سندھ کی شناخت اور بقاء کی جد و جہد

سہیل سانگی

110

نوآبادیاتی نظام سے آزاد ہونے والے ممالک کے سیاسی عمل میں قومی یکجہتی اہمیت کا حامل سوال رہا ہے۔ سوشلسٹ ممالک کی ناکامی کے بعد یہ سوال باقی نہیں رہاکہ کوئی ملک صرف نظریاتی طور پر متحد رہ سکتاہے۔دراصل کسی بھی قوم یا ملک میں ذیلی قومیتی وفاداریاں، نسل، زبان، مذہب اور علاقہ لازمی عنصر ہوتے ہیں۔اور ان سے جڑے مسائل کو ٹھیک طرح سے حل کیے بغیر قومی یکجہتی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ پاکستان بھی مختلف ثقافتی اور سماجی گروہوں کی مجموعی جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیاجن میں بلوچستان اورسرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے سرداروں سے لے کر سندھ اور پنجاب کے جاگیردار اوربنگال کے متوسط طبقات شامل تھے۔ان علاقوں کے سماجی کلچر کے علاوہ سیاسی کلچر بھی مختلف تھا۔ بنگال میں نسبتاً جمہوری کلچر تھا۔ تحریک پاکستان کی قیادت ہندوستان کے اقلیتی صوبوں نے کی تھی۔ کیونکہ وہی لوگ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے تھے۔ لہٰذ جو علاقے پاکستان کہلائے وہاں مسلم لیگ کی گراس روٹ سطح پر مقبولیت نہیں تھی۔

دو قومی نظریے کے مطابق مذہب ایک قوم ہونے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ مختلف نقائص کے باوجود یہ تصور چالیس کے عشرے کے سیاسی، معاشی اور سماجی حالات کے باعث لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لایا۔ حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد نئے ملک کے حکمرانوں کے پاس کوئی واضح پروگرام تھا نہ وژن کہ اس نئے ملک کا کرنا کیاہے؟ چھوٹی قومیتوں کی امنگوں اور مطالبات کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ ملک کے لیے فوری مسئلہ ہجرت کر کے آنے والے لاکھوں لوگوں کی آبادکاری کا تھا۔ سیاستدان ہوں یا انتظامی مشنری اس کام کو بخوبی انجام دینے کے اہل نہیں تھی اور اس نفسیاتی کیفیت سے ہم آج تک نہیں نکل پائے۔

پاکستان کی اولین قیادت کے کچھ ہنگامی اور غیر معقول فیصلوں کی بنا پر یہاں کے مختلف طقبات کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، مختلف صوبوں کی طرح سندھ بھی ان مسائل کی زد میں رہا جن کا تعلق معاشی نا ہموار، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور بد انتظامی سے ہے۔یہی وجہ ہے کہ آزادی کے ستر برس گزرنے کے بعد بھی سندھ کے عوام اپنے آپ کو خوش نہیں پا رہے ہیں۔وہ وفاق کے ہر منصوبے کو شک و شبہے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ معاشی، سیاسی، اور ثقافت و زبان کے حوالے سے ناانصافی ہوئی ہے۔ ماضی کے حالات و واقعات کی بنا پر سندھ کے عوام یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی شناخت کو ایک سے زائدحوالوں سے خطرہ ہے۔اس موضوع کو ہم ذیل کے عنوانات کے تحت زیرِ غور لاسکتے ہیں۔

سندھ کی جغرافیائی وحدت اور متعلقہ مسائل
انگریزوں کے قبضے سے پہلے سندھ ایک طویل عرصے تک خود مختار اور آزادملک کے طور پر رہاہے لیکن برطانوی سرکار نے اس کا بمبئی پریزیڈنسی کے ساتھ الحاق کر دیا۔ایک طویل عرصے تک وہ علیحدہ انتظامی یونٹ کے طورپر اپنی شناخت منوانے کی جدوجہد کرتا رہا۔ سندھ کی مسلم اشرافیہ کی جانب سے لڑ ی جانے والی اہم جنگ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی جدوجہد تھی۔یہ تحریک بظاہر سندھ کو صوبے کی حیثیت دینے کے لیے تھی لیکن اس کا عوامی پہلو سندھ کا کھویا ہوا تشخص بحال کرانا تھاجو برطانوی راج نے 1847ء میں ختم کردیا تھا۔1936ء میں سندھ کو صوبے کی حیثیت مل گئی اور کراچی کو اس کا دارالخلافہ بنا یا گیا۔ اس خوش آئند فیصلے کے اثرات و ثمرات ابھی پورے طور پر پہنچے ہی نہیں تھے کہ برصغیر کی تقسیم ہوگئی۔تقسیم کے نتیجے میںبھارت سے آنے والے لاکھوں مسلمان سندھ میں آکر آباد ہو ئے اس نقل مکانی اوربعد ازاں پاکستان کی نوکرشاہی نے برسوں کی جدوجہد کے نتیجے میں حاصل کیا گیا سند ھ کادیرینہ تشخص مزید عرصے تک چلنے نہیں دیا۔

