متوازن سماجی زندگی کیسے گزاریں؟

1,321

ابہامات ،تنازعات،تعصبات ،تشدد،برداشت ،غصے اور خوف کی سماجی تشریح کیا ہے؟ پاکستانی سماج پر دانشور ارشد محمود کے ساتھ منفرد مکالمہ

تجزیات: سماجی ہم آہنگی کیونکر ممکن ہے؟ اسے ممکن بنانے کے لیے کیا کرنا ہو گا؟ نیز سماجی ہم آہنگی کا تصور مفید تصور ہے؟

ارشد محمود: میراخیال ہے، ہمیں پہلے سماجی ہم آہنگی کے مطلب کو سمجھنا ہوگا۔کسی حقیقت کو سمجھنے کے لئے ہمیں اس کے الٹ کو پہلے دیکھیں، تو اس حقیقت کے معنی زیادہ واضح ہوجاتے ہیں۔ یعنی سماجی ہم آہنگی کے الٹ کیا ہے۔ انتشار، بے ربطی، تصادم، بدامنی، اب ہمیں زیادہ آسانی سے ہم آہنگی کی سمجھ آ جائے گی۔ سماجی اتفاق و اتحاد، مختلف گروہوں کے درمیان ہمدردی اور باہمی قدرواحترام ، پرامن بقائے باہمی، مختلف رنگ، نسل، ذات، مذہب وعقیدہ کے درمیان ، طبقات کے درمیان ہم آہنگی…. سماجی ہم آہنگی کی افادیت اس تصور سے ہی واضح ہے۔ کوئی معاشرہ صحت مند، ترقی پذیر اسی وقت کہلا سکتا ہے، جب وہاں امن ہوگا اور سماجی ہم آہنگی کے لوازمات ہونگے۔ معاشی ترقی کے لئے سماجی امن کی لازمی شرط درکار ہے۔ جہاں امن نہیں، انتشار اور تصادم ہے۔ وہ معاشرے اور ملک ترقی نہیں کرسکتے۔

ہم ذرا ذرا سی بات پرایک دوسرے کے ساتھ الجھ جاتے ہیں۔ کوئی اپنا قصور تسلیم نہیں کرتا۔ کوئی سوری اور تھینک یو نہیں کہتا، ہم سب ایک دوسرے سے لاتعلق ہیں۔ کوئی معمولی سی کرٹسی کرنے کو تیار نہیں ہوتا

تجزیات: آپ کے نزدیک یہ مفید تصور ہے ،تویہ جاننا چاہیں گے کہ سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ہمارے ہاں کوئی نصاب موجود ہے؟

ارشد محمود: افسوس کی بات ہے، کہ ہمارے ہاں سماجی ہم آہنگی پیدا کرنے والا نصاب ہے، نہ کوئی قومی اور ریاستی پالیسی. پاکستان جب بنا، توہماری ریاستی اشرافیہ نے قومی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی کے لئے جو پالیسی بنائی، اس نے ہم آہنگی کی بجائے انتشار پیدا کیا اور باہمی فاصلے پیدا کئے،علاوہ ازیں ہمارا سماج شدت پسندی، دہشت گردی، تفرقہ بازی میں دھنستا چلا گیا۔ ہم متصادم ٹکڑوں، گروہوں، طبقات میں بٹ چکے ہیں۔ بد امنی کا یہ عالم ہے کہ سرمایہ کاری یا صنعت کاری تو بہت دور کی بات ہے، پاکستان میں دنیا کی کوئی ٹیم ایک عرصے سے کھیلنے نہیں آئی۔ یہ بھی وقت آیا، امریکہ ، برطانیہ نے اپنے ویزہ ڈیپارٹمنٹ دبئی منتقل کردیئے۔ بین الاقوامی ایجنسیاں اور ادارے ہمیں پاکستان سے باہر ہی سفارتی سطح پر ملنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ پاکستان نہیں آنا چاہتے۔

