کیا اپنی دریافت کا عمل شناخت کے احساس کو ابھارتا ہے؟

79

مسئلہ شناخت دراصل اپنی ذات کی شناخت کا مسئلہ ہے۔ جو لوگ شناخت کے بحران کا عنوان قائم کرتے ہیں وہ پہلے مرحلے میں فرد کی ازخود بیگانگی اور دوسرے مرحلے میں سماجی بیگانگی کی حکایت کرتے ہیں۔ سماج سے انسان اُس وقت تک بیگانہ رہے گا جب تک اسے ادراک ذات حاصل نہ ہو جائے۔ گذشتہ صدی میں یورپ میں مذہبی عمرانیات (Sociology of Religion) کے نام سے ایک نیا علم معرض وجود میںآیا۔ اس علم کی بنیاد اس مفروضے پر رکھی گئی کہ مذہب دراصل ازخود بیگانگی(Self Alienation) کی وجہ سے جنم لیتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا دعوے دار جرمن فلسفی فویرباخ (Feuer Bach)ہے جسے مارکس کے استاد کا درجہ دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف فلسفہ الٰہیات کے ماہرین گذشتہ کئی صدیوں سے یہ بات کہتے چلے آرہے ہیں کہ انسان اپنے نفس کو نہ پہچاننے کی وجہ سے فکری طور پر بھٹکتا پھرتا ہے۔ لہٰذا کہا جاتا ہے کہ خدا شناسی کے لیے بھی اپنی ذات کی شناخت ضروری ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں بھی آیا ہے:
قُلْ اِِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ ۔۔۔(الزمر:15)
کہہ دیجیے کہ اصل ہار جانے والے وہی ہیں کہ جو اپنی ذات کو ہارے بیٹھے ہیں۔

شاید عاشقوں کی یہی کیفیت ہوتی ہے جو کہتے ہیں:
دل گیا ، ہوش لُٹے ، چین چھنا ، نیند گئی
دیکھ کیا کیا ہیں ترے عشق میں ہارے بیٹھے
دونوں متضاد فلسفوں کی بنیاد دراصل خود فراموشی ہے۔ یعنی اپنی ذات کو فراموش کر دینا اور ناخود کو خود سمجھنے لگنا۔

دوسری طرف شناخت کے بحران کا حل پیش کرنے والے عموماً ایک نئے بحران میں داخل ہونا تجویز کر رہے ہوتے ہیں۔ انسانی وجود کے مختلف پہلوئوں کے ساتھ اپنی شناخت کو ظاہر کرنا عموماً غلط نہیں ہوتا لیکن اس امر سے انسان کی نظر چوک جاتی ہے کہ یہ شناخت حقیقت کی حامل ہونے کے باوجود محدود ہے، مکانی ہے یا زمانی ہے، ظواہر حیات سے وابستہ ہے۔ موسموں کے تغیرکی طرح بدل بھی سکتی ہے۔ ثقافتوں کے تبدیل ہوتے مظاہر کی طرح کچھ کی کچھ ہو سکتی ہے۔ انسان دراصل کیا ہے؟ اس سوال کے درست جواب سے بہت کچھ جڑا ہوا ہے۔ اگر اس کا جواب ایسا ہو کہ جس پر زمان و مکان کی تبدیلی کے مظاہر اثر نہ کرتے ہوں تو یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ انسان کی کچھ نہ کچھ ایسی شناخت ضرور ہے جو پائیدارہے، تبدیل نہ ہونے والی ہے، مشترک ہے، ہر کوئی اس کی بنیاد پر اپنے آپ کو، دوسرے کو اور اپنے سماج کو پہچان سکتا ہے،اس کی پہلی اور ناگزیر شناخت یہی ہے ۔اسی پس منظر میں ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ انسان کواز سر نو اپنی دریافت کی ضرورت درپیش ہے لیکن دریافت کا یہ سفر فکری اور روحانی طور پر آزادی کے ساتھ ہونا چاہیے، دبائو، مجبوری اور پراپیگنڈا کے تحت نہیں۔

اگر شناخت کے ابتدائی عناصر مشترک ہیں تو پھر وجود انسانی کے خارجی مظاہر کا تنوع نفرت و عداوت کا باعث نہیں بن سکتا۔ اس طرح زبانوں، رنگوں، نسلوں اور ثقافتی مظاہر کا اختلاف گلستاں کے مختلف پھولوں کے رنگ اور مہک کے اختلاف کی طرح ہو جائے گا۔
قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا گیاہے کہ تمام انسانوں کو نفس واحدہ سے پیدا کیا گیا ہے یعنی ان کی بنیاد ایک ہی ہے، پھر اسی نفس واحدہ سے اس کا جوڑا پیدا کیا گیا ہے اور پھر ان کو ملانے سے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا کیے گئے۔ (سورہ نساء آیۃ1)
قرآن حکیم نے تمام انسانوں کو بنی آدم کہا ہے، گویا سب آدمؑ کے بیٹے اور ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ شیخ سعدی نے اس بات کو یوں نظم بند کیا ہے:
بنی آدم اعضای یکد یگرند