ابھی دیہی و شہری آبادی میں نقل مکانی کر کے آنے والے خاندانوں کی سکونت و آبادکاری اورجائیدادوں کی جائز و ناجائز تقسیم کا معاملہ چل ہی رہا تھا کہ سندھ کے عوام پر دوسرا وار کردیا گیا۔ سندھیوں کے معاشی، سیاسی اور ثقافتی مرکز کراچی کو وفاقی دارالحکومت بنانے اوراسے وفاق کے حوالے کرنے کا منصوبہ سامنے آیااور19جولائی 1948 کو گورنر جنرل کے حکم پر کراچی اور اس سے ملحقہ علاقوںپر مشتمل 812 مربع میل مرکزی حکومت کے حوالے کردیا گیا۔ سندھی لیڈروں کے وفد نے زیارت میں جا کر قائد اعظم سے ملاقات کی اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی مخالفت کی۔ قائد اعظم کا کہنا تھا کہ اس سے سندھ کے لوگوں کاہی فائدہ ہے۔جبکہ کراچی کو وفاق کی تحویل میں دینے سے سندھ کو زبردست مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ دستور ساز اسمبلی کی رپورٹ نے نقصان کا اندازہ چھ سو سے آٹھ سو ملین روپے تک لگایاہے۔ جن عمارتوں میں وفاقی ادارے قائم کیے گئے ان کی مالیت پینتالیس کروڑ بنتی تھی۔ وعدے کے مطابق یہ خسارہ وفاق کو پورا کرنا تھا لیکن ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاقی علاقہ بنانے کے فیصلے کے خلاف سندھ سراپا احتجاج بن گیا۔ اس مسئلے پر قائم ہونے والے سندھ عوامی محاذ کے سینکڑوں کارکنوں کو جیل بھیج دیا گیا۔ بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ایک پنجابی وکیل دین محمد کو سندھ کا گورنر بنایا۔ اس پر سندھ کے عوام نے مزید ناراضی کا اظہار کیا۔ نئے گورنر نے سندھ میں اسمبلی توڑ کر گورنر راج نافذ کردیا۔ صوبائی اسمبلی توڑنے کے بعد ضمنی انتخابات ہوئے۔ عبدالستار پیرزادہ نے حکومت بنانے کے لیے کراچی کی سندھ کو واپسی، مرکزی اداروں میں سندھیوں سے امتیازی سلوک کا خاتمہ، فوجی افسروں کو سندھ میں زمینیں دینے پر ممانعت جیسے مطالبات رکھے۔ ان دنوں پنجاب سے تعلق رکھنے والے نواب افتخار حسین ممدوٹ کو سندھ کا گورنر بنایاگیا جنہوں نے ستار پیرزادہ کی حکومت ختم کرکے ایوب کھوڑو کو بحال کردیا۔

ایک طرف سندھ کے لوگ اپنے معاشی وسائل، سیاسی اختیارات اور جائیدادوں سے محروم ہو رہے تھے تو دوسری طرف ان کی زبان اور ثقافت خطرے میں پڑ رہی تھی۔ لہٰذا سندھ کی قومی تحریک ایک نکاتی مطالبے پر مرکوز ہوگئی یعنی ون یونٹ کا خاتمہ۔ ون یونٹ کی مخالفت پہلے دن سے ہی شروع ہو گئی تھی لیکن اس تحریک نے ساٹھ کے عشرے کے آخری برسوں میں زور پکڑا۔ ستّر کے انتخابات سے پہلے یحییٰ خان نے ون یونٹ توڑنے اور صوبے بحال کرنے کا اعلان کیا تو کراچی سندھ کو واپس مل گیا۔ اس سے سندھی آبادی کو خاصی تشفی ہوئی۔ لیکن آج بھی سندھ سے کراچی کی علحدگی کا ایم کیو ایم کا مطالبہ سندھیوں کے ذہنوں میں مزید خود پیدا کر رہا ہے۔

ون یونٹ: مساوات کے نام پر بالادستی
پاکستان اگرچہ پانچ قومیتوں یا پانچ صوبوںکا وفاق تھا۔پچا س کے عشرے میں بنگال کی اکثریت کو برابر کرنے کے لیے مساوی نمائندگی کا فارمولا دیا گیا جو بوگرہ فارمولا یا مساوات کا فارمولا کہلاتا ہے، اس ون یونٹ اسکیم میںمغربی پاکستان کے صوبوں کو ضم کر کے ایک صوبہ بنادیا گیا۔ یہ فارمولا بنگال کی اکثریتی آبادی کی بنا پر اس کی بالادستی اور پارلیمان میں اکثریتی نمائندگی کے آگے بند باندھنے کے لیے پیش کیا گیا تھا، لیکن ایک پنتھ دو کاج کے مصداق اس کے ذریعے گویا پنجاب کی چھوٹے مغربی صوبوں پر بالادستی قائم کرنامقصود تھا۔ 1956ء میں مغربی حصے کو ایک یونٹ بنائے جانے کے نتیجے میں دوسرے صوبوں کی طرح سندھ بھی اپنا الگ تشخص کھو بیٹھا۔جب ون یونٹ بنا تو فیصلہ سازی کے اختیارات، تمام سرکاری ریکارڈ، سب کچھ لاہور منتقل ہوگیا۔ ملازمتوں کے دروازے بھی سندھ کے لوگوں کے لیے بند ہوگئے۔ اختیار و اقتدار کی لاہور منتقلی اور ون یونٹ کا قیام جیسے اقدامات مزید پنجابی آبادی کے سندھ میں بسنے کا باعث بنے۔

