جبری یکسانیت دیرپا استحکام کی ضامن نہیں ہو سکتی

230

پاکستان میں عدمِ استحکام کے اثرات سیاسی ومعاشی میدان میں تو واضح طور پر دکھائی دیتے ہی ہیں لیکن اس کے باعث سماج میں کنفیوژن اور عدمِ تحفظ کے احساسات بھی نمو پاتے ہیں۔ عدمِ استحکام  انفرادی سطح پر رویہ جاتی تبدیلی کی وجہ بنتا ہے۔ اس سے شخصی و سماجی شناخت کے بحران کو بھی مہمیزمل سکتی ہے۔ تاہم مقتدر اشرافیہ اس بحران کواکثرقومی سلامتی کو لاحق بیرونی خطرات  کے ساتھ گڈ مڈ کردیتی ہے۔

سماجی و معاشی افراتفری کی یہ فضا نئی نہیں ہے لیکن حالیہ صورتِ حال نے پاکستان کے لیے اس دائمی  انتشارسے جان چھڑانا مزید مشکل بنا دیا ہے۔ موجودہ سیاسی حکومت بظاہر اس معاشی ناسازی کا علاج کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ اس کے پاس کوئی نیا لائحہِ عمل ہے نہ ہی تازہ ترکیب کہ وہ اس سے بچاؤ کی راہ نکال سکے۔ دوسری طرف مضحکہ خیزبات یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو استحکام کا تاثر دینے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے جنہیں موجودہ معاشی فیصلوں اور تصفیوں کے سبب بےانتہا اذیت کا سامنا ہے۔

تشویش و اضطراب دراصل تخلیقی اور پیداواری صلاحیتوں  کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ جبکہ یہ صلاحیتیں ریاست و سماج کی ترقی اور نمو کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حالیہ کوئٹہ ادبی میلہ تعلیم یافتہ اور باشعورپاکستانی نوجوانوں میں موجود اضطراب کی عمدہ عکاسی کرتا ہے۔ ہمارے یہاں ریاست اور سماج کے مستقبل کے بارے میں ہونے والی کوئی بھی بحث اسے پاکستان کی شناخت  اوراستحکام کی ممکنہ سمت سے جوڑ دیتی ہے۔

استحکام کسی بھی ملک کے لیے اولین اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے کسی بھی ریاست کی فعالیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ لیکن اسے زبردستی لاگو نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ ریاستی اداروں کی مربوط پالیسیوں اور ریاست و سماج کے خوشگوار تعلق کا فطری ثمر ہوتا ہے۔عدمِ استحکام کے باعث اجزاے ریاست اور سماجی طبقات کے اندر عدمِ تحفظ کے مختلف النوع احساسات کو مہمیز ملتی ہے۔ اسی کی وجہ سے عوام میں تذلیل اور تفریق کا احساس پیدا ہوتا ہے جس کے باعث نہ صرف عدمِ تحفظ کے احساسات کو بڑھاوا ملتا ہے بلکہ کمزور اور مسائل کا شکار معاشرتی طبقات میں شناخت کا بحران بھی جنم لیتا ہے۔

تشویش و اضطراب دراصل تخلیقی اور پیداواری صلاحیتوں کے لیے زہرِ قاتل ہیں

ایک عام پاکستانی کو کئی عناصر کی طرف سے مختلف عوامل کی بنا پر معاشرے میں امتیازی رویے کا سامنا رہتا ہے۔ چند ایک کا ماننا ہے کہ ان کے ساتھ ان کے چہرے مہرے، رنگ نسل، مذہب و مسلک اور زبان کی وجہ سے معاندانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں نسلی، مذہبی اور مسلکی تفریق بہت زیادہ ہے۔ ریاست اور مختلف نسلی و مذہبی گروہ اور جماعتیں اس تفریق کو اپنے مقاصد کے لیے بروئے کار لاتی ہیں۔ اسلام آباد میں قائم ایک غیر سرکاری تحقیقی ادارے کی جانب سے متنوع شناختوں اور پر امن بقائے باہمی کے حوالے سے حال ہی میں شائع کی گئی رپورٹ ’’میں کون ہوں؟‘‘ کے مندرجات میں کوئٹہ ادبی میلے کے مباحث کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق چھوٹی وفاقی اکائیوں اور اقلیتی نسلی و مذہبی گروہوں سے وابستہ افراد کاجب ریاستی اداروں اورعوامی شعبہ جات سے واسطہ پڑتا ہے اور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ یہاں امتیازی سلوک برتاجارہا ہے تو دو عوامل اس صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں؛ جن میں سے ایک کا تعلق انسانی شرف سے ہے اور دوسرا اختیار سے متعلق ہے۔

درج بالا تحقیقی مطالعے میں شامل بیشتر نوجوان سلامتی اور معیشت سے زیادہ انسانی شرف پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ احساسِ شرف و عزت ہی ہے جس کے باعث شناخت کی نمو ہوتی ہے۔ شرف کا یہ عنصر اگرچہ نسبتاً نیا ہے لیکن  شاہراہوں اور شہری علاقوں میں چیک پوسٹوں اورتعلیمی اداروں اور حکومتی شعبہ جات میں تلاشی وغیرہ جیسے سکیورٹی اقدامات  کےباعث گذشتہ دو دہائیوں کے دوران یہ عنصر مسلسل پروان چڑھتا رہا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سابقہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے بیشتر نوجوان چیک پوسٹوں پر ایک طرح سے تذلیل کا سامنا کرتے رہے ہیں اور وہ اسے پروفائلنگ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ بات قابلِ فہم ہے کہ یہ صوبے دہشت گردی اور بغاوتی تحریکوں کی لپیٹ میں رہے ہیں جن کے باعث یہاں کے عوام میں عدمِ تحفظ اور حساسیت کو نمو ملی ہے۔ غالباً اسی وجہ سے حالیہ برسوں میں سکیورٹی اداروں نے بھی اپنی سماجی مہارت کوبہتر بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں تاکہ یہاں کے عوامی احساسات کا احترام ممکن بنایا جاسکے۔ تاہم یہی عنصر نوجوانوں میں پختہ ہوتے تذلیل اور عدمِ تحفظ  کے احساس میں بنیادی کردار کا حامل رہا ہے۔

