محمد بن سلمان سعودی عرب کو کیسے بدل رہے رہیں؟

304

فروری 1945 میں یالٹا کانفرنس سے واپسی پر صدر روزویلٹ کےجنگی بحری بیڑے USS Quincy کا رُخ مصر کی جانب موڑ دیا گیا تاکہ امریکی صدر سعودی عرب کے بادشاہ سے ملاقات کرسکیں۔ عبدالعزیز آل سعود جب بیڑے کی طرف روانہ ہوئے تو ان کے ساتھ ایک نجومی  تھا۔ اور ایک زندہ مینڈھا جسے ذبح کرکے وہ صدر کی تازہ بھونے ہوئے گوشت کے ساتھ تواضع کرنا چاہتے تھے۔ روز ویلٹ نے وہاں  عرب میزبان کو پہلی بار آئس کریم اور ہالی وڈ کی فلموں سے متعارف  کرایا۔

یہ ملاقات باہمی مفادات اور سودے کی تھی۔ تیل کے بدلے آل سعود کےتخت کا تحفظ۔ عرب مخالفین کے علاوہ تب برطانیہ کی طرف سے بھی خدشہ تھا کہ وہ اس خاندان کو حکمرانی سے علیحدہ کردے گا۔ دہائیوں پر محیط اس تعلق نے مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیا پر کئی طرح سے اثرات مرتب کیے۔ اس دوران سعودی عرب کی خارجہ وداخلہ پالیسی تقریباََ ایک جیسی رہی، لیکن محمد بن سلمان کے حکمران بننے کے بعد سے سعودی عرب بدلتا نظر آرہا ہے۔ کچھ لوگ ولی عہد کو اصلاح پسند کہتے ہیں اور بعض انہیں سعودی روایات وسیاست کا باغی خیال کرتے ہیں۔

امریکی سعودی تعلقات

سعودی عرب میں پہلا امریکی سفارت خانہ 1944 میں ظہران میں قائم ہوا تھا۔ وائٹ ہاؤس شروع سے ہی مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور اسرائیل کے حوالے سے مسائل کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ سعودی حکمران  کانگریس اور امریکی  وزارت خارجہ   کے ذریعہ سے معاملات طے نہیں کرتے، وہ براہ راست امریکی صدور سے ربط رکھتے ہیں۔ سعودی عرب کے اندر امریکہ کی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی کے ارکان متعدد امور کی نگرانی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا خیال بھی رکھنا ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے متعلق کوئی ایسی خبر سامنے نہ آئے جو آل سعود کو ناگوار گزرے۔ دونوں ممالک کے مابین خفیہ معلومات کے تبادلے کا مربوط نظام قائم ہے۔ دہشت گردی کی بات ہو تو کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب آگ لگانے اور بجھانے، دونوں طرح کی ضرورتیں پوری کرسکتا ہے۔ سعودی شہریوں کو اپنی سرزمین پر امریکیوں کی موجودگی کبھی نہیں بھائی، لیکن حکام اس کی پروا نہیں کرتے کیونکہ یہ ان کے تحفظ اور بقا کا مسئلہ ہے۔

شاہ عبدالعزیز امریکی صدر روزویلٹ کے ساتھ

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ہمیشہ خوشگوار نہیں رہے۔ بعض اوقات سخت تلخی کے مراحل بھی درپیش آتے  رہے ہیں۔ اس ضمن میں چار مواقع اہم ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد دونوں ملک سوویت یونین کے خلاف متحد رہے اور مغربی اقتصادی نظم کی مضبوطی پر اتفاق رہا، لیکن سعود بن عبدالعزیز نے اپنے دور میں سوویت یونین کی جانب میلان دکھایا تو امریکہ ناراض ہوگیا، اسی دوران بادشاہ نے سعودی شہر ظہران میں قائم امریکی فوجی اڈے کو ختم کرنے کا حکم بھی جاری کردیا۔ تعلقات اتنے بگڑ گڑے کہ 1964 میں شاہی خاندان نے دباؤ میں سعودبن عبدالعزیز کو معزول کر دیا۔

