پاکستانی سیاست کا اکیڈمک تجزیہ

389

دیکھئے آپ کی طرح میری بھی یہ خواہش ہے کہ پاکستانی سیاست نظریاتی ہو مگر عملی طور پر ایسا ممکن نہیں۔ آخر کیوں؟ اس کے بارے میں پولیٹیکل سائنس کا لٹریچر ہماری رہنمائی کرتا ہے۔

پولیٹیکل سائنس میں سیاسی جماعتوں کو فرنچائز کہا جاتا ہے جس سے تقریباََ وہی مراد ہے جو ہم کمپنیوں سے لیتے ہیں۔ جس طرح کمپنیاں نفع کی جستجو کرتی ہیں ویسے ہی فرنچائزز سیاسی اقتدار کی جستجو کرتی ہیں۔ جیسا کہ کمپنیوں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ایک کرپٹ مارکیٹ میں کمپنیاں نفع کے حصول کے لئے کرپٹ ذرائع بھی استعمال کرتی ہیں اسی طرح ایک ملک کا سیاسی تمدن ہی طے کرتا ہے کہ اقتدار کے حصول کے لئے سیاسی جماعتوں (فرنچائزز ) کو کون کون سے ذرائع حاصل کرنا چاہئیں۔ اس ضمن میں اخلاقیات کی بحث بے معنی ہے۔

بالکل اسی طرح پولیٹیکل سائنس کے مطابق  ایک سیاسی نظام میں ووٹر کو ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ وہ یہ کہ اسے ایسی حکومت چاہئے جو اسے سماجی معاملات میں facilitate کرے اور اس کی آزادی، حقوق اور عزت نفس کا تحفظ کرے۔ یاد رہے کہ ووٹرز ایک homogenous (یکساں خصوصیات کا حامل) گروپ نہیں ہوتا بلکہ اس میں heterogeneity (متفرق خصوصیات ) پائی جاتی ہیں۔ یوں ووٹرز کی ان متفرق خصوصیات کی بنیاد پر ہی فرنچائزز (سیاسی جماعتیں ) اپنا منشور طے کرتی ہیں۔ ہر سیاسی جماعت خود کو جداگانہ شناخت دینا چاہتی ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے سے مشترک شناخت کے ووٹرز کو اپنی طرف مائل کر سکے۔

پولیٹیکل سائنس کا سارا لٹریچر ایک پلڑے میں رکھ دیں اور دوسرے پلڑے میں آپ اس کا Median voter theorem رکھ دیں، مجھے یقین ہے کہ Median voter theorem والا پلڑا بھاری ہو گا۔ اس تھیورم کے مطابق سیاسی جماعتیں یعنی فرنچائزز محض ووٹرز کے جذبات کا عکس ہوتی ہیں۔ ووٹرز کی اکثریت دو بڑی نظریاتی انتہاؤں کے تقریبا بیچ میں پائی جاتی ہے اور بڑی سیاسی جماعتیں محض بیچ کی پوزیش  (Median) کی نمائندگی کرتی ہیں۔ میری دانشوروں سے درخواست ہے کہ وہ اس تھیورم کو ضرور پڑھیں۔ یہ کمال ہے اور بتاتا ہے کہ لونگ ٹرم میں اگر سیاست غیر سیاسی عناصر کی مداخلت سے محفوظ ہو تو صرف اور صرف ووٹرز کی نمائندگی کرتی ہے اور اس ضمن میں سیاستدانوں اور یہاں تک سیاسی جماعتوں کی اپنی انفرادی حیثیت بھی بہت ہی کم ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ تھیورم ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ کیسے ووٹرز کی Median (درمیانی ) پوزیشن بدلنے سے سیاسی جماعتوں کا منشور تک بدل جاتا ہے اور یہ کہ ایک ملک کی سیاست کی دراصل کیا حرکیات ہیں۔ یاد رہے کہ یہ تھیورم پولیٹیکل سائنس میں ایسی حیثیت رکھتا ہے کہ اگر اسے رد کر دیا جائے یا پولیٹیکل سائنس سے نکال دیا جائے تو نہ صرف جدید علم سیاسیات بے روح ہو جائے گی بلکہ اس کا ستر سے اسی فیصد لٹریچر بے معنی ہو جائے گا۔

جمہوریت کا اصل تحفظ اور اس کی اصل جدوجہد عوام نے کرنی ہے اور انہوں نے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اقتدار کا راستہ فقط ان کی اکثریت کے ووٹ سے مشروط ہو

یوں یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ پاکستان میں بھی سیاسی جماعتیں اپنا اپنا برانڈ مضبوط کریں گی (یوں مریم نواز اپنے بیانیہ میں نواز شریف کو مضبوط کریں گی۔ بلاول، بھٹو فیملی کے تشخص کو مضبوط کریں گے، عمران خان اپنے علاوہ پارٹی میں کسی اور کا اپنے سے بڑا قد نہیں ہونے دیں گے)۔ اور وہی کریں گی جس سے ان کا اقتدار کی طرف راستہ ہموار ہو۔ اگر پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ اثرانداز نہ ہوتی اور محض الیکشن ہی سیاسی جیت اور سیاسی ہار کا فیصلہ کرتے تو ان سب نے بھی خود کو اسی الیکشن والے راستے تک محدود رکھنا تھا۔ اور جب تک اسٹیبلشمنٹ والا راستہ کھلا ہے جو پاکستانی سیاست میں سیاسی جیت کا یقینی راستہ سمجھا جاتا ہے، سیاسی جماعتیں اس کے لئے بارگین کرتی رہیں گی۔ یہ بات حتمی ہے اور اس ضمن میں جیسا کہ میں نے پہلے کہا اخلاقیات کی بحث بے معنی ہے۔