مکنہ طور پر انسان یونیورسل کلچر میں جارہا ہے۔ جہاں انفرادی شناختیں پرانے معنی کھورہی ہیں۔ یہ ذات پات، گاں، شہر، وطنیت، زبان،عقیدے کی شناختیں.سب چھوٹ جائیں گی یا کم از کم ان کی اہمیت وہ نہیں رہے گی، جو ماضی میں تھی۔ 

تجزیات: ہمارے ہاں سماجی مطالعہ کو غیر اہم مضمون کیو ں سمجھا جاتا ہے۔اس کو غیر اہم جان کر کیا نقصانات ہوئے ہیں؟

ارشد محمود: یہ بھی ہمارا قومی المیہ ہوا کہ پاکستان میں معاشرتی علوم یعنی سوشل سٹڈی کا مضمون 70 کی دہائی میں ختم کرکے مطالعہ پاکستان رکھ دیا گیا۔ ہماری ریاست کے پالیسی سازوں کی منشا یہ تھی کہ آنی والی نسلوں میں جذبہ حب الوطنی بیدار کیا جائے ،یہ جذبہ تو بیدار نہ ہوا اُلٹاتنگ نظر متعصب قوم پرستی کو فروغ ضرورملا۔ معاشرتی علوم کے مضمون کو فوری طور پر نصاب میں شامل کیا جانا چاہئے تاکہ ہماری نوجوان نسلیں اس بات کو سمجھیں، کہ انسان نے مل جل کررہنا ہوتا ہے۔ جس میں کسی بھی طرح  ”دوسرے “کا احترام کرنا ہوتا ہے۔ خواہ اس کا رنگ، عقیدہ، زبان، کچھ بھی ہو۔ ہمیں انسانی سطح پر اپنے سماجی اور بین الاقوامی رشتوں کو استوار کرنا ہوگا۔

 بدقسمتی سے ہمیں جنگی جنونی قوم بنا دیا گیا ہے اور افسوس کا مقام ہے۔ اس میں ہماری بالائی ریاستی اشرافیہ کا ہاتھ رہا ہے۔

تجزیات: ایک متوازن سماجی زندگی کیسے گزاری جاسکتی ہے،اس کے لیے کن عوامل کو بروئے کار لانا پڑے گا؟

ارشد محمود: متوازن سماجی زندگی کا اصول جدید تہذیب نے جو دیا ہے، وہ ہے کثرتیت پسندی یعنی یہ سوچ کہ دنیا اور انسان مختلف رنگوں کے پھولوں اور متنوع پودوں کی طرح ہیں۔ سبھی اپنی اپنی جگہ خوبصورت ہیں۔ سبھی کے نظریات ، خیالات، عقائد قابل احترام ہیں۔ کوئی پیدائشی گناہ گار نہیں۔ کوئی پیدائشی کم تر نہیں، کوئی پیدائشی ہمارا دشمن نہیں۔ پھر متوازن سماجی زندگی کے لئے بھی ضروری ہے، کہ طبقاتی تفریق کو کم سے کم کیا جائے۔ عمومی طور پر خوشحال معاشرے ہی رواداری والے پر امن معاشرے ہوتے ہیں۔ عوام کوبہتر جدید تعلیم کی سہلوتیں مہیا کی جائیں۔ تاکہ نہ صرف ان کی شعوری سطح بلند ہو وہ معاشی لحاظ سے بھی اپنے اور سماج کے لئے زیادہ سے زیادہ مفید ہوسکیں۔ تنازعات کو گفتگو کے ذریعے طے کیا جائے، اور ہر صورت قانون کی حکمرانی لازم قرار دی جائے۔ کسی کو کسی صورت قانون شکنی کی اجازت نہ ہو۔ قانون کا احترام سب سے پہلے ہونا چاہئے۔ ہمارے خیال میں یہ بنیادی چیزیں ہیں، جس سے معاشرتی ہم آہنگی پیدا کی جاسکتی ہے، جو نہ صرف انسانوں کو مل جل کرخوبصورتی سے رہنے کا امکان دیتی ہے۔ بلکہ ان کی پیداواری اور تخلیقی صلاحتیوں میں بھی اضافہ کرتی ہے۔