تلخی کا دوسرا دور 1973 میں اس وقت آیا جب شاہ فیصل کے عہد میں امریکہ نے اس وقت اسلحے کی بڑی کھیپ اسرائیل کو بھجوائی  جب عرب اتحاد نے اسرائیل کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ عربوں کا خیال تھا کہ اگر اسرائیل کو امریکی مدد نہ ہوتی تو فلسطین کا مسئلہ حل ہوچکا ہوتا۔ امریکی اقدام پر سعودی فرمانروا نے اوپیک کے اکثر ارکان کو آمادہ کرلیا کہ وہ تیل کی پیداوار کم کردیں، جس سے تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ امریکہ کو مسلسل دوسالوں تک سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

ایسے ہی رونلڈ ریگن کی صدارت کے دوران امریکا نے لبنان میں اپنے قیدیوں کی رہائی کے لیے ایران کو خفیہ اسلحہ فراہم کیا تو سعودی حکام نے احتجاج شروع کردیا اور روابط میں سردمہری آگئی۔ یہ اگرچہ بدگمانی کا ایک مرحلہ تھا لیکن اس  دوران بھی امریکی انتظامیہ نے  نکارا گوا کے باغیوں کی مدد کے لیے سعودی بینکوں سے 32 ملین ڈالر نکلوا لیے تھے۔

امریکا سعودی تعلقات میں سردمہری کا چوتھا دور نائن الیون کا تھا۔ یہ سب سے زیادہ پیچیدہ مرحلہ تھا۔ امریکی شہریوں کو جب علم ہوا کہ جہاز ہائی جیک کرنے والے 19 افراد میں سے 15 کا تعلق سعودی عرب سے ہے تو وہ سکتے میں آگئے۔ بن لادن بھی اسی ملک کے شہری تھے۔ سعودی حکام اسرائیل کی جانب انگلیاں اٹھاتے رہے لیکن کسی نے یقین نہیں کیا۔ بالآخر جب 2003 میں ریاض میں دھماکے ہوئے تو سعودی حکام  دنیا کو کسی حد تک یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوگئے کہ وہ خود مذہبی شدت پسندی کا شکار ہیں۔ محمد بن نائف جو امریکہ کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے، ان کے اور سی آئی اے کی کوششوں سے دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر آنا شروع ہوئے۔ لیکن اس سانحے کی خلش پوری طرح ختم نہیں ہوئی۔ ستمبر 2016 میں کانگریس نے JASTA کے نام سے بِل پاس کیا تھا کہ نائن الیون سے متأثرہ افراد و خاندان سعودی حکومت سے  نقصان کی تلافی کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔

ان چار اہم مواقع کے علاوہ اوباما حکومت کے دوران بھی امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان چند امور پر تھوڑے بہت اختلافات سامنے آئے۔ ایک تو جب عرب بہار کی شروعات میں امریکا نے مصری صدر حسنی مبارک کی بجائے اخوان کی حمایت کی تو سعودیوں کو اچھا نہیں لگا۔ سعودی عرب نے امریکا سے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ وہ شام میں اپنی فوجیں اتار کے بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ کرے، لیکن  امریکا اسے قبول نہیں کیا۔ اسی طرح امریکا نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی توثیق کی تو وزیرخارجہ عادل الجبیر نے اوباما پر تنقید کی اور اسے ایک کمزور لیڈر کہا۔

حالیہ امریکی حکومت محمد بن سلمان سے تعلق کو فخریہ انداز میں پیش کرتی ہے۔ ڈیموکریٹس یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ ذاتی مفادات ہیں۔ سعودی جب بھی امریکہ آتے ہیں وہ ٹرمپ کے ہوٹل میں ٹھہرتے ہیں اور کئی کئی پورشن کی بکنگ کراتے ہیں۔ ٹرمپ نے صدارت کا حلف اٹھاتے ہی امریکی روایت کے برخلاف اپنے جمہوری حلیف ملکوں کی بجائے پہلا غیرملکی دورہ سعودی عرب کا کیا۔

