اختر مینگل حکومت کو بلیک میل نہیں کر رہے

142

پاکستان میں پارلیمانی سیاست کی کامیابی کاراز ترقیاتی منصوبے اوراپنے قریبی افراد کے لیے مراعات کاحصول ہے۔ عام طورپرکامیاب پارلیمانی سیاست کو کسی جماعت کے منشور پرعملدرآمد سے جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اب پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن اور پی پی پی مرکزی دھارے میں، جبکہ صوبائی سطح پرقوم پرست اورمذہبی پارٹیاں سیاسی طورپر بہت اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ مرکزی دھارے کی پارٹیوں کو پارلیمان میں حکومت سازی، پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے سربراہان  اور کے نائبین کی نامزدگی سے لے کر قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف منتخب کروانے کے لیے ہی نہیں بلکہ بجٹ پاس کرانے، آئینی ترامیم اور قانون سازی کے لیے بھی اکثر و بیشترصوبائی سطح کی پارٹیوں سے معاملات طے کرنے پڑتے ہیں۔

موجودہ اسمبلی میں عمران خان کی سربراہی میں قائم پی ٹی آئی کو کئی اتحادی جماعتوں کی ضرورت ہے اور اخترمینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی ان میں سے ایک ہے۔ اگست 2018  کوپی ٹی آئی کے ایک وفد نے اخترمینگل سے ملاقات کرکے حکومتی اتحاد میں شمولیت کی دعوت دی تو اخترمینگل نے اس کے لیے چھ نکاتی ایجنڈے پرعمل درآمد کا مطالیہ کیا۔ یوں اخترمینگل نے وزارتوں میں حصہ مانگنے سے زیادہ چھ نکات کو حکومت کی حمایت سے مشروط کیا تو اس کو قوم پرست اور لبرل حلقوں نے ستائش کی نظرسے دیکھا۔ طاہر سرورمیر کے مطابق وہ چھ نکات یہ ہیں:'(1) بلوچ عوام کے خلاف تما م خفیہ اور کھلے ملٹری آپریشن بند کیے جائیں (2 ) تما م لاپتہ افراد کو بازیاب کرا کے عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے (3) تمام ڈیتھ اسکواڈ ختم کیے جائیں (4) بلوچ سیاسی جماعتوں کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مداخلت کے بغیر سیاسی سرگرمیاں چلانے کی اجازت دی جائے (5) بلوچ رہنماوں اور کارکنوں پر غیر انسانی تشدد، اذیت رسانی، ان کے قتل اور لاشوں کو گم کرنے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے (6) کسمپرسی کی حالت میں پڑے ہزاروں بلوچ عوام کی خوش حالی کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

اس میں سب سے اہم بلوچ لاپتہ افرادکی بازیابی اور آپریشن سے متعلق شرائط ہیں۔ خود اخترمینگل نے قومی اسمبلی کے ایک اجلاس میں بلوچ  لاپتہ افرادکی ایک فہرست اسپیکر کے حوالے کی تھی۔

اخترمینگل نے تنقید کرنے والوں کو مخاطب کر کے کہا کہ وفاق میں حکومت کی حمایت کے بدلے لاپتہ افراد کی بازیابی کا سودا کیا

اخترمینگل اپنے چھ نکاتی ایجنڈے کوبہت اہمیت دیتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ اس سے بلوچ مسئلہ پرمثبت اثر پڑے گا۔ اور یہی آج کل ان کی سیاست اور سرگرمیوں کی بنیاد ہے۔ ان کی سنجیدگی کا اندازہ اس امرسے لگایا جاسکتا ہے کہ ان چھ نکات کو اکتوبر 2012 میں سپریم کورٹ میں بھی پیش کیاگیا تھا۔ اس وقت مسلم لیگ ن نے اس ایجنڈے کی حمایت کی تھی۔ لیکن ان پرعملدرآمد رفتار بہت سست روی کا شکار ہے۔ سیاسی حکومتیں کہتی ہیں کہ وہ بلوچ مسئلہ کے حل کے بارے میں سنجیدہ ہیں، لیکن ان چھ نکات میں سے زیادہ تر کا تعلق سیکورٹی سے جڑا ہوا ہے، اورکہاجاتاہے کہ اس میں سیکورٹی اداروں کی وجہ سے مشکلات پیش آرہی ہیں۔ دوسری طرف ناقدین کہتے ہیں کہ دراصل اخترمینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی علیحدگی پسندوں کے سیاسی  فرنٹ کے طورپرکام کرتی ہے اوراس کے چھ نکات دراصل مجیب الرحمن کے چھ نکات کے طرز پرعلیحدگی پسندی کومضبوط کرنے کا منصوبہ ہے۔

