اختلاف کو آخری حد تک برداشت کرنا چاہیے

191

مکالمہ کو رواج دینے کے لئے یہ جذبہ اور کلچر پیدا کرنا ضروری ہے کہ ہمیں دوسرے کی بات کو سننا ہے، صرف سننا ہی نہیں بلکہ حسن ظن سے سنناہے۔ گفتگو سے وہی مفہوم لینا ہے جو متکلم ہمیں سمجھانا چاہ رہا ہے۔

گزشتہ دنوں ایک صاحبِ علم نے کسی مسئلے پہ اپنی رائے دی اور اس پہ دو تین قسطوں میں ایک مضمون بھی لکھا۔ انہوں نے عقلی اور نقلی دلائل کی روشنی میں اپنا موقف بیان کر دیا۔ مجھے آج ہی ایک صاحب کی طرف سے پیغام وصول ہوا ہے اور وہ پیغام یہ ہے “ایک شخص نے فلاں مسئلے کو بدعت قرار دیا ہے، اور اس کے خلاف لکھا ہے ہم نے کل فلاں ادارے میں اجلاس رکھا ہے تاکہ ان کے خلاف ایکشن لیا جائے تو آپ سے گزارش ہے کہ آپ بھی اس میں تشریف لائیں”۔ جب سے مجھے یہ پیغام وصول ہوا ہے میں یہی سوچ رہا ہوں کہ اس صاحبِ علم نے جو موقف اختیار کیا ہے اس کے متعلق بہترین انداز کیا اختیار کیا جاسکتا ہے؟

لوگوں میں سےغصہ، ردعمل اور شدت پسندی کم ہوگی تو مکالمہ اور اختلاف کا سلیقہ بھی آجائے گا

اگر آپ اس ردّ عمل پہ غور کریں تو اس سے یہ نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ایک: جذباتی رویہ جو دلیل و بصیرت سے محروم ہے۔ دوسرا: علمی مسائل پہ علمی انداز اختیار کرنے کے بجائے اپنی بات منوانے کے لیے جبر کا طریقہ۔ تیسرا: مخالفت برائے مخالفت۔ چوتھا: معاشرے میں مخالف رائے رکھنے والوں کی زندگی اجیرن کر دینے کا کلچر۔ پانچواں: اختلاف رائے کا خاتمہ۔ چھٹا معاشرے میں خوف کی فضا کا راج۔
یعنی کہ کہ اگر آپ کی رائے میری رائے سے مختلف ہے اور میرے زیر اثر پچاس افراد ہیں تو میں آپ کے خلاف اجلاس و جلوس نکال کر آپ کی آزادی رائے کے حق کو سلب کرسکتا ہوں اور آپ کو مجبور کردوں کہ آپ خوف کی وجہ سے، خود کو کہیں محدود کر لیں۔

مکالمہ پہ ہم ایک بالکل مختلف پہلو سے بات کر لیتے ہیں۔ آزادی رائے ہر انسان کا حق ہے لیکن اس حق کو استعمال کرنے کا انداز بہت اہم ہے اکثر ہم دیکھتے ہیں کہنے والا درست بات کہ رہا ہوتا ہے،اس کا موقف بھی درست ہوتا ہے لیکن کہنے کا انداز اتنا مضحکہ خیز اور توہین آمیز ہوتا ہے کہ اس سے متفق لوگ بھی ناراض و بیزار ہو جاتے ہیں۔ آپ روزانہ ایسے افراد کو مختلف چیلنجز پہ دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں۔
بات درست ہو تو بات کہنے کا انداز بھی درست،مہذب اور شائستہ ہونا چاہئیے۔ اختلاف کے باوجود مختلف رائے رکھنے والا آپ کی زبان کی حلاوت اور خوبصورت انداز سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ مکالمہ کے رواج کے لیے بہت ضروری ہے کہ بات کہنے والا ہر طرح کے خوف سے بےخوف ہو، اسے اس بات کا ڈر نہ ہو کہ اگر کوئی مسئلہ بیان کروں گا تو مجھ پہ “توہین” کافتوی لگ جائے گا۔ اسے یہ بھی ڈر نہ ہو کہ لوگوں کے جذبات اتنے نازک ہیں کہ اگر میں کچھ بولا تو انہیں فوراً ٹھیس پہنچے گی اور وہ ٹوٹ جائیں گے۔

ہمیں دو طرفہ رویہ اختیار کرنا ہے ایک: یہ کہ کسی کی آزادی رائے سلب نہ ہو دوسرا: یہ کہ ہمیں لوگوں کو مکالمہ اور اختلاف کا سلیقہ بھی بتانا ہے۔ یہ دونوں رویےسالوں کے تسلسل اور پختہ مزاجی سے مستحکم ہوں گے۔ ہمیں اختلاف سے منع کرکے، مکالمہ کا ماحول ختم نہیں کرنا، ہمیں اختلاف کو آخری حد تک برداشت کرنا ہے۔ پہلے کام کے ہونے سے دوسرے کام کے راستے بھی آسان ہو جاتے ہیں۔ لوگوں میں سےغصہ، ردعمل اور شدت پسندی کم ہوگی تو مکالمہ اور اختلاف کا سلیقہ بھی آجائے گا۔ جب رکاوٹیں ہوتی ہیں تو ردّ عمل زیادہ ہوتا ہے۔ جب رکاوٹیں نہ ہوں تو ردّعمل کم ہوکر عمل میں ڈھل جاتا ہے۔ جہاں سے معاشرہ پختگی، وسیع النظری اور بُردباری کا سفر شروع کرتا ہے۔

بد قسمتی سے ہم مذہبی اور سیاسی جبر کا شکار ہیں۔ اس جبر نے ہم سے ہماری متانت اور وقار کو چھین لیا ہے۔ سوشل میڈیا اس کی واضح مثال ہے ہم نے اپنے خیالات، جذبات اور احساسات کا سمندر سوشل میڈیا پہ اس پیاسے کی طرح انڈیل کر رکھ دیا ہےجو پانی کے مٹکے کو دیکھ کر ایک ہی سانس میں سارا پانی پینے کا ارادہ کر لیتا ہے۔ مانا کہ سوشل میڈیا کے سائیڈ ایفکٹس ہیں لیکن ان سے بچنے کا واحد راستہ مکالمہ، مکالمہ اور مزید مکالمہ ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...