میں ہوں نجود: دس سال عمر اور مطلقہ (تیسری قسط)

مصنف:نجود علی،ڈلفن مینوئے مترجم:عاطف ہاشمی

84

نجود علی یمن سے تعلق رکھنے والی ایک بچی ہے جس کی شادی اس کے بچپن میں کسی ادھیڑ عمر شخص سے کردی جاتی ہے جو بجائے خود ایک ظلم ہے مگر اس پر مستزاد یہ کہ اس پر شوہر کی جانب سے کام کاج اور دیگر امورِ خانہ داری سے ساسس سسر کی خدمت تک کی سبھی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ مزید یکہ اس پر ظلم و زیادتی اور تشدد کو بھی روا رکھا جاتا ہے۔ اس ظلم وجبر سے نجات کے لیے گھر سے نکلنے اور طلاق لینے میں کامیابی تک کے مراحل کو آپ بیتی کی صورت میں ایرانی نژاد فرانسیسی صحافی اور مصنفہ ڈلفن مینوئے (Delphine Minoui)نے”I’m Nujood: Age 10 and Divorced” کے نام سے تحریر کیا ہے۔ نجود علی جبری اورکم عمری کی شادی کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھی جاتی ہیں اوران کی آپ بیتی کااب تک تیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔اردو میں اس کتاب کا ابھی تک کوئی ترجمہ سامنے نہیں آیا۔ ہمارے سماج میں بھی جبری و کم عمری کی شادی اور گھریلو تشددایک المیے کی صورت موجود ہے۔ ایک باہمت کم عمر لڑکی کی آپ بیتی یقیناً ہمارے ذہنوں کو ضرور جھنجھوڑے گی۔ سہ ماہی تجزیات اس کتاب کا اردو ترجمہ قسط وار شائع کررہاہے۔ اس سلسلے کی تیسری قسط آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔ (مدیر)

میرا گاؤں (خارجی)
میرے گاؤں ’’خارجی‘‘ میں جہاں میں پیدا ہوئی بچیوں کو اپنی مرضی کرنا نہیں سکھایا جاتا۔ میری امی شویا نے اپنی مرضی یا ارادے کے بغیر ہی میرے ابو علی محمد الاھدل سے اس وقت شادی کی جب ان کی عمر ابھی سولہ سال نہیں ہوئی تھی۔ چار سال بعد جب ان کے شوہر نے دوسری شادی کا ارادہ کیا تو وہ اپنے شوہر کی خواہش کے آگے جھک گئیں۔ میں نے بھی اسی طرح پہلے اپنی شادی پر رضامندی کا اظہار کیا، یہ جانے بغیر کہ مجھے اس کی کیا قیمت چکانا پڑے گی، کیونکہ میری عمر میں آدمی کوئی زیادہ پوچھ گچھ نہیں کیا کرتا۔
’’بچے کیسے بنتے ہیں؟‘‘میں نے ایک دن اپنی امی سے سادگی سے پوچھا۔
’’جب تم بڑی ہو جاؤ گی تو تمہیں معلوم ہو جائے گا۔‘‘ امی نے ہاتھ کی حرکت سے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا۔

میں نے اس دن اپنے اس بچگانہ سوال کو الماری میں رکھ دیا اور اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے چلی گئی اور اپنے پسندیدہ کھیل چھپن چھپائی میں مشغول ہو گئی، ملک کے شمال میں ضلع الحجہ میں واقع وادی لاعہ (جہاں میں پیدا ہوئی) میں بیسیوں چھپنے کی جگہیں ہیں۔کہیں درختوں کے تنے، کہیں بڑی چٹانیں اور کہیں زیر زمین وہ گڑھے جو گردش ایام نے بنا دیے تھے۔ بہت زیادہ اچھل کود کی وجہ سے جب ہمارا سانس پھول جاتا تو ہم پہلے اپنے سروں کو سرسبز گھاس میں ڈبوتے اور سبزے کے اس چھوٹے گھونسلے میں سانس لیتے۔ سورج کی دھوپ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہماری جلد کے ساتھ کھیلتی، اور ہمارے گالوں کو جو سیاہی مائل ہو چکے ہوتے گندمی کرتی۔ ابھی ہم تھوڑا ہی آرام کرتے کہ پھر سے اٹھ کر کبھی مرغیوں کو بھگانا شروع کر دیتے اور کبھی درختوں کے تنوں سے بندھے گدھوں کو چھیڑتے۔