ایک اور بات بھی انتہائی اہم ہے کہ ملک (بالخصوص بلوچستان، خیبرپختونخوا، سابقہ قبائلی علاقہ جات اور گلگت بلتستان) کے تعلیم یافتہ   نوجوان اپنے آپ کو سماج میں غیر متعلق اور بے اختیار سمجھتے ہیں۔ اپنے تعلیمی و مذہبی پسِ منظر سے قطع نظر نوجوانوں کی اچھی خاصی تعداد عسکریت پسندی کی طرف مائل ہوئی، ان کے میلان کی وجہ عسکریت پسند بیانیے سے ان کی نظریاتی یا آئیڈیالوجیکل ہم آہنگی نہیں تھی بلکہ وہ عسکریت پسند رہنماؤں کے قدو کاٹھ سے متاثر ہو کر اس راہ کی طرف راغب ہوئے تھے۔ ان علاقوں میں شہرت و ناموری اور اختیارو اقتدار کی خواہش اس قدر نمایاں تھی کہ یہ نوجوان شناخت کے بحران کا شکار ہونے لگے تھے۔ گروہی پہچان کی علمبردار پاکستان کی شناخت پسند سیاست میں بھی ایسے عوامل کے آثار مل سکتے ہیں۔ قوم پرست سیاسی و سماجی تحاریک ریاستی و سماجی نظم میں اپنی شمولیت اور اس سے وابستگی کا وسیع احساس چاہتی ہیں، جبکہ مقتدر اشرافیہ اقتدار میں محض چند خاندانوں اور گروہوں کو شامل رکھتی ہے۔

یہ بات انتہائی دلچسپ ہے کہ پاکستان کے اکثریتی صوبہ پنجاب میں اب ثقافتی مارجنلائزیشن کا احساس ابھر رہا ہے، پنجابی دانشوروں کو شکایت ہے کہ انہوں نےقومی یکجہتی کے لیے اپنی نسلی اور ثقافتی شناخت کی قربانی دی ہے۔ جبکہ دیگر صوبوں کے افراد کہتے ہیں کہ پنجاب کی مقتدر اشرافیہ کو وفاقیت پر اصرار کرنا چاہیے بجائے اس کے کہ وہ ایک مضبوط مرکز اور یکسانیت پر زور دیں۔ وفاقیت پسند نقطہِ نظر صوبوں کے درمیان خوشگوار اور مضبوط تعلق کی بنیادیں فراہم کرسکتا ہے اور پنجاب کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے ثقافتی پسِ منظر کو پسِ پشت نہ ڈالے۔

شناخت اور استحکام کی بحث مذہبی حوالے کے بغیر ادھوری ہے۔ مقتدر اشرافیہ اور ریاست ہنوز یہ یقین رکھتی ہے کہ مذہب ہی وہ واحد عنصر ہے جس سے قومی یکجہتی اور اتحاد  کو برقرار رکھا جاسکتا ہے اور اس کوشش میں وہ مذہب سے متاثر عناصر کو فروغ دیتے ہیں۔ ایسے مذہبی عناصر مقتدر قوتوں کے لیے کام کرتے ہیں اور اہلِ اقتدار اپنی ضرورت کے مطابق ان کا انتخاب کرتے ہیں یا ان کی پشت پناہی سے دست بردار ہو جاتے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق  قومی یکجہتی کے لیے مذہب کو بروئے کار لانے کا خیال نہ صرف پنجاب میں پنپ رہا ہے بلکہ سندھ اور بلوچستان کی مقتدر اشرافیہ میں بھی یہ احساس آہستگی سے پروان چڑھ رہا ہے۔

اس رپورٹ میں ایک دلچسپ بات اس حوالے سے بھی سامنے آئی کہ مقامی سطح پر لوگوں کو درپیش مسائل کیا ہیں اور وہ بڑے سماجی و سیاسی مسائل سے ان کی تطبیق کیسے کرتے ہیں۔ اس مطالعے میں شامل اکثر نوجوانوں نے صاف پانی تک رسائی، تعلیم و صحت، انتظامِ آبادی، ٹریفک وغیرہ جیسے شہری مسائل کو بھی اجاگر کیا۔ دوسرے نمبر پر جن مسائل کو اہمیت دی گئی وہ شخصی آزادیوں سے متعلق تھے، مثلاً  آزادیِ اظہار اور جسمانی تحفظ وغیرہ۔ اسی طرح کئی نوجوانوں نے طبقاتی تفریق جیسے مقامی سطح کے تنازعات اور شہری مافیاز کے حوالے سے بھی بات کی۔ تاہم بیشتر نوجوان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ان روزمرہ مسائل کا خاتمہ شناخت کے بحران  جیسے بڑے مسائل کےحل میں مددگار ثابت نہ بھی ہو تو وہ ایک صحت مند معاشرے اور مضبوط ریاست کے قیام کو ممکن بنانے کے لیے شخصی  آزادی اور سماجی و سیاسی تحفظ  کی حمایت کریں گے۔ یہ ایک کھلی حقیقیت ہے کہ جبری یکسانیت مستقل اور دیرپا استحکام کی ضامن نہیں ہو سکتی۔

مترجم: حذیفہ مسعود، بشکریہ: ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...