“میں کون ہوں؟” رپورٹ کی تقریب رُونمائی

92

پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اسلام آباد کے زیرِ اہتمام اسلام آباد ہوٹل آبپارہ (اسلام آباد) میں 21جون 2019ء کو جمعے کی سہ پہر متنوع شناختیں اور بقائے باہمی کے عنوان سے شائع ہونے والی  رپورٹ ’’میں کون ہوں؟‘‘ کی تقریب رونمائی  کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ تقریب سے اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود، پاک انسٹی ٹیوٹ فار پالیمنٹری سروسز کے سابق سربراہ ظفر اللہ خان، قومی ادارہ برائے انسانی حقوق کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق، معروف سماجی رہنما ڈاکٹر فرزانہ باری، پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اسلام آباد کے سربراہ محمد عامر رانا اور محمد اسماعیل خان نےاظہارِ خیال کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مسعود نے پاکستان میں شناخت کے بحران کی چند اساسی وجوہات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے گورننس، شہریت اور حقوق سے متعلقہ مسائل میں ریاستی بے اعتنائی اور امتیازی سلوک کو ایک سبب بتایا جس کی وجہ سے گروہی اور طبقاتی سطح پر شناخت کا بحران ابھر کر سامنے آیا۔ ریاست بنیادی انتظامی امور میں دلچسپی لینے کی بجائے آئیڈیالوجیز کا استعمال کرتی ہے۔ اس پر ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اشرافیہ مذہبی آئیڈیالوجی کا استعمال تو کرتی ہے لیکن حقیقت میں اسے اسلام سے بھی غرض نہیں ہے، اسے محض  آئیڈیالوجی چاہیے، جس کے سہارے حقائق اور ذمہ دارانہ کردار سے فرار ممکن رہے۔ انہوں نے قوم، سماج اور ریاست کی تفہیم بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں  ابھی تک وہ امور زیربحث ہیں جن سے دنیا گزر چکی ہے۔ ہم دنیا سے کافی پیچھے چل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں کئی مباحث ایسے ہیں جو من وعن مغرب سے مستعار لیے گئے ہیں جبکہ ہمارے حالات اور ماحول میں ان کا اطلاق الجھن اور پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔ ظفرا للہ خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ریاستی ادارے کارپوریٹ کلچر کے نمائندہ بن چکے ہیں۔ مثال کے طور پہ ہماری عدالتیں بنیادی ضروریات کی فراہمی کی بات نہیں کرتیں بلکہ ان کی قیمت کے تعین کے بارے میں فیصلے دیتی ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ شہری حقوق ریاست کے لیے اہم نہیں رہے۔ انہوں نے شناخت کے تاریخی تعلق پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم ماضی سے تو رشتہ جوڑتے ہیں لیکن حال اور مستقبل سے کو اہمیت نہیں دیتے۔ انہوں نے گورننس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس میں اگر بہتری لائے جاسکے تو کئی مسائل خودبخود حل ہوجائیں گے جن میں شناخت کے بحران کا مسئلہ بھی شامل ہے۔

حارث خلیق نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ہماری ریاست کی خواہش ہے کہ یہاں سبھی ایک جیسی فکر کے حامل ہوں حالانکہ یہ بالکل بھی ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شناخت کا بحران دراصل مادی اسباب کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر معیشت کا مسئلہ حل کرلی جائے تو تشخص کا مسئلہ باقی ہی نہیں رہتا۔ مختلف قومیتوں اور طبقات کی سیاست میں غیر متوازن شمولیت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم دراصل شناخت کے مسائل پیدا کرتی ہے اور محروم طبقات احساسِ محرومی کی بنا پر اپنی شناختوں پر اصرار کرنے لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متوازن حصہ داری، شراکت اور انصاف کی فراہمی  سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر فرزانہ باری نے کہا کہ شناخت بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں ہے، چاہے یہ انفرادی ہو یا گروہی۔ عدمِ مساوات اور امتیازی رویے کی وجہ سے شناخت کا بحران  جنم لیتا ہے۔ انہوں نےخواتین کے تشخص پر بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سماج پدر سری رجحانات کا حامل ہے، جس میں عورت کی ذات ثانوی درجہ رکھتی ہے۔ انہوں نے پاکستانی ریاست کو بھی اسی مزاج کا حامل قرار دیا اور کہا کہ ریاست تحفظ دینے کی بجائے خود سماج کے عام طبقے کی طرح عورت کا استحصال کرتی ہے اور اس کے حقوق کو دبا لیتی ہے۔ شناخت کی تحریکوں کے حوالے  سےان  کا کہنا تھا کہ ریاستی پالیسیوں کے باعث محروم طبقات کو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی رویے کی وجہ ان کی مخصوص شناخت ہے۔

محمد عامر رانا نے متنوع شناختوں کے حوالے سے شائع ہونے والی  رپورٹ ’’میں کون ہوں؟‘‘ کے مندرجات اور اس کے نتائج  کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب سماجیات کے طالب علموں اور اہلِ علم کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اوریہ شناخت سے جڑے مسائل کو سمجھنے کے لیے انتہائی سود مند ہے۔

مقررین اور شرکا نے اس موضوع کو نہایت اہم قراردیا ان کا کہنا تھا کہ شناخت کا سوال بظاہر بہت سادہ ہے۔ میں کون ہوں، یا ہم کون  ہیں؟ کا جواب اتنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ اس کے لیے کچھ لوگ مل کر بیٹھیں اور سوچنے کی ضرورت پڑے۔ لیکن اگر غور کیا جائے تویہ سوال اتنی متنوع جہتیں اور تہہ در تہہ پرتیں رکھتا ہے کہ تشخص کا تعین ایک پہیلی بن جاتا ہے۔ خصوصا ایسے عہد میں کہ جب فرد، سماج اور قوم  کی تعریف ہر لمحہ بدل رہی رہو۔ اقدار کے پیمانے لگے بندھے نہ ہوں۔ جدیدیت اور مستقبل کوئی ایک چہرہ نہ رکھتے ہوں، یہ مسئلہ اور پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ یہ رپورٹ اور اس کے مندرجات یقینا سماجی اضطراب کی بنیادوں کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ تقریب میں بڑی تعداد میں صحافیوں، طالب علموں، غیر ملکی مندوبین اور شہریوں نے شرکت کی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...