میری امی کے سولہ بچے ہیں، ان کے لیے ہر ہر حمل کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا تھا، تین حمل تو وقت سے پہلے ہی ساقط ہوئے، ایک بچہ زچگی کے دوران انتقال کر گیا تھا جبکہ میرے چار بہن بھائی جنہیں میں نہیں دیکھ سکی بیماری کے علاج معالجے کے لیے ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے دو ماہ سے چار سال کی عمر کے درمیان ہی راہی ملک عدم ہوئے۔

دوسرے بہن بھائیوں کی طرح مجھے بھی میری امی نے گھر ہی میں جنم دیا۔ وہ فرش پر بچھی چٹائی پر پسینے میں شرابور لیٹی ہوئی تھیں اور ایک عذاب سے گزر رہی تھیں، اور اللہ سے التجا کر رہی تھیں کہ ان کے نومولود کی حفاظت فرمائے۔
میری امی میرے متجسس مزاج کو اطمینان دلانے کے لیے وقتاََ فوقتاََ میری پیدائش کی سٹوری سناتی رہتیں۔
’’ تم نے جنم لیتے ہوئے بہت ٹائم لیا، آدھی رات کو مجھے درد زہ شروع ہوا، غالبا ًرات کے دو بج رہے تھے، اور پھر پورا آدھا دن لگا اور موسم گرما کی کڑی دوپہر میں تم دنیا میں آئی، اس دن جمعہ تھا، چھٹی کا دن۔‘‘
میں اگر چھٹی والے دن کی بجائے ہفتے کے کسی اور دن پیدا ہوئی ہوتی تو بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا تھا۔ کیونکہ امی کو کبھی بھی ہسپتال لے جانے کی بات ہی نہیں ہوئی، ہمارا گاؤں وادی کے بالکل ایک طرف تھا جہاں کسی طبی سہولت کا نام و نشان نہیں تھا۔