خاشقجی قتل پر مسلم دنیا میں بھی مظاہرے ہوئے

صحافی جمال خاشقجی کا قتل کسی زلزلے سے کم نہیں تھا۔ اس سے سعودی عرب کی ساکھ مزید متأثر ہوئی۔ لیکن مائک پومپیو نے نومبر2018 میں کانگریس ارکان کے سامنے کھڑے ہو کر تقریباََ ایسا کہا کہ آپ انسانی حقوق پر واویلا مچا رہے ہیں، حالانکہ ایرانی وحشی دہشت گرد سر پہ آیا کھڑا ہے۔ اور وزیردفاع نے واضح کیا کہ اس واقعہ میں محمد بن سلمان کی ذات کے ملوث ہونے کے قطعی شواہد موجود نہیں ہیں۔ لیکن واشنگٹن میں ولی عہد کے خلاف سخت غصہ پایا جاتا ہے۔ کیونکہ ایسے حالات میں کہ جب فلپائن سے پاکستان، بحرین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ تک صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مصنفین کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس طرح ریاستی پشت پناہی کے ساتھ ایک صحافی کو یوں بہیمانہ طریقے سے قتل کردینے سے اس نوع کے رجحان کو حوصلہ افزائی ملی ہے۔

رُوس اور چین کی حمایت سعودیہ کو زور آور بناتی ہے۔ امریکا کے علاوہ مغربی ممالک محمد بن سلمان کے حوالے سے تقسیم کا شکار ہیں۔ فرانس اور برطانیہ اس کی زیادہ مخالفت کرکے اس کو اسلحے کی سودمند فروخت نہیں روکنا چاہیں گے۔ البتہ جرمنی نے خاشقجی قتل کے بعد سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت بند کردی ہے۔

امریکی شہری سعودی عرب سے نالاں ہیں اور اس کے بارے میں اچھے تأثرات نہیں رکھتے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، مثلاََ:

وہ سمجھتے ہیں کہ سعودیہ تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے، جیساکہ 1973 میں کیا تھا۔

سرعام لوگوں کو موت کی سزائیں دینے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی ایک سبب ہے۔

وہ نائن الیون میں سعودی عرب کو ملوث مانتے ہیں۔

انتہاپسند اسلامی تعبیر کا مرکز سعودی عرب کو خیال کیا جاتا ہے۔

خارجہ امور

محمد بن سلمان کی خارجہ سیاست اپنے پیش روؤں سے الگ ہے، یہ قدرے جارحانہ اور عجلت پسند ہے۔ جو بظاہر اس کے حق میں مفید ثابت نہیں ہوئی۔ اس پر ہم چند مثالیں ذکر کریں گے۔

2017 میں سعودی عرب نے دہشت گردی اور ایران کی معاونت کے نام پر قطر کا محاصرہ کرلیا۔ اس اقدام نے خطے میں اختلاف پیدا کیا اور   مجلس تعاون برائے خلیجی ممالک کو تقسیم کردیا۔

دسمبر 2017 میں سعودی عرب نے لبنانی وزیراعظم سعد الحریری کو اپنے ہاں مدعوکیا۔ وہ اس خیال کے ساتھ صبح کو بیدار ہوئے کہ ابھی انہوں نے محمد بن سلمان کے ساتھ صحرا کی طرف گھومنے پھرنے جانا ہے۔ لیکن انہیں علم ہوا کہ ان کے ذاتی محافظوں کو ہٹا دیا گیا ہے اور اب ٹیلی وژن پر انہیں اپنا استعفیٰ پڑھ کر سنانا ہے، کیونکہ وہ حزب اللہ کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نہیں نمٹ رہے تھے۔ بڑی طاقتوں کی دخل اندازی کے بعد انہیں چھوڑا گیا، وہ واپس آئے اور استعفے سے رجوع کرلیا۔

لبنانی وزیراعظم سعد الحریری ٹی وی پر استعفیٰ پڑھ کر سناتے ہوئے

2018 میں انسانی حقوق کے کارکن رائف بدوی اور ان کی بہن کو جیل ہونے پر کینیڈا نے تنقید کی تو سعودی حکام نے کینیڈین سفیر کو ملک بدر کردیا اور تجارتی وسفری روابط بھی منقطع کردیے۔

رواں سال اپریل میں فوج نے عمرالبشیر کو ہٹا کر اپنی دوسالہ عارضی حکومت کا اعلان کیا تو سعودی عرب نے اس کی تائید کی اور بھاری مالی امداد بھی روانہ کردی۔ واضح رہے سوڈانی فوج کے سینکڑوں سپاہی یمن میں سعودی اتحاد کے تحت جنگ کا حصہ ہیں۔