تجزیات: کیا ہم پاکستان کو ایک کثیر الجہت سماج کہہ سکتے ہیں ؟

ارشد محمود: دیکھیں، دنیا، کائنات ، زندگی ، انسان سب کثیرالجہت ہیں۔ چنانچہ پاکستان بھی رنگا رنگ لوگوں پر مشتمل ہے۔ لیکن ہماری ریاستی اشرافیہ کا خبط رہا ہے، کہ اسے”یک جہت“کیا جائے۔ آپ نے دیکھا ہوگا، ہمارے ہاں سیاسی، حکومتی، صحافتی سطح پریک جہتی پر بڑا زور دیا جاتا ہے۔ ہم مصنوعی طور پر یک جہتی پیدا کرنا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں 20 کروڑ لوگ بھی ایک ہی جہت میں سماجائیں گے۔ یہ غیرسائنسی ، غیر عقلی، غیر حقیقی نظریہ ہے۔ سب کو ایک نہیں اور نہ ایک جیسا کرنا ہوتا ہے۔ تنوع کو تسلیم کرنا ہوتا ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے، جب سب ایک دوسرے کو احترام اور محبت کے ساتھ تسلم کریں۔

تجزیات: پاکستانی سماج کے بنیادی رویے مثبت اور منفی بھی کون کون سے ہیں ؟

ارشد محمود: پاکستان کے عوام بنیادی طور پر تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ یہ تفریح ، میلے ٹھیلے کو پسند کرنے والے لوگ ہیں۔ ان کو اگر موقع ملے اور ان کی راہ سے رکاوٹیں ہٹا لی جائیں تو انڈیا ہمارے مقابلے میں کچھ نہیں….ہم اس کے ساتھ معاشی، سائنسی، ثقافتی، آرٹ، فنون لطیفہ میں بہت آگے نکل سکتے ہیں۔ ہمارے لوگوں کو جنگی جنونیت کی طرف دھکیلا گیا ہے۔ پاکستان کے لوگ بڑے خوبصورت لوگ ہیں۔ وہ دنیا کے ساتھ چل سکتے ہیں۔ مثبت رویے اس کے اصل ہیں، منفی ان پر اوپراور باہر سے عائد کئے گے ہیں۔ پاکستانی سرشت کے لحاظ سے منفی رویے نہیں رکھتے۔

ہمارے لوگوں کو جنگی جنونیت کی طرف دھکیلا گیا ہے۔ پاکستان کے لوگ بڑے خوبصورت لوگ ہیں۔ وہ دنیا کے ساتھ چل سکتے ہیں۔ مثبت رویے اس کے اصل ہیں، منفی ان پر اوپراور باہر سے عائد کئے گے ہیں۔ 

تجزیات: مثبت اور منفی دونوں طرح کے رویے کیسے ترتیب پاتے ہیں ؟

ارشد محمود: انسان نے کروڑوں سال جنگلی وحشیانہ زندگی گزاری ہوئی ہے، ہماری ساری نفسیات اور جبلتیں اسی دور کی ترتیب شدہ ہیں۔ لیکن انسان کا معاشی اور تہذیبی ارتقا اسے ایک تہذیب یافتہ انسان میں بدل رہا ہے۔ یعنی ہم وقت کے ساتھ” ہیومن نائز “ہورہے ہیں۔ حیوانی حصے کو کم کررہے ہیں اور انسانی حصے کو بڑھا رہے ہیں۔ لیکن اس کا تعلق سائنس جدید تعلیم، اور معاشی ترقی و ارتقا سے ہے۔ ہمارے منفی رویے کم ہوتے جائیں گے۔ اور مثبت رویے بڑھتے چلے جائیں گے۔ یوں عالمی طور پر سماجی ہم آہنگی کی سطح بلند ہوتی چلی جائے گی۔