کہ در آفرینش ز یک گوھر ند
چو عضوی بہ درد آورد روزگار

دگر عضو ھا را نماند قرار
تو کز محنت دیگران بی غمی

نشاید کہ نامت نھند آدمی
بنی آدم ایک دوسرے کے اعضا اور حصے ہیں کیونکہ یہ سب ایک گوہر سے پیدا کیے گئے ہیں جب کسی ایک حصے کو تکلیف ہوتی ہے تو دوسرے اعضا بھی قرار نہیں پاتے اگر تمھیںدوسروں کی تکلیف کا احساس نہیں تو شاید تمھارا نام آدمی نہ رکھا جاسکے۔
انسانوں کا مختلف زبانیں بولنا اور مختلف رنگوں کا حامل ہونا ایک حقیقت رکھتا ہے لیکن یہ حقیقت بھی اپنے اندر ایک حُسن اور زیبائی رکھتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی آیت اور نشانی قرار دیا ہے۔ اللہ کی آیت اور نشانی حَسین اور خوبصورت ہی ہے۔ اللّٰہُ جمیلٌ اس پر شاہد ہے۔
وَ مِنْ اٰیٰتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ وَ اَلْوَانِکُمْ۔ (الروم:22)
اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اورزمین کی تخلیق نیز زبانوں اور رنگوں کا اختلاف۔
مختلف قبائل اور خاندانوں میں انسانوں کا تقسیم ہونا بھی کوئی ایسی تقسیم نہیں جو دوسرے سے نفرت کی بنیاد بنتی ہو کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ ہم نے تمھارے قبائل اور خاندان اس لیے بنائے ہیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔گویا قبائل اور خاندان شناخت کی بنیاد تو ہیں لیکن اس سے پہلے وہ سب کسی ایک بنیاد اور مرکز سے وابستہ ہیں جسے نفس واحدہ قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن حکیم کی یہ آیت اسی حقیقت کی ترجمانی کرتی ہے:

ٰٓیاََیُّہَا النَّاسُ اِِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ(الحجرات:13)
اے انسانو! ہم نے تمھیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تمھارے خاندان اور قبیلے بنائے ہیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، یقیناً زیادہ عزت والا اللہ کے نزدیک وہی ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ قبیلوں، خاندانوں، زبانوں، رنگوں،نسلوں اور علاقوں کا فرق اور اس کی بنیاد پر ایک دوسرے کو پہچاننا اور شناخت کرنا کوئی غلط اور منفی بات نہیں ہے لیکن اس کی بنیاد پر اپنے آپ کو دوسروں سے بالاتر اور مافوق سمجھنا، دوسرے کو کم تر سمجھنا یا پھر اس فرق کی بنیاد پر کسی کا احساس کمتری میں مبتلا ہو جانا درست نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو اپنے مقام انسانی کی حفاظت کرتا ہے اور جوقرآن کریم کی نظرمیں متقی ہے، وہی قابلِ تکریم ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے پشاور میں منعقد ہونے والی ایک مکالماتی نشست میں اسی پس منظر میں فرمایا تھا:
اسلام متنوع شناختوں کو احترام دیتا ہے اور ہر شہری کو یہ آزادی بھی فراہم کرتا ہے کہ پرامن طور پروہ اپنی پہچان کا قولی و عملی اظہار کر سکے۔ اگر مذہب کی حقیقی تعلیمات کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ شناخت کے مسائل کو حل کرتا ہے، الجھاتا نہیں ہے۔