میرا گاؤں زیادہ سے زیادہ پانچ چھوٹے چھوٹے کچے گھروں پر مشتمل تھا جہاں نہ کوئی دکان یا ورکشاپ تھی نہ ہی کوئی حجام، یہاں تک کہ مسجد بھی نہیں تھی۔وہاں جانے کے لیے بھی صرف خچروں کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا تھا۔ اس قدر ناہموار اور پرخطر راستے میں ڈرائیونگ کرنے کا رسک صرف پک اپ چلانے والے چند نڈر ڈرائیور ہی لے سکتے ہیں، سڑک کی حالت کس قدر بدتر ہے؟ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اس راہ پر جانے والوں کو ہر دو ماہ بعد اپنی گاڑی کے ٹائر تبدیل کرنا پڑتے ہیں۔ اسی سے آپ بخوبی یہ بھی اندازہ کر سکتے ہیں کہ میری امی اگر ہسپتال جانے کا سوچتیں تو کیا منظر ہوتا؟ وہ مجھے راستے میں ہی کسی کھلی جگہ پر جنم دے دیتیں۔ میری امی کہتی ہیں کہ خارجی میں کبھی موبائل میڈیکل کلینک نے بھی جانے کا رسک نہیں لیا۔
جب میری امی میرے سوالات سے تنگ آ جاتیں اور میرے جنم کی کہانی کو مکمل کرنا بھول جاتیں تو میں ان سے بہ اصرار پوچھتی:
’’اچھا تو پھر گھر میں نرس کا کردار کس نے ادا کیا تھا؟‘‘
’’خوش قسمتی سے تمہاری بڑی بہن جمیلہ گھر پرتھی اور اس نے باورچی خانے کی چھری سے تمہاری نال (ناف کی رسی) کاٹی تھی اور تمہیں کپڑے میں لپیٹنے سے پہلے پہلا غسل دیا تھا۔ تمہارے دادا جان نے تمہارا نام نجود رکھا تھا، اور کہا یہ جاتا ہے کہ یہ بدوی (دیہاتی) نام ہے۔‘‘
’’ امی! کیا میں جون میں پیدا ہوئی تھی یا جولائی میں؟ یا پھر اگست کے وسط میں؟
غالباً یہاں پہنچ کر امی تنگ آکر مجھے روکنے کے لیے کہتیں:
’’ تمہارے اس طرح کے سوالات کب ختم ہوں گے؟‘‘
درحقیقت وہ اس بارے میں بالکل بھی نہیں جانتی تھیں، کیونکہ میرے نام یا تاریخ پیدائش کا کسی سرکاری رجسٹر میں اندراج نہیں ہوا تھا، اور دیہاتوں میں بہت سے بچے ایسے ہوتے ہیں جن کا کوئی کارڈ نہیں بنتا۔ اس لیے میری تاریخ پیدائش کے بارے میں قطعیت کے ساتھ کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ میری امی اندازے سے بتاتی ہیں کہ میں اب دس سال کی ہوں گی، لیکن کیا خبر کہ میں آٹھ یا نو سال کی ہوں؟ بسا اوقات جب میں اصرار کرتی ہوں تو وہ مجھے حساب کتاب کر کے ہم بہن بھائیوں کی ترتیب بتاتی ہیں، ان کا حساب موسم، کسی عزیز کی وفات، کسی قریبی کزن کی شادی اور ہمارے گاؤں چھوڑنے کے سال سے جڑا ہوتا ہے، یہ بھی ایک انوکھا حساب ہوتا تھا جس سے اچھی خاصی ذہنی ورزش ہوتی تھی۔

ان کا یہ حساب اس محلے کے دوکاندار کے ساتھ حساب سے بھی زیادہ پیچیدہ ہوتا تھا جس سے امی روزمرہ کی اشیا خرید کر لایا کرتی تھیں، بہرحال وہ اسی نتیجے پر پہنچتی تھیں کہ جمیلہ سب سے بڑی ہے جس کے بعد محمد کا نمبر آتا ہے جو کہ پہلا لڑکا اور گھر کا دوسرا مرد ہے جس کے پاس والد صاحب کے بعد ازخود فیصلہ کرنے کا اختیار ہے۔اس کے بعد پراسرار منی (مونا)، غصیلے فارس اور پھر میرا نمبر آتا ہے۔ میرے بعد میری پیاری حیفا ہے جس کا قد میرے جتنا ہی ہے۔ اس کے بعد آخر میں مراد، عبدو، اصیل، خالد اور گھونگھریالے بالوں والی سب سے چھوٹی روضہ کا نمبر آتا ہے۔جہاں تک خالہ دولہ کی بات ہے جو کہ میرے ابو کی دوسری بیوی اور ان کی دور کی کزن بھی ہیں تو ان کے پانچ بچے ہیں۔

منی جب والدہ کو تنگ کرنا چاہتی تو انہیں چھیڑتے ہوئے کہتی کہ ’’ہماری امی خوب انڈے دینے والی مرغی ہیں‘‘کیونکہ بارہا ایسا ہوا کہ میں صبح اٹھی تو امی کے پلنگ پر ایک نیا بچہ دیکھا جس کی دیکھ بھال کرنا ضروری ہوتا۔ وہ بالکل بھی بریک نہیں لگاتیں۔ حالانکہ امی ذکر کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ فیملی پلاننگ کی ہیلتھ ورکر آئی تھیں جنہوں نے انہیں وقفے کی گولیاں دی تھیں اور وہ یہ گولیاں جب بھی انہیں یاد آتا وقتاََ فوقتاََ لیتی بھی رہیں لیکن حیران کن طور پر ایک مہینے بعد ہی ان کا پیٹ نکلنا شروع ہو گیا، تو انہوں نے طے کر لیا کہ یہی زندگی ہے اور بسااوقات فطرت کے خلاف چلنا آسان نہیں ہوتا۔