اکتوبر سن 58 میں ایوب خان نے مارشل لاء نافذ کردیا۔ سندھ کے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مارشل لاء ون یونٹ کو بچانے کے لیے لگایا گیا تھا۔ جمہوریت کی ناکامی اور بیوروکریٹ اور فوجی حکومتوں کا قیام اختیارات کو مزید ارتکاز کی طرف لے گیا۔ تمام مارشل لا ایڈ منسٹریٹرز، چیف مارشل لا ایڈ منسٹریٹر کے احکامات مانتے تھے۔ صوبائی خود مختاری کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ یہ صورتحال ایوب، یحیٰ اور ضیاء الحق کے تئیس سالہ دور میں رہی۔ 73ء کے آئین میں بھٹو نے بھی یہی طرز حکمرانی رکھا۔ جنرل ضیاء اور ایوب کی فوجی حکومتیں صوبائی جذبات و خواہشات کی نفی کرتی رہیں ۔ جنرل ضیاء کے دور میں اسلام پسند میڈیا مطالبہ کرنے لگا کہ چار قومیتوں کی بات کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔یہ تمام حالات صوبوں کے اندر بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن رہے تھے۔

نقل مکانی اورسندھی عوام کے اندر اقلیت میں تبدیل ہوجانے کاپنپتا احساس
سندھ میں قومیتی پہچان کی صورتحال زیادہ پیچیدہ ہے۔ نسل پرست سیاست کے تضادات اس صوبے میں بے حد نمایاں ہیں۔یہاں مسلسل اور بلا روک ٹوک باہر سے بڑے پیمانے پر لوگ آکر آباد ہوتے رہے ہیں۔ تقسیم ہند کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں مہاجریہاں آئے۔ یہ سلسلہ ساٹھ کے عشرے تک جاری رہا۔ قیام پاکستان کے وقت پنجاب نے خاص طور پر بندوبست کیا کہ پنجاب میں صرف ان مہاجروں کو آباد کیا جائے جو مشرقی پنجاب سے آئے ہیں۔ باقی شمال اور وسطی ہندوستان سے آنے والوں کو سندھ میں آباد کیا گیا۔ جب حکومت سندھ نے مزید مہاجر قبول کرنے سے انکار کیا تو گورنر جنرل نے 27 اگست 1948ء کو ہنگامی حالت کا اعلان کر کے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ پنجاب کے کیمپوں میں پناہ گزین دو لاکھ مہاجرین کو سندھ میں جگہ دی جائے۔ جبکہ دس لاکھ مہاجرین پہلے ہی کراچی آچکے تھے۔ مرکزی حکومت مہاجرین کی سندھ میں خصوصاً کراچی میں آبادکاری اور ہندئووں کی چھوڑی ہوئی جائیدادیں ان کو لاٹ کرنے کے لیے بضد تھی۔تقسیم کے بعد شہروں میں اردو بولنے والوں کی اکثریت ہوگئی۔

ون یونٹ اور ایوب خان کے دور حکومت میں صنعتکاری نے ملک کے بالائی علاقوں سے آبادی کی کراچی منتقلی کو تیز کیا۔سندھ کے صنعتی شہروں میں پختون اور پنجابی مزدور آئے۔ گڈو بیراج اور کوٹری بیراج بنے تو ملک کے بالائی حصہ کی اشرافیہ کے لیے سندھ کی زمینیں اہمیت اختیار کر گئیں اور یہاں آکر آباد ہونا انہیںپر کشش لگنے لگا۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد بہاریوں کو سندھیوں کی مخالفت کے باوجو دکراچی میں آباد کیا گیا۔ بعدازاں افغان پناہ گزین بھی یہاں آبسے۔

قبائلی علاقہ جات، سوات وغیرہ میں آپریشن نے بھی ایک بڑی آبادی کو وہاں سے سندھ کے دارالحکومت کراچی کی طرف دھکیلاجن کی اکثریت اب بھی کراچی میں رہ رہی ہے اور اس کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ سندھیوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ انہیں اپنے ہی صوبے میں اقلیت میں بتدیل کیا جارہا ہے۔ سندھیوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ انہیں اپنے ہی صوبے میں اقلیت میں بتدیل کیا جارہا ہے۔ سندھ کی ڈیموگرافی میں تبدیلی بھی ایک اہم مسئلے کے طور پر سامنے آئی ہے جس کے باعث صوبے کے قدیمی باشندے اپنی ہی زمین پر اقلیت میں تبدیل ہورہے ہیں۔

