قبائلی اضلاع کے انتخابات: تحریک انصاف کا مقابلہ اپنے ناراض امیدواروں سے ہے

393

خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں چند روز باقی ہیں۔ موجودہ سیاسی صورتحال کے مطابق آئندہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی پوزیشن باقی سیاسی جماعتوں کی نسبت مضبوط دکھائی دے رہی ہے، تاہم تحریک انصاف کی مقامی قیادت کے درمیان پائے جانے والے اختلافات نتائج تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

جولائی 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کی نشستوں پر ان اضلاع سے اکثریت حاصل کی تھی۔ جماعت نے 12 میں سے 6 جبکہ جمعیت علماء اسلام نے 3 نشستیں حاصل کی تھیں۔  تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کے باعث اکتوبر 2018 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں اسے 9 نشستوں میں سے 5 پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا جن پر تحریک انصاف نے پہلے کامیابی حاصل کی تھی۔ ناکامی کی بنیادی وجہ ایک حلقہ سے تحریک انصاف کے دو دو امیدواروں کا الیکشن میں حصہ لینا تھا۔ نتائج سے پتہ چلا کہ ان پانچوں نشستوں پر تحریک انصاف کے دو امیدوارں کے حاصل کیے گئے ووٹوں کی تعداد جیتنے والےامیدواروں سے زیادہ تھی۔

قبائلی اضلاع میں ہونے والے انتخابات میں ایک مرتبہ پھر تحریک انصاف کو دوبارہ ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جہاں 16 نشستوں میں سے 9 پر تحریک انصاف کے ایک سے زائد امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں سے 8 نشستوں پر تحریک انصاف کی پوزیشن باقی پارٹیوں سے زیادہ مستحکم ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایک سے زائد امیدواروں کا انتخابات میں حصہ لینا تحریک انصاف کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ ثابٹ ہوسکتا ہے۔

یہاں تفصیل سے صوبائی حلقوں میں انتخابات اور امیدواروں کی صورتحال کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

ضلع باجوڑ:

ضلع باجوڑ میں صوبائی اسمبلی کی تین نشستیں ہیں۔ یہاں تحریک انصاف مضبوط ووٹ بینک کی حامل ہے۔ سیاسی مبصرین اور مقامی صحافیوں سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق ضلع باجوڑ کی تمام نشستوں پر تحریک انصاف کلین سویپ کرنے کی پوزیشن میں ہے تاہم دو نشستوں پر تحریک انصاف کے ایک سے زائد امیدوار ہونے کے باعث نتائج متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

پی کے 101 سے تحریک انصاف نے موجودہ ایم این اے گل داد خان کے بھائی انجینئر اجمل خان کو پارٹی ٹکٹ جاری کیا ہے۔ جبکہ سابق ڈپٹی کمشنر اور پارٹی کے مقامی رہنما حاجی سید احمد خان بھی نظریہ بچاؤ تحریک کی جانب سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جو تحصیل ماموند میں اچھے اثر رسوخ کی حامل شخصیت ہیں۔ سید احمد خان اس حلقے سے تحریک انصاف کے ووٹ بینک کو متاثر کرسکتے ہیں۔

اسی طرح حلقہ پی کے 102 سے بھی تحریک انصاف کے دو امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس حلقے سے ڈاکٹر حنیف الرحمان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار ہیں جبکہ حاجی رحیم داد آزاد امیدوار کی حیثیت سے قسمت آزمائیں گے۔ جماعت اسلامی کے سراج الدین خان مضبوط امیدوار تصور کیے جارہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کے باغی رہنما رحیم داد خان کا ووٹ بینک جماعت اسلامی کی کامیابی کا باعث بن سکتا ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان اور گورنر شاہ فرمان نے مذکورہ بالا دونوں حلقوں سے آزاد امیدواروں سے اپنی پارٹی کے حق میں دستربردار ہونے کی درخواست کی لیکن دونوں امیدواروں نے ان کی بات ماننے سے انکار کرتے ہوئے الیکشن لڑنے کو ترجیح دی ہے۔

ضلع مہمند:

افغانستان کی سرحد سے متصل ضلع مہمند صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں پی کے 103 اور پی کے 104 پر مشتمل ہے۔  پی کے 104 سے تحریک انصاف کے مقامی رہنما ڈاکٹر اسرار کی آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں موجودگی پارٹی امیدوار سجاد مہمند کے لیے درد سر بنی ہوئی ہے۔ حلقہ 104 میں مہنمد اور صافی قبیلے کے لوگ رہتے ہیں۔ اس حلقے میں مضبوط تصور کیے جانے والے تحریک انصاف کے امیدوار سجاد مہمند، جمعیت العلماء کے عارف حقانی اور آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے والے عباس جو موجودہ سینیٹر ہلال اور سابقہ ممبر قومی اسمبلی بلال کے بھائی ہیں، مہنمد قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ تحریک انصاف کے باغی ڈاکٹر اسرار صافی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ صافی تحصیل اس حلقے کی چار تحصیلوں میں سے ایک ہے اور اس میں 65 ہزار کے لگ بھگ ووٹر رجسٹرڈ ہیں۔ یہاں ڈاکٹر اسرار کی موجودگی پارٹی امیداور کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

