کتاب کی خُوشبو، خیال کی خُوشبو

272

مطالعہ دنیا اور زندگی کا وہ سفر ہے جس میں زمین، وقت اور عمر تینوں سمٹ جاتے ہیں۔ ان لوگوں سے زیادہ امیر کسی کو نہیں دیکھا جنہیں مطالعہ کی عادت ہوتی ہے یا جو کتابوں میں خوش رہتے ہیں۔ ایسے لوگ کبھی فقیر نہیں ہوتے اور نہ کنجوس ہوتے ہیں جن کے پاس کتابوں کی الماریاں ہوتیں اور وہ ان سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ دنیا کا خزانہ ختم ہو جاتا ہے لیکن مطالعہ کتب کرنے والوں کی باتوں سے خیالات، نظریات اور الفاظ و معانی کی خوشبو ختم نہیں ہوتی۔

یہ حسین دنیا کسی کے ذوق میں آجائے یا کسی کو اس دنیا میں جینے کی خواہش ہو جائے تو وہ وقت کے ماہ وسال بھول جاتا ہے۔ مطالعہ کتب سے چھوٹا بڑا ہو جاتا ہے اور بڑا شخص بہت بڑا ہو جاتا ہے۔ ہم نے لوگوں کو اپنے سے کم عمر استاذ سے پڑھتے دیکھا ہے۔ یہ اعزاز و افتخار کتاب نے اسے دیا ہے کہ اس نے کتاب سے محبت کی اور لوگوں نے اسے اپنا استاد مان لیا۔

کتاب خلوت کی بہت اچھی دوست ہے اور کتاب جلوت کی بھی بہت اچھی دوست ہے۔ جب انسانوں سے دل نہ لگے یا جب کوئی انسان دل کو نہ لگے تو کتاب کھول کر بیٹھ جاو، انسانوں کے ہجوم میں تنہائی کا دوست بھی کتاب ہے۔

عادتِ مطالعہ کتب کے انتخاب کو آسان کر دیتی ہے

مطالعہ کتاب سے پہلے کتاب شناسا ہونا ضروری ہے۔ مارکیٹ میں موجود ہر شئے خریدنے کے لائق نہیں ہوتی، یا طبیعت کے مطابق نہیں ہوتی یا آپ کی ضرورت کی نہیں ہوتی۔ اِسی طرح ہر کتاب بھی آپ کے لیے نہیں ہوتی۔ آپ کے ذوق اور ضرورت کی نہیں ہوتی۔ فکری پراگندگی رکھنے والے، کتابوں سےوہی سلوک کرتے ہیں جو وہ اپنے ساتھ کرتے ہیں۔ ان کی منزل کوئی نہیں لیکن سفر بہت ہوتا ہے۔ کتابوں کی خرید میں جلدی تو نہیں لیکن زیادہ تاخیر بھی نہیں ہونی چاہیے۔ کتاب کے انتخاب میں فیصلہ جلد ہو جاتا ہے جب فکر، ذوق اور رجحان طے ہو۔

کوئی شخص کوئی بھی کتاب پڑھتا ہے، اسے پڑھنے دو، اسے روکو نہیں، اس کی کتاب کے معیار اور مصنف پہ بحث نہ کرو۔ یہ کتاب اس کے لیے بنیاد بن جائے گی آخر وہ کتاب تو ہے۔

یہاں سے اس کی کتب بینی اور مطالعہ کتب کا غاز ہوتا ہے۔ لباس آخر کار لباس ہی ہے۔ خوش ذوقی اور خوش لباسی وقت کے ساتھ پروان چڑھتی ہے۔ کتاب پڑھنے والا کبھی بے ذوق یا بد ذوق رہ نہیں سکتا۔ کتاب سے تعلق رکھنے والا خود معیار قائم کرتا اور اعلیٰ معیار تک پہنچتا ہے۔

دس سال میں سفر طے کر کے، ایک مقام تک پہنچنے والے، دوسروں کو یک لحظہ دس سال کا سفر طے کرانا چاہتے ہیں۔ وقت اس میں نہ گزارو کہ کیا پڑھوں اور کیا نہ پڑھوں۔ بس جو وقت ملے اسے غنیمت سمجھو اور کتاب ملے تو پڑھ ڈالو۔ عادتِ مطالعہ کتب کے انتخاب کو آسان کر دیتی ہے، اسی سے خاص ذوق پروان چڑھتا ہے جس سے پختگی پیدا ہوتی اور انسان سنجیدہ مزاج بنتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...