دنیا میں اس وقت شناخت کے مسئلے پر طرح طرح کے نظریات موجود ہیں۔ اس حوالے سے بعض قوموں، گروہوں، مختلف مذاہب کے ماننے والوں اور مختلف رنگوں اور نسلوں کے لوگ طرح طرح کے حالات سے گزر رہے ہیں۔ بعض گروہ شناخت کے ایک خاص تصور کی وجہ سے بظاہر طاقتور ہو گئے ہیںاور بعض شناخت ہی کے معرکوں میں کچلے گئے ہیں یا کچلے چلے جارہے ہیں۔ اس لیے یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس میدان کارزار میں عام لوگوں کی فکری آویزش نے گروہی یا قومی گرم یا سرد معرکوں کی شکل اختیار کرلی ہے یا معاملہ اس سے زیادہ سنگین اور پیچیدہ ہے۔ دنیا میں جہاں بھی ہمیں شناخت کا بحران یا شناخت کی بنیاد پر مسائل دکھائی دیتے ہیں کیا حقیقی طور پر وہاں اصل مسئلہ شناخت ہی کا ہے؟ کیا اس کے پیچھے استعماری یا استیصالی مقاصد کارفرما نہیں، کیا سیاست، حکومت، اقتدار، سرمایہ، ہوس اور حرص کا اس میں کوئی کردار نہیں؟ شناخت کے مسائل کو آویزش اور جنگ میں تبدیل کردینا کس کے مقاصد پورے کرتاہے۔ کیا ملکوں کو توڑنے، لوٹ مار کرنے اور اپنی صنعتوں کی گراں قیمت مصنوعات کو فروخت کرنے کے لیے شناخت کے مسئلے سے سوئے استفادہ نہیں کیا جارہا؟
شناخت کے مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے اس کے پیچھے چھپے ہوئے سیاسی اور استعماری ہتھکنڈوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

یہ درست ہے کہ انسان مختلف جغرافیوں میں بستے ہیں۔ ان کے مختلف رنگ ہیں، وہ مختلف قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں، مختلف زبانیں بولتے ہیں اور مختلف قومی ریاستوں کے شہری ہیں۔ ان میں سے ہر پہلو حقیقت رکھتا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے جنگ کیوں شروع ہو جاتی ہے، اس کی وجہ سے نفرتیں کیوں پروان چڑھنے لگتی ہیں؟بعض لوگ اپنی شناخت کے کسی حصے کو چھپانے پر کیوں مجبور ہو جاتے ہیں؟ ہم سمجھتے ہیں کہ جس معاشرے میں کسی فرد یا گروہ کو اپنی مذہبی، لسانی، قومی یا علاقائی شناخت چھپانا پڑ جائے سمجھ لیں کہ وہاں پر فکری استبداد کی حکمرانی ہے۔

آپ دیکھیں گے کہ پاکستان میں جو فرقہ زیادہ طاقتور ہے اس کے افراد سینہ تان کر اپنی شناخت کو ظاہر کرتے ہیں جب کہ جو لوگ اقلیتی مذہب یا معاشرتی لحاظ سے کمزور گروہ سے تعلق رکھتے ہیں وہ کم ہی اپنی شناخت کو ظاہر کرتے ہیں۔ چنانچہ اقلیتوں سے وابستہ افراد کا اصرار رہتا ہے کہ انھیں ان کے مذہب کے بجائے پاکستانی ہونے کے عنوان سے پہچانا جائے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جب ان کی شناخت ایک پاکستانی ہونے کے حوالے سے کی جائے گی تو وہ دیگر تمام مذاہب و مسالک کے ماننے والوں کے برابر ہو جائیں گے۔ حالانکہ ہماری نظر میں اگر وہ اپنے مذہب یا مسلک کے عنوان سے بھی اپنی شناخت کروائیں توبھی انھیں معاشرے میں برابر کااحترام حاصل ہونا چاہیے، اس کے لیے ضروری ہے کہ اکثریتی گروہ اپنے طرز عمل کو تبدیل کرے۔

پاکستان کے سیاستدانوں کو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ وہ حسب ضرورت کبھی اپنے آپ کو قومی سطح کا سیاستدان ظاہر کرتے ہیں اور کبھی اپنی حیثیت صوبے یا علاقے کے عنوان سے منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنی سیاسی ضروریات کے لیے وہ صوبائی تعصب یا قبائلی تعصب کو ہوا دینے سے بھی نہیں چوکتے۔ کسی صوبے یا قبیلے یا قوم سے تعلق دوسروں سے نفرت کا باعث نہیں بننا چاہیے۔ ہاں اگر واقعاً کسی علاقے یا صوبے یا قبیلے کو کسی دور میں تعصب کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اسے اس کے جائز حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور ترقی کے راستے اس پر مسدود کر دیے گئے ہیں تو وہ ضرور خصوصی توجہ اور محبت کا حق رکھتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے دور کے بنی اسرائیل کو فرعونیوں کے استبداد سے نجات دلانے کے لیے قیام کیا تھا۔ یہ قبیلہ پرستی نہ تھی بلکہ مظلوم اور مستضعف قوم یا گروہ کی نجات کی جدوجہد تھی۔

