اپوزیشن کو پلی بارگین کی پیشکش اور قانون کا غلط استعمال

65

وزیراعظم عمران خان نے گشتہ رات  ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ایک بار پھر دہرایا کہ کسی کو این آر او نہیں ملے گا۔ البتہ اگر کوئی چاہے تو پلی بارگین ہو سکتی ہے۔ نوازشریف اور آصف زرداری ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس کردیں تو انہیں رہائی مل جائے گی، اس کے بعد وہ جہاں جانا چاہیں اس کے لیے آزاد ہیں۔

وزیراعظم نے اپوزیشن رہنماؤں کو پلی بارگین کی پیشکش کی ہے، جبکہ 2016 میں جب بلوچستان نیب نے کچھ لوگوں کو یہ آفر کی تھی تو عمران خان نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پلی باگین کرپشن کی ہی قسم ہے، بلکہ کرپشن کو نظام کا حصہ بنانے کی کوشش ہے۔ اس سے چوروں لٹیروں کو فرار ہونے کا راستہ ملتا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں حکومتی وزیر فیصل واوڈا نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ نوازشریف نے سعودی عرب اور ترکی کے ذریعے 2 بلین ڈالرز کی پلی بارگین کی پیشکش کی ہے جسے حکومت نے مسترد کردیا ہے۔ حکومتی ارکان کے متضاد دعووں کے باوجود اگر وزیراعظم  کی پیشکش کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ بارگین ہوتی ہے تو اس پر اعتراض نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ اسے متنازعہ بنانا درست عمل ہوگا۔ اس کے قانونی  ومجاز ہونے کی بنا پر حکومت پر بھی تنقید نہیں کی جاسکتی ہے۔

عوام میں پلی بارگین کے حوالے سے منفی تأثر پایا جاتا ہے، لیکن یہ پاکستان سمیت کئی ممالک میں قانونی حیثیت رکھتی ہے۔ البتہ اس  کے طریق کار اور نظم کے غیر شفاف ہونے کی وجہ سے جو منفی تأثر پایا جاتا ہے اس پر حکومت کو غور کرنا ضروری ہے۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے معتدد بار اس پہ تحفظات کا اظہار کیا تھا اور یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ اس قانون کو شفاف اور بہتر بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے اور اس پر بحث کرائی جائے۔ رواں سال اپریل میں سپریم کورٹ نے بھی پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پلی بارگین کے قانون پر نظرثانی کرے کیونکہ اس میں میں بہت سے خلا موجود ہیں۔ پارلیمنٹ نے ابھی تک اس پہ کوئی ردعمل نہیں دیا۔ اگر وزیراعظم اپوزیشن رہنماؤں کو بارگین کی آفر کررہے ہیں تو بہتر ہے کہ اس کی شفافیت پر پارلیمنٹ میں بحث بھی کرالیں، تاکہ اس قانون کا غلط استعمال روکا جاسکے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...