استنبول میں دوبار شکست، ایردوان جمہوریت سے انتقام لیں گے؟

ھدیٰ الحسینی

126

ترکی میں آج کل گھروں، بیٹھکوں، قہوہ خانوں اور گلی بازاروں میں جو جملہ سب سے زیادہ  دہرایا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ ’’اس ملک کو اب تازہ دم قیادت کی ضرورت ہے‘‘۔ لوگ ایک چہرے سے اکتانے لگے تھے۔ خصوصاََ پچھلے کچھ  عرصے سے معاشی زبوں حالی نے عوام کو جو زد لگائی اس کے بعد انہیں لگا کہ اب تبدیلی کا وقت آچکا ہے۔ ایردوان اقتصادی شعبے میں بہتری لانے کی وجہ سے اقدار میں آئے تھے، اب معیشت پھر لڑکھڑا رہی ہے۔ ترکی کی جارحانہ خارجہ پالیسی کے سبب اسے دنیا میں شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے کی وجہ سے بھی ترک شہری غیر مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔

ایک ہی جماعت کی ملک پر 16 سال سال سے مضبوط گرفت کے باوجود ترکی میں نئے اور تازہ دم  سیاسی چہرے اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں اور عوام ان سے امیدیں باندھ رہے ہیں۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے کرد نائب سربراہ صلاح الدین دمیرتاش کو حکمران جماعت کے ارکان ’’ہینڈسم بچہ‘‘ کہہ کر پکار تھے۔ کرد جنہوں نے ملکی تاریخ میں کبھی 10 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کیے تھے، اب ان کی جماعت پارلیمنٹ میں 80 نشستیں رکھتی ہے۔ استنبول میں ایردوان کو دو بار شکست سے دوچار کرنے والے ریپبلیکن پیپلز پارٹی کے  امام اوغلو نوجوانوں کے نئے لیڈر بن کر سامنے آئے ہیں۔ اب اپوزیشن جماعتوں کے لیے شاید 2023  کے انتحابات  تک انتظار کرنا مشکل ہو۔

لیکن ہمارے سامنے ایک ایسا شخص ہے جو کم ازکم 2023 سے قبل اقتدار چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ ایردوان خود کو مصطفیٰ کمال اتاترک سے بڑے قد کا لیڈر ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے عزائم کی تکمیل سے پہلے جانا انہیں نامنظور ہوگا۔ انہوں نے اپنی شبیہ ’’امیرالمؤمنین ‘‘ کی بنائی ہے۔ مسلم دنیا میں اپنی مقبولیت بڑھانے کے لیے خطیر سرمایہ لگایا ہے۔ وہ سوڈان اور لیبیا میں فریق ہیں۔ شام کی حدود کو نہیں مانتے اور ترکی کا رقبہ بڑھانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔31 مارچ کے نتائج مسترد کرنے کا مطلب یہی تھا کہ شکست انہیں قبول نہیں ہے۔ اور اب دوبارہ ہزیمت کے بعد انہوں نے جو کہا اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا ’’ہم اس پر غور کریں گے کہ غلطی کہاں پر ہوئی، اس کے تدارک کے لیے ہر ممکنہ اقدام کریں گے اور یہ بھی ہم خود طے کریں گے کہ ہمیں کیا اقدامات کرنے ہیں‘‘۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ایردوان استنبول شکست سے سبق سیکھیں گے وہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ انہیں ان کے الفاظ پر غور کرنا چاہیے۔ وہ اپنے مخالف کی جمہوری فتح کو ایسی غلطی قرار دے رہے ہیں جس کی تصحیح ضروری ہے۔

ایردوان اگرچہ ابھی بھی ترکی کی طاقت ورترین شخصیت ہیں لیکن استنبول شکست کے بعد حالات یکدم تبدیل ہوسکتے ہیں

انہوں نے امام اوغلو کی فتح کے بعد اپنے ماتحت میڈیا سے ان کے خلاف پراپیگنڈا کیا۔ اپنے مخالف کو دہشت گرد تک کہلوایا، اور یہ الزام بھی لگوایا کہ یونان اس کی پشت پناہی کر رہا ہے، اور فتح اللہ گولن کے ساتھ اس کے خفیہ روابط ہیں جس نے 2016 میں جمہوریت پر شب خون مارنے کی کوشش کی تھی۔

ایردوان اگرچہ ابھی بھی ترکی کی طاقت ورترین شخصیت ہیں لیکن استنبول شکست کے بعد حالات یکدم تبدیل ہوسکتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کی جماعت کے کئی ارکان ان سے علیحدہ ہونے جا رہے ہیں۔ سابق صدر عبداللہ گل اور سابق وزیر خزانہ علی باباجان اپنی جماعت بنانے کا سوچ رہےہیں۔ اطلاعات ہیں کہ علی بابا جان نے رواں ماہ ایردوان سے ملاقات کرکے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔ سرمایہ کار علی باباجان کے علیحدہ ہونے پر خوش ہیں۔

2023 تک بہت وقت ہے۔ ترک صدر تب تک حالات اپنے موافق پھیرنے کی کوشش کریں گے، لیکن اپوزیشن بھی چار سالوں میں کوئی بڑی تبدیلی لاسکتی ہے۔ بعض ترک تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حکمران جماعت سے الگ ہونے والوں کے علاوہ اپوزیشن بھی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ  کے کچھ ارکان کو توڑنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ میں قابل قدر تناسب کے ساتھ  صدارتی نظام پر دوبارہ ریفرنڈم کرنے کا مطالبہ کردیں گی۔ اپوزیشن موجودہ حیثیت کے ساتھ خصوصاََ معاشی حوالے سے آزاد اور بڑے فیصلے نہیں کرسکتی، اس لیے وہ حکمران جماعت کو کمزور کرنے کی کوشش کرے گی۔ لیکن اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو ترکی میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوگا اور بڑے بحران جنم لیں گے جن پر قابو پانا آسان نہیں ہوگا۔

یہ تمام قیاس آرائیاں اپنی جگہ موجود ہیں۔ حقیقت میں ایردوان کو طاقت کے مرکز سے جدا کرنا کتنا آسان ہوگا فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ وہ بھی غلطی کو ٹھیک کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ البتہ انہوں ہی یہ کہا تھا کہ جو استنبول جیتے گا وہ تمام ترکی کو جیت لے گا۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: الشرق الاوسط

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...