اختیار و اقتدارکی کشمکش اور سندھی عوام کا استحصال
دیکھا جائے توسندھ میں مختلف نوعیت کی پیچیدگیاں باہر سے آنے والوں نے پیدا کی۔ قیام پاکستان کے وقت مہاجر افسر شاہی خاصی مضبوط پوزیشن میں تھی۔ فوج کے اعلیٰ عہدوں پر مہاجروں کی نمائندگی موجود تھی۔افسر شاہی مہاجروں کے تحفظ کا ذریعہ تھی۔ لہٰذا وہ پاکستانی ریاست اور اسلامی نظریے کی حامی اور قومیتی تحریکوںکی مخالف رہی۔ پچیس سال تک سی ایس پی افسران فوجی بیوروکریٹس کے ساتھ اقتدار میں بڑے حصہ دار رہے۔ بھٹو کی اصلاحات نے صورتحال میںتبدیلی پیدا کی جس سے افسر شاہی کی کمر ٹوٹ گئی۔یہ اور بات ہے کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں فوج کی بالادستی کی راہ میںموجود آخری رکاوٹ بھی ختم ہو گئی۔ مہاجر ریاستی ڈھانچے میں اپنے سرپرستوں سے محروم ہوگئے اور اقتدار پنجابیوں کے ہاتھ میں پہنچ گیا۔ ریاستی مشنری میں قومیتی توازن کی تبدیلی کے اثرات مہاجر سیاست میں نمایاں ہونے لگے اور وہ نسل پرست قومیتی سیاست کی راہ پر آگئے۔ انہوں نے مہاجر قومی موومنٹ بنائی اور مطالبہ کیا کہ ہمیں پانچویں قومیت تسلیم کیا جائے۔ کوٹہ سسٹم میں مہاجروں کے لیے مرکز میں بیس فیصد اور سندھ میں پچاس سے ساٹھ فیصدحصہ مقرر کیا جائے۔ یوں مہاجروں کا سیاسی مظہر اس آبادی میں مقبول ہوگیا۔لیکن اٹھارہویں ترمیم کے بعدسندھ میںانتہا پسند قوم پرست سیاست ختم ہو چکی ہے۔

زبان و ثقافت
زبان قومی شناخت اور ثقافت کااہم عنصر ہے۔ انگریزوں کے زمانے سے سندھی نہ صرف ذریعہ تعلیم تھی بلکہ سرکاری یا دفتری زبان بھی تھی۔پاکستان میں شامل صوبوں میں بنگالی اور سندھی دو زبانیں تھی جو ذریعہ تعلیم کے طورپراپنا وجود رکھتی تھیںاور ان کا علم وادب تحریری شکل میں موجود تھا۔ ایوب خان نے سندھی زبان کی دفتری زبان اور ذریعہ تعلیم کے طورپر حیثیت چھین لی۔اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔ اس اقدام سے مہاجروں کوزبان کی حد تک بالادستی ملی اور ان کی خواہشات اور امنگوں کی تشفی ہوئی۔ سندھی ادیبوں اور طلبہ نے مادری زبان کی حیثیت کی بحالی کی تحریک شروع کی۔ ستر کے عشرے کے آغاز میں بھٹو نے سندھی زبان کو سرکاری زبان بنانے کا بل منظو ر کیا تو اس کی مزاحمت کی گئی اور ایک آرڈیننس کے ذریعے اسمبلی کے پاس کردہ قانون میں ترمیم کی گئی۔ سندھی اور دوسری علاقائی زبانوں کو قومی زبانیں قرا دینے کا بل ابھی تک پارلیمان میں زیر التوا ہے۔

قیام پاکستان کے بعد سندھ سے تقریباً بیس فیصد ہندو آبادی کے انخلا اور اس کے بدلے بھارت کے مختلف صوبوں سے آ کر بسنے والی بڑی آبادی کی وجہ سے سندھ کی سماجی، ثقافتی اور سیاسی حیثیت متاثر ہوئی۔ہندو آبادی زبان اور ثقافت کے لحاظ سے سندھ کا حصہ تھی۔ ہندوؤں نے مختلف شہروں میں سکول، کالج، تفریح گاہوں اور ہسپتالوں کے حوالوں سے کئی فلاحی کام کیے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سندھ میں ایسے کاموں اور ایسی سہولیات بڑھانے اور برقرار رکھنے کا سلسلہ رک گیا۔ ان قومیتوں کے کلچر اور زبان کو دبایا گیا۔ چھوٹی قومیتوں نے اپنی بے چینی کا اظہار زبان کی شکل میں کیا۔ سندھ کے شہری علاقوں میں آباد ہونے والے پڑھے لکھے مہاجر انتظامیہ میں بھی آگئے۔ یوں صوبے کی معیشت اور سماج پر بھی حاوی ہوگئے اور سندھی کو بتدریج صوبہ بدر کیا جانے لگا۔

آزادی کے ایک سال بعد سندھ یونیورسٹی کو کراچی سے حیدر آباد منتقل کر دیاگیا اور کراچی کے لیے الگ یونیورسٹی قائم کی گئی۔ سندھ کے ممتاز دانشور محمد ابراہیم جویو نے ایک مقالے میں کہا تھا کہ سندھ یونیورسٹی کی حیدر آباد منتقلی کے وقت وزیرِاعظم لیاقت علی خان نے خوش گپیوں میں کہا تھا کہ یہ یونیورسٹی اونٹ اور گدھا گاڑی کلچر والوں کے لیے ہے۔آئندہ پانچ برسوں میں کراچی یونیورسٹی میں سندھی کو امتحانی زبان کے طور پر ختم کردیاگیا اور صرف اردو، بنگالی اور انگریزی میں امتحان دینے کی اجازت دی گئی۔ کچھ ہی عرصہ بعد کراچی میں بعض سندھی سکول بند کر دیے گئے یا غیر سندھیوں کو بطور استاد یہاں مقرر کیا گیا۔شعرا و ادباایوب خان کے خلاف تحریک میںاس لیے شامل ہوگئے تھے کہ ایوب خان نے سندھی زبان سے وہ رتبہ چھین لیاتھاجو اسے برطانوی راج میں حاصل تھا۔ بنگالی زبان کا مسئلہ ابھی تازہ تھا، یوںذریعہ تعلیم اور دفتری زبان کے معاملات مرکزی ایجنڈے پر آگئے۔ اس تحریک نے اگرچہ سندھ بھر کے نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پرا کٹھا کیالیکن یہ تحریک متوسط طبقے تک محدود رہی اور متوسط طبقہ سیاسی طور پر اہمیت اختیار کر گیا۔