خارجی اپنے نام کی طرح صحیح اسم بامسمی ہے، عربی میں اس کا مطلب ہے ’’بیرونی‘‘ دوسرے لفظوں میں ’’دوسری دنیا کا۔‘‘ کیونکہ اکثر جغرافیہ دان اس مائکروسکوپ سے نظر آنے والی جگہ کو نقشوں میں شامل کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ آسانی کے لیے یوں کہہ لیں کہ خارجی حجہ سے کچھ زیادہ دور نہیں، اور یہ (حجہ) شمال مغربی یمن کا مشہور شہر ہے جو صنعا کے شمال میں واقع ہے۔ اس چھوٹے سے شہر اور دارالحکومت کے درمیان سفر میں کم از کم چار گھنٹے بل کھاتی سڑک پر لگتے ہیں اور پھر اتنا ہی راستہ ریتلا اور پتھریلا ہے۔ میرے بھائی جب صبح پڑھنے کے لیے نکلتے تو انہیں پیدل سکول پہنچنے تک ٹھیک دو گھنٹے لگتے جو کہ وادی کے بڑے گاؤں میں واقع تھا۔سکول کی تعلیم انہیں کے لیے مخصوص تھی اور چونکہ ہمارے ابو جو ضرورت سے زیادہ ہمارا خیال رکھتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم لڑکیاں بہت کمزور ہیں اور اس صحرانما پرخطر راستے پر جہاں قدم قدم پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہوتے ہیں ہم لڑکیوں کا تنہا جانا خطرے سے خالی نہیں۔ علاوہ ازیں میرے ابو اور امی خود بھی پڑھنا لکھنا نہیں جانتے اس لیے وہ ہمارے لیے بھی تعلیم کو چنداں ضروری نہیں سمجھتے۔

اس طرح میں کھیتوں اور کھلیانوں کے سکول میں پلی بڑھی، اپنی امی کو دیکھتی کہ وہ گھر کی دیکھ بھال کرتیں اور اپنی دونوں بڑی بہنوں جمیلہ اور منی کو دیکھتی کہ وہ چھوٹے پیلے گیلن لے کر چشمے سے پانی بھرنے نکل جاتیں، لیکن میں اس وقت اتنی چھوٹی تھی کہ ان کے ساتھ جانے کے قابل نہیں تھی۔ یمن کی آب وہوا اتنی خشک ہے کہ خشکی کی وجہ سے دن میں کئی لیٹر پانی پینا ضروری ہے، اور جوں ہی میں نے چلنا شروع کیا تو ندی کا رخ کرنا میرا معمول بن گیا، اور چونکہ یہ ہمارے گھر سے چند میٹر کے ہی فاصلے پر تھی اس لیے اس کا ہمیں بہت فائدہ تھا کہ اس کے صاف ستھرے پانی سے امی ہر کھانے کے بعد برتن دھوتیں اور ہانڈی مانجھتیں۔ اسی طرح صبح کے اوقات میں جب مرد کھیتوں کی طرف نکل جاتے تو عورتیں اس ندی پر آ کر درختوں کی آڑ میں غسل کرتیں۔آندھی اور طوفان کے دنوں میں تو ہم آسمانی بجلی اور بارش سے بچنے کے لیے گھروں میں ہی پناہ لیتے لیکن جوں ہی سورج کی کرنیں نمودار ہوتیں تو ہم بچے جھٹ سے ندی کا رخ کرتے، پانی میری گردن تک پہنچتا تھا۔میرے بھائیوں نے ندی کے کنارے چھوٹے چھوٹے بند لگا دیے تھے تاکہ پانی ٹھہرا رہے اور ہم اس میں خوب اچھلتے کودتے۔

