پارا چنار کا گلزارحسین، عزم و ہمت کی جیتی جاگتی مثال

102

ہم اپنے چہار جانب نظریں دوڑائیں تو دیکھیں گے کہ ہر سو انسانوں کی ہزار ہا داستانیں موجود ہیں۔ صبح سے شام کرنا اور جینے کی مسلسل کوشش کیے جانا آج کے اس پرفتن دور میں کوئی آسان کام ہرگز نہیں ہے، لیکن ایک آس اور امید کا چراغ جو کہ ہردم روشن رہتا ہے ہمیں مسلسل ہمت دلائے رکھتا ہے کہ اچھے دن آئیں گے اور مشکلیں حل ہوجائیں گی۔ بس اپنے دست و بازو پہ بھروسہ رکھو اور جہد مسلسل جاری رکھو۔ لیکن اگر دست وبازو ہی نہ ہوں تو؟ کھڑے رہنے کو اور چلتے رہنے کو ٹانگیں ہی نہ ہوں تو؟

یہ تصور ہی ہولناک ہے۔ ہاتھوں پیروں اور دیگر تمام اعضائے جسمانی کی  نعمتوں سے مالامال انسانوں کے لئے یہ تصور محال ہے کہ ان کے بدن کا کوئی عضو یا اعضا ان کے زندہ وجود سے جدا کردیےجائیں۔ خدا کسی کو جسمانی معذوری سے دوچار نہ کرے۔ لیکن اگر ایسا کوئی سانحہ رونما ہوجائے اور بدن کا کوئی حصہ جدا ہوجائے تو ایک لمحے کےلیے سوچئے کہ معذوری سے متاثرہ شخص کے لئے پہاڑ سی زندگی کیسے مسلسل عذاب کی صورت بدل جائے گی۔

لیکن اربوں انسانوں کی اس دنیا میں چند گنے چنے افراد ایسے بھی ہیں جو اس حال میں جینا سیکھ لیتے ہیں جس حال میں جینا مشکل ہو۔  اس مصرعے کا مصداق پارا چنار کا گلزار حسین ہے جس کی دونوں مکمل  ٹانگیں اور ایک بازو دہشتگردی کے ایک واقعے میں دھماکے کی زد میں آکر اس کے بدن سے جدا ہوگئے۔ مگر اس بلند ہمت شخص نے اپنے عزم اور محنت سے اپنی زندگی کو نہ صرف اپنے لئے قائم رکھا بلکہ اپنے ہونے کو دوسروں  کے لئے مشعل راہ بنا دیا۔ انہوں نے معذوری کے اس عالم میں بھی اپنی تعلیم مکمل کی ہے وہ اب   اپنے علاقے کے مقامی اسکول میں معلم کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے معذوری کے اس عالم میں بھی اپنی تعلیم مکمل کی ہے۔ وہ اب اپنے علاقے کے مقامی اسکول میں معلم کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں

سابقہ قبائلی علاقے کرم بالا کے گاؤں  لقمان خیل کے رہائشی گلز ار حسین  کو جب آئی ای ڈی بلاسٹ نے نشانہ بنایا تو وہ بہت کم عمر تھے، لیکن انہوں نے اس دھماکے کے نتیجے میں لاحق جسمانی معذوری کو اپنے لئے رکاوٹ نہیں بننے دیا اور دیگر بچوں کی مانند اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ وہ بچپنے کے دنوں میں گدھے پہ بیٹھ کر سکول آجایا کرتے تھے اور اسی طرح مشکلوں کو اپنے حوصلے سے حل کرتے ہوئے انہوں نے ایم اے اسلامیات مکمل کرلیا۔ ابتدائی درجے کے طلبہ کو پڑھانے کے لئے لازمی ڈگری پی ٹی سی مکمل کی اور اپنے مقامی علاقے کے ایک پرائمری سکول میں چھے ہزار روپے کے معمولی مشاہرے کے عوض معاشی طور پر پسماندہ طبقے سے  تعلق رکھنے والے بچوں کو پڑھانے کا کام شروع کردیا۔ بدقسمتی دیکھیے کہ بہتر سماجی ترقی اور ملک کے پسماندہ علاقوں کو مرکزی دھارے میں لانے کے اقدامات کو عملی جامہ پہننانے کے لئے جب قبائلی علاقہ جات کو گذشتہ سال صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کردیا گیا تو علاقے کے پولیٹیکل ایجنٹ آفس سے گلزار حسین کے لئے جاری ہونے والی تنخواہ کا سلسلہ منقطع کردیا گیا۔

دوسروں کے لئے مشعل راہ اور مثال بننے والے گلزارحسین جنہیں ان کی  جسمانی معذوری تو اپنے خوابوں کی تکمیل سے باز نہ رکھ سکی اب ضابطے اور انتظامی پیچیدگیوں کے ناختم ہونے والے سلسلے کا شکار ہوگئے ہیں۔ اپنے علاقے اور سکول میں وہ بہت محترم  سمجھے جاتے ہیں اور لوگ ان کی پرعزم جدوجہد کو ایک مثال کی صورت دیکھتے ہیں۔ اسی لئے ان کے پاس پڑھنے کے لئے آنے والے ایک بچے کے والد محمد راشد حکومت سے درخواست کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گلزارحسین کے لئے فی الفور مستقل ملازمت کے احکامات صادر کئے جائیں کیونکہ وہ اس کے لئے لازمی قابلیت اور اہلیت کے حامل ہیں۔

قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ہمارے ملک اور معاشرے کے لئے قابل فخرمثالی لوگوں کے جائز حق کے لئے بھی ہمیں حکومت کو متوجہ کرنے کی ضرورت پیش آرہی ہے۔ آئیے ہم سب مل کر گلزار حسین کے  حق کے لئے آواز بلند کریں ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...