اس کی وجہ سے سندھ میں ایک نوجوان کارکن ،ادیب اور شاعر کی حیثیت اور اہمیت وڈیرے سے زیادہ ہوگئی۔ اس کا عکس سماج میں مختلف مواقع پر نظر بھی آنے لگااور بائیں بازو کے نظریات سماج میں اہمیت اختیار کرنے لگے۔
ایک زمانے میں پاکستان ٹی وی پر سندھی پروگرام ہفتے میں دو گھنٹے ہوتا تھا۔ مارشل لا کے طویل عرصے کے دوران چھوٹی قومیتوں کے لیے کم گنجائش نکلتی تھی کہ وہ اپنے معاشی، سیاسی اور ثقافتی حقوق یا خود ثقافت اور زبان کے لیے آواز اٹھائیں۔ ایک دہائی قبل سندھ میں یومِ ثقافت منانے کا آغاز کیا گیا جو اب ہر سال 10دسمبر کو منایا جاتا ہے۔

مہاجرین کی آباد کاری اور زرعی و رہائشی اراضی کی متنازعہ تقسیم
مہاجروں کی آبادکاری کے لیے وزارتِ بحالیات اور کئی چھوٹے بڑے ادارے قائم کیے گئے۔حکومت کے بیشتر اہلکار مہاجر یا پھر پنجابی تھے۔ انہوں نے افسرشاہی کو اپنے قبضے میں لے کر ہندوؤں کی متروکہ شہری جائیدادوں کے جھوٹے سچے کلیم منظور کرانے کے ساتھ ساتھ زرخیز اور قابل کاشت دیہی زمینیںحاصل کرنے کی کوششیں شروع کردیں جو ہندو چھوڑ کرگئے تھے۔ ان زمینوں کے حقیقی وارث سندھی کسان تھے لیکن آزادی کے بعدان کی زمینوں پر بااثر مہاجر طبقہ قابض ہو گیا ۔پنجاب کے ایک محقق احمد سلیم لکھتے ہیں کہ یہ کلیم یا تو بالکل جھوٹے ہوتے تھے یا پھر اصل سے زیادہ،پچاس کی دہائی میں ہی ایک اور قانون بنایاگیا کہ مقامی لوگ دس ہزار روپے سے زیادہ مالیت کی شہری جائیداد نہیں خرید سکتے۔ بڑے بڑے مکانات، ہوٹل، سینما ہاؤس نیلام کیے گئے اور ان کی ادائیگی کلیم کے کاغذات کے ذریعے کی گئی جن کا یا توکوئی وجودہی نہ تھا یا پھریہ کسی ثبوت کے بغیر یہ سارا عمل انجام دیا گیا۔

قیامِ پاکستان سے چند ہی ماہ قبل سندھ اسمبلی نے ایک بل منظور کیا تھا کہ صوبے میں ہندوؤں کے پاس مسلمانوں کی جو زمینیں گروی ہیں ان کو وہ بیچ نہیں سکتے۔ اس قانون پر پنجاب میں توعمل درآمد کیا گیا لیکن سندھ میں گورنر نے بل پر دستخط نہیں کیے اور وہ باقاعدہ قانون نہ بن سکا۔ جب پاکستان بنا تو یہ زمینیں ہندوؤں کی ملکیت قرار دے دی گئیں اور کلیموں کے ذریعے مہاجروں کو ملیں، اس طرح مقامی لوگ زمین کی ملکیت سے محروم ہوگئے۔ بعض دستاویزات کے مطابق یہ اراضی40 لاکھ ایکڑ یا کل زرعی زمین کا42 فی صد تھی۔ اسی کے ساتھ سندھ ریفیوجی رجسٹریشن آف لینڈ کلیم ایکٹ کے تحت مارچ 1947 کے بعد ہندوؤں کی بیچی گئی زمینوں کے معاہدوں کو منسوخ قرارا دے دیا گیا۔