سکول سے واپسی پر بچے راستے سے لکڑیاں اکٹھی کرلاتے تاکہ تندور جلانے کے کام آسکیں جس میں روایتی یمنی خبز (روٹی)پکائی جاتی ہے۔میری بہنیں اس طرح کی تراشیدہ روٹیاں پکانے کی ماہر تھیں جن پر کبھی کبھار ہم شہد بھی ڈال لیتے تھے، جسے ہمارے بزرگ یمن کا سونا کہتے ہیں، ہمارے علاقے کا شہد بہت مشہور ہے اور میرے ابو کے پاس بھی شہد کی مکھیوں کے چند سٹول ہیں جن کی وہ بیحد دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اور ہماری امی تو ہمیں شہد کھانے کی ترغیب دیتے نہیں تھکتی تھیں کہ شہد صحت کے لیے نہایت مفید اور جسم کے لیے قوت بخش ہے۔

شام کو روایتی طور پر ’’سفرہ ‘‘ پر کھانا کھایا جاتا، یہ اس دستر خوان کو کہتے ہیں جو زمین پر بچھایا جاتا ہے، ہماری امی جوں ہی بڑے گوشت یا چھوٹے گوشت سے بنے خوشبودار مصالحوں والی گرماگرم کھانے کی سلاد سے سجی ڈش رکھتیں فوراہمارے ہاتھ ڈش میں ہوتے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہم چاولوں اور گوشت کی چھوٹی چھوٹی گیندیں بنا کر انہیں اپنے منہ میں ڈال لیتے، ہم نے اپنے بڑوں کو دیکھ دیکھ کر یہ طریقہ سیکھ لیا تھا کہ ڈائریکٹ ڈش میں ہی کھانا کھانا ہے، نہ پلیٹ کی ضرورت اور نہ ہی چمچ یا کانٹے کی حاجت۔یمن کے دیہاتوں میں ہم ایسے ہی کھانا کھاتے ہیں۔

ہر ہفتے ہمیں امی اس ہفتہ بازار لے جاتیں جو وادی کے وسط میں ہفتے کے دن لگتا تھا،اس سے ہماری اچھی خاصی آؤٹنگ ہو جاتی تھی، ہم گھر کا راشن لینے کے لیے گدھے پر وہاں جاتے، اگر سورج کی تپش زیادہ ہوتی تو میری امی کالے حجاب کے اوپر ہیٹ پہن لیتیں جس سے ان کا چہرا بھی ڈھانپا جاتا اور وہ سورج مکھی کی طرح اور بھی خوبصورت لگتیں۔

سورج کی تال میں ہم نے اچھا وقت گزارا، بجلی اور پانی کے بغیرسادہ مگر پرسکون زندگی، ہمارا بیت الخلا جھاڑیوں کے پیچھے وہ ڈھلوان تھا جس کے اطراف میں اینٹوں کی چھوٹی دیورایں کھڑی کر دی گئی تھیں۔ گھر کا بڑا کمرہ جس کا فرش تکیوں سے سجایا گیا تھا رات ہوتے ہی بیڈ روم بن جاتا، ہمیں ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جانے کے لیے اس صحن سے گزرنا پڑتا جو گرمیوں میں ہماری تمام ضرورتوں کے مطابق ہمارے رہنے کا کمرہ بن جاتا، امی اس کی کھلی فضا میں باورچی خانہ بنا لیتیں،جہاں وہ ہلکی آنچ پر کھانا پکاتیں اور ساتھ ہی چھوٹے بھائی کو اپنا دودھ بھی پلا رہی ہوتیں، میرے بھائی اس کی تازہ ہوا میں اپنا سبق دہراتے جبکہ میری بہنیں پھڑ کی بنی چٹائی پر آرام کرتیں۔

میرے ابو اکثر اوقات گھر پر نہیں ہوتے تھے کیونکہ وہ سورج کی پہلی کرن پڑتے ہی اٹھ جاتے اور مال مویشی لے کر انہیں چرانے نکل جاتے، ان کی اسی بکریاں اور چار گائے ہیں، اور ان کا دودھ مکھن،دہی بنانے، اور تازہ پنیر بنانے کے لیے کافی ہوتا۔
جب کبھی وہ پڑوسیوں سے ملنے جاتے تو اپنے زنہ کے اوپر براؤن جیکٹ ضرور پہنتے اور اپنے بیلٹ میں وہ خنجر ضرور رکھتے جسے جنبیہ کہتے ہیں۔