28ستمبر 2012 کو اخترمینگل نے نوازشریف سے ملاقات کے بعد کہا تھا ‘ہمارے پیش کردہ نکات کو مشرقی پاکستان کے سیاسی لیڈر شیخ مجیب الرحمان کے 6 نکات سے مختلف نہ سمجھا جائے، اگران 6 نکات پر عمل نہ کیا گیا تو بھول جائیں کے بلوچستان کے عوام آپ سے بات کریں گے۔’ یوں وہ ریاستی اداروں کوخبردار بھی کرتے ہیں کہ ان نکات کو معمولی نہ سمجھاجائے۔ ان کا استدلال ہے کہ بلوچستان کے عوام کی مایوسی اپنی آخری حدوں کو چُھو رہی ہے، اگر ان کے چھ نکاتی فارمولے پرعمل کیا جائے تو بلوچوں کی محرومی کا ازالہ ممکن ہے، بصورت دیگر پاکستانی ریاست یہ سنہرا موقع کھو دے گی اور تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی جس طرح مجیب الرحمن کے چھ نکاتی فارمولے کو رد کیا گیا تو نتیجہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اوربنگلہ دیشن کے قیام کی صورت میں نکلا۔ کہنے کو تو مجیب اور اخترمینگل دونوں نے چھ نکات پیش کیے مگر اخترمینگل اور مجیب الرحمن کے نکات میں کوئی مماثلت نظرنہیں آتی۔ اگرچہ اخترمینگل اسے اتنی ہی اہمیت کا گرداننے پر مصر ہیں۔

اخترمینگل کی سیاسی طاقت  کو اس لحاظ سے دیکھا جائے کہ قومی اسمبلی میں عمران خان کی سربراہی میں قائم پی ٹی آئی  کی حکومت چھ ووٹوں کی برتری سے قائم ہے، اس میں اخترمینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل) کی قومی اسمبلی میں 4 نشستیں بھی شامل ہیں۔  وہ گاہے بگاہے حکومت کو یاد دہائی کراتے رہتے ہیں کہ ان کے چھ نکاتی ایجنڈے پرعمل درآمد نہیں ہورہا۔ ان حالات میں وہ اپوزیشن کے قریب جانے لگتے ہیں۔ حال ہی میں اپوزیشن کے قریب جانے کے بعد اخترمینگل نے دھمکیاں دینی شروع کیں کہ اگران کے نکات پرعمل نہیں کیا گیا تو حکومت کی حمایت ترک کر کے اپوزیشن کا حصہ بن جائیں گے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپوزیشن رہنماوں اور خاص کرآصف زرداری و بلاول بھٹو سے قربت بھی بڑھائی۔ عین بجٹ کی آمد کے ساتھ اس سال جُون میں اخترمینگل نے اعلان کیا کہ ‘حکومت گرانے کی تحریک میں اپوزیشن کا ساتھ دینگے’۔ اس نے اپوزیشن کے حوصلے بڑھائے اورحکومت پردباؤ بڑھ گیا۔ بجٹ کی منظوری اورعمران خان کے قومی اسمبلی سے خطاب سے پہلے اخترمینگل کو منا لیا گیا۔ اس کی حمایت حاصل کرنے کے بدلے میں دس ارب روپے کی ترقیاتی اسکیموں کو سالانہ ترقیاتی منصوبے کاحصہ بنایا گیا اور اب لاپتہ افراد کی واپسی کی خبریں روز اخبارات کی زینت بن رہی ہیں. آج اطلاع آئی ہے کہ اگلے ہفتے 30 مزیدافراد رہا ہو جائیں گے۔

انہوں نے تنقید کرنے والوں کو مخاطب کر کے کہا کہ وفاق میں حکومت کی حمایت کے بدلے لاپتہ افراد کی بازیابی کا سودا کیا۔ وفاقی حکومت نے ترقیاتی فنڈز کی مد میں دس ارب دے کر ہم پراحسان نہیں کیا، البتہ کچھ لوگوں کے منہ میں پانی ضرور آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے اگلے چند دنوں میں دوسے ڈھائی سولوگ بازیاب ہو جائیں گے۔

2جولائی کو حامدمیر کے ساتھ ایک پروگرام میں اخترمینگل نے پھر ‘چند معاملات پر حکومت کا ساتھ نہ دینے کا اعلان کردیا’۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی طرف سے اسمبلی میں پروڈکشن آڈرز کا قانون بدلنے کی کوشش کی گئی تووہ حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔ اسی طرح سینٹ کے چیئرمین کے ہٹائے جانے کی اپوزیشن کی کوششوں پر جب اخترمینگل نے کہاکہ ‘ہم صادق سنجرانی کی حمایت نہیں کریں گے’، تو سوشل میڈیا پر اس کو ان کی طرف سے حکومت کو بلیک میل کر کے اپنی قیمت بڑھانے سے جوڑنے کی ایک اور کوشش قرار دیا گیا۔ ایک صارف میاں عاطف نے لکھا: ‘اس شعر میں شاعر 10 ارب مزید مانگ رہا ہے’۔

لیکن اخترمینگل اپنی سیاست کو کامیاب قراردے رہے ہیں۔ ان کے بقول بلوچ لاپتہ افراد کے قضیہ سمیت دیگر مسائل بھی حل ہورہے ہیں اور بلوچستان کی ازلی پسماندگی کو دور کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔ یہی مڈل کلاس قوم پرست بلوچ سیاست کاخاصہ ہے کہ اپنی قوم کی بہتری و فلاح لیے جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...