2019ء “امن کا سال”

51

افغانستان کے صدر اشرف غنی وزیراعظم عمران خان کی دعوت پہ آج صبح  دو روزہ دورے پر پاکستان  پہنچے ہیں۔ ان کا استقبال مشیر تجارت عبدالرزاق نے کیا۔ انہوں نے وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی اور کہا کہ افغانستان امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتا ہے۔ اس سے قبل ہفتہ کے روز 57 افراد پر مشتمل افغان حکومتی ارکان اور اپوزیشن سیاستدانوں نے بھوربن مری میں ’’لاہور پراسس‘‘ کے نام سے ایک کانفرنس میں شرکت کی جس میں پاک افغان تعلقات کی پرامن بحالی پر بات چیت کی گئی۔

2014 سے اب تک پاکستان میں افغان صدر اشرف غنی کا یہ تیسرا دورہ ہے۔ ان کی اسلام آباد آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب طالبان کے ساتھ امریکا اور افغانستان کے مذاکرات چل رہے ہیں، جس میں پاکستان کا بھی محدود کردار شامل ہے۔ دنوں ممالک کے مابین مذاکرات کی بحالی کا دور ایک طویل عرصے بعد شروع ہوا ہے۔ اس ملاقات میں سکیورٹی اور معیشت کے حوالے سے مسائل زیر بحث آئیں گے۔ یہ امید ظاہر کی جارہی ہے کہ افغان صدر کا یہ دورہ دونوں ممالک کے لیے ثمرآور ثابت ہوگا۔

ماضی میں پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے پر بدامنی کے فروغ کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب تناؤ میں کمی آئی ہے۔ افغان سیاستدان اور سابق وزیر داخلہ عمر داؤدزئی جو پاک افغان مذاکراتی عمل کا حصہ ہیں، نے سال کے شروع میں 2019 کو ’’امن کا سال‘‘ قرار دیا تھا اور کہا کہ پاکستان کا رویہ واضح طور پہ تبدیل ہوتا نظر آیا ہے، وہ امن کا خواہاں ہے، جو بہت اچھی بات ہے۔ پاکستانی دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ (ریٹائرڈ) ناصر خان جنجوعہ نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان ایشیا کا دل ہے، اگر یہاں امن ہوگا تو پورے خطے میں امن ہوگا۔ پرامن افغانستان دونوں ممالک، بلکہ ساری دنیا کے فائدہ میں ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...