میرے ملک کے مرد ہاتھوں سے بنا یہ تیز خنجر ساتھ رکھتے ہیں کیونکہ یہ طاقت،مردانگی اور یمنی معاشرے میں اعلیٰ مقام کی علامت ہے۔ اور یہ بات درست ہے کہ یہ ہمارے ابو کو ایک خاص قسم کی خوداعتمادی اور قابل لحاظ خوبصورتی بخشتا تھا۔ میں اپنے والد پر فخر کرتی ہوں، اور یہ سمجھتی ہوں کہ یہ جنبیہ اسلحہ سے بڑھ کر سجاوٹ کی چیز ہے کہ ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا جنبیہ خوبصورت ترین ہو۔ اس کی قیمت بھی مختلف ہوتی ہے اور اس کا تعلق خنجر کی دستی سے ہے کہ وہ پلاسٹک کی بنی ہوئی ہے،ہاتھی دانت کی یا اصلی سینگ کی۔ ہماری قبائلی روایات کے مطابق لڑائی کے وقت حملہ کرنے یا دفاع کرنے کے لیے اس خنجر کا استعمال ممنوع ہے۔ بلکہ اس کے برعکس جنبیہ کو اختلافات ختم کرنے کے لیے استعمال میں لایا جاتا ہے اور اس سے بڑھ کر یہ قبائلی انصاف کی علامت ہے۔ میرے والد کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ انہیں کبھی اس کی ضرورت پیش آ سکتی ہے تاوقتیکہ وہ منحوس دن آیا جبکہ ہمیں چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اپنا گاؤں چھوڑنا پڑا۔

میری عمر اس وقت دو سے تین سال کے درمیان تھی جب وہ سکینڈل سامنے آیا تھا، حالات بالکل غیرمعمولی تھے، میری امی بیماری اور یقینا کچھ دیگر ایسی وجوہات کی بنا پر ان دنوں دارالحکومت صنعا میں تھیں جن کی بنا پر ان کا موجود نہ ہونا ضروری تھا اور جس کی تفصیلات اس وقت مجھے معلوم نہ تھیں۔ میرے ابو اور خارجی گاؤں کے دوسرے لوگوں کے درمیان اختلاف شدت اختیار کر گیا تھا اور اس دوران میری بہن منی کا نام بار بار لیا جا رہا تھا۔ آخر کار یہ طے پایا کہ قبائلی روایات کے مطابق مسئلے کو حل کیا جائے اور دونوں فریقوں کے درمیان جنبیہ اور ریالوں کے بنڈل رکھے جائیں۔ لیکن معاملہ پھر بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور جھگڑا شدت اختیار کر گیا، اور ضابطے و قانون کی غیرمعمولی خلاف ورزی کی گئی جس کے بعد تلواریں سونت لی گئیں اور گاؤں کے لوگوں نے ہمارے خاندان پر گاؤں کی عزت خاک میں ملانے کا الزام عائد کیا، میرے والد تنہا تھے، انہوں نے محسوس کر لیا کہ جنہیں وہ اپنا دوست سمجھ رہے تھے وہ دھوکہ دے گئے، مجھے اتنا یاد ہے کہ اس کے بعد ہمارے گھر کی دوسری بچی منی جوکہ اس وقت تیرہ سال کی تھی کی آناََ فاناََ شادی کر دی گئی۔ اصل معاملہ کیا ہوا؟ میں اس وقت اتنی چھوٹی تھی کہ بالکل بھی نہ جان پائی لیکن ایک نہ ایک دن مجھے پتا چل ہی جائے گا۔ اس وقت میں اتنا ہی جان سکی کہ ہمیں فورا سب کچھ چھوڑ کر جانا ہو گا،بھیڑ بکریاں، گائیں، مرغیاں، شہد کی مکھیاں اور ہماری یادیں، ہمیں یہ سب چھوڑ کر اس گاؤں سے نکلنا ہو گا جسے میں جنت کا ایک ٹکڑا سمجھتی تھی۔
(جاری ہے)

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...