ریکوڈیک کیس اور سرمایہ کاری تنازعات

175

سرمایہ کاری سے متعلقہ تنازعات کو نپٹانے کے بین الاقوامی مرکز (International Centre for Settlement of Investment Disputes – ICSID) نے ریکوڈیک کیس میں حکومت پاکستان کے خلاف 5.84 بلین ڈالرز کے ہرجانے کا فیصلہ ٹیتھیان کاپر کمپنی کے حق میں سنا دیا ہے۔ ورلڈ بینک سے وابستہ سرمایہ کاری کے تحفظ کے لئے قائم اس ادارے میں ٹیتھیان کاپر کمپنی (جو مشترکہ طور پر Antofagasta اور Barrick Gold Corporation کی ملکیت ہے) نے سن 2011 میں حکومت پاکستان کے ریکوڈیک پراجیکٹ کی مائینگ لیز منسوخ کرنے کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا تھا۔

یہ فیصلہ پاکستان کے لیے ایک بڑے سیٹ بیک کا باعث ہے مگر سرمایہ کاری کے بین الاقوامی تنازعات پر نظر رکھنے والے ماہرین کے لئے بظاہر اس فیصلے میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔ پاکستان کے لئے کسی بین الاقوامی ثالثی فورم پر ہزیمت اٹھانا بھی کوئی نئی بات نہیں ہے کہ اس طرح کے متعدد تنازعات میں پاکستان مختلف فورمز پر شکست کا سامنا کرتا رہا ہے۔ بین الاقوامی تجارتی ثالثی (International Commercial Arbitration) کے میدان میں ہٹاچی روپالی’ حبکو جیسے کئی کیسز مختلف وقتوں میں پاکستانی عدالتوں اور ثالثی کے بین الاقوامی مراکز کے درمیان کشمکش کا باعث بنتے رہے ہیں۔ سرمایہ کاری کے تحفظ کے مرکز کے ساتھ بھی پاکستان کا تجربہ خاصا تلخ رہا ہے اور موجودہ کیس کے علاوہ دیگر تنازعات میں بھی پاکستان کی حالت خاصی پتلی رہی۔

گو کہ اس کیس میں اگرچہ محدود مگر پاکستان کے پاس ابھی بھی مزید شنوائی کا امکان ہے مگر معاملے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی خاص فائدے کی توقع رکھنا عبث ہے۔ غالبا حکومت پاکستان کو ٹیتھیان کمپنی کے ساتھ بیٹھ کر معاملات کو نپٹانا پڑے گا اور اب تک اس سلسلے کی سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کی سپریم کورٹ کے فیصلے رہے ہیں جن کی رو سے معاہدے کی منسوخی کو موثر بنایا گیا تھا۔ ریکوڈیک کیس میں سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ گوگل کر کے بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح مقامی قوانین کو صرف نظر کرتے ہوئے یہ معاہدہ کیا گیا جسے بعد ازاں سپریم کورٹ نے بھی کالعدم قرار دے دیا۔

بین الاقوامی تجارتی ثالثی اور سرمایہ کاری کے تنازعات میں عموما ملکی قوانین اور بین الاقوامی فورمز کے رولز کے درمیان ٹکراؤ اور کشمکش صاف سامنے آجاتی ہے۔ ان فورمز کا یکطرفہ ہونا آج کے دور میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور یہ بنائے ہی اس واحد مقصد کے لئے ہیں کہ سرمایہ کاری و تجارت سے وابستہ تنازعات میں خالص معاہدات سے جڑی تکنیکی تفصیلات و حقائق کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں۔ کسی بھی ملک کے عوامی مفاد، وہاں کے پالیسی انوائرنمنٹ، کرپشن کی غیر ثابت شدہ ہوشربا داستانوں اور حکومتوں کے بننے بگڑنے سے ان فورمز کو کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ ان فورمز پر عموما سوال یہی اٹھتا ہے کہ جانتے بوجھتے اور اپنی مرضی و منشاء کے تحت جو معاہدہ آپ نے دوسرے فریق سے کر رکھا ہے اس پر کیونکر عمل نہیں کیا گیا۔ اسی لئے حکومت پاکستان (اور سرمایہ کاری کے تنازعات میں عموما دوسری حکومتیں بھی) اکثر و بیشتر تکنیکی اغلاط کی وجہ سے اپنا کیس ہار بیٹھتی ہے۔

یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہییے کہ سرمایہ کاری کے تحفظ کا بین الاقوامی نظام پوری طرح شفافیت اور برابری کی بنیاد پر استوار نہیں کیا گیا ہے۔ ICSID کے معاملات پر پوری دنیا میں انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں اور متعدد تحقیقات میں یہ بات سامنے لائی گئی ہے کہ کس طرح ترقی پذیر ممالک کی حکومتیں سرمایہ کاروں کے سامنے بےبس ہوکر اس مرکز میں اپنے کیسز ہار جاتی ہیں۔ تنازعات کے حل کے پروسیجر سے لے کر ثالثوں کی تعیناتی تک کے معاملات میں غیرشفافیت کی شکایات عام ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے جتن کرنے والے ترقی پذیر ممالک پر بالواسطہ اور بلاواسطہ میں تنازعات کے حل کے لئے ان بین الاقوامی مراکز کی ثالثی قبول کرنے کی شرائط عائد کی جاتی ہیں۔ ان شرائط کو سرمایہ کاری کے معاہدوں میں قبول نہ کیا جائے تو یہ کہہ کر معاہدے ہی نہیں کیے جاتے کہ سرمایہ کار کو آپ کے ملکی عدالتی اسٹریکچر اور معاہدوں کی پاسداری کے نظام پر اطمنان نہیں ہے۔ ایسے میں سرمایہ کاری کے حصول کے لیے (اور متعدد واقعات میں جانتے بوجھتے ہوئے کرپشن کی بناء پر) معاہدوں پر دستخط کر دیے جاتے ہیں جو بعدازاں ریکوڈیک کی طرح گلے پڑ جاتے ہیں۔

پاکستان میں بار بار ICSID سے جڑے معاملات پر بحث ہوتی رہی ہے مگر موثر طریقے سے اس معاملے کو کبھی بھی پالیسی سطح پر آگے بڑھ کر حل نہیں کیا گیا۔ اگر ہم ICSID سے تنگ آچکے ہیں تو اس سے مستقبل میں نکلنے کے لیے جو اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے وہ مفقود ہیں۔ کیا ICSID کی ثالثی کی شرط کو تسلیم کیے بغیر ہم غیر ملکی سرمایہ کاری کو ملک میں لاسکیں گے؟ اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو کیا پاکستانی عدالتوں کو کسی طرح پابند بنایا جاسکتا ہے کہ وہ سرمایہ کاری کے معاملات کو “پالیسی ڈومین” مانتے ہوئے خود کو محدود کرلیں؟ کیا اداروں کے لیے ممکن ہے کہ وہ کسی حکومت کو ذلیل کرنے اور اپنے اسٹریٹجک مفادات کے حصول کے لیے فرنٹ مینوں کے ذریعے عدالتی دخل اندازی کا راستہ اختیار کرنے کی پالیسی سے دستبردار ہو جائیں؟

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...