حیرت، آنکھ اور خواب

183

کوئٹہ بلوچستان کی ادبی و شعری صورتِ حال میں نوجوانوں کا حصہ بقدرِ جثہ بہت شاندار رہا ہے۔ ناموں کی ایک طویل فہرست میں احمد وقاص کا نام بلاشبہ نمایاں ترین ناموں میں شامل ہے۔ احمد وقاص نے مستقل مزاجی کے ساتھ نہ صرف شعر و ادب کے میدان میں اپنے آپ کو فعال رکھا ہے بلکہ اپنی شعری تصانیف کے توسط سے براہ راست اور بھرپور ساجھے داری بھی کی ہے۔

احمد وقاص کی تازہ تصنیف پر لکھنے سے پہلے بتاتا چلوں کہ کوئٹہ میں ابھی میری نسل اور قریب قریب میرے ہم عمروں نے اڑان بھری ہی تھی کہ بقول ِغالب ’’ گرفتار ہم ہوئے‘‘  اور اپنے تئیں جبرِ حالات سے پناہ مانگتے پھر تے رہے۔ لیکن پھر بھی میرے اکثر دوست ناسٹالجیا میں کچھ یادیں اچھی بھی رکھتے ہیں۔ جب ہم نے نوجوانی سے جوانی میں قدم رکھا تو احمدوقاص نوجوانی میں داخل ہورہے تھے۔بڑے اچھے دن تھے کوئٹہ کے، پروگرام پر پروگرام ہوتے تھے ادب کے شعر کے۔ ادبی صفحے تھے اور مجلے تھے۔ بیٹھکیں تھیں۔ لٹ خانے تھے کیف فرح اور کیفے بلدیہ کا گوشہ تھا۔ فاران ہوٹل تھا، سوزا تھا ریلوے اسٹیشن کی کھڑک چائے تھی اور ایک سے ایک اساتذۂ  شعر و فن مصروف کار و افکار تھے۔ نئے پرانے مباحث تھے، فکر تھی اور بے فکری تھی خیال تھا اور بے خیالی تھی۔ ہم جو باتیں کتابوں میں پڑھ رہے تھے تو لگتا تھا کہ گویاہمارا کوئٹہ منی لکھنؤ تھا۔

اس شہر میں ہم جیسے بھی تھے جو شاعر بننے کی کوششوں میں مصروف تھے اور کوئی میلہ ٹھیلہ نہیں چھوڑتے تھے۔ کبھی کوئی مشاعرہ پڑھا تو ہفتوں اس کے خمار میں رہتے تھے اور شہر میں اکڑ کر چلتے کہ جیسے سارا شہر ہمیں مشاعرہ میں دیکھ چکا ہو۔ ہم نے اگر کچھ سیکھا تو اس زمانے میں ایسے ہی تنوع اور رنگا رنگی سے سیکھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ احمد وقاص کو جب سے دیکھا ہے شاعر ہی دیکھا ہے۔ احمد وقاص ایک ہمہ وقت شاعر، ایک ایسا دوست ہے جو ہر بے تکلف محفل کو بھی گھما پھرا کر کسی تازہ کاری یا کسی کے نئے پرانے شعر سے مالامال کرنے کا موقع ضائع نہیں کرتا۔ اس کی نئی کتاب “غبار حیرت” اس کی محنت شاقہ اور دن رات فکر و فن میں ڈوبے رہنے  کا مآحصل ہے۔ کتاب کا سرنامہ پڑھنے سے کلام کے مطالعہ تک حیرت ہی حیرت ہے اور یہی حیرت ہے جو انسانی سوچ اور بچار کی کلید ہے اور یہی فلسفے کا درِ باز ہے۔

ذاتی طور پر احمد وقاص کے اس استغراق پر خود مجھے بھی حیرت ہے کہ کیسے وہ ایک ایسی کیفیت میں ڈھل گیا اور اس سے وابستہ موضوعات کو شعر میں ڈھال گیا۔ حیرت افکار و اشعار کے سرخیل حضرتِ بیدل فرماتے ہیں:

دل حیرت آفرین است ھر سو نظر گشاییم

در خانہ ھیچ کس نیست آیینہ است و ماییم

یا

مژگان بہ کارخانہ ی حیرت گشودہ ایم

در دست ما کلید در ِ باز دادہ اند

اب آپ احمد وقاص کے شعر سنیئے اور سر دُھنیے:

