کوئٹہ والوں کا خشک مزاج اور پانی کا بحران

125

کوئٹہ کا سب سے بڑا مسئلہ بدامنی کے بعد پانی کا بحران ہے۔ یہاں کے باسیوں کی بقا اور زندگیوں کا دارومدار اسی پر ہے۔ سیاست اسی پر جیتی جارہی ہے اور اسی پہ ہاری جارہی ہے۔ چھوٹی موٹی گھریلو بچت تک اسی پر ہورہی ہے کہ نجانے کب پانی کا ٹینکر منگوانا پڑے۔ پانی کے بحران پر ایک بہت بڑا کاروبار مضبوط شکل میں سامنے آرہا ہے۔ کوئٹہ جس سے سمندر ہزاروں کلومیٹر دور ہے تو قریب قریب ہزار سال پہلے تک بھی کوئی دریا بہتا ہوا چھو کر بھی نہیں گزرا ہے۔ وہی چشمے تھے جو اب فقط قصے ہیں اور وہی کاریزوں کا نظام جو اب کہانیاں ہیں۔ یہاں سرکار کے ٹیوب ویلز ہیں جو پہلے مخصوص مہینوں میں خراب ہوتے تھے تو اب یہ لگائے ہی اسی وجہ سے جاتے ہیں کہ خراب ہوتے رہیں۔ سینکڑوں فٹ نیچے ڈرلنگ کے ذریعے پانی دریافت کرتے ہیں تو اس کے باوجود روز مشین خراب، پانی بند لیکن جو واٹر ٹینکر وں کا کاروبار سنبھال رہے ہیں، ان کی طرف سے نہ پانی کی شکایت اور نہ مشین کی خرابی۔ اس کے علاوہ نہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے ترسیل میں تاخیر، سب کچھ ہذا من فضل ربی چل رہا ہوتا ہے۔ نہ ریٹ کا درد سر اور نہ ٹیکس ویکس کا جنجال، سو فی صد صاف ستھرا اور نقد کاروبار۔

کوئٹہ کا تمام پانی زمین کے نیچے سے ٹیوب ویلوں کے ذریعے نکالنا پڑتا ہے۔ انڈر گراؤنڈ ریزروائر پانی جو روز بہ روز نیچے سے نیچے جارہا ہے۔ زیر زمین پانی کو مسلسل باہر نکالنے کی وجہ سے زمین کھوکھلی ہو رہی ہے اور زلزلہ زون پر واقع ہونے کی وجہ سے شہر کی زمین اندر سے سرکتی جا رہی ہے، ساتھ ہی یہ اپنی موجودہ سطح پر سے مسلسل سال کے سال بیٹھ بھی رہی ہے۔ کوئٹہ کے مختلف سرکاری اور پرائیویٹ ٹیوب ویلز کے علاوہ اب چھوٹی چھوٹی بورنگ کے ذریعے بڑے بڑے گھروں میں پانی نکالنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ جہاں سے دن رات پانی نکالاجارہا ہے۔ جہاں سولر سسٹم یا متبادل توانائی کی وبا ہے وہاں تو چند ایک گھنٹے لوڈشیڈنگ کا تکلف بھی ختم کردیا گیا ہے۔ سویہ سوچے بغیر کہ پانی کی ضرورت کتنی ہے اور اس کا استعمال کتنا ہے، بے خوف و خطر اسے نکالا اور اس کو ضائع کیا جا رہا ہے۔

اس شہر میں پانی کا ذخیرہ بارش اور برف باری سے ممکن ہوتا ہے اور اسی سے پانی میں اضافہ ہوتا ہے۔ بد قسمتی کہ ماحول میں مسلسل بدلاؤ کے زیر اثر یہ نعمت بھی چھن گئی ہے۔ ساتھ ہی چند ایک ایسے مسائل بھی ہیں جن کی ذمہ دار صرف فطرت نہیں۔ اگر ان کے مسائل کے حل پر تدبر کیا جائے تو اس پر قابو پایا جا سکتا ہے اور اس کے دور رس نتائج بھی آئندہ نسلوں کے لیے مفید ہوں گے۔