جبکہ پی کے 103 پر تحریک انصاف کے امیدوار قاری رحیم شاہ اور عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار نثار مہمند کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

ضلع خیبر:

پشاور سے ملحقہ ضلع خیبر میں تحریک انصاف نے دلچسپ صورتحال احتیار کی ہے جہاں حلقہ پی کے 105 جو تحصیل خیبر پر مشتمل ہے، میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری پارٹی امیدوار کے مقابلے میں آزاد امیدوار شرمت خان آفریدی کی نہ صرف حمایت کررہے ہیں بلکہ اپنی مذہبی جماعت اور مدرسے کے ذریعے انتخابی مہم بھی چلارہے ہیں۔ تحریک انصاف کے امیدوار شاہد شنواری نے کچھ دن پہلے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے وزیراعظم عمران خان سے نورالحق قادری کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ اس حلقے میں شاہد شینواری اور شرمت خان آفریدی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے والے شرمت خان آفریدی ماضی قریب میں تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے اور ٹکٹ کے خواہش مند تھے، تاہم پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ آزاد امیدوار شفیق شیر بھی اس حلقے میں اثر رسوخ کے حامل امیدوار بتائے جارہے ہیں۔

حلقہ پی کے 106 میں وفاقی وزیر نورالحق قادری بااثر شخصیت مانے جاتے ہیں اور وہ اس حلقے سے تحریک انصاف کے امیدوار امیر خان کی حمایت کررہے ہیں، تاہم یہاں سے تحریک انصاف کا مقابلہ 2013 میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی نشست کے لیے انتخابات میں حصہ لینے والے معروف سرمایہ کار خان شیر سے ہوگا۔ خان شیر کا شمار تحریک انصاف کے پرانے رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ 2018 میں انہوں نے نورالحق قادری کے مقابلے میں ٹکٹ کی دوڑ سے دستبرار ہوکر ان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

لیکن اس حلقے سے سابق ایم این اے شاہ جی گل آفریدی کے فرزند بلاول اور جماعت اسلامی کے امیدوار شاہ جہان کی پوزیشن بھی مضبوط بتائی جارہی ہے۔ شاہ جی گل  گزشتہ انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست کےلیے میدان میں اترے تھے اور انتخابی نتائج کے مطابق دوسرے نمبر پر جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔

حلقہ پی کے 107 سے تحریک انصاف نے نوجوان رہنما زبیر خان آفریدی کو میدان میں اتارا جنہیں تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کی حمایت حاصل ہے۔ یہاں بھی پی ٹی آئی کے سابق مقامی  رہنما حاجی شفیق آزاد امیدوار کی حیثیت سے قسمت آزمائیں گے۔ یوں اس حلقے میں بھی تحریک انصاف کا مقابلہ اپنی ہی پارٹی کے باغی امیدوار سے ہوگا۔ سابق وفاقی وزیر حمید اللہ خان بھی یہاں سے سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں ہیں۔ یوں دو آزاد امیدوار تحریک انصاف کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوسکتے ہیں۔

ضلع کرم:

ضلع کرم صوبائی اور قومی اسمبلی کے دو دو حلقوں پر مشتمل ہے۔ حلقہ  پی کے 108 سے تحریک انصاف کے امیدوار شاہد بنگش اور جمعیت علماء اسلام کے ریاض شہید کے مابین سخت مقابلہ متوقع ہے، یہ دونوں رشتے میں چچا زاد بھائی بھی ہیں۔ تاہم آزاد امیدوار اس حلقے کے انتخابی نتائج میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ عبدالخالق پٹھان جو تحریک انصاف کے ٹکٹ کی دوڑ میں شامل تھے اس حلقے سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جس کا فائدہ یقینا جے یو آئی کے امیدوار کو ہوگا۔

یہ حلقہ این اے-45 کا حصہ ہے جو پانچ سال تک قومی اسمبلی میں نمائندگی سے محروم رہا تھا۔ 2013 کے عام انتخابات میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیدوار کے حاجی منیر اور کزئی پر قاتلانہ حملے کے بعد الیکشن کمشن نے اس حلقے سے انتخابات ملتوی کرادیے تھے جو 2018 کے عام انتخابات تک ملتوی رہے۔