دشت امکاں تری وسعت کم ہے

اس لیے آنکھ میں حیرت کم ہے

خواب کب ہے غبار ِحیرت ہے

میری آنکھوں پہ بارِ حیرت ہے

ہر قدم ایک نیا مسئلہ درپیش رہا

ہر قدم اک نئی حیرت سے تجھے ڈھونڈا ہے

تو بھی سمجھا نہیں اس آنکھ کا دکھ

تو تو پروردگار ِحیرت ہے

وقاص حیرت کی شاہراہ پر قدم ِ اول کے لیے آنکھ کا استعمال کرتا ہے اور اس کی محدودیت سے کماحقہ آگاہ بھی ہے۔ اسی لیے آنکھ سے مکالمہ اور اس تذکر اس کی شاعری میں جا بجا ملتا ہے:

صبحِ اول، جو مری آنکھ میں رکھی گئی تھی

میں ابھی تک اسی حیرت سے تجھے دیکھتا ہوں

یا

کون آنکھوں میں چھپے درد کو پہچانے گا

کون سمجھے گا مری چپ کے معانی بابا

یا

یار! ہم لوگ ہیں ابہام کے مارے ہوئے لوگ

تیری آنکھوں میں یقیں دیکھ کے جی اٹھتے ہیں

یا

کچھ تو ان ہجر زدہ آنکھوں کی قیمت نکلے

میرے معبود کوئی خواب کی صورت نکلے

دیدۂ بینا کے لیے جناب ِ بیدل کا ایک نادر روزگار شعر ملاحظہ ہو:

بی گل رویت ز رنگ گلشن ھستی

خاک بہ چشمی کہ  او  غبار ندارد

یا

چشمی کہ ندارد نظری حلقہ ی دام است

ھرلب کہ سخن سنج نباشد لب بام است

اب عزیزی احمد وقاص کے کچھ مزید اشعار ملاحظہ کیجیے کہ وہ ان میں اپنے خیال کو شعری لفظیات میں لاکران سے کامیابی کے ساتھ معانی تراشتا ہے ۔یہاں خواب، ہجراور زندگی جیسے موضوعات کو بلاغت ِ بیان کے ساتھ اپنے قاری کے لیے سہولت بہم پہنچاتا ہے:

اس حقیقت پسند دنیا میں

خواب مسمار کیوں نہیں ہوتے

کسی بھی طور میں تجھ سے جدا رہا ہی نہیں

سو اب یہ ہجر مرا مسئلہ رہا ہی نہیں

خوں میں ڈوبی ہوئی اشکوں کی روانی مل جائے

کاش مجھ کو مرے ہونے کی نشانی مل جائے

اتنا پر کیف کہ ہونے کا یقیں آجائے

واہمہ چاہیے ہوتا ہے زمیں زادوں کو

میں تجھ کو دیکھتا ہوں خود کو دیکھنے کے لیے

ترے علاوہ کوئی آئینہ رہا ہی نہیں

آنکھیں انہیں مت سمجھو، قبریں ہیں یہ خوابوں کی

یہ آہ نہیں دل سے ارما ن نکلتے ہیں

جس کو کوئی جواب ہی نہ ملا

سوچ سکتے ہو اس سوال کا دکھ

میں خود روشن کہاں ہوں

یہ تیری روشنی ہے

ابھی خاموش ہے وہ

ادھوری روشنی ہے

زندگی کو نئی امید دلاتا ہوا دن

دیکھنا چاہتا ہوں خواب دکھاتا ہوا دن

ڈھونڈتا رہا خدا

میں کہیں نہیں ملا

جادۂ ہجر پہ میں اس لیے چل پڑتا ہوں

شاید اس طرح کوئی یاد پرانی مل جائے

کیا اسے زندگی کہا جائے

ایک لمحہ ٹھہر گیا مجھ میں

یہ بات روایت سے ہٹ کر کہتا ہوں اورامیدکرتا ہوں کہ احمد وقاص کی شعری تصنیف ” غبار حیرت ” اردو دنیا سے وابستہ تشنگان شعر و ادب کی توجہ حاصل کرلے گی اور ہمارایہ شاعر اسی طرح سے مشق ِسخن کو جاری رکھتا ہوا اپنے حصے کا کام جاری رکھے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...