1890ء کے آواخر میں جمڑائو کینال کی تکمیل پر ہزاروں ایکڑ نئی قابل کاشت زمین پنجاب سے تعلق رکھنے والے فوجی اہلکاروں کو الاٹ کی گئی۔ بیسویں صدی کے دوران پچاس کی دہائی میں کوٹری بیراج بنا تو اس کے زیرِ کمانڈ تین لاکھ چالیس ہزار ایکڑ زمین سول اور فوجی نوکرشاہی کو دی گئی۔پروفیسر عزیزاحمد اپنی کتاب ’کیا ہم اکٹھے رہ سکتے ہیں‘ میں لکھتے ہیں کہ زمینیں سندھی ہاریوں کے پاس جانے کی بجائے پنجابیوں، مہاجروں اور پٹھانوں کے ہاتھوں میں جانا شروع ہوگئیں۔
1951 میں ایک سندھی روزنامہ نے اپنے اداریے میں لکھاکہ ’ ’سندھ کے لوگوں کے ذہنوں میں شکوک بڑھ رہے ہیں کہ نئے بیراج کی زمینیں باہر کے لوگوں کو دی جائیں گی۔ اگر ایسا کیا جا رہا ہے تو اس کے بعد سندھ اور وفاقی حکومتیں سندھ کے لوگوں سے تعاون کی توقع نہ رکھیں۔ سندھ کے ہاریوں کا ان زمینوں پر پہلا حق ہے۔ اب پہلے سے زیرِ کاشت زمینیں مہاجروں کو دی گئی ہیں، اور نئی زمینیں نوکر شاہی کو دی جائیں گی‘‘۔

ساٹھ کے عشرے میں گڈو بیراج تعمیر ہوا تو تربیلا ڈیم، منگلا ڈیم، اور اسلام آباد کے متاثرین، ریٹائرڈ اور عنقریب ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین، انعام اور خطاب پانے والوں کو نیلامی کے ذریعے یہ زمین دینے کا فارمولا بنایاگیا۔صورتحال یہ بنی کہ زمین حاصل کرنے والے 172 سرکاری اہلکاروں میں صرف ایک سندھی تھا۔ نیلامی کی زمینوں کا فائدہ صرف پنجاب کو ہوا۔ سندھ میں کہاوت کے طور پر کہا جانے لگا کہ خدا کرے کسی کو کوئی خطاب نہ ملے یا کوئی کھلاڑی اچھا کھیل نہ کھیلے کیونکہ اس کا معاوضہ سندھ کی زمین کی شکل میں ادا کیا جائے گا۔ سندھی عوام کی مہاجروں اور پنجابیوں سے ان بن کی جڑیں اسی غیر منصفانہ تقسیم میں ہیں۔

پانی اور مالیات کے مسائل
دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم اور قومی مالیاتی ایوارڈ دو ایسے امور ہیں جن پر سندھ کو ہمیشہ تشویش رہی ہے۔ ان دونوں امور پر خاص طور پر سندھ اور پنجاب کے درمیاں اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ بعد میں جب سندھ میں تیل گیس اور کوئلے کے ذخائرملے تو وفاق اور صوبے کے درمیان کشیدگی کی ایک اور وجہ میں اضافہ ہوا۔ دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم اور گریٹر تھل کینال کی تعمیر پر سندھ کی قوم پرست، مذہبی اور وفاق پرست جماعتیں سب متفق ہیں اور وہ انفرادی یا اجتماعی طور پر احتجاج کرتی رہی ہیں۔ پانی کا معاہدہ ایک ایسے دور میں ہوا جب سندھ میں مرکز کی مسلّط کردہ جام صادق کی غیر مقبول حکومت تھی۔ سندھیوں کو ہمیشہ شکایت رہی ہے کہ اس معاہدے

میں ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے لیکن آگے چل کر اس معاہدے پر بھی حکومتِ پنجاب نے عمل کرنے سے انکار کردیا۔
سندھ کو ایک اور شکایت یہ ہے کہ اس کو مالی وسائل میں جائز حصہ نہ دیا گیا تو اس کی آبادی معاشی و سماجی پسماندگی کی طرف چلی جائے گی اور وہ اپنی ثقافت اور قومی شناخت کا دفاع نہیں کر پائے گی۔ سندھ کی اس بے چینی کو استعمال کر کے بھٹو نے مقبولیت حاصل کی۔ پیپلز پارٹی صوبائی سطح پر سندھ کے مسائل اور ملکی سطح پر نچلے طبقے کے روٹی، کپڑا اور مکان جیسے مسائل اٹھا رہی تھی۔ ستر کے عام انتخابات کی ووٹرزفہرستیں سندھی میںچھپوانے کے مطالبے کے حق میں حیدرآباد میں بھوک ہڑتال کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس موقع پرسندھی مہاجر فسادات کرانے کی بھی کوشش کی گئی۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پکار اور سندھی عوام کا تحرک
ون یونٹ کے خلاف تحریک سے سیاسی ڈائنامکس تبدیل ہوئے۔ پیپلزپارٹی وجود میں آئی۔ بھٹو نے متوسط طبقے اور اس کے مطالبات کو ایڈریس کرنے کی کوشش کی۔ تعلیم، ملازمتیں، دیہی علاقوں میں سہولیات، زبان اور ثقافت کے مسائل کو یا بڑی حدتک حل کیا یا پھر ان کی حساسیت میں کمی کردی۔ جب 1973ء کا آئین بنا تو جی ایم سید نے پارلیمانی سیاست سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا اور سندھو دیش کا نعرہ لگادیا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ پاکستان کے ڈھانچے میں سندھ کے حقوق کا تحفظ ممکن نہیں۔ لیکن بھٹو کی پالیسیوں کی وجہ سے یہ نعرہ بعض فکری حلقوںکے علاوہ عوامی سطح پر مقبولیت نہیں حاصل کر سکا۔ بھٹو کے نئے پاکستان کی بنیاد سندھ اور پنجاب کے اتحاد پررکھی گئی تھی جس سے پنجاب اور مہاجر کے درمیان قائم اتحاد جو قیام پاکستان سے رہا تھا ٹوٹ گیا۔
ٓٓٓٓ ٓٓ