عجیب بات ہے بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ کوئٹہ کے باسیوں کا مزاج خشک ہے۔ کبھی ضروری نہیں سمجھا تھا کہ اس عوامی جملہ پر غور کرتا، اب لگتا ہے اس خشکی کو دور کرنا ہے

جب ہم کوئٹہ کے پانی پر نظر ڈالتے ہیں تو سب سے پہلے یہاں پر بارشوں اور برف باری کی کمی کے اسباب پر غور کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے اس پر کوئی دو رائے نہیں ہے کہ کوئٹہ میں درختوں کا وجود خطرات سے دوچار ہوچکا ہے اور آبادی کا اس پیالے نما شہر میں ارتکاز نا انصافی کی حد تک بڑھ چکا ہے۔ چند سو اسکوائیر فٹ زمین پر کئی کئی منزلہ عمارت تعمیر ہوئی ہے تو آبادی کی تیز رفتاری کا اندازہ یہاں کی ٹریفک کی سست رفتاری سے لگا یا جا سکتا ہے۔ آلودگی کی مقدار میں بڑھوتری کے باعث بھی اس شہر کی فضا میں درجہ حرارت اور دیگر معاملات پیچیدہ ہوچکے ہیں۔ سیوریج کا نیا بہاؤ پرانی نالیوں کے لیے ناکافی ہے تو بڑے بڑے چند نالوں پر تجاوزات سے صفائی کی صورت حال مزید ناقص ہوگئی ہے۔ زمین تا آسمان آلودگی ہے، جو استعمال شدہ پانی زیر زمین جارہا ہے تو رہی سہی کسر وہاں سے پوری ہورہی ہے۔ کوئٹہ میں زیادہ تر سبزیاں سیوریج  کے گندے پانی سے اگائی جاتی ہیں۔ معروف سماجی کارکن نصراللہ بڑیچ صاحب کا پی ایچ ڈی کا پورا مقالہ اسی پر ہے۔ان کی تحقیق نظر سے گزری ہے اور اس حوالے سے متعدد بار گفت و شنید بھی کرتے رہے ہیں۔ صورت حال نہایت گھمبیر اور غیر انسانی حد تک خراب ہے۔ یقین جانیے، نہ جاننا بھی ایک نعمت ہے کہ ہم کیا پی رہے ہیں اور کیا کھا رہے ہیں۔ ایسا ایسا زہر جو ہماری آئندہ آنے والی نسلوں میں منتقل ہورہا ہے۔

ہم پانی تو استعمال کررہے ہیں لیکن اس پر کبھی نہیں سوچا ہے کہ آئندہ آنے والے برسوں میں اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ کیا یہ خطہء زمین بچ پائے گا اور کیا ہمارے بچوں کے لیے قطرۂ آب مل سکے گا؟ کوئٹہ میں پانی کے بحران پر قابو پانا دن یا مہینوں کا کام نہیں بلکہ اس پر برسوں کی منصوبہ بندی اور محنت درکار ہوگی۔ فی الوقت یہاں چند ایک تجاویز پیش خدمت ہیں۔جو موجودہ دور کے حساب سے کارآمد بھی ہیں اور آزمودہ بھی۔