حلقہ پی کے 108 سے تحریک انصاف کے امیدوار شاہد بنگش اورر جمعیت علماء اسلام کے ریاض شہید کے مابین سخت مقابلہ متوقع ہے تاہم آزاد امیدوار بھی کافی اچھی پوزیشن میں ہیں۔

پی کے 109 اپر کرم سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساجد حسین طوری قومی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہوئے ہیں۔ تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق پی پی پی کے ایم این اے اس حلقے سے آزاد امیدوار عنایت حسین کی حمایت کررہے ہیں۔ اس حلقے سے آزاد امیدواران ابرار جان، عنایت حسین اور تحریک انصاف کے اقبال میاں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

باقی امیدواروں کی نسبت تحریک انصاف کو اس بات کا فائدہ ضرور ہوگا کہ قومی اسمبلی کے سابق امیدوار اور سابق آئی جی ارشاد حسین جماعت کے امیدوار کی حمایت کررہے ہیں۔

 ضلع اورکزئی:

قبائلی اضلاع کا یہ وہ واحد ضلع ہے جو افغانستان کی سرحد کو نہیں لگتا۔ یہ ضلع صوبائی اسمبلی کی ایک نشست پر مشتمل ہے جہاں سے 20 سے زائد امیدواران انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں، تاہم اس حلقے سے مقابلہ سابق رکن قومی اسمبلی ملک سعید کے فرزند غزن جمال اور موجودہ تحریک انصاف کے رکن جواد حسین کے بھائی شعیب حسن کے مابین متوقع ہے۔

گزشتہ انتخابات کے برعکس اس حلقے سے پارٹی ٹکٹ کے حصول کے لیے سرگرم رہنے والے تحریک انصاف کے دو مقامی رہنما آزاد امیدوار کی حمایت کررہے ہیں جبکہ ایک رہنما شہید اورکزئی انتخابی میدان میں اب بھی موجود ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر تحریک انصاف ناراض رہنماؤں کو متحد کرنے میں ناکام رہی تو اس حلقے سے آزاد امیدوار غزن کی کامیابی یقینی ہے۔

جنوبی وزیرستان:

شمالی وزیرستان میں اگر چہ پاکستان تحریک انصاف متحد ہے، لیکن یہاں کی دونوں نشستوں پر تحریک انصاف کو آزاد امیداورں کے طرف سے سخت  مشکلات کا سامنا ہے۔

جنوبی وزیرستان جہاں پر پی ٹی آئی کی مقبولیت زیادہ ہے لیکن یہاں پر دو نشستوں میں سے ایک پر تحریک انصاف کے دو امیدوار آمنے سامنے ہیں۔ حلقہ پی کے-113 میں پاکستان تحریک انصاف کے باغی رہنما بریگیڈیر (ریٹائرڈ) قیوم شیر اور جمعیت علماء اسلام کے امیدوار کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ اگر چہ تحریک انصاف کے امیدوار افسر خان بھی مضبوط امیدوار تصور کیا جارہا ہے لیکن قیوم شیر کی موجودگی میں جمیعت علماء اسلام کی کامیابی یقینی ہے۔

پی کے 114 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار عمران مخلص، پشتون تحفظ تحریک کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کے چچازاد بھائی عارف وزیر اور پی ٹی آئی کے نصراللہ وزیر کے درمیان مقابلہ بتایا جاتا ہے۔

فرنٹیئر ریجن:

پی کے 115 قبائلی اضلاع کا سب سے بڑا حلقہ تصور کیا جاتا ہے جسے انتخابی مہم کے حوالے سے کور کرنا انتہائی مشکل ہے۔ گزشتہ عام انتخابات میں یہاں سے قومی اسمبلی کی نشسست پر مفتی عبدالشکور نے تحریک انصاف کے قیصر جمال کو سخت مقابلے کے بعد شکست دے کر کامیابی حاصل کی تھی۔

اس دفعہ تحریک انصاف نے عبیدالرحمن کو میدان میں اُتارا ہے جس کو جے یو آئی کے امیدوار حاجی شعیب اختر کے جانب سے سخت مقابلے کا سامناہے، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار اور سابق ممبر صوبائی اسمبلی غلام قادر بیٹنی بھی اس حلقے سے مضبوط امیدوار ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس حلقے  سےجے یو آئی کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔

مذکورہ بالا ساری صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اگر تحریک انصاف ناراض امیدواروں کو منانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو قبائلی اضلاع کے انتخابات میں اس کی جیت یقینی ہے، ورنہ تحریک انصاف کو کچھ نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑ جائے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...