ اقبال نے اس انجمن کی وفات حسرت آیات کی بھی پیش گوئی کی تھی:

بے چاری کئی روز سے دم توڑ رہی ہے

ڈر ہے خبر بد نہ مرے منہ سے نکل جائے

تقدیر تو مبرم نظر آتی ہے ولیکن

پیران کلیسا کی دعا یہ ہے کہ ٹل جائے

ممکن ہے کہ یہ داشتہئ پیرکِ افرنگ

ابلیس کے تعویذ سے کچھ روز سنبھل جائے

(جاری ہے)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...