2015 سے سعودی عرب کے اسرائل کے ساتج تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔ سابق سعودی جنرل انور ماجد اور دائیں بازو کے اسرائیلی سیاستدان ڈورے گولڈ نے دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے موضوع پر ایک ساتھ پروگرام کیا۔ نتنیاہو ایک پریس کا نفرنس میں خاشقجی قتل پر محمد بن سلمان کا دفاع بھی کر چکے ہیں۔ امریکی سربراہی میں پیش کیے جانے والے اسرائیل فلسطین امن معاہدے کی محمد بن سلمان نے حمایت کی ہے اور فلسطینیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسے قبول کرو یا منہ بند رکھو۔ شاہ عبدالعزیز نے صدر روزویلٹ سے ملاقات میں امریکہ سے اس بات کی ضمانت مانگی تھی کہ وہ فلسطینی سرزمین پر یہودی ریاست کے قیام کی حمایت نہیں کرے گا۔ بعض سعودی حکام سمجھتے ہیں کہ اب پرانی پالیسی میں تبدیلی کا وقت ہوا چاہتا ہے۔

داخلی تبدیلیاں

داخلی سطح پر بھی محمد بن سلمان کی سربراہی میں بڑی نمایاں تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں۔

شاہی خاندان کا ملک کے شہریوں کے ساتھ ایک غیرمکتوب معاہدہ تھا کہ وہ ٹیکس دینے کے پابند نہیں ہوں گے، اور بدلے میں جمہوریت کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔

آل سعود میں اس پر اتفاق تھا کہ اندر شاہی خاندان  میں سے کوئی بغاوت نہیں کرے گا اور جو فیصلے خاندان کی شوریٰ کے بڑے افراد کریں گے ان کو تسلیم کیا جائے گا۔

لیکن  ان دونوں معاملات میں بھی صورتحال بدل گئی ہے۔ وژن 2030 کی بنیاد کے ساتھ  شہریوں کو اقتصادی حوالے سے دی گئیں مراعات کم کردی گئی ہیں اور ٹیکس بھی لاگو کر دیے گئے ہیں۔ ڈیڑھ ملین غیرملکی  کام کرنے والے افراد کے چلے جانے کے بعد شہریوں کے لیے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ حکومت ان سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ اب کام کریں۔

اس کے ساتھ جس طرح اقتدار میں محمد بن سلمان کے لیے راہ ہموار ہوئی اس نے سوسالہ مستحکم روایت میں دراڑ ڈال دی۔ پھر ولی عہد نے شاہی خاندان کے دسیوں امرا کو جبراََ ریاض کے ہوٹل میں کئی دن یرغمال بنا کے رکھا۔ اس سے خاندان میں مزید پھوٹ اور منافرت پیدا ہوئی۔ یہ اعتقاد بھی پختہ ہوا کہ محمد بن سلمان اپنے اقتدار کے استحکام کی خاطر کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ مذہبی طبقہ جو دہائیوں سے ملک میں بہت اثر و رسوخ رکھتا تھا اسے دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہے۔ ملک کی بڑی دینی شخصیات نظربند ہیں۔ یہ طبقہ سماجی سطح پر دی جانے والی چند آزادیوں کا سخت مخالف ہے۔

ریاض کا ایک سینما

سعودی حکومت سماجی سطح پر کچھ نرمیاں متعارف کرا رہی ہے۔ لیکن وہ اسے اس طور پیش کرنا چاہتی ہے کہ یہ سب حکومت کی مہربانی اور دلچسپی کے سبب ہے۔ اسے عوامی کوششوں یا انسانی حقوق کے مطالبات سے نہیں جوڑا جاتا۔ حالانکہ محض ڈرائیونگ کے حق کا مطالبہ کرنے والی خواتین کو جیل میں ڈالا جاتا رہا ہے اور ان پر جرمانے عائد ہوتے رہے۔

یہ سعودی عرب کے منظرنامے کی تاریخی اور موجودہ حالات کی مختصر جھلک ہے۔ محمد بن سلمان اصلاح پسند ہیں یا سعودی سیاست وروایات کے باغی، ان کی پالیسیوں سے ملک کو فائدہ ہوگا یا نقصان، یہ آنے والے وقت میں پتہ چلے گا۔ اگر 2020 کے امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس صدارت حاصل کر لیتے ہیں تو ریاض کے لیے حالات اتنے موافق نہیں رہیں گے۔

مترجم:شفیق منصور، بشکریہ: عریبک پوسٹ

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...