سہ ماہی تجزیات کی ’’شناخت‘‘ کے موضوع پر خصوصی اشاعت

136

سہ ماہی تجزیات کا تازہ شمارہ منظر عام پر آگیا ہے۔ حالیہ شمارے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں  شناخت کے موضوع پر مضامین شائع کیے گئے ہیں۔ شناخت اور اس کے بحران کے مظاہر و اسباب کی بحث پوری دنیا میں کی جارہی ہے۔ پاکستان  میں یہ مسئلہ نیا نہیں ہے، بلکہ دیکھا جائے تو ملک میں سیاسی، سماجی، معاشی اور مذہبی حوالوں سے شدید ناہمواریت، اس کے ساتھ حقوق کی حالیہ تحریکوں اور نوجوانوں میں جنم لیتے اضطراب نے شناخت کی بحث کو ایسے مرحلے پر پہنچا دیا ہے جس پہ بات کیے بنا چارہ نہیں۔ ہم کون ہیں؟ کے سوال ساتھ صحت مند تشخص کا تعین ضروری ہوچکا ہے۔ سہ ماہی تجزیات نے اس موضوع پر اہل علم کی آرا قارئین تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان کی حد تک شناخت کے قضیہ کے مقامی پہلو اور عناصر اہم ہیں، جن پر غور کیا جا نا چاہیے لیکن ایک عالمی نظام کا حصہ ہونے کی بنا پر تشخص کے موضوع کے کچھ جدید پیرائے بھی ہیں جن کے بطور نظم عملی  اثرات سے ہمارا سماج بھی محفوظ نہیں ہے۔ اس لیے حالیہ اشاعت میں  کچھ ایسے مضامین کے تراجم بھی شامل کیے گئے ہیں  جو شناخت کی بحث کے عالمی تناظر پر روشنی ڈالتے ہیں۔

اس شمارے کو اداریے سمیت 6 حصوں میں تقسیم کیا  گیا ہے۔ اداریے میں قومی یکجہتی کے لیے سماجی مساوات اور سیاسی استحکام کی ناگزیریت پر بات کی گئی ہے۔ دوسرا حصہ ’’شناخت اور بحران‘‘ کے عنوان سے ہے، جس میں بالترتیب چار مضامین شامل ہیں: ’’شناخت کا بحران اور عالمی تناظر، فوکویاما کا نقطہ نظر‘‘ یہ تجزیات کے مدیر محمد عامر رانا نے لکھا ہے، اس میں فوکویاما کی شناخت پر معروف کتاب کا بدلتے عالمی سیاسی منظرنامے کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے۔ دوسرا مضمون ’’پاپولزم کیا ہے اور شناخت کے بحران سے اس کا کیا تعلق ہے؟‘‘ کے نام سے ہے، یہ کاس مڈی اور کرسٹوبل روویرا کالتوسر کے ایک آرٹیکل کا ترجمہ ہے جو پاپولسٹ تحریکوں کا تعارف پیش کرتا ہے اور یہ کہ پاپولسٹ رہنما سماج میں کیسے جگہ بناتے ہیں۔ تیسرا مضمون میڈلن البرائٹ کا ’’نئی فسطائیت کا ظہور، دنیا کس سمت جائے گی؟‘‘ ہے۔ یہ انگریزی سے ترجمہ ہے۔ ایک مضمون شفیق منصور کا ہے جس کا موضوع ’’پاکستان میں شناخت کی بحث ‘‘ہے۔

اس سے اگلا حصہ ’’شناخت کے مختلف تناظر‘‘ کے نام سے ہے۔ اس میں مقامی پہلو سےتشخص کی بحث کے مختلف سیاسی، معاشی، مذہبی اور صنفی حوالوں سے تجزیے پیش کیے گئے ہیں، جن کے عنوانات اس طرح ہیں: ’’کیااپنی دریافت کا عمل شناخت کے احساس کو ابھارتا ہے؟‘‘ ثاقب اکبر۔ ’’صنفی شناخت کا ارتقائی مرحلہ‘‘ سعدیہ بخاری، ’’شناخت معیشت پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے؟‘‘ ذیشان ہاشم، ’’مسئلہ شناخت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی ضرورت‘‘ علی بابا تاج، ’’بلوچستان کے نوجوان کی پکار‘‘ گہرام اسلم بلوچ، ’’سندھ کی شناخت اور بقا کی جدوجہد‘‘ سہیل سانگی، ’’شناخت کا تاریخی پس منظر اور پاکستانی سماج‘‘ ڈاکٹر مزمل حسین، ’’ شناخت کا بحران، حقیقت یا فسانہ؟‘‘ اسلم اعوان۔

فکرونظر کے حصہ میں یہ تین اہم مضامین شامل اشاعت ہیں جو انگریزی سے ترجمہ کیے گئے ہیں: ’’جنوبی ایشیا میں جہاد، ڈاکٹر طارق رحمان کا مقدمہ‘‘ پروفسیرروبن سن، ’’مطلق العنانیت کا تاریخی پس منظر‘‘ ہنا آرنٹ، ’’انارکی کیا ہے اور یہ استحصالی نظام ک کیسے چیلنج کرتی ہے؟‘‘ کولن وارڈ۔

ادب  کے گوشے میں ’’میں ہوں نجود‘‘ کی تیسری قسط  دی گئی ہے جو عاطف ہاشمی سلسلہ وار ترجمہ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد کا حصہ’’تبصرہ کتب‘‘ کا ہے جس میں سات اہم کتب پر مختصر تبصرہ کیاگیا  ہے۔ آخر میں عابد سیال کی ایک نظم بھی شامل ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...