بھٹو دور میں پاکستان کی سیاست میں سندھ کی حصہ داری کا دعویٰ شروع ہوا۔ سندھ میںروایتی سیاست پنجاب مخالفت پر قائم تھی، اس میں بھٹو نے پل کا کردار ادا کیا۔ پاکستان بنانے میں سندھ آگے آگے رہا لیکن پاکستان بننے کے بعد وسائل، اختیار، اقتدار، ملازمتوں اور نئے ملک کے دیگر ثمرات میں حصہ نہ ملنے کی وجہ سے سندھ مایوسی و ناامیدی کا شکار ہو گیا تھا،بھٹو نے لوگوں کو اس مایوسی سے نکالا، زرعی اصلاحات کیں، شوگر ملیںلگائیں، کوٹہ سسٹم متعارف کروایا جس سے سندھ کے دیہی علاقوں کو فائدہ پہنچا۔ ان چیزوں نے سندھ کے عوام کا بھٹو کے ساتھ بانڈ مضبوط کیا۔

ایم آرڈی تحریک اور سندھ کی سیاسی شراکت
1977ء میں بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور 1979ء میں ان کو پھانسی دے دی گئی تو سندھ میں قومی تحریک کو بے انتہا طاقت ملی۔ضیاء کی پالیسیاں اور اقدامات سندھ میں اس کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے کافی تھے۔ ایم آر ڈی کی تحریک جو ملک گیر تھی لیکن اس کا عملی اظہار کچھ اس طرح ہوا کہ سندھ میں اس نے اتنی شدت اختیار کر لی کہ یہ تحریک سندھ کی تحریک کے طور پر ہی پہچانی جانے لگی۔سرکاری اعداد وشماربتاتے ہیں کہ اس دور میں 1263 لوگوں کو قتل اور ہزاروں کو زخمی کیا گیا۔ مظاہرے، جلوس، قید، کوڑے، پھانسیاں اور فوج کے ہاتھوں لاکھاٹ (سکرنڈ) اور میہڑ (دادو) میں مظاہرین کی ہلاکت اس تحریک کے بہت بڑے واقعات تھے۔ایم آر ڈی تحریک کے دور میں شجاعت و بہادری کے کئی واقعات اب سندھ کے لوک ادب کا حصہ بن چکی ہیں۔

یہ پہلا موقع تھا کہ سندھ کی دیہی آبادی نے فوجی آمریت کے خلاف اور اپنے حقوق کے لیے مکمل طور پر بغاوت کا اعلان کیا۔ سندھ میں شاید ہی ایسا کوئی گھر ہو جس نے اس تحریک میں حصہ نہ لیا ہو۔ اگرچہ اس کا رنگ ایک حد تک قوم پرستانہ تھا لیکن نچلی سطح پریہ دراصل عوام کی آواز بن چکی تھی۔ایم آرڈی تحریک کے بعد حکمران سندھ اور دیگر صوبوں کے شہروں میں لسانی بنیادوں پرنفرت پھیلانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس تحریک کو توڑ نے کے لیے کراچی میں ایم کیو ایم، سندھ پنجابی پشتون اتحاد اور مذہبی بنیاد پرستی کو ابھارا گیا۔نتیجتاً تحریک دم توڑ گئی۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تحریک اگر مزید کامیاب ہو جاتی تو صوبوں اور شہری و دیہی آبادی کے درمیان دوریاں کافی حد تک ختم ہو سکتی تھیں۔

ضیاء کے خلاف ملک بھر میں نفرت کو ٹھنڈا کرنے کے لیے غیر جماعتی انتخابات کرائے گئے۔ ایم آرڈی کے گڑھ سندھ سے محمد خان جونیجو کو وزیرِ اعظم بنایا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں سندھ سے تین وزیرا عظم رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو، محمد خان جونیجو، اور بینظیر بھٹو۔ ان تینوں کو فوجی حکومت نے ہٹایا جس وجہ سے ان کی فوج کے خلاف نفرت اور احساس محرومی میں اضافہ ہوا۔

سندھی مہاجر تنازعہ اور شہری آبادی
ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد جب سندھ اسمبلی بنی تواندرون سندھ سے آئے ہوئے لوگ اور کراچی کے عوام ایک دوسرے کو اجنبی محسوس ہونے لگے۔ سندھی زبان کو بطور قومی زبان تسلیم کیے جانے کے بل اور کوٹہ سسٹم کے نفاذ کواردو بولنے والوں کے خلاف قرار دیا گیا اور اردو بولنے والوں کی سابقہ حیثیت بحال کرانے کے خواہشمندوںکو موقع دیا کہ وہ سرگرمی دکھائیں۔ اس زمانے میں سندھی مہاجر فسادات ہوئے جس میں فریقین کے درجنوں افراد ہلاک ہوگئے۔ یہیںسے سیاست میں تشدد کا عنصر آنا شروع ہوا۔کراچی کی پوزیشن دراصل اس شہر کے مرکزی دارالحکومت بننے، پنجاب اور پٹھان آبادی کی بڑے پیمانے پر یہاں آمداور ون یونٹ بننے کے بعد مغربی پاکستان کا دارالحکومت لاہور منتقل کردیے جانے سے خاصی متأثر ہوگئی تھی۔