کوئٹہ میں پانی کی قلت پر حکومت اور کارمندان معاشرت و سیاست کو چاہیے اس پر سخت سے سخت قانون سازی کریں اور اس بحران کے بطن سے پیدا شدہ کاروباری مواقع کو ختم کیا جائے۔ تمام غیر قانونی ٹیوب ویلوں کو فی الفور بند کرایا جائے اور نئے ٹیوب ویلز کے لائسنس کے اجراء کی شرائط میں لچک نہ دکھائی جائے۔تمام ٹیوب ویلوں کے اوقات کار متعین کئے جائے۔ گھریلو ضروریات کے لیے پرائیویٹ واٹر ٹینکر مالکان کو یکساں قیمت کا نہ صرف پابند کیا جائے بلکہ ان کے پانی کی جانچ بھی ہونی چاہیئے۔ پانی کے کاروبار سے وابستہ مالکان پر ٹیکس اور جرمانے سے حاصل ہونے والی رقم کو اسی مد میں خرچ کیا جائے۔

مون سون کی بارشیں کوئٹہ میں نہیں ہوتیں کہ یہ اس زون کا حصہ نہیں۔ بھولے بھٹکے بادل اس وادی کے اوپر سے گزرتے رہتے ہیں۔ برسنا شرط نہیں۔ اگر برسنا ہو تو عموما سردیوں میں بادل گرجتے اور برستے ہیں۔ کوئٹہ میں پانی کا مسئلہ یہاں ہونے والی بارشوں اور بالخصوص برف باری سے جڑا ہوا ہے اور گذشتہ کئی دہائیوں سے اس میں مسلسل اور مستقل کمی آئی ہے۔ ضروری ہے کہ شہر اور شہر کے گرد و نواح اور پہاڑوں پر ماحول دوست درخت لگائے جائیں جو کم پانی میں تیزی سے بڑھے اور زیادہ سے زیادہ آکسیجن بھی پیدا کریں۔ کوئٹہ کے زیر زمین پانی کی سطح کو اوپر لانے کے لیے ضروری ہے کہ واٹر ری چارج سسٹم کے ذریعے پانی کو مختلف ذرائع سے زمین میں دوچارہ انجیکٹ کیا جائے۔ مختلف اور اہم مقامات پر چھوٹے بڑے ڈیمز بنانے چاہئیں جو اس واٹر انجیکشن میں سب سے ضروری ذریعہ ہے۔ بارشوں کے علاوہ قریب و دور کے علاقوں سے بھی پانی ان ڈیموں میں اسٹور کیا جاسکتا ہے۔ یہ سب کچھ صرف ہاتھ منہ دھونے کے لیے نہیں بلکہ یہ اس خطرے کو روکنے کی پیش بندی بھی ہوگی کہ اس کی زمین ہمہ وقت زلزلہ کی زد پہ ہے اور یہ نہیں  بھولنا چاہیے کہ تاریخ انسانی میں 1935ء کا کوئٹہ کا ہولناک اور تباہ کن منظر ابھی کل کی بات ہے۔

یہ ضروری ہے کہ جب تک پانی کا شعور عام لوگوں کو نہیں دیا جائے گا تب تک ہر طرح کی منصوبہ بندی ناکامی کو اپنے ساتھ لے کر پیدا ہوتی ہے۔ لوگوں میں پانی کی اہمیت، ضرورت اور اس کی قدر و قیمت کی آگاہی لازمی ہونی چاہیے۔ اس کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اپنی خدمات پیش کریں اور اس مسئلہ کو حل کروانے میں ان کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ تعلیمی اداروں اور اسکولوں میں بالخصوص طلبا و طالبات کی توجہ اس اہم مسئلے پر زیادہ سے زیادہ مبذول کرانی چاہیے کہ یہ پود بہت جلد معاشرے کی رہبری کرنے والی ہے۔ پانی زندگی ہے اور زندگی پانی کے بغیر ایک ناممکن خیال ہے۔ عجیب بات ہے بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ کوئٹہ کے باسیوں کا مزاج خشک ہے۔ کبھی ضروری نہیں سمجھا تھا کہ اس عوامی جملہ پر غور کرتا، اب لگتا ہے اس خشکی کو دور کرنا ہے کہ اس شہر کوآباد کرنے ہی میں ہم سب کا وقار ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...