ووٹرز جمہوریت کو سپورٹ کیوں کرے؟ اس لئے کہ اس کی آزادی، حقوق، عزت نفس اور سماجی زندگی میں سہولیات (facilitation ) کے حصول کا یہی واحد راستہ ہے۔ اور صرف جمہوریت ہی وہ راستہ ہے کہ جس میں ووٹرز سیاسی جماعتوں کو مجبور کرتے ہیں کہ ان کے اقتدار کی آرزو صرف اس صورت میں پایا تکمیل تک پہنچ سکتی ہے جب وہ وہی منشور لائیں جو ہمارے مطالبات کا پورا پورا عکس ہو۔ ووٹرز جمہوریت کو سیاسی جماعتوں کو اقتدار میں لانے کی خاطر پسند نہیں کرتے بلکہ اپنے مفادات کی جستجو میں ایسا کرتے ہیں، یہ بات انتہائی اہم ہے۔ یوں عوام کے لئے بھٹو کی پھانسی کا نوحہ محض اس لئے کہ نہیں کہ وہ ایک سیاسی جماعت کا قائد اور سندھ کا وڈیرہ تھا بلکہ اس لئے ہے کہ وہ ان (عوام) کا منتخب کردہ تھا، نواز شریف کو نکالنے اور جیل میں ڈالنے میں محض نواز شریف کی بے عزتی نہیں ہوئی بلکہ اس سے عوامی حق حکمرانیت کی تذلیل ہوئی ہے۔

عوام کے ایک طبقے کی رائے کے اعتبار سے عمران خان کو پری پول رگنگ، ووٹوں کی گنتی کے دوران رگنگ، اور پولنگ کے بعد رگنگ (جب ممبران اسمبلی کو مجبور کر کے تحریک انصاف میں اکٹھا کردیا گیا) سے جتوایا جانا جمہوری حق انتخاب کی تذلیل ہے اور یہ دراصل عوام کی تذلیل ہے۔ عوامی ہمدردی محض بھٹو و نواز شریف کے ساتھ نہیں ہونی چاہئے بلکہ انہیں غصہ اس بات پر ہونا چاہئے کہ ان سے ان کا حق چھینا گیا ہے۔ جمہوریت کا اصل تحفظ اور اس کی اصل جدوجہد عوام نے کرنی ہے اور انہوں نے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اقتدار کا راستہ فقط ان کی اکثریت کے ووٹ سے مشروط ہو۔

اسی طرح یہ سوال کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے مفادات کا تحفظ کیوں کرتی ہے؟ کیونکہ اس کی طاقت کا بنیادی انحصار ہی اس پر ہے کہ وہ اپنی موجودہ سیاسی پوزیشن کھونے نہ دے۔ غیر سیاسی اسٹیبلشمنٹ جمہوریت کو کیوں ناپسند کرتی ہے؟ اس لئے کہ جمہوریت میں عوام اور فرنچائزز (سیاسی جماعتوں)  کا براہ راست رشتہ قائم ہونے لگتا ہے اور دونوں ایک دوسرے سے ووٹ کی شکل میں  legitimacy (قانونی حیثیت ) حاصل کر رہے ہوتے ہیں ۔یوں غیر سیاسی اشرافیہ یا اسٹیبلشمنٹ کی طاقت و رتبہ ثانوی درجے پر چلا جاتا ہے اور وہ اپنا استحقاق (privilege ) کھو بیٹھتے ہیں یا وہ انتہائی کم ہو جاتا ہے۔

پولیٹیکل سائنس سیاست میں altruism (جذبہ ایثار و ہمدردی) کی قائل نہیں بلکہ اس کی رو سے سیاسی میدان میں ہر فریق (سیاسی جماعت، ووٹر، سیاسی اشرافیہ کا کوئی بھی رکن، اور ریاستی اسٹیبلشمنٹ) اپنے اپنے مفادات کی جستجو کرتے ہیں۔ جمہوریت ہی وہ راستہ ہے جس میں ووٹر کو باقی فریقین پر ایڈوانٹیج حاصل ہوتا ہے جبکہ باقی نظاموں میں اشرافیہ (چاہے وہ خاندانی بادشاہت و امارت کی بنیاد پر ہو، یا دولت کی بنیاد پر یا ادارہ جاتی اجارہ داری کی بنیاد پر یا نظریاتی بنیاد پر جیسے مزدور لیڈرز یا مذہبی بنیاد پر جیسا کہ ملائیت) کو ووٹر پر برتری حاصل ہوتی ہے اور وہ اکثریت ووٹرز کے جذبات و مطالبات کے ترجمان نہیں ہوتے بلکہ محض اپنے مفادات کی جستجو کرنے والے ہوتے ہیں۔

میری رائے میں، اگر ہم پورے سیاسی ڈھانچے کو اکائیوں میں تقسیم کر کے دیکھیں اور پھر ہر اکائی کے مفادات اور سیاسی نظام میں موجود ترغیبات (Incentives) کا تفصیلی جائزہ لیں تو ہم پاکستانی سیاسی عمل کی بہتر تفہیم حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اس کا مستقبل بھی predict کر سکتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...