ایم کیو ایم کا پہلا جھگڑا پٹھانوں کے ساتھ ہوا تھاجب بشریٰ زیدی کیس میں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ جب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہوا تو بھی کراچی کو ایک لحاظ سے کافی دھچکا پہنچا۔ یوں مرکزی چیزوں پر پنجابی اور پٹھان نے نہ صرف اپنی حصہ داری بڑھا دی بلکہ سندھیوںکی شراکت کی راہ بھی ہموار کی، اس صورتِ حال سے مہاجر اپنے آپ کو تنگ محسوس کرنے لگے۔جونیجو دور میں سندھی مہاجر تضاد بڑھا۔30 ستمبر کو حیدرآبادمیں ہونے والاسانحہ اور اس کے جواب میں کراچی کا سانحہ صرف انتخابات ملتوی کرانے کے لیے نہیں تھا بلکہ یہ سندھ کی آبادی کو مستقل بنیادوں پر تقسیم کرنے کا فارمولا بھی تھا۔ اسٹبلشمنٹ کی جانب سے مہاجرقیادت کے ذہن میں ڈالا گیا کہ واپس پیپلزپارٹی اقتدار میں آرہی ہے اور ساتھ ہی اس کے توڑکے لیے ایم کیو ایم کو فعال کرنے کے لیے کردار ادا کیاگیا۔

بعدازاں سندھی مہاجر تضاد حکومت کو دباؤ میں رکھنے اور جمہوری عمل کو عدمِ استحکام سے دوچار رکھنے کے لیے جاری رکھا گیا۔سندھ کے دیہی اور شہری طبقات کا آپس میں ٹکرائو کسی بھی طور ان کے مفاد میں نہیں تھا۔اس دراڑ کی وجہ سے سندھ کادیرینہ موقف پسِ پشت چلا گیا اورنتیجے میں جو گنجائش بنی وہ باہر کی آبادی اور غیر جمہوری قوتوں نے پر کی۔ پیپلز پارٹی کو کمزور کرنے کی غرض سے اسٹبلشمنٹ نے قوم پرستوں کو بعض چھوٹی چھوٹی مراعات دے کر خوش کرنے کی کوشش کی اورنتیجتاًمہاجرقوم پرست رجحانات کو فروغ ملا۔

ضیاء دور کے بعد اب تک جومسائل سندھ کی سیاست کا محور رہے ہیں ان میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا معاملہ زیادہ وزنی ہے۔ جونیجو دور میں سندھ اسمبلی نے پہلی مرتبہ اس آبی ذخیرے کے خلاف قرارداد منظور کی۔اس کے بعد کم از کم دو مرتبہ صوبائی اسمبلی اس کو مسترد کر چکی ہے۔ جنرل مشرف تمام تر زور لگانے کے باوجود سندھ اسمبلی سے یہ قرارداد منظور نہیں کرا سکے۔ اس متنازعہ ڈیم کے خلاف پیپلزپارٹی اور قوم پرست باہمی اتحاد میں بھی رہے ہیں۔ نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں بینظیر بھٹوکے زیر قیادت سندھ کی تمام پارٹیوں نے بشمول قوم پرست جماعتوں کے، سندھ پنجاب بارڈر پرواقع کموں شہید کے مقام پر تاریخی دھرنا دیا۔کالاباغ ڈیم، پانی کی منصفانہ تقسیم، این ایف سی ایوارڈ، وفاقی ملازمتیں، تیل،گیس اور معدنی وسائل، نجکاری، مردم شماری، واپڈا کے ساتھ سندھ کا تنازع، ریلوے اور اس کی زمینیں، بندرگاہ اور دیگر سیاسی و سماجی اور معاشی وسائل پر پنجاب کی بالادستی محسوس کی جاتی ہے۔ ان مسائل کے حوالے سے حکومتی اور سیاسی سطح پر وقتاً فوقتا ً آواز اٹھائی جاتی رہی ہے۔ بینظیر نے ایم کیو ایم کے ساتھ معاہدہ کیا جسے اسٹیبلشمنٹ نے ختم کروادیا لیکن اب بھی ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومتوں کے ساتھ شراکت دارانہ تعلق قائم رکھے ہوئے ہے۔

درج بالا مسائل و وجوہات اور اپنے حقوق کے لیے مسلسل ایک جدوجہد کی حالت میں رہنے کی وجہ سے یہاں کے عوام میں مجموعی شناخت کا گوناگوں احساس ضرور بیدار ہوا ہے تاہم سندھ کو درپیش مختلف مسائل پربلا تفریق رنگ، نسل اور قومیت اہلِ سندھ کے مشترکہ موقف کی بنیاد پریہ کہا جا سکتا ہے کہ سندھ شناخت پسند پر تشدد جدوجہد یا مہاجر مخالف سیاست کے بجائے پنجاب سے اپنا حصہ مانگنے اور مرکز میں اپنے وسائل اور اقتدار میں شراکت اور حصہ داری کے مطالبے کی طرف گیاہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...