شناخت کا عصر حاضر میں بہت بڑا عنوان ریاست قرار پائی ہے۔ اس وقت دنیا میں کم و بیش 180 ریاستیں موجود ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک ریاست سے دوسری ریاست میں جانے والا شہری اپنی ریاست سے اپنی شناخت کو وابستہ کرتا ہے۔ وہاں کا پاسپورٹ اپنی شناخت کے لیے پیش کرتا ہے۔ اس طرح سے دیکھیں تو ریاستوں کی موجودہ تقسیم نے انسانوں کو کم وبیش 180خانوں میں بانٹ دیا ہے۔ اس حوالے سے ایک پہلو بہت ہی اہم ہے کہ آج دنیا میں جو ریاستی سرحدیں موجود ہیں یہ ہمیشہ سے یوں نہ تھیں اور نہ ہمیشہ یوں رہیں گی، ملک پھیلتے اور سکڑتے رہتے ہیں۔ یوں شناخت بھی پھیلتی اور سکڑتی رہتی ہے۔ مثلاً 1947 سے پہلے برصغیر کے انسان قومی اعتبار سے ایک ہی شناخت رکھتے تھے، ہندی یا ہندوستانی۔ پھر اس کے بعد جب بٹوارا ہوا تو ہم بھارتی اور پاکستانی شناختوں میں بٹ گئے۔1971 میں جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تو مشرقی پاکستانیوں کی شناخت پاکستانی نہ رہی بلکہ وہ بنگلہ دیشی ہو گئے۔ اس سے زیادہ تقسیم ہمیں دوسری جنگ عظیم کے بعد خلافت عثمانیہ سے وابستہ علاقوں میں دکھائی دیتی ہے۔ آج جو بہت سے چھوٹے چھوٹے ممالک یا ریاستیں موجود ہیں ان کا وطن یا ریاست کی حیثیت سے کوئی وجود نہ تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہر دور کے زیادہ تر لوگوں کو اپنی ریاستی شناخت سے متعصبانہ وابستگی پیدا ہوجاتی ہے۔ بعد میں یہی تعصب نئی سرحدوں کے ساتھ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ تعصب فقط اپنی ریاست سے محبت کا ترجمان نہیں ہوتا بلکہ اکثر و بیشتر تاریخی عوامل کی وجہ سے دوسری کئی ایک ریاستوں سے نفرت کا باعث بھی بنتا ہے۔حالانکہ آج کی ریاست کی حدود کل کو مزید سکڑ بھی سکتی ہیں اور پھیل بھی سکتی ہیں۔ ایسے میں انسانوں کو سوچنا ہے کہ ریاست کی موجودہ قومی شناخت کے ساتھ ہماری وابستگی کی سطح کیا ہونا چاہیے۔ پھر بات ایک ریاست کی حدود تک نہیں رہتی بلکہ اس کے اندر یعنی ایک خارجی وحدت کے باوجود لسانی، قبائلی اور قومیتی بنیادوں پرتقسیم در تقسیم کے سلسلے دکھائی دیتے ہیں اور اس کی بنیاد پر دوسروں سے نفرتیں بھی پنپ رہی ہوتی ہیں جو کبھی منہ زور بھی ہو جاتی ہیں۔ بلوچستان سے پنجابیوں کی لاشوں کا اپنے علاقوں کی طرف آنا پاکستان کے اندر نفرت کے ابلتے لاووں کی ایک مثال ہے۔

بعض لوگ اپنے محدود مقاصد کے لیے بعض شناختوں کے علم بردار بن جاتے ہیں اور مختلف شناختوں کے مابین تنازع پیدا کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اپنی شناخت کو ’’مقدس‘‘ قراردے کر دوسری ہر شناخت سے ٹکرائو کے درپے ہو جاتے ہیں۔ اس سے معاشرے میں نفرتوں کی بنیاد پڑتی ہے۔ ہر شناخت اپنے درجے پر سچائی کے ایک عنصر کی حامل ہوتی ہے۔ ایک رنگ کے مختلف شیڈز ہوتے ہیں یہ معاشرے کی رنگا رنگی کا حصہ ہوتے ہیں۔
علامہ اقبال پر اگرچہ کئی حوالوں سے اعتراضات کیے جاتے ہیں لیکن آئیے دیکھتے ہیں کہ مندرجہ نظم میں وہ کیسے مختلف شناختوں کے حامل افراد کو ایک دوسرے سے گلے لگنے کا پیغام دے رہے ہیں:
آ، غیریت کے پردے اِک بار پھر اٹھا دیں

بچھڑوں کو پھر ملا دیں، نقشِ دوئی مٹا دیں
سُونی پڑی ہوئی ہے مدت سے دل کی بستی

آ، اِک نیا شوالہ اس دیس میں بنا دیں
دنیا کے تیرتھوں سے اونچا ہو اپنا تیرتھ

دامانِ آسماں سے اس کا کلس ملا دیں
ہر صبح اٹھ کے گائیں منتر وہ میٹھے میٹھے

سارے پجاریوں کو مے پیت کی پلا دیں
شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے

دھرتی کے باسیوں کی مُکتی پریت میں ہے

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...