تجزیات: تعصب چونکہ سماجی اور منفی سماجی رویہ ہے۔اس کی تعریف جاننا چاہیں گے نیز ہمارے ہاں تعصب کی بنیاد پر جو مظاہر ے رونما ہوئے ہیں انہوں نے ہماری سماجی زندگی کو کس حد تک متاثر کیا ہے۔یا ایسے مظاہر نے سماج کو کس حد تک نقصان پہنچایا ہے؟

ارشد محمود: تعصب پیدا ہوتا ہے، دوسرے کے مقابلے میں احساس برتری سے۔ میری ذات، میرا عقیدہ، میرا خاندان، میری زبان، میری ثقافت….دوسروں سے برتر ہے۔ تعصب تنگ نظری پیدا کرتا ہے۔ انسان کو موضوعیت کا شکار کرتا ہے اور معروضیت کا خاتمہ کرتا ہے۔ ہم اپنے ہی اندرونی خود ساختہ کھانچے میں مقید ہوکردنیا کو دیکھتے ہیں۔ ممکن ہے، حقیقتیں بدل گئی ہوں۔ ظاہر ہے اس طرح کے رویے معاشروں کو تقسیم درتقسیم کرتے ہیں۔ ان میں تناﺅ پیدا کرتے ہیں۔

تجزیات: کسی سماج میں تنازعات کیسے جنم لیتے ہیں یعنی تنازعات کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟ علاوہ ازیں ہر سماج میں تنازعات موجود ہوتے ہیں ،مگرایسا کیا کرنا چاہیے کہ تنازعات پُرتشدد نہ ہو سکیں؟ نیز اس بات سے کیسے محفوظ رہا جائے کہ تنازعات جنم ہی نہ لیں؟

ارشد محمود: تنازعات کی وجوہات معاشی، ثقافتی، علمی، مذہبی تفریقات سے ہوتی ہیں۔ ہر گروپ اپنی بقا اور مفادات کومحفوظ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جمہوری اور قانون کی بالادستی والے معاشروں میں تنازعات میں تناﺅ کم سے کم ہوتا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں تنازعات عام طور پرلڑائی، جھگڑے، ٹکراﺅ کا سبب بنتے ہیں۔ کیونکہ دونوں فریق جمہوری ڈائیلاگ اور قانون کی بالادستی کی بجائے طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔ ہر کوئی چاہتا ہے، کہ طاقت سے دوسرے پر غالب آ جائے۔

تجزیات: تشدد کسے کہتے ہیں اور اس کی کتنی اور کون سی اقسام ہیں؟

ارشد محمود: کسی بھی بات کو طاقت کے زور پر منواناتشدد ہے۔ یہ تشدد گالی گلوچ سے لے کرمارپیٹ، دھمکی اور قتل و غارت گری، بم دھماکے،جنگیں، خود کش حملے….یہ سب تشدد کے مظاہر ہیں اور آپ دیکھ سکتے ہیں، تشدد کی یہ سب شکلیں ہمارے ہاں عام ہوچکی ہیں۔ ہم ایک تشدد پسند قوم بن چکے ہیں۔ تشدد کا مطلب ہوتا ہے۔ اپنے مقاصد کو فوری طاقت کے ذریعے حاصل کیا جائے….

تجزیات: اگر کسی سماج میں تنازعات جنم لے لیں اور ان پر قابو پانے کی مشق بے سود ہو جائے یا قابو پانے کی طرف دھیان ہی نہ دیا جائے تو تنازعات کے تنائج کس حد تک خوف ناک ہو سکتے ہیں؟

ارشد محمود: بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایسا ہی ہورہا ہے۔ تشدد سے روکنے کے لئے اور تنازعات کو باہمی مکالمے، اخلاقی اصولوں اور قانون کے مطابق طے کئے جائیں۔ اس کے لئے سازگار ماحول، تعلیم و تربیت اور قانون کی بالادستی کے انفراسٹرکچر کا فقدان ہے۔ ہم بے صبرے ہو چکے ہیں۔ جلد غصے میں آ جاتے ہیں۔ انتقام لینا چاہتے ہیں۔ دوسروں پر کنٹرول اور غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہر کوئی سمجھتا ہے، کہ کوئی قانون پر عمل نہیں کرتا….بڑے سے لے کرچھوٹے تک…. تو میں کیوں کروں۔ چنانچہ جب بھی کسی کو موقع ملتا ہے۔ تو دوسرے پرٹوٹ پڑتا ہے۔ انصاف کی محرومی کا ایک غصہ بھی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے بالائی طبقات بھی قانون کی بالادستی پر چلنے کو تیار نہیں۔ مارشل لا،طاقت کے استعمال کا نام ہے، اگر جنرل آئین اور قانون توڑ سکتا ہے۔ تو ایک عام آدمی ٹریفک کا اشارہ کیوں نہیں توڑ سکتا۔احتساب کا عمل بھی بہت کمزور ہے۔ اسی لئے پاکستانی معاشرہ تشدد پسند ہوگیا ہے۔ جسے قومی سطح پر بڑی سنجیدگی سے لینا چاہئے۔

تجزیات: کسی بھی سماج کو آگے بڑھنے کے لیے اَمن کی اشد ضرورت پڑتی ہے۔مگر کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہاں اَمن کو پسند ہی نہیں کیا جاتا؟

ارشد محمود: امن تو زندگی کی بقا اور ترقی و ارتقا کی چابی ہے۔ امن نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ آج آپ شام ، عراق، لیبیا، یمن، افغانستان کے معاشرے دیکھ لیں۔ کس طرح وہاں کے کروڑوں باشندوں کے گھر بار، کاروبار، سب تباہ ہوگے۔ ہر دوسرے گھر کا کوئی نہ کوئی باشندہ جنگ اور فسادات کی بھینٹ چڑھ گیا۔ پاکستان میں اگرچہ ابھی بھی ریاستی کنڑول موجود ہے۔ اور تشدد اور بدامنی کی خواہاں قوتوں پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بدقسمتی سے ہمیں جنگی جنونی قوم بنا دیا گیا ہے اور افسوس کا مقام ہے۔ اس میں ہماری بالائی ریاستی اشرافیہ کا ہاتھ رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو بین الاقوامی جنگ و جدال کا مرکزبنوا دیا۔ اور دنیا بھر سے دہشت گردوں کو پاکستان میں محفوظ ٹھکانے مہیا کردیئے۔ہمیں یہ بات پلے باندھ لینی چاہئے، کہ صرف امن سے پاکستان ترقی اور خوشحالی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ چنانچہ ہمیں ہر طرح کے تشدد اور انتہا پسندانہ نظریات کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

تجزیات: اگر کسی فرد کے سماجی تعلقات محدود ہیں ،تو اس فرد اور سماج پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟نیز جو فرد سماجی تعلقات میں وسعت رکھتا ہے ،اس کی تشریح کیسی بنے گی؟

ارشد محمود: سماجی تعلقات کی پرانی شکلیں ٹوٹ رہی ہیں۔ فیملی، خاندان، ہمسائے،دوست احباب وغیرہ کے روایتی رشتے کمزور پڑتے جارہے ہیں۔ دنیا اب گلوبل ہورہی ہے۔ کمیونیکشن اور انٹرنیٹ نے سماجی تعلقات کی ساخت بدل کر رکھ دی ہے۔ پرانے سماجی تعلقات قبائلی اور فیوڈل معاشی ماحول کی پیداوار تھے۔ ہر کوئی اپنے خاندان، اپنی ذات، قبیلہ ، گاﺅں، کا محتاج تھا۔ آج خودکفالتی کا زمانہ ہے۔

اب فرد اور اس کی پرائیویسی  کی زیادہ اہمیت ہے۔ ہم اکیلے ہو کر بھی اکیلے نہیں ہوتے۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کےذریعے فرد دنیا بھر کے لوگوں اور معلومات سے جڑا ہوتا ہوں۔ اب سماجی تعلقات میں زمانی اور مکانی بہت وسعت آ گئی ہے۔ بظاہر بندہ تنہا نظر آتا ہے۔ لیکن وہ دوسرے انسانوں سے یا اپنی دلچسپی کی چیزوں سے وابستہ ہوتا ہے۔

تجزیات: شناخت کے کیا معنی ہیں اور اس کے ہمارے ہاں کیا پیمانے مقرر کیے گئے ہیں ؟

ارشد محمود: اصل میں ہرچیز تغیرپذیر ہوتی ہے۔ اس دنیا میں کچھ بھی جامد نہیں۔ پرانی شناختیں ختم ہوجاتی ہیں۔ اور نئی شناختیں بنتی چلی جاتی ہیں اور ممکنہ طور پر انسان یونیورسل کلچر میں جارہا ہے۔ جہاں انفرادی شناختیں پرانے معنی کھورہی ہیں۔ یہ ذات پات، گاﺅں، شہر، وطنیت ، زبان،عقیدے کی شناختیں ….سب چھوٹ جائیں گی یا کم از کم ان کی اہمیت وہ نہیں رہے گی، جو ماضی میں تھی۔

تجزیات: جب کوئی فرد اپنی شناخت کو دھندلاتا ہوا محسوس کرتا ہے تو وہ تشدد پر اتر آتا ہے۔ایسا کیوں؟

ارشد محمود: جی ہاں،اس لئے کہ وہ اپنی ذات کو اپنی شناخت میں دیکھتا ہے۔ ہم سینکڑوں سال ان شناختوں میں رہے ہیں….پرانے زمانے میں فرد کی اہمیت نہیں ہوتی تھی۔۔چنانچہ ہرفرد خود کو اپنی شناخت میں دیکھتا تھا۔

تجزیات: فرقہ واریت مذہبی مسئلہ ہے یا سماجی؟آپ کے نزدیک اگر فرقہ واریت سماجی مسئلہ ہے تو اس کے اثرات سماج پر کیا مرتب ہوئے ہیں اور ہوسکتے ہیں ؟

ارشد محمود: ہمارے ہاں مذہب اور سماج ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اسی لئے ایک ہی وقت میں ایک چیز مذہبی ہوتی ہے اور سماجی بھی۔ مذہب انسانوں کے ہوتے ہیں۔ اور انسانوں سے سماج بنتا ہے۔ میرے خیال میں جب سماج کا ارتقا اور ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔ تب اس طرح کے فروعی تنازعات فروغ پاتے ہیں۔ لوگ گروہوں میں تقسیم ہوکر اپنی شناخت پکڑتے ہیں۔ اور پھر اپنے مفادات اور اثررسوخ کوبڑھاتے ہیں۔ فرقہ واریت یقینی طورپرمعاشرے پر برے اثرات چھوڑتی ہے۔ ان کو تقسیم کرتی ہے۔ تناﺅ، تفریق اور تنازعات پیدا کرتی ہے۔ اور یہ ساری تقسیم فروعی نوعیت کی ہوتی ہے۔ سماج کمزور پڑتے ہیں۔ ان کی ترقی اور ارتقا رک جاتا ہے۔ معاشرے کی انرجی مثبت اور ترقی کی طرف لے جانے کی بجائے فضول، بے معنی، خیالی ، فروعی اختلافات کی طرف لے جاتی ہے۔

تجزیات: آپ کے نزدیک دہشت گردی کے سماجی اسباب کیا ہیں ؟مثلاًجیسے سماجی ناانصافی دہشت گردی کو جنم دے سکتی ہے وغیرہ۔

ارشد محمود: ہمارے ہاں جو دہشت گردی آئی ہے۔ اس کا تعلق کسی ناانصافی سے نہیں ہے۔ دہشت گردی میں ملوث وہ لوگ پائے گے ہیں۔ جو مڈل اور اپر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ایک تو دہشت گردی بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت آئی، جس میں خود ہماری ریاست نے بھی ساتھ دیا۔ میرا مطلب روس افغانستان تنازعے میں جب مداخلت ہوئی۔ اس وقت امریکہ اور سعودی عرب کی سرکردگی میں دیگر مسلم ممالک کی مالی، افرادی، اور اسلحے کی فراہمی سے مسلح جتھے بنائے گے، جن کی کفر کے خلاف لڑنے کی ذہن سازی کی گئی۔ چنانچہ آج جو گروہ دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ وہ کسی سماجی ناانصافی کی وجہ سے نہیں۔ بلکہ اُسی ذہن سازی کی وجہ سے ہیں۔

تجزیات: برداشت اور رواداری میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں،ہمارے ہاں برداشت کا سبق دیا جاتا ہے کہ ہر برے عمل کو برداشت کرو،یعنی برداشت کرنے والا کوئی ردِعمل نہیں دے سکتا؟کیا برداشت منفی رویہ نہیں ہے؟

ارشد محمود: برداشت اور رواداری میں بہت فرق ہے۔ روادی کا مطلب ہوتا ہے، دوسرے کو سپیس دینا….دوسرے کا احترام کرنا…. جب کہ برداشت مجبوری اور بے بسی کا نام ہے۔ برداشت ایک منفی رویہ ہے۔ گھٹن کا نام ہے۔ برداشت کا مطلب، ہو غلط رہا ہے….لیکن اسے قبول کریں اور خاموش رہیں۔ اس سے مزید چڑچڑا پن پیدا ہوتا ہے۔ آپ اپنا خون جلاتے ہیں۔ اور خاموش رہتے ہیں۔ کسی کو کچھ نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ آگے سے کوئی آدمی آپ کی بات کو تحمل سے نہیں سنے گا۔ وہ کہے گا، تم کون ہوتے ہو….تیرے باپ کی جگہ ہے….وغیرہ…. اس سے معاشرے میں مزید بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔

تجزیات: غصہ کا سماجی حل کن چیزوں میں پوشید ہے؟

ارشد محمود: غصے کا سماجی اظہار فرسٹریشن کی پیداوار ہوتا ہے۔ غصے والے معاشروں میں باہمی احترام کا عنصر کمزور پڑجاتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا، ہم ذرا ذرا سی بات پرایک دوسرے کے ساتھ الجھ جاتے ہیں۔ کوئی اپنا قصور تسلیم نہیں کرتا۔ کوئی سوری اور تھینک یو نہیں کہتا….ہم سب ایک دوسرے سے لاتعلق ہیں۔ کوئی معمولی سی کرٹسی کرنے کو تیار نہیں ہوتا…. ہر کوئی بس اپنا مطلب پورا کرتا ہے۔ وہ کسی دوسرے کا خیال بیچ میں نہیں لاتا۔ تو یہ سماجی لاتعلقی بھی غصہ کا ہی اظہار ہے۔”میرے لئے کسی نے کچھ نہیں کیا، تو میں کسی کے لئے کیوں کروں“ اب اس کے سماجی حل کا کیا فارمولہ دیا جائے…. بچپن سے تربیت اور تعلیم ہے۔ ہم چھوٹی عمرسے ہی ایک دوسرے کی مدد کرنی، تعاون کرنا، احترام کرنا سیکھیں۔

تجزیات: خوف کے سماجی عوامل کون سے ہیں ؟

ارشد محمود: ہمارے معاشرے میں ہر فرد پر خوف ہی خوف ہیں۔”دنیا کیا کہے گی“ سب سے بڑا سماجی خوف ہے۔ ہمارے معاشرے کا فرد اپنے فکروعمل میں آزاد نہیں ہے۔ ہمارے ہاں تو تعلیم کس نوعیت کی حاصل کرنی ہے۔ اسے اپنی مرضی سے نہیں لے سکتے، خاندانی اورسماجی دباﺅہوتے ہیں۔ مثلاً ہر ماں باپ اپنے بچے اور بچی کو ڈاکٹر اور انجینئر بنانا چاہتا ہے۔ ہر کوئی دوسرے کو کنٹرول کرنے کی نظر سے دیکھ رہا ہے….یہ یوں کیوں کررہا ہے، یا یوں کیوں نہیں کررہا….اور دوسرے لوگ باقاعدہ آپ کے ذاتی افعال